تصورِ پاکستان خواب یا حقیقت

Published in Hilal Urdu

تحریر: ڈاکٹر صفدر محمود

آپ کو یاد ہوگا کہ میں نے اپنے گزشتہ مضمون میں قیام پاکستان کے ایک اہم پہلو پر روشنی ڈالی تھی اور لکھا تھا کہ14-15 اگست کی نصف شب جب پاکستان معرض وجود میں آیا تو یہ قدر کی مبارک رات تھی۔ جسے ہم لیلتہ القدر کہتے ہیں۔ 15 اگست 1947ء کو جب پاکستانی قوم نے اپنا پہلا یوم آزادی منایا تو اس روز ستائیسویں رمضان اور جمعتہ الوداع کا دن تھا۔ گویا ساری نیک ساعتیں اس روز یکجا ہوگئی تھیں۔ آپ نے سورۃ القدر میں پڑھا ہوگا کہ لیلۃ القدر کے موقع پر فرشتے آسمانوں سے اترآتے ہیں اور مطلع فجر تک سلام بھیجتے ہیں۔ اﷲسبحانہٗ وتعالیٰ بھی نچلے عرش پر تشریف فرماہوتے ہیں۔ اسی مبارک رات جب آسمان سے اﷲپاک کی بے انتہا ، ان گنت اور بے شمار نعمتیں برس رہی تھیں تو رات کے بارہ بجے ، قیام پاکستان کا اعلان ہوا تھا۔ بے شک قیام پاکستان اﷲ پاک کی عطا تھی اور پاکستانی قوم کے لئے لاتعداد نعمتوں میں سے ایک نعمت تھی۔ لیکن یہ بات یاد رکھئے کہ جب اﷲ پاک کی جانب سے نعمت عطا ہوتی ہے تو اس کے ساتھ آزمائش ، امتحان اور تقاضے بھی وابستہ ہوتے ہیں۔ اگر وہ تقاضے پورے نہ کئے جائیں تو پھر سزا کا عمل بھی شروع ہوجاتا ہے۔ قرآن مجید پر تدبر کیجئے ۔ بنی اسرائیل اور دیگرکئی قوموں کو نایاب نعمتیں عطا ہوئیں۔ آسمانوں سے من و سلویٰ بھی اتارا جاتا رہا لیکن جب ان قوموں نے ان نعمتوں کے تقاضے پورے نہ کئے تو انھیں سزائیں بھی ملیں۔ پاکستان عطائے الٰہی ہے ۔ اسے ایک اسلامی، فلاحی ریاست بنانا مقصود تھا۔ حکومتی نظام کی حد تک جمہوریت ہمیں ورثے میں ملی تھی ۔ کیونکہ جمہوری نظام بلکہ پارلیمانی جمہوری نظام برطانوی حکمرانوں نے ہندوستان میں متعارف کرایا تھا۔ عوام کی کسی حد تک سیاسی تربیت بھی ہوچکی تھی لیکن پاکستانی جمہوریت کی بنیاد اسلامی اصولوں پر جب کہ ہندوستانی جمہوریت کی بنیاد سیکولر اصولوں پر رکھی جانی تھی۔ یعنی پا کستان کو ایک اسلامی جمہوری ریاست جب کہ ہندوستان کو سیکولر ریاست بننا تھا۔ افسوس کہ پاکستان صحیح معنوں میں نہ اسلامی ریاست بن سکا اور نہ ہی جمہوری ریاست۔ اسی صورت حال کا نتیجہ 1971ء میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی اور پاکستان کے دو لخت ہونے کی صورت میں نکلا۔ یاد رکھیں اگر پاکستان اپنی روح کے مطابق صحیح معنوں میں اسلامی جمہوری ریاست ہوتا تو ایک صوبے کی علیحدگی کی کبھی نوبت ہی نہ آتی۔

tsaawarpakkhwabyah.jpg
اگست کے حوالے سے اہم ترین سوال یہ ہے کہ پاکستان کا تصور کیا تھا؟ قیام پاکستان سے قبل اور بعد میں بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح نے کس قسم کا تصور پاکستان قوم کے سامنے پیش کیا؟ ان کے ذہن میں پاکستا ن کے نظام کا نقشہ کیا تھا؟ انھوں نے کس تصور پاکستان کے لئے عوام سے ووٹ لے کر نہ صرف انگریزوں کو تقسیم پر مجبور کردیا بلکہ مسلم لیگ کی نمائندہ حیثیت پر بھی مہر تصدیق ثبت کر دی تھی؟ 1945-46کے انتخابات میں مسلم لیگ کی فقید المثال کامیابی کے بعد خود کانگرس کے لئے ’’تقسیم‘‘ کے علاوہ کوئی چارہ یا آپشن باقی نہ بچا تھا۔اس پس منظر میں یہ حقیقت ہمیشہ ہمارے ذہنوں میں رہنی چاہئے کہ اول تو قیام پاکستان ایک جمہوری و سیاسی عمل کا ’’پھل‘‘ یا منطقی انجام تھا اور دوم یہ کہ مطالبہ پاکستان کے مقدر کا فیصلہ خود ہندوستان کے مسلمانوں نے 1945-46کے انتخابات میں مسلم لیگ کو 75فی صد ووٹ دے کرکیا تھا۔انگریزوں نے آخری لمحے تک کوشش کی کہ ہندوستان متحد رہے ، انھوں نے پورے ہندوستان پر قبضہ کیا تھا اور وہ پورا ہندوستان ہی کانگرس کو لوٹا دینا چاہتے تھے۔ لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ قدرت کا فیصلہ تھا کہ ہندوستان تقسیم ہو اور قدر کی مبارک رات کو آسمانوں سے برستی رحمتوں کے درمیان پاکستان قائم ہو۔ برطانوی پارلیمنٹ میں وزیرا عظم نے جون 1948ء میں ہندوستان کو آزادی دینے کا عندیہ دیا تھا لیکن قدرت کا فیصلہ تھا کہ پاکستان 14-15 اگست کی نصف شب معرض وجود میں آئے۔ میں تحریک پاکستان کو جس قدر گہری نگاہ سے پڑھتا ہوں اسی قدر مجھے حالات کے ایک مخصوص سانچے میں ڈھلنے میں قدرت کا ہاتھ نمایاں ہوتا نظر آتا ہے۔ ہم ظاہر اور الفاظ کے غلام دنیا دار لوگ ہیں۔ ہم ہمیشہ بھول جاتے ہیں کہ ظاہری عوامل کے ساتھ ساتھ ایک اہم فیکٹر قدرت اور مقدر کا بھی ہے۔ یہ بات جہاں قوموں کے بارے میں سچ ہے وہاں انسانوں کے بارے میں بھی اٹل حقیقت کی حیثیت رکھتی ہے۔ انسانوں کی مانندقوموں کا بھی مقدر ہوتا ہے۔ چونکہ ہم ہر شے کو ظاہری نظروں سے پرکھتے ہیں ا س لئے ہمیں قدرت کا فیکٹر نظر نہیں آتا۔ اس لئے اکثر اوقات ہمارے اخذ کردہ نتائج غلط ثابت ہوتے ہیں۔


اگست کے حوالے سے اہم ترین سوال یہ ہے کہ وہ تصور پاکستان کیا تھا جس کے لئے عوام نے ووٹ دئیے، قربانیاں دیں، صعوبتیں برداشت کیں اور جسے قائداعظم نے مسلمانوں کے سامنے پیش کیا۔ وہ کیا خواب تھا جس کی تعبیر کے لئے عالمی تاریخ کی سب سے بڑی ہجرت وقوع پذیر ہوئی اور مسلمان گھر بار لٹا کر، بزرگوں کی قبروں کو چھوڑ کر اور ان گنت جانوں کی قربانیاں دے کر دیوانہ وار پاکستان چلے آئے۔ اس تصور کو سمجھنے کے لئے ہمیں قائداعظم کی شخصیت اور ان کی تقاریر، ان کے پیغامات اور وعدوں،پر نظر ڈالنی ہوگی۔


قائداعظم کی شخصیت اور ان کے مزاج کو ذہن میں رکھ کر ان کی تقاریر پڑھیں تو احساس ہوتا ہے کہ مسلمانوں سے محبت ، اسلام کی بقا اور عظمت، اسوہء حسنہ، اپنے ضمیر اور اﷲ تعالیٰ کے سامنے جواب دہی جیسے احساسات و تصورات ان کے ذہن پر نقش تھے اور یہی وجہ ہے کہ ان کی تقریریں ان الفاظ اور ترکیبات کے ذکرسے بھری پڑی ہیں۔


بدقسمتی سے قائداعظم کی شخصیت کے اس پہلو کی طرف بہت کم توجہ دی گئی ہے۔ اس لئے میں قائداعظم کی آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس منعقدہ 1939ء میں کی گئی تقریرکے چند فقرے نمونے کے طور پر پیش کررہا ہوں۔ انھیں پڑھیے اور ان الفاظ کے باطن میں جھانکئے تو آپ کو اصل جناح کا سراغ ملے گا۔ وہ جناح جو بظاہر انگریزی بولتا، مغربی لباس پہنتا او رمغربی طور طریقوں پر عمل کرتا تھا، لیکن باطنی طور پرکیا تھا۔ قائداعظم کے الفاظ تھے:


’’مسلمانو! میں نے دنیا کو بہت قریب سے دیکھا ہے۔ دولت ، شہرت اور عیش و عشرت کے بہت لطف اٹھائے۔ اب میری زندگی کی واحد تمنا یہ ہے کہ مسلمانوں کو آزاد اور سربلند دیکھوں۔ میں چاہتا ہوں کہ جب مروں تو یہ یقین اور اطمینان لے کر مروں کہ میرا ضمیر اور میرا خدا گواہی دے رہا ہو کہ جناح نے اسلام سے خیانت اور غداری نہیں کی۔ میں آپ کی داد اور شہادت کا طلب گار نہیں ہوں۔ میں چاہتا ہوں کہ مرتے دم میرا اپنا دل ، ایمان اور میرا ضمیر گواہی دے کہ جناح تم نے مدافعت اسلام کا حق ادا کردیا۔ جناح تم مسلمانوں کی حمایت کا فرض بجا لائے۔ میرا خدا یہ کہے کہ بے شک تم مسلمان پیدا ہوئے اور کفر کی طاقتوں کے غلبے میں عَلم اسلام کو سربلند رکھتے ہوئے مسلمان مرے۔ ‘‘


یوم حساب، خدا کے حضور سرخروئی کا خیال، مسلمانوں اور اسلام کی سربلندی کا علم بلند کئے ہوئے مرنے کی آرزو اور رضائے الٰہی کی تمنا صرف اور صرف وہ شخص کرسکتا ہے جو سچا مسلمان ہو اور جس کا باطن خوف خداکے نور سے منور ہو۔ غور کیجئے کہ جب قائداعظم نے یہ تقریرکی اس وقت ان کی عمر تقریباً 53 سال تھی اور ان کی شہرت اوج ثریا پر تھی۔


قائداعظم کو زندگی بھر اقلیتوں کے مسئلے سے واسطہ رہا اور وہ اس سے نمٹنے کی کوشش کرتے رہے۔ متحدہ ہندوستان میں مسلمان سب سے بڑی اقلیت تھے اور اس اقلیت کے سب بڑے رہنما محمد علی جناح تھے۔ چنانچہ متحدہ ہندوستان کا خواب ٹوٹنے کے بعد جس کا نقطہ عروج 1928ء کی نہرو رپورٹ کو قرار دیا جاسکتا ہے کیوں کہ قائداعظم نے اسے پارٹنگ آف دی ویز یعنی راستوں کی علیحدگی قرار دیا تھا۔ قائداعظم پہلے پہل مسلمان اقلیت کے حقوق اور بعد ازاں مسلمان قوم کے حقوق کے لئے اس وقت تک مسلسل لڑتے رہے، جدو جہد کرتے رہے جب تک قیام پاکستان کے امکانات واضح نہیں ہوگئے۔ مسلمان اقلیت سے مسلمان قوم کے سفر میں1940ء کی قرارداد لاہور یا قراردادپاکستان ایک طرح سے اہم ترین سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے کیونکہ اس کے بعد قائداعظم کا مؤقف یہ رہا کہ مسلمان ایک اقلیت نہیں بلکہ ہر تعریف ، معیار اور تصور کے مطابق ایک قوم ہیں۔ ظاہر ہے کہ اس قومیت کی اہم ترین بنیاد مذہب تھی۔ اسی طرح جب قیام پاکستان کا مرحلہ قریب آیا تو قائداعظم کے لئے سب سے اہم سوال اور مسئلہ پھر اقلیتوں کا تھا۔ کیونکہ پاکستان میں بھی کئی مذہبی اقلیتیں آباد تھیں اور ادھر ہندوستان میں بھی سب سے بڑی اقلیت مسلمانوں ہی کی تھی جس کے تحفظ کے لئے قائداعظم پریشان رہتے تھے۔ چنانچہ قیام پاکستان سے چند ماہ قبل اور چند ماہ بعد تک ان سے بارہا اقلیتوں کے مستقبل کے بارے میں سوالات پوچھے جاتے رہے جس کی وہ بار بار وضاحت کرتے رہے۔ اس دور میں قائداعظم نے جو تقاریر کیں یا بیانات دئیے ان کا صحیح مفہوم سمجھنے کے لئے ان کا مطالعہ اس مسئلے کے تناظر میں کرنا چاہئے۔


اس ضمن میں قائد اعظم کے ذہن اور فکر کو سمجھنے کے لئے ان کی اس پریس کانفرنس کا حوالہ دینا ضروری ہے جو انھوں نے پاکستان کا گورنر جنرل نامزد ہونے کے بعد 14 جولائی 1947 ء کو نئی دہلی میں کی۔ اقلیتوں کے ضمن میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انھوں نے کہا........
’’ میں اب تک بار بار جو کچھ کہتا رہا ہوں اس پر قائم ہوں۔ ہر اقلیت کو تحفظ دیا جائے گا۔ ان کی مذہبی رسومات میں دخل نہیں دیا جائے گا اور ان کے مذہب، اعتقاد، جان و مال اور کلچر کی پوری حفاظت کی جائے گی۔ وہ ہر لحاظ سے پاکستان کے برابر کے شہری ہوں گے۔‘‘


قائد اعظم نے مزید کہا، ’’آپ مجھ سے ایک فضول سوال پوچھ رہے ہیں۔ گویا میں اب تک جو کچھ کہتا رہا ہوں وہ رائیگاں گیا ہے۔ آپ جب جمہوریت کی بات کرتے ہیں تو مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ آپ نے اسلام کا مطالعہ نہیں کیا۔ ہم نے جمہوریت 1300 سال قبل سیکھ لی تھی۔‘‘


سوال یہ ہے کہ 1300 سال قبل مسلمانوں نے کون سی جمہوریت سیکھی تھی؟ کیا وہ سیکولر جمہوریت تھی یا اسلامی جمہوریت؟ ان دونوں تصورات میں ایک واضح فرق ہے جسے ذہن میں رکھنا چاہئے۔ مغربی جمہوریت کے مطابق مذہب اور سیاست ایک دوسرے سے بالکل الگ اور لا تعلق ہوتے ہیں۔ یہ لوگوں کا انفرادی معاملہ سمجھا جاتا ہے جبکہ مسلمانوں کے نزدیک اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے اس لئے اس کی سیاست بھی اسلامی اصولوں کے تابع ہے۔


اس بحث کی ایک اہم کڑی قائد اعظم کی 11 اگست 1947ء کی تقریر ہے جو انہوں نے پاکستان کی دستور ساز اسمبلی کا پہلا صدر منتخب ہونے پر اسمبلی میں کی۔ یہی وہ تقریر ہے جس کی توضیح یا تشریح کر کے کچھ حضرات یہ مفہوم نکالتے ہیں کہ قائد اعظم پاکستان کے لئے سیکولر جمہوری نظام چاہتے تھے۔ جبکہ دوسرا مکتبہ فکر اس توضیح سے اس بنیاد پر اختلاف کرتا ہے کہ اول تو قائد اعظم کی تقریر سے ہر گز یہ مفہوم نہیں نکلتا اور دوم یہ تاثر غیر منطقی ہے کیونکہ قائد اعظم جیسے لیڈر کی ایک تقریر کو ان کی دوسری لاتعداد تقریروں یا بیانات سے ،جو انھوں نے اس سے قبل یا بعد ازاں دئیے ،الگ یا علیحدہ کر کے صحیح نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا ۔


سوال یہ ہے کہ قائد اعظم نے 11 اگست کی تقریر میں کیا کہا جو اس قدر بحث و نزاع کا سبب بن گیا۔ دراصل انھوں نے اس تقریر میں ان بنیادی مسائل کی نشاندہی کی جو اس وقت پاکستان کو درپیش تھے اور ان کے ساتھ ساتھ بابائے قوم (فادر آف دی نیشن) ہونے کے ناتے کچھ نصیحتیں بھی کیں۔ اس تقریر کا مکمل ادراک حاصل کرنے کے لئے پوری تقریر کو اس کے سیاق و سباق اور پس منظر میں پڑھنا ضروری ہے۔ قائد اعظم نے کہا کہ..........


’’ہم آپ کی مدد سے اس اسمبلی کو مثالی بنائیں گے۔ اس اسمبلی نے بیک وقت دستور سازی اور قانون سازی کے فرائض سرانجام دینے ہیں جس کے سبب ہم پر نہایت اہم ذمہ داری ڈال دی گئی ہے۔ حکومت کا پہلا فرض امن عامہ قائم کرنا ہے تاکہ شہریوں کی جائیداد اور مذہبی اعتقادات کی حفاظت کی جا سکے۔ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ رشوت اور کرپشن ہے۔ اس اسمبلی کو اس زہر کے خاتمے کے لئے مؤثر اقدامات کرنے ہیں۔ ایک اور لعنت بلیک مارکیٹنگ یعنی چور بازاری ہے جس کا تدراک آپ کو کرنا ہے۔ اسی طرح ہمیں اقربا پروری اور ظلم و زیادتی کو بھی کچلنا ہے۔ مجھے علم ہے کہ کچھ لوگوں نے بنگال اور پنجاب کی تقسیم کو تسلیم نہیں کیا۔ میرے نزدیک اس مسئلے کا اور کوئی حل نہیں تھا۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا کرنا ہے؟


اگر ہم پاکستان کو خوشحال اور عظیم ریاست بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں ہمہ وقت عوام کی خوشحالی اور بہتری پر توجہ دینا ہو گی۔ اگر آپ ماضی کی تلخیوں کو دفن کر کے، رنگ و نسل اور عقیدے کے اختلافات کو پس پشت ڈال کر، تعاون اور برابری کی فضا میں کام کریں گے تو آپ کی ترقی کی کوئی انتہا نہیں ہو گی۔ اگر ہم اس جذبے کے ساتھ کام کریں تو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اکثریت اور اقلیت، مسلمان اور ہندو کے درمیان تضادات ختم ہو جائیں گے کیونکہ جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے ان میں بھی پٹھان، پنجابی، شیعہ، سنی وغیرہ ہیں۔ اسی طرح ہندوؤں میں برہمن، وشنا، ویش، کھتری، بنگالی و مدراسی ہیں۔ یہی تقسیم ہندوستان کی آزادی کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ رہی ہے۔ ہمیں اس سے سبق سیکھنا چاہیے۔ آپ آزاد ہیں مندر میں پوجا کریں یا مسجد میں عبادت کریں۔ آپ کا کسی مذہب، ذات یا عقیدے سے تعلق ہے اس سے حکومت کو سروکار نہیں۔ کسی زمانے میں انگلستان کے حالات نہایت خراب تھے۔ اور اب وہاں رومن کیتھولک اور پروٹیسٹنٹ فرقوں کے درمیان اختلافات ختم ہو چکے ہیں اور وہ اپنے ملک کے یکساں شہری ہیں۔ اگر آپ بھی اپنے سامنے یہی آئیڈیل رکھیں تو وقت گزرنے کے ساتھ ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان فرق مٹ جائے گا۔ مذہب کے حوالے سے نہیں کیونکہ ہر شخص کا اپنا مذہب ہوتا ہے بلکہ سیاسی حوالے سے کیونکہ سبھی ایک ریاست کے شہری ہوں گے۔‘‘
11اگست کی تقریر کے حوالے سے یہ جاننا ضروری ہے کہ قائداعظم نے یہ تقریر فی البدیہہ کی تھی۔ اسے ضبط تحریر میں لایا گیا تھا اور نہ ہی اس کے لئے تیاری کی گئی تھی۔ خود قائداعظم نے اپنی تقریر میں کہا کہ ’’میں فی الحال کوئی سوچا سمجھا بیان نہیں دے سکتا ۔ میں چند ایک ایسی باتیں کہوں گا جو میرے ذہن میں آئیں گی۔‘‘ اس سے ظاہر ہے یہ کوئی پالیسی بیان نہیں تھا نہ ہی غورو خوض کے بعد لکھی ہوئی کوئی تقریر تھی۔


اس تقریر کا بنیادی نقطہ تمام شہریوں کے لئے مساوی حقوق تھے، جس پر اس سے قبل قائداعظم متعدد بارروشنی ڈال چکے تھے۔ وہ وقتاً فوقتاً اقلیتوں کے مساوی حقوق کے ضمن میں میثاق مدینہ کی مثال دیتے رہے تھے اور وہ اس سلسلے میں ہمیشہ میثاق مدینہ سے ہی رہنمائی اور فکری روشنی حاصل کرتے تھے۔ بقول پروفیسر شریف المجاہد مسلمانوں اور غیر مسلمانوں کے برابر حقوق کے ضمن میں ان کے سامنے ایک متبرک مثال موجود تھی کیونکہ میثاق مدینہ (622-23ء) میں ،جسے دنیا کے پہلے تحریری آئین کی حیثیت حاصل ہے، ڈاکٹر حمیداللہ کے بقول تمام شہریوں کو ان کے مذہب سے قطع نظر برابر کے حقوق دئیے گئے تھے۔ موجودہ دور میں مذہب سے بالا تر ہو کر سب شہریوں کو برابری کا درجہ دینا ایک سیکولر اصول سمجھا جاتا ہے لیکن آج سے طویل عرصہ قبل حضور نبی کریم ﷺ نے اسے میثاق مدینہ کا حصہ بنا کر اسلامی اقدار کا جزو بنادیا تھا۔


قائداعظم نے ہمیشہ تھیوکریسی کی مخالفت کی کیونکہ اسلام میں تھیوکریسی کا تصور موجود نہیں۔ علامہ اقبال تو جمہوریت کو اسلامی اصولوں اور فریم ورک کے قریب پاتے ہیں اور اجتہاد کا اختیار بھی منتخب نمائندوں یعنی پارلیمنٹ کے سپرد کرتے ہیں۔


حقیقت یہ ہے کہ قائداعظم پاکستان کو ایک ماڈرن اسلامی جمہوری ملک بنانا چاہتے تھے اور ان کے نزدیک اسلامی اور جمہوری اصولوں میں کوئی تضاد نہیں تھا۔ قائداعظم کی تقاریر کا مطالعہ کریں تو یہ راز کھلتا ہے کہ قائداعظم نے اپنی تقریروں میں کبھی بھی لفظ سیکولرازم استعمال نہیں کیا جبکہ اسلام ان کی تقریروں اور تحریروں کا محور نظر آتا ہے۔


اس تقریر کا بنظر غائر مطالعہ کیا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ اس کا نفس مضمون اور مدعا اقلیتوں کو احساس تحفظ اور بحیثیت شہری برابری کا پیغام دینا تھا اور قوم کو اتحاد کی تلقین کرنا تھا جس میں پاکستان کی ترقی کا راز مضمر ہے کیونکہ ہندوستان میں یہ پروپیگنڈہ جاری تھا کہ پاکستان ایک مذہبی ریاست ہوگی جہاں اقلیتوں کو غلام بنا کر رکھا جائے گا۔ اس تقریر میں قائد اعظم نے رومن کیتھولک اور پروٹیسٹنٹ فرقوں کا ذکر کیا جو کہ عیسائیت کے دو فرقے ہیں۔ وہ اسلام اور ہندومت کی مانند دو مختلف مذاہب نہیں۔ اس تقریر سے قبل اور بعد ازاں بھی قائد اعظم اقلیتوں کو یقین دہانیاں کراتے رہے اور بار بار یہ کہتے رہے کہ رواداری
(Tolerance)
اسلام کا بنیادی اصول ہے۔ چنانچہ قائداعظم نے 14 اگست 1947 ء کو دستور ساز اسمبلی کے افتتاح کے موقع پر ماؤنٹ بیٹن کی تقریر کا جواب دیتے ہوئے بھی اپنے اسی نقطہ نظر کو دہرایا۔ ماؤنٹ بیٹن نے اقلیتوں کے حوالہ سے مغل بادشاہ اکبر کی فراخ دلی کا ذکر کیا تھا جس کے جواب میں قائد اعظم نے کہا کہ، ’’اکبر بادشاہ نے جس فراخ دلی کا مظاہرہ کیا وہ ہمارے لئے کوئی نئی بات نہیں۔ اس کا آغاز 1300 برس پہلے ہوگیا تھا جب ہمارے نبی کریمؐ نے فتح کے بعد نہ صرف زبانی بلکہ عملی طور پر یہودیوں اور عیسائیوں سے فراخدلانہ سلوک کیا اور ان کے عقائد کا احترام کیا۔ مسلمانوں کی تاریخ ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہے۔‘‘ یہاں بھی انہوں نے میثاق مدینہ کا حوالہ دیا اور حضور نبی کریمؐ کو اپنا رہنما اور رول ماڈل قرار دیا۔


قائد اعظم کی تقاریر کو پڑھیں تو ان میں مسلسل ایک اسلامی جمہوری ریاست کا تصور ملتا ہے۔
نومبر 1945میں قائداعظم نے پشاور میں کہا...........


’’آپ نے سپاسنامے میں مجھ سے پوچھا ہے کہ پاکستان میں کون سا قانون ہوگا۔ مجھے آپ کے سوال پر سخت افسوس ہے ۔ مسلمانوں کا ایک خدا، ایک رسولؐ اور ایک کتاب ہے ۔ یہی مسلمانوں کا قانون ہے اور بس۔ پاکستان کا قانون اسلام کی بنیاد ہوگااور پاکستان میں کوئی قانون اسلام کے خلاف نہیں ہوگا۔ ‘‘
14فروری 1947کو شاہی دربار سبی بلوچستان میں تقریر کرتے ہوئے کہا:’’میرا ایمان ہے کہ ہماری نجات اس اسوۂحسنہ پر چلنے میں ہے جو ہمیں قانون عطا کرنے والے پیغمبراسلامﷺ نے دیا ہے ۔ ہمیں چاہئے کہ ہم اپنی جمہوریت کی بنیاد صحیح معنوں میں اسلامی تصورات اور اصولوں پر رکھیں ۔ ‘‘
30اکتوبر1947کو لاہور میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا:’’اگر ہم قرآن حکیم سے رہنمائی حاصل کریں تو بالآخر فتح ہماری ہوگی۔ میرا آپ تمام لوگوں سے یہی مطالبہ ہے کہ پاکستان کو اسلام کا قلعہ بنانے کے لئے بڑی سے بڑی قربانی سے بھی دریغ نہ کریں ۔‘‘


25جنوری 1948کو عید میلادالنبیؐ کے موقع پر کراچی بار ایسوسی ایشن کے استقبالئے میں تقریر کرتے ہوئے قائداعظم نے وکلا کے سامنے ان حضرات کو بے نقاب کیا جو ان کے حوالے سے غلط فہمیاں پھیلارہے تھے۔ اس وقت قائداعظم پاکستان کے گورنر جنرل بھی تھے ۔ اس لئے ان کے منہ سے نکلا ہوا ہر لفظ ’’پالیسی بیان‘‘ کی حیثیت رکھتا تھا۔ قائداعظم کے ان الفاظ پر غور کیجئے اور ان الفاظ کے آئینے میں ان چہروں کو تلاش کیجئے جنھیں قائداعظم نے شرارتی اور منافق کہا۔ قائداعظم نے کہا:’’میں ان لوگوں کے عزائم نہیں سمجھ سکاجو جان بوجھ کر شرارت کررہے ہیں اوریہ پراپیگنڈہ کر رہے ہیں کہ پاکستان کے آئین کی بنیاد شریعت پر نہیں ہوگی۔ ہماری زندگی پر آج بھی اسلامی اصولوں کا اسی طرح اطلاق ہوتا ہے۔ جس طرح 1300سال پہلے ہوتا تھا۔ اسلام نے ہمیں جمہوریت سکھائی ہے اور مساوات اور انصاف کا سبق دیا ہے اس لئے کسی کو بھی خوف زدہ ہونے کی ضرورت نہیں ۔ ‘‘


پھر فروری 1948میں قائداعظم نے ا مریکی عوام کے نام ایک ریڈیو پیغام میں یہ واضح الفاظ کہہ کر نہ صرف ہر قسم کے شکوک و شبہات کی دھند صاف کردی بلکہ اس بحث کو بھی ہمیشہ ہمیشہ کے لئے سمیٹ دیا۔ قائداعظم نے فرمایا:’’پاکستان ایک پریمیئر
(Premier)
اسلامی ریاست ہوگی ۔ .....پاکستان کی دستور ساز اسمبلی نے ابھی دستور بنانا ہے ۔ مجھے علم نہیں کہ اس کی حتمی شکل و صورت کیا ہوگی؟ لیکن مجھے یقین ہے کہ پاکستان کا آئین جمہوری قسم کا ہوگا جسے اسلام کے بنیادی اصولوں کے مطابق تشکیل دیا جائے گا۔ اسلام کے اصول آج بھی عملی زندگی پر اسی طرح لاگو ہوتے ہیں جس طرح 1300برس قبل ہوتے تھے۔ اسلام نے ہمیں جمہوریت سکھائی ہے اور مساوات اور انصاف کا سبق دیا ہے ۔ ہم ان شاندار روایات کے امین اور وارث ہیں اور دستور سازی میں انھی سے رہنمائی حاصل کی جائے گی۔ بہرحال پاکستان ایک تھیوکریٹ(مذہبی) ریاست نہیں ہوگی۔ پاکستان پریمیئر اسلامک سٹیٹ ہوگی۔‘‘


قائداعظم مسلسل یہ کہتے رہے کہ اسلام مکمل ضابطہ حیات ہے۔ سیرت النبیؐہمارے لئے اعلیٰ نمونہ ہے ، جمہوریت ، مساوات اور انصاف ہم نے اسلام سے سیکھا ہے اور اسلام نے جمہوریت کی بنیاد 1300برس قبل رکھ دی تھی۔ اس لئے ہمارے لئے یہ کوئی نئی چیز نہیں ہے ۔ پاکستان میں اقلیتوں کو برابر کے حقوق حاصل ہوں گے اور یہ کہ ہمارے نبی کریمؐ نے یہودیوں اور عیسائیوں سے جس فراخدلی کا مظاہرہ کیا تھا ہم اس پر عمل کریں گے ۔جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ پاکستان کے آئین کی بنیاد شریعت پر نہیں رکھی جائے گی وہ سازشی اور منافق ہیں اور آخر میں یہ کہہ کر تمام شکوک و شبہات کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی کہ پاکستا ن کا آئین جمہوری ہوگا اور اس کی بنیاد اسلامی اصولوں پر رکھی جائے گی۔ گویا جہاں تک نظام حکومت کا تعلق ہے قائداعظم کا تصور پاکستان پوری طرح واضح ہے اور وہ یہ کہ قائداعظم ایک ماڈرن جمہوری پاکستان چاہتے تھے اور اگر وہ زندہ ہوتے تو ہمارا آئین یقیناًانھیں بنیادوں پر تشکیل دیا جاتا۔ قائداعظم کی تقاریر کا مطالعہ کریں تو محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان کی داخلی صورتحال کے حوالے سے وہ صوبائیت کے مسئلے سے بہت پریشان تھے۔ پشاور سے لے کر ڈھاکہ ، چٹاگانگ تک ہر جلسہ عام اور خطاب میں انھوں نے عوام کو صوبائیت کے بارے میں وارننگ دی اور نصیحت کی کہ وہ صوبائیت کے زہر کو نکال باہر پھینکیں۔ ماضی پر نگاہ ڈالیں تو بابائے قوم کے ویژن، بصیرت اور دوربینی کی داد دینی پڑتی ہے کہ بالآخر صوبائیت نے 1971میں پاکستان کو دو لخت کردیا اور آج بھی کئی دہائیوں کے بعد بھی پاکستان کو جو سب سے بڑا چیلنج درپیش ہے وہ صوبائیت کا ہے ۔


قائداعظم نے اپنی تقاریر میں سماجی انصاف اور مساوات پر بہت زور دیا جو ان کے تصور پاکستان کا ناگزیر حصہ ہے ۔ وہ چاہتے تھے کہ پاکستان میں سماجی اور معاشی انصاف ہو ، تمام شہریوں کو برابر کے حقوق حاصل ہوں، پاکستانی معاشرہ رشوت خوری، بلیک مارکیٹنگ، اقربا پروری، فرقہ واریت سے بالکل پاک ہو۔ وہ فیوڈل ازم اور جاگیرداری نظام کا خاتمہ چاہتے تھے۔ اس حوالے سے انھوں نے کئی مواقع پر واضح کیا کہ وہ جاگیرداروں اور وڈیروں کے لئے نہیں بلکہ عام مسلمانوں کے لئے پاکستان حاصل کر رہے ہیں۔ وہ فوج اور بیوروکریسی کو بہرحال سیاست سے دوررکھنا چاہتے تھے اور کبھی یہ تصور بھی نہ کرسکتے تھے کہ پاکستان میں فوج حاکم ہوگی یا بیوروکریسی سیاست میں ملوث ہوگی، لیکن ہماری بدقسمتی کہ قائداعظم پاکستان بننے کے تقریباً ایک برس بعد انتقال کرگئے اور ان کے جانشین قائدعظم کے خواب کو شرمندہ ء تعبیر نہ کرسکے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بااثر زمیندار، وڈیرے اور سول و ملٹری بیوروکریسی اقتدار پر قابض ہوگئی۔ نتیجے کے طورپر غریب عوام جن کے لئے قائداعظم نے پاکستان حاصل کیا تھا ظلم و ستم، بے انصافی، غربت اور محرومی کی چکی میں پس رہے ہیں ۔ ان پر مایوسی اور بے حسی کی کیفیت طاری ہے اور انھیں دور دور تک اس گٹھ جوڑ کے شکنجے سے رہائی کی صورت نظر نہیں آتی۔


اگرچہ ہم قائداعظم کے تصور پاکستان سے بہت دور ہیں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ قوم کے ذہن میں قائداعظم کے ویژن کو تازہ رکھنا ضروری ہے تاکہ ہمیں یہ احساس رہے کہ ہماری قومی منزل کیا ہے اور ہمیں اسے بہرحال ایک دن حاصل کرناہے۔ منزل دور سہی، منزل کا شعور اور احساس تو زندہ ہے ۔

مضمون نگار ممتاز محقق اور دانشور ہیں۔ ایک قومی اخبار میں کالم لکھتے ہیں اور متعدد کتابوں کے مصنف ہیں۔ پاکستانیات کے حوالے سے وہ ایک مستند شناخت رکھتے ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

خودی کا رازداں ہو جا۔۔۔!

تو رازِ کن فکاں ہے اپنی آنکھوں پر عیاں ہو جا
خودی کا راز داں ہو جا، خدا کا ترجمان ہو جا
ہوس نے کردیا ہے ٹکڑے ٹکڑے نوعِ انسان کو
اخوت کا بیاں ہو جا، محبت کی زباں ہو جا
یہ ہندی، وہ خراسانی، یہ افغانی، وہ تورانی
تو اے شرمندۂ ساحل اچھل کر بے کراں ہو جا
غبار آلودۂ رنگ و نسب ہیں بال و پر تیرے
تو اے مرغِ حرم اڑنے سے پہلے پرفشاں ہو جا
خود میں ڈوب جا غافل! یہ سرِّ زندگانی ہے
نکل کر حلقۂ شام و سحر سے جاوداں ہو جا
مصافِ زندگی میں سیرتِ فولاد پیدا کر
شبستانِ محبت میں حریر و پرنیاں ہو جا
گزرجا بن کے سیلِ تند رَو کوہ و بیاباں سے
گلستاں راہ میں آئے تو جوئے نغمہ خواں ہو جا
علامہ محمداقبال

*****

 
Read 290 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter