مذہب سے جذباتی وابستگی اور اس کا غلط استعمال

Published in Hilal Urdu

تحریر: ملیحہ خادم

مذہب انسان کی زندگی کا وہ حساس پہلو ہے جس پروہ شاذ ونادر ہی کوئی سمجھوتہ کرتاہے بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ مذہب سے انسان کی دلی یا جذباتی وابستگی اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ اچھے یا بُرے معنوں میں مذہب کے نام پر آسانی سے جذبات سے کھیلا جاسکتا ہے۔ یہ ہی وہ نکتہ ہے جو انسانی جبلت کے نرم خو یا متشدد پہلو کوابھارتا ہے۔ کسی بھی مذہب میں تشدد کی اجازت نہیں اور نہ ہی ناحق خون بہانے کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے لیکن پھربھی اس کے اندر موجود فالٹ لائنز اصل تعلیمات کو زلزلے کی طرح ہلا کرنت نئی تشریحات یا توجیہات سامنے لے آتی ہیں اسی لئے تقریباً ہر مذہب کی تاریخ میں کبھی نہ کبھی کہیں نہ کہیں بے جا تشدد اور جاہلانہ رسوم ورواج کا دور دورہ رہا ہے ۔ ایسے معاملات میں غلطی ادیان کی نہیں ہوتی بلکہ عقائد کی توڑمروڑکرکی جانے والی تشریح اس کی ذمہ دار ہوتی ہے۔


اسلام کے ساتھ بھی یہ ہی ہورہا ہے۔ صدیوں سے جو فقہی یا مسلکی اختلافات اسلام کے دائرے میں گھوم رہے تھے، وہ اب اپنے مدارسے نکل کر باہر آگئے ہیں اور ایسے لوگوں کے ہتھے چڑھ گئے ہیں جو انہیں اپنی مرضی کی اشکال میں ڈھالتے رہتے ہیں لہٰذا اسلام کے نام لیوا آج پوری دنیا میں اپنی شناخت کے حوالے سے مشکلات کا شکار ہیں۔ موجودہ دور میں مسلمان اور دہشت گردی آپس میں یوں گڈمڈ ہو رہے ہیں کہ کسی کو دین اسلام کی صحیح تعلیمات سمجھاتے ہوئے صبح سے شام ہو جائے لیکن رات کو دنیا کے جس کونے میں دہشت گردی کی کارروائی ہوتی ہے اُس کاذمہ دار بدقسمتی سے مسلمان ہی نکلتا ہے۔ اس کے بعد الفاظ زبان کا ساتھ چھوڑ جاتے ہیں اور بین الاقوامی سطح پر مسلمان مزید مشکوک ہوجاتے ہیں ۔

پاکستان میں پچھلے کئی سالوں سے جاری دہشت گردی میں مذہب کا ہی استعمال کیا گیا ہے۔ ملک دشمن دہشت گرد اور ان کے سہولت کاروں نے اس ذہانت اور مکاری سے اسلام کا نام اپنے گھناؤنے مقاصد کے لئے استعمال کیا کہ عام آدمی صحیح اور غلط کی تمیز کرنے میں ہی الجھن کا شکار ہوگیا۔ ہم نے بلا تفریق مذہب اور مسلک کے ایک ایک دن میں کئی کئی سو لاشیں اٹھائیں لیکن پھر بھی کتنے ہی سادہ لوح پاکستانی اسلام کے نام پر کھیلے جانے والے اس مکروہ کھیل کو سمجھ نہ سکے۔

ہم دیکھتے ہیں کہ پاکستان میں پچھلے کئی سالوں سے جاری دہشت گردی میں مذہب کا ہی استعمال کیا گیا ہے۔ ملک دشمن دہشت گرد اور ان کے سہولت کاروں نے اس ذہانت اور مکاری سے اسلام کا نام اپنے گھناؤنے مقاصد کے لئے استعمال کیا کہ عام آدمی صحیح اور غلط کی تمیز کرنے میں ہی الجھن کا شکار ہوگیا۔ ہم نے بلا تفریق مذہب اور مسلک کے ایک ایک دن میں کئی کئی سو لاشیں اٹھائیں لیکن پھر بھی کتنے ہی سادہ لوح پاکستانی اسلام کے نام پر کھیلے جانے والے اس مکروہ کھیل کو سمجھ نہ سکے۔ جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے زمانے میں ہی پاک فوج نے دشمن کی اس چال کو سمجھتے ہوئے دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں میں آپریشن شروع کردیئے تھے تاہم اس گھمبیر نظریاتی جنگ میں ہر قدم پھونک کر رکھنا پڑرہا تھا کیونکہ دشمن کے ظاہری حلیے نے بہت سے معصوم ذہنوں کو کشمکش میں مبتلا کردیا تھا ۔ یادش بخیر اس دوران ایک وقت ایسا بھی آیا تھا کہ انسانی خول میں چھپے ان حیوانوں سے لڑتے ہوئے جب فوج کے جوان شہید ہوتے تو کئی لوگ دانستہ یا نا دانستہ یہ سوال کھڑا کردیتے کہ اپنے ہی بھٹکے ہوئے مسلمان بھائیوں سے لڑنے والے ان فوجیوں کو شہید کہنا یا ان کی نماز جنازہ پڑھنا جائز ہے بھی یا نہیں؟
یہ وہ مقام تھا کہ جب دنیا پاکستان کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگا چکی تھی۔ بھارت اور افغانستان کی خفیہ ایجنسیز ’’را‘‘ اور
’’NDS‘‘
انتہائی کامیابی سے پاکستانیوں کے دل و دماغ کو مسلمان اورکافر، شیعہ اور سنی کی تقسیم سے دوچار کررہی تھیں لیکن چونکہ ناکامی کا لفظ ہماری مسلح افواج کے لئے بنا ہی نہیں ہے اس لئے آپریشن ضرب عضب نے سرحد پار سے ہدایت اور حمایت یافتہ اس نام نہاد مذہبی ڈرامے کے اصل غلیظ کرداروں کا پردہ چاک کردیا اور پھر دنیا نے دیکھا کہ کتنے قلیل عرصے میں محدود وسائل کے ساتھ لڑی جانے والی اس جنگ نے پاک آرمی کے سینے پر شہیدوں اور غازیوں کے خون سے مزین فتح کے تمغے سجانے شروع کردیئے۔


خدا کے فضل سے اب وطن عزیز سے دہشت گردوں کا صفایا ہورہا ہے۔ مساجد سے لے کر چرچ اور تعلیمی اداروں سے لے کر تفریح گاہوں تک پھیلی ہزاروں شہادتوں نے کافی حد تک شکوک ختم کر دیئے ہیں لیکن ابھی بھی ہم ایک تنی ہوئی رسی پر چل رہے ہیں، اب بھی کچھ ضمیر فروش فرقہ اور مذہب کی جمع تفریق میں مصروف ہیں۔ ذی عقل خوب جانتے ہیں کہ جو آگ باہر سے لگائی جاتی ہے، اسے ایندھن اندر سے بھی ملتا ہے۔ یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے کہ ہمارے معاشرے کے منافقانہ رویے تشدد اور انتہاپسندی کو پھلنے پھولنے کا موقع دیتے رہتے ہیں۔ ہم جذباتی لوگ ہیں جو بغیر سوچے سمجھے وقتی ابال کا شکار ہوجاتے ہیں۔ مردان یونیورسٹی کا طالبعلم مشعال اس کی تازہ مثال ہے جو چند لوگوں کے اکسائے ہوئے جوشیلے اور جذباتی ہجوم کی بھینٹ چڑھ گیا۔ ایسے کتنے ہی واقعات ہماری معاشرتی زندگی کی بدصورتی دنیا کے سامنے عیاں کرتے رہتے ہیں اور ہم حیلے بہانوں سے ایسی حرکتوں کی تاویلیں پیش کرتے رہتے ہیں۔ ہم سوشل میڈیا کو بھی بڑے اہتمام سے مذہبی منافرت پھیلانے کے لئے استعمال کرتے ہیں اور دوسروں کے عقائد میں غیر ضروری عیوب بھی اپنا فرض سمجھ کر تلاش کرتے ہیں۔


لیکن اب ہمیں سب اچھا ہے کی گردان چھوڑ کر اور اپنی کوتاہیوں کا اعتراف کرکے اپنے کل کو بہتر بنانا ہوگا۔ ہمیں معاشرے میں ایک دوسرے کے عقیدے، فرقے اور نظریے کے لئے گنجائش پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ غیرمسلموں کے آئینی اور عائلی حقوق کا تحفظ بھی یقینی بنانا ہوگا۔ ہمیں ماننا ہوگا کہ ہمارے یہاں توہین مذہب کو لوگ ذاتی بغض اورانا کی تسکین کے لئے ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ ہمیں یہ بھی ماننا ہوگا کہ مذہب سے وابستگی کو ہم بسا اوقات انتہا پرلے جاکر اپنے نظریات اور عقائد دوسرے پر تھوپنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہمیں سماجی چیک اینڈ بیلنس کا نظام، قانون کی عملداری کے ذریعے مؤثر بنانا ہوگا تاکہ کوئی بھی نفرت انگیزانتہا پسندانہ تقریر اور تحریر کو فروغ نہ دے سکے۔


تحمل، برداشت اور رواداری وہ واحد کنجی ہے جو ہمیں دائمی امن کے راستے پر لے جائے گی۔ ہمارے علماء اور دانش ور حضرات کو لفّاظی کے بجائے حقیقی معنوں میں بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دینا ہوگا نیز فرقہ اور مسلک کی بنیاد پر ہونے والے شرانگیز اجتماعات کی حوصلہ شکنی کرنی ہوگی، تب ہی پُر امن پاکستان کا خواب شرمندہ تعبیر ہوسکے گا کیونکہ یاد رکھنے کی بات صرف اتنی ہے کہ موجودہ امن پاک آرمی کی بے مثال کارکردگی کا مرہونِ منت ہے لیکن فوج ہروقت گلیوں اور چوراہوں کی حفاظت کے لئے کھڑی نہیں رہ سکتی۔ ہمیں بحیثیت معاشرہ اپنے گلی کوچوں کی حفاظت کا ذمہ خود بھی لینا ہوگا تاکہ ہمارا مستقبل محفوظ ہوسکے۔ ہمیں اپنے رویوں کو بدلنا ہوگا بصورت دیگر اُجرتی قاتل مذہب کا نقاب چڑھا کر کبھی مسلم اکثریت کی مساجد اور امام بارگاہوں میں خون بہائیں گے تو کبھی اقلیتوں کی خوشیوں پر نقب زنی کرتے رہیں گے۔

مضمون نگار:ملیحہ خادم فری لانس صحافی ہیں۔ حالاتِ حاضرہ اور سماجی و سیاسی موضوعات پر لکھتی ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

*****

 
Read 137 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter