چودہ اگست کے تقاضے

Published in Hilal Urdu August 2017

تحریر: جبارمرزا

پاکستان قائم ہوئے پورے ستر برس بیت گئے۔ البتہ موجودہ 14اگست پاکستان کی تاریخ کا اکہترواں ہے۔ پہلا 14اگست 1947کا تھا جس روز پاکستان قائم ہوا تھا۔ 14اور 15اگست کی درمیانی رات برصغیر دو حصوں میں تقسیم ہو گیا تھا۔ ایک حصہ پاکستان کہلایا اور دوسرا ہندوستان۔ 14اور 15اگست 1947 کی درمیانی رات بارہ بجے پہلے انگریزی میں جناب ظہور آذر نے اور پھر اردو میں جناب مصطفی علی ہمدانی نے ریڈیو پاکستان سے قیام پاکستان کا اعلان کر کے برعظیم کے مسلمانوں کو آزاد فضا میں سانس لینے کی نوید دی تھی۔ تلاوت کلام پاک کے بعد سنتو خان کی آواز میں جو پہلی قوالی پیش کی گئی تھی وہ علامہ اقبال کے کلام پر مشتمل تھی۔


زمانے کے انداز بدلے گئے
نیا راگ ہے ساز بدلے گئے
اسی صبح آزادی کے پروگرام میں گلوکارہ منور سلطانہ نے مولانا ظفرعلی خان کا نغمہ گایا تھا۔
توحید کے ترانے کی تانیں اڑائے جا


ریڈیو پاکستان لاہور کی نشریات کے بعد اسی لمحے ریڈیو پاکستان پشاور سے پہلی اناؤنسمنٹ اردو میں آفتاب احمد بسمل نے کی۔ اس کے فوراً بعد پشتو میں وہی اعلان عبداﷲ جان مغموم نے کیا۔ اس روز پاکستان کے حصے میں آنے والے تینوں ریڈیو سٹیشن لاہور، پشاور اور ڈھاکہ نے اپنے اپنے حصے کا کردار ادا کیا۔ پشاور ریڈیو نے احمد ندیم قاسمی کا گیت اور سجاد سرور نیازی کی دھن میں ملی نغمہ پیش کیا کہ
پاکستان بنانے والے پاکستان مبارک ہو
اس سے پہلے رات گیارہ بجے ریڈیو پاکستان پشاور سے آل انڈیا ریڈیو کی نشریات کے اختتام کا اعلان جناب یونس سیٹھی نے کیا تھا جو بعد میں جنرل ضیاء الحق کے دور حکومت میں وزارت اطلاعات میں طویل عرصے تک پرنسپل انفارمیشن آفیسر رہے تھے۔


قیام پاکستان کے وقت پاکستان کے حصے میں آنے والے علاقے میں صرف تین ریڈیو اسٹیشن تھے۔ ریڈیو پاکستان لاہور ریڈیو پاکستان پشاور اور ریڈیو پاکستان ڈھاکہ، 14اور 15اگست 1947کی درمیانی رات ڈھاکہ ریڈیو اسٹیشن سے بھی پہلے انگریزی میں کلیم اﷲ نے اور پھر بنگالی زبان میں قیام پاکستان کی خوشخبری سنائی گئی تھی۔
کراچی میں چونکہ ریڈیو اسٹیشن نہیں تھا لہٰذا ہنگامی طور پر ایک خیمے میں ریڈیو اسٹیشن قائم کر کے قومی رابطے پر قائداعظم کا پیغام قوم کے نام نشر کیا گیا تھا۔ جس میں اپنے پہلے خطاب میں عظیم قائد محمدعلی جناح نے فرمایا تھا کہ
’’بے پایاں مسرت و احساس کے جذبات کے ساتھ میں آپ کو تہنیت کا پیغام دیتا ہوں۔ 15اگست آزاد اور خود مختار پاکستان کا دن ہے۔ یہ مسلم قوم کی منزل مقصود کی علامت ہے۔ جس نے پچھلے چند برسوں میں اپنے وطن کے حصول کے لئے عظیم قربانیاں پیش کیں۔


اس عظیم لمحے میں مجھے وہ بہادر یاد آتے ہیں جنہوں نے ہمارے مقصد کی خاطر دادِ شجاعت دی۔ پاکستان اُن کا ممنون رہے گا اور جو اب موجود نہیں ہیں ان کی یاد کو عزیز جانے گا۔ نئی مملکت کی تخلیق کی وجہ سے پاکستان کے شہریوں پر زبردست ذمہ داری آن پڑی ہے۔ انہیں یہ موقع ملا ہے کہ وہ دنیا کو دکھا سکیں کہ ایک قوم جو بہت سے عناصر پر مشتمل ہے۔ کس طرح امن و آشتی کے ساتھ رہ سکتی ہے اور ذات پات اور عقیدے کی تمیز کے بغیر سارے شہریوں کی بہتری کے لئے کام کر سکتی ہے۔


امن اندرون ملک اور امن بیرون ملک ہمارا مقصد ہونا چاہئے۔ ہم پرامن رہنا چاہتے ہیں اور اپنے نزدیکی ہمسائیوں اور ساری دنیا سے مخلصانہ اور دوستانہ تعلقات رکھنا چاہتے ہیں۔ ہم کسی کے خلاف جارحانہ عزائم نہیں رکھتے۔ ہم اقوام متحدہ کے منشور کے حامی ہیں اور امن عالم اور اس کی خوشحالی کے لئے اپنا پورا کردار ادا کریں گے۔ مسلمانان ہند نے دنیا پر ثابت کر دیا ہے کہ وہ ایک متحد قوم ہیں۔ ان کا مقصد انصاف پر مبنی اور درست ہے۔ جس سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ آیئے۔ آج ہم عاجزی سے خدائے بزرگ و برتر کا ’اس کی نوازشات کے لئے‘ شُکر ادا کریں اور دعا کریں کہ وہ ہمیں خود کو اس کا اہل ثابت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آج کا دن ہماری قومی تاریخ میں ایک سخت مرحلے کی تکمیل کی علامت ہے اور یہ ایک نئے اور مقدس عہد کا آغاز بھی ہونا چاہئے۔ آیئے ہم اپنے قومی و عملی افکار کے ذریعہ یہ بات اقلیتوں کو ذہن نشین کرا دیں کہ جب تک وہ پاکستان کے وفادار شہریوں کی حیثیت سے اپنے فرائض اور ذمہ داریاں نبھاتے رہیں گے انہیں کسی چیز سے خوفزدہ ہونے کی چنداں ضرورت نہیں۔


ہماری سرحدوں پر آباد حریت پسند قبائل اور اپنی سرحدوں سے پار مملکتوں کو ہم پیغام تہنیت بھیجتے ہیں اور یقین دلاتے ہیں کہ پاکستان ان کے رتبے کا احترام کرے گا اور امن برقرار رکھنے کے ضمن میں اُن کی طرف دوستانہ تعاون کا ہاتھ بڑھائے گا۔ ہماری اس سے زیادہ کوئی خواہش نہیں ہم خود بھی آبرومندانہ طریقے سے زندہ رہیں اور دوسروں کو بھی عزت مندانہ طور پر زندہ رہنے دیں۔


آج جمعۃ الوداع ہے۔ رمضان المبارک کا آخری جمعہ، مسرت و انبساط کا دن۔ ہم سب کے لئے اور اس وسیع و عریض برعظیم اور دنیا کے ہر گوشے میں جہاں کہیں بھی مسلمان ہوں تمام مساجد میں ہزاروں کے اجتماعات رب جلیل کے حضور بڑی عجز و انکساری سے سجدہ ریز ہو جائیں اور اس کی نوازش پیہم اور فیاضی کا شکریہ ادا کریں اور پاکستان کو ایک عظیم ملک اور خود کو اس کے شایان شان شہری بنانے کے کام میں اس قادر مطلق کی ہدایت اور اعانت طلب کریں۔
اے میرے ہم وطنو! آخر میں آپ سے کہنا چاہتا ہوں کہ پاکستان بیش بہا مسائل کی سرزمین ہے۔ لیکن اس کو ایک مسلم قوم کے شایان شان ملک بنانے کے لئے ہمیں اپنی تمام توانائیوں کی ضرورت ہو گی۔ مجھے پورا اعتماد ہے کہ یہ سب کی طرف سے اور فروانی کے ساتھ ملیں گی۔ پاکستان زندہ باد۔‘‘


بانیء پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کا قوم کے نام قیام پاکستان کے موقع پر یہ پہلا خطاب جسے عظیم مسلم لیگی راہنما جناب آزاد بن حیدر نے اپنی تصنیف ’’تاریخ آل انڈیا مسلم لیگ سرسید سے قائداعظم تک‘‘ میں نقل کیا ہے۔ خطاب کے آخری حصے میں ہمارے عظیم قائد اعظم نے قوم کو مخاطب کر کے خاص طور سے یاددہانی کرائی کہ ’’اے میرے ہم وطنو!! پاکستان بیش بہا وسائل کی سرزمین ہے لیکن اس کو ایک مسلم قوم کے شایان شان ملک بنانے کے لئے ہمیں اپنی تمام توانائیوں کی ضرورت ہو گی۔‘‘


پھر ایک سال بعد پاکستان کے قیام کی پہلی سالگرہ کے موقع پر قائداعظم محمد علی جناح نے قوم کے نام جو پیغام دیا تھا وہ بہت ہی حوصلہ افزاء تھا۔ ہمارے عظیم قائد، قوم، فوج اور سیاسی قیادت کے کام سے انتہائی مطمئن تھے۔ قائداعظم کا وہ پیغام ریڈیو پاکستان کراچی سے نشر کیا گیا تھا۔ اس روز کراچی ریڈیو سٹیشن کی باقاعدہ اور نئی بلڈنگ کا افتتاح بھی ہوا تھا۔ قائداعظم نے قوم کے نام وہ پیغام کوئٹہ میں ریکارڈ کرایا تھا۔ جہاں وہ ایک دن پہلے ہی زیارت سے پہنچے تھے۔ پاکستان کا ایک سال مکمل ہونے پر قائداعظم بہت خوش تھے۔ اپنے ذاتی معالج کرنل الہٰی کے منع کرنے کے باوجود قائداعظم نے قیام پاکستان کی سالگرہ والے دن حلوہ پوری کھائی تھی۔ کرنل الہٰی سے بھی کہا تھا کہ قائداعظم کی خواہش ہے کہ وہ سوجی کا حلوہ کھائیں۔ ڈاکٹر نے کہا نہیں۔ فاطمہ جناح بولیں بہت تھوڑا سا کھائیں گے۔ ڈاکٹر نے اجازت دے دی۔ فاطمہ جناح نے پھر کہا وہ پوری بھی کھانا چاہتے ہیں۔محترمہ فاطمہ جناح نے کرنل الہٰی نے کہا اس کی تو کسی صورت اجازت نہیں ہے۔‘‘ لیکن جب کرنل الہٰی کی قائداعظم سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے ڈاکٹر کو بتایا کہ انہوں نے حلوہ کھایا ہے کرنل نے کہا پوری بھی کھائی؟ قائداعظم خاموش رہے اور مسکرا دیئے۔ اس پر ڈاکٹر کو تشویش ہوئی، انہوں نے فوری قائداعظم کا بی پی دیکھا، نبض دیکھی نارمل پا کر خاموش ہو گئے۔ قائداعظم کو پاکستان کی پہلی سالگرہ کی اہمیت کا اس قدر خیال تھا کہ زیارت میں زیادہ بلندی کی وجہ سے جب ان کی سانس پھولنے لگی پاؤں پر سوجن آ گئی تو اس روز 12اگست شام کا وقت تھا۔ کرنل الہٰی نے قائداعظم کو کوئٹہ شفٹ ہونے کا مشورہ دیا تو قائداعظم نے کہا کب روانہ ہوا جائے۔ ڈاکٹر نے کہا ایک دو دن بعد پرسوں جائیں گے۔ قائدعظم نے کہا پرسوں پاکستان کے قیام کی سالگرہ ہے۔ اس روز میں سفر نہیں کروں گا۔ لہٰذا کل 13اگست کو چلتے ہیں۔ یوں وہ اگلے روز کوئٹہ پہنچ گئے۔ قائداعظم کا قوم کے نام پہلی سالگرہ کا خطاب آخری خطاب ثابت ہوا۔ جسے 1976 میں قائداعظم کے صد سالہ یوم ولادت کے موقع پر ماہنامہ ماہ نو نے قائداعظم نمبر میں نقل کیا تھا۔ جس میں قائداعظم نے فرمایا:


’’اہلِ پاکستان!!
آج ہم آزادی کی پہلی سالگرہ منا رہے ہیں۔ ایک سال ہوا اہل پاکستان کو کامل اختیارات سونپے گئے تھے اور موجودہ ترمیم شدہ دستور کے تحت حکومت پاکستان نے ملکی معاملات کو اپنے ہاتھوں میں لیا تھا۔ ہم نے سال بھر کے حوادث کا مقابلہ ہمت، عزم اور تدبر سے کیا ہے اور دشمن کے حملوں کا جن کا ذکر اس سے پہلے بار بار کیا جا چکا ہے۔ خصوصاً مسلمانوں کو بہ حیثیت قوم کے ختم کر دینے کے پہلے سے طے کئے ہوئے پروگرام کی روک تھام اور ملکی تعمیر کا اصل کام کر کے ایک حیرت ناک کارنامہ سرانجام دیا ہے۔ ہمارے تعمیری اور اصلاحی کام کا نتیجہ ہمارے بہترین دوستوں کی توقعات سے بھی بڑھ چڑھ کر نکلا۔ میں آپ سب کو وزیراعظم کی قیادت میں اپنے وزراء کو دستور ساز اسمبلی اور مجالس قانون ساز کے ارکان کو مختلف انتظامی محکموں کے افسروں اور دفاعی فوجوں کے ارکان کو ان کارناموں پر جو انہوں نے اس تھوڑے سے عرصے میں انجام دیئے ہیں مبارک باد دیتا ہوں اور میں اہل پاکستان کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ جنہوں نے ہماری ہر کوشش میں ہمارا ساتھ دیا اور صبر و تحمل کا ثبوت دیا۔ جو ہم نے پہلے سال کے پروگرام کو عملی جامہ پہنانے کے لئے کی۔


لیکن یہی کافی نہیں۔ یاد رکھئے کہ پاکستان کا قیام دنیا کی تاریخ میں ایک بے نظیر واقعہ ہے۔ یہ دنیا کی عظیم ترین اسلامی ریاستوں میں سے ہے اور جوں جوں وقت گزرتا جائے گا۔ مملکت پاکستان سال بہ سال اپنے عظیم الشان فرائض انجام دیتی رہے گی۔ بشرطیکہ ہم ایمانداری، تن دہی اور بے غرضی سے اس کی خدمت کرتے رہیں ۔ مجھے اپنے عوام پر پورا پورا اعتماد ہے کہ وہ ہر صورت حال سے اسی طرح عہدہ برآ ہوں گے۔ جو ہماری گزشتہ اسلامی تاریخ کی شان و شوکت اور روایات کے شایان شان ہو گا۔


ان لاکھوں مہاجرین کی داستان جنہیں ہماری سرحد کے اس پار اپنے گھروں کو چھوڑ کر پاکستان میں پناہ لینی پڑی۔ سب کو معلوم ہے یہ المناک حادثہ اس وقت پیش آیا کہ ابھی ہماری نئی مملکت کو اپنے پاؤں جمانے کا مشکل سے وقت ملا تھا اور فی الواقعہ اس کی لپیٹ میں بہت سے وہ لوگ بھی آ گئے جنہیں سرکاری ملازموں کی حیثیت سے خود حکومت کی انتظامی مشینری کو قائم کرنا تھا۔ میں جانتا ہوں کہ اپنے ان بے گھر اور ستم رسیدہ بھائیوں کے لئے جو کچھ کرنا چاہئے تھا وہ نہیں کیا جا سکا۔ ان میں سے بہت سے لوگ ابھی تک بہت سی مشکلات سے دوچار ہیں۔ محض یہ واقعہ کہ مہاجرین کی ایک بڑی تعداد اپنے نئے گھروں میں ایک نئی مسرور زندگی کی امید کے ساتھ آباد کر دی گئی ہے۔ کوئی معمولی کارنامہ نہیں ہے۔ اگر اہل پاکستان اخوت کے اس جذبہ کا اظہار نہ کرتے جو انہوں نے کیا۔


پاکستان کے وجود میں آتے ہی دیگر ذرائع سے اس کا گلا گھونٹنے کی تدبیروں میں ناکام ہو کر ہمارے دشمنوں کو یہ آس تھی کہ ان کا دلی منشاء اقتصادی چالبازیوں سے پورا ہو جائے گا۔ ان تمام دلائل سے کام لے کر ’جن کی تہہ میں محض عداوت اور کینہ پروری کام کر رہی تھی‘ انہوں نے یہ پیش گوئی کی کہ پاکستان کا دیوالیہ نکل جائے گا۔ لیکن یہ جھوٹے نجومی اپنی چالوں میں ناکام رہے۔ ہمارے پہلے بجٹ میں بحث ہوئی اور توازن تجارت ہمارے حق میں ہے۔ اس کے ساتھ اقتصادی میدان میں بھی ہم نے ہمہ گیر اور مسلسل ترقی کی ہے۔ کسی مملکت کی تاریخ میں ایک سال کا عرصہ اس کے کارناموں کا جائزہ لینے اور اس کے مستقبل کا اندازہ لگانے کے لئے بہت مختصر ہے لیکن جس طرح ہم نے زبردست مشکلات پر قابو پایا ہے اور گزشتہ بارہ مہینوں میں جو ٹھوس ترقی کی ہے۔ اس کی بنا پر ہم یہ امید کرنے میں حق بجانب ہیں کہ ہمارا مستقبل شاندار ہو گا۔ جہاں تک مرکزی حکومت کا تعلق ہے ہمیں انتظامی معاملات بالکل نئے سرے سے شروع کرنے پڑے مغربی پنجاب میں یہ صورت حال پیش آئی کہ پاکستان قائم ہوتے ہی وہاں کا نظام حکومت تقریباً درہم برہم ہونے والا تھا۔ لیکن مجھے خوشی ہے کہ ہم نے ان تمام امور کا جو ہماری یکجہتی کے لئے خطرہ بنے ہوئے تھے کامیابی سے مقابلہ کیا اور وقت کے بعض بڑے بڑے مسائل کے بارے میں حکومت پاکستان نے نہ صرف اپنا عزم بالجزم ظاہر کیا بلکہ اس امر کا بھی ثبوت دیا کہ وہ ان مختلف عالمگیر مسائل سے بھی کامیابی کے ساتھ عہدہ برآ ہو سکتی ہے۔ جو وقتاً فوقتاً پیدا ہوتے رہتے ہیں۔


قدرت نے آپ کو سب کچھ بخشا ہے۔ آپ کے وسائل لامحدود ہیں۔ آپ ملک کی بنیاد پر جلد سے جلد اور بہتر سے بہتر عمارت تعمیر کریں لہٰذا بڑھتے چلے جایئے۔ خدا آپ کا حامی و ناصر ہو۔ پاکستان زندہ باد۔‘‘
بانیء پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کا قوم کے نام آخری پیغام ہمارے لئے سوچ اور فکر کے کئی دَر وا کر گیا ہے۔ قائداعظم نے محض ایک سال کی کارکردگی میں جس اطمینان کا اظہار کیا تھا کیا ستر سال بعد ہم اسی قسم کی امید اور اطمینان کا اظہار کرنے کی پوزیشن میں ہیں؟
قیام پاکستان کے فوری بعد تو ہمیں ہجرت، مسافرت اور اقتصادی مسائل کا سامنا تھا۔ باوجود اس کے کہ قائداعظم نے تمام محکموں کی کارکردگی کو سراہا تھا۔ ان کے عدم سدھار جانے کے بعد وہ جذبہ اور خراج تحسین پیش کرنے کا ولولہ کیوں دکھائی نہیں دیتا؟


پاکستان کے پہلے وزیراعظم اور قائداعظم کے دست راست خان لیاقت علی خان بھارت کے ضلع کرنال کے نواب اور جاگیردار تھے۔ وہ ایک روز جو سوٹ پہنتے تھے اسے دوبارہ نہیں پہنتے تھے۔ لیکن تقسیم ہند کے بعد وہ سب کچھ چھوڑ کے پاکستان آ گئے اور یہاں آ کر کسی قسم کا کوئی کلیم بھی داخل نہ کرایا۔ پاکستان میں ان کی کوئی زمین مکان نہیں تھا۔ شہادت کے وقت ان کا اکاؤنٹ بھی خالی تھا۔ بیگم رعنالیاقت علی نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ وزیراعظم ہاؤس کا مہینے کا چینی کا ایک کوٹہ مقرر تھا اور مہینے کے آخری دنوں میں وزیراعظم میں اُن کی بیگم، بچے اور مہمان پھیکی چائے پیا کرتے تھے۔ گویا لیاقت علی خان قیام پاکستان کے بعد نواب نہ رہے۔ وزیراعظم ہو گئے۔ کیا گزشتہ 6سات دہائیوں میں اقتدار کے ایوانوں میں کوئی ایسی مثال ملتی ہے؟


اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان خطے میں ایک اہم ملک کی حیثیت سے اپنی شناخت رکھتا ہے، عالم اسلام کا سب سے مؤثر ملک ہے، ایٹمی قوت ہے، جو ایک منفرد اعزاز ہے۔ دنیا کی بہترین فوج ہے اس کے پاس، قدرتی وسائل سے مالامال ہے۔ لیکن قائداعظم اور لیاقت علی خان کے بعد قیادت کے بحران کا شکار کیوں ہے؟ عدم برداشت اور بے اطمینانی ماحول میں سرایت کیوں کر گئی ہے؟ قومی سطح کے ادارے ویران کیوں ہوتے جا رہے ہیں؟ اخلاقی قدریں معدوم ہوتی جا رہی ہیں۔ شائستگی دم بخود دکھائی دیتی ہے۔ جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا کلچر رواج پاتا جا رہا ہے۔ نوجوانوں کے لہجوں میں ترشی آ گئی ہے۔ بے روزگاری کا عفریت بے قابو ہوتا جا رہا ہے۔ ملک کے کئی شہروں کے پینے والے پانی میں انسانی فضلے کی شکایات ملی ہیں۔ تین چار ہزار افراد کے لئے صرف ایک ڈاکٹر میسر ہے۔ ہسپتالوں کی کمی شدت سے محسوس ہو رہی ہے۔ ریاست کے کئی اہم ستون دیمک خوردہ دکھائی دے رہے ہیں۔ قیام پاکستان کا دن محض پرچم کشائی اور صدارتی ایوارڈ کے اعلانات تک محدود ہو گیا ہے۔ 14اگست کے کچھ تقاضے ہیں یہ تجدید عہد کا دن ہے۔ قائداعظم کا پہلا اور آخری دونوں خطاب اگر غور سے پڑھیں تو عزم و ہمت اور ولولہ تازہ کے کئی اشارے اس میں پنہاں ہیں۔ سوچ اور فکر میں وسعت لانی ہو گی۔ آئندہ انتخابات کی بجائے آنے والی نسلوں کو فکر کی ضرورت ہے۔ قائداعظم نے قیام پاکستان کے بعد اپنی 394روزہ زندگی میں تقریباً سارے اہم اداروں کی بنیاد رکھ دی تھی۔ مگر ان کے بعد 840مہینوں میں بھی ترقی اور کارکردگی کا وہ معیار دکھائی نہیں دیتا جس کا اظہار بانیء پاکستان نے ایک سالہ کارکردگی پر کیا تھا۔ 14اگست ہم سے اسی کارکردگی کا متقاضی ہے جو قائداعظم کے پیش نظر تھی۔

جبار مرزا ایک معروف صحافی اور مصنف ہیں۔ ایک قومی اخبار کے لئے کالم بھی لکھتے ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
Read 523 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter