آپریشن خیبر4 ......ایک اہم معرکہ

Published in Hilal Urdu August 2017

تحریر: عبد الستار اعوان

افواج پاکستان کی پیشہ ورانہ حربی صلاحیتوں پر قوم کوہمیشہ نازرہا ہے ۔ محافظانِ وطن کی کامیابیوں ، کامرانیوں اور جرأتوں پر مبنی داستانوں کو قلمبند کرنا آسان نہیں ، بلاشبہ اس قوم کے ایک ایک فرد کے دل میں پاک فوج کی جو محبتیں بسی ہیں، ان کے پیچھے عزم و ہمت اور قربانیوں کی طویل داستانیں ہیں۔ سیلاب اور زلزلہ متاثرین کی بحالی ہو یا سیاچن سے لے کر وزیرستان ، بلوچستان اور ملک کے چپے چپے پر دہشت گردوں کے خلا ف نبردآزماہونے کا معاملہ ‘ ہمارے جری سپاہی کبھی پیچھے نہیں رہے اور ہماری افواج سے وابستہ ہر ایک مردِ مجاہد نے اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر دھرتی کے دفاع و سلامتی کے لئے ناقابل فراموش کردار ادا کیا ۔ افواج پاکستان کی انہی قربانیوں کی بدولت ہی قوم ان پر فخر کرتی ہے ۔


نائن الیون کے بعد جس وقت دشمن طاقتوں نے ہمیں اندرونی طور پر کھوکھلاکر کے ہماری سلامتی کو چیلنج کیا یہ تو ہمارے بہادر سپاہی ہی تھے جو دشمن کی راہ میں سدِ سکندر ی بن گئے ، انہوں نے دشمن کا یہ چیلنج قبول کیا اور صرف اللہ پر کامل بھروسہ کرتے ہوئے اور اپنی فطری بہادری کو کام میں لاتے ہوئے دہشت گردی کے ناسور کو تقریباًجڑ سے اکھاڑ پھینکا ہے۔ وطن عزیز کو بھارت اور چند دوسرے ملکوں نے ایک تھکا دینے والی جنگ میں الجھانے کی پوری پوری منصوبہ بندی کی تھی لیکن آفریں ہے دھرتی کے محافظوں پر کہ انہوں نے دشمن کے عزائم کوناکام کر دیا اور کھوکھرا پار سے لے کر لائن آف کنٹرول تک اور وزیرستان و بلوچستان سے لے کر اس ملک کے ایک ایک چپے تک کی حفاظت کا حق ادا کر دیا ۔

optkhyberfour4.jpg
ضرب عضب کی کامیابی کے بعد دہشت گردوں نے افغانستان میں پناہ لے لی۔ طالبان کے علاوہ آئی ایس آئی ایس کے دہشت گرد بھی اس علاقے میں نمودار ہوئے بلکہ افغانستان میں انہوں نے مضبوط اڈے قائم کر لئے۔
دہشت گردوں کا بیس کیمپ چونکہ افغانستان ہے اور سرحد پار سے ہی دہشتگرد ہمارے مختلف شہروں میں داخل ہو کر معصوم شہریوں کو نشانہ بناتے ہیں ، لہٰذا ضروری تھاکہ پاک افغان سرحد پر کڑی نظر رکھی جائے، بارڈر ایریا پر دہشت گردی کے مراکز کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے اور افغانستان سے پاکستان آنے والے خفیہ راستوں اور پہاڑی دروں پراپنی گرفت مضبوط کی جائے ‘چنانچہ حال ہی میں پاک فوج کی جانب سے خیبر ایجنسی کے بلندوبالا پہاڑوں اور دشوار گزار وادیوں میں ’آپریشن خیبر فور‘ کے نام سے شروع کیا جانے والا فیصلہ کن آپریشن اسی سلسلے کی ایک اہم ترین کڑی ہے ۔ اس کارروائی میں افواج پاک کے تمام گروپس اوردستے بشمول ایس ایس جی حصہ لے رہے ہیں ۔ 16جولائی2017ء سے جاری یہ آپریشن تیزی سے کامیابی کی جانب بڑھ رہاہے اور اب تک کی اطلاعات کے مطابق درجنوں دہشت گرد ہلاک جبکہ دو جوان عبد الجبار اورمحمدیاسر شہادت کا رتبہ حاصل کر چکے ہیں۔سپیشل سروسز گروپ کی بھرپور معاونت سے ہمارے جوانوں نے دہشت گردوں کے گرد گھیرا تنگ کرتے ہوئے انہیں بھاری نقصان پہنچایا اور 90مربع کلومیٹرکا علاقہ کلیئر کروالیا ہے ، آپریشن کے دوران بارودی سرنگیں ناکارہ بنائی گئیں، درجنوں ٹھکانے تباہ کئے گئے اور ہمارے محافظوں نے بھاگتے دشمن کاتعاقب کرتے ہوئے اس پر کاری ضرب لگائی ہے۔


آپریشن خیبر فور کے دوران وادی راجگال میں ہمارے جری محافظوں نے خطرناک اور دشوار ترین دروں، غاروں اور محفوظ پناہ گاہوں میں گھس کر دشمن کو انجام تک پہنچایا اور اس وادی کو کلیئر کیا ۔ راجگال خیبر ایجنسی کا سب سے دشوار گزار علاقہ ہے ،اس سے ملحقہ پہاڑی علاقے گھنے جنگلات اوردشوار گزارراستوں پر مشتمل ہیں۔یہاں سپن کئی چوٹی پر موجود دو اہم ترین سپرائی اور ستار کلے نامی درے بھی دہشت گردوں سے خالی کروا لئے گئے ہیں ان دروں کو دہشت گرد افغانستان سے پاکستان میں داخلے کے لئے استعمال کرتے تھے۔ سپن کئی چوٹی پر قبضہ رکھنے کے لئے دہشت گردوں نے سخت مزاحمت کی لیکن ایس ایس جی کے فولاد صفت کمانڈوزنے انہیں پسپا ہونے پر مجبورکردیا۔ علاقہ بھر میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو توپخانوں ، ہیلی کاپٹروں اور پیدل فوجی دستوں نے نشانہ بنایااور انہیں نشان عبرت بنا دیا ۔ بارہ ہزار فٹ اونچی چوٹی بریخ محمد کنڈیارو کاکنٹرول سنبھال کر چیک پوسٹ قائم کر کے سبزہلالی پرچم لہرا دیا گیا ہے۔فوجی ترجمان کے مطابق یہ بلند ترین چوٹی علاقے پر نظر رکھنے کے لئے استعمال کی جارہی تھی اور اب اس پر فوجی قبضے سے پورے علاقے میں دہشت گردوں پر نظر رکھنا ممکن ہو گیا ہے ۔ عسکری ماہرین اسے ایک بڑی کامیابی قرار دے رہے ہیں۔


جس وقت یہ سطور قلمبند کی جار ہی ہیں’آپریشن خیبر فور ‘نہایت سرعت کے ساتھ کامیابی کی جانب گامزن ہے اور دہشت گردوں پر یہ سرزمین تنگ ہو رہی ہے۔ہمارے سربکف مجاہدین کی اس تازہ ترین حربی کارروائی سے امید باندھی جا سکتی ہے کہ اس سے دہشت گرد وں کایقینی طور پر مزید صفایا ہوگااور ڈی جی آئی ایس پی آرمیجر جنرل آصف غفور کے یہ الفاظ بہت جلد حقیقت کا روپ دھاریں گے کہ’’ باہمت پاکستان کو کوئی نہیں ہرا سکتا اور اس دھرتی کے چپے چپے پر امن قائم ہوگا۔‘‘

مضمون نگار ایک قومی اخبار کے لئے کا لم لکھتے ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
Read 429 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter