چین، بھارت سرحدی تنازعہ

Published in Hilal Urdu August 2017

تحریر: ڈاکٹر رشید احمدخان

بھارتی ہٹ دھرمی اور اشتعال انگیز عسکری پالیسی کی ایک نئی مثال

گزشتہ تقریباً ڈیڑھ ماہ سے بھوٹان سے ملنے والی سرحد پر چین اور بھارت کی فوجیں آمنے سامنے کھڑی ہیں۔ وجہ تنازعہ سطح مرتفع پر مشتمل ایک چھوٹا سا علاقہ ڈوکلم
(Doklam Plateau)
ہے۔ جہاں بھارت، بھوٹان اور چین کی سرحدیں آپس میں ملتی ہیں۔ اصل معاملہ بھوٹان اور چین کے درمیان ہے بھوٹان کا کہناہے کہ یہ علاقہ اُس کا حصہ ہے۔ جبکہ چین کامضبوط دعویٰ ہے کہ یہ علاقہ زمانہ قدیم سے اُس کا حصہ رہا ہے۔ نہ صرف جغرافیائی بلکہ تاریخی،لسانی ،ثقافتی اور نسلی اعتبار سے یہ علاقہ چین کے صوبے تبت سے زیادہ مشابہت رکھتا ہے۔15جون کو چین کی ایک تعمیراتی ٹیم اس علاقے میں داخل ہوئی اور اس نے ایک سڑک کی تعمیر شروع کردی۔ ابتداء میں اس پر اعتراض بھوٹان کی طرف سے کیا گیا لیکن پیشتر اس کے کہ چین اور بھوٹان بات چیت کے ذریعے اس مسئلے کا حل ڈھونڈ نکالتے‘ بھارت نے اپنے ایک فوجی دستے کو اس علاقے میں داخل کرکے چینیوں کو کام سے روک دیا۔ چین کی طرف سے بھارت کے اس غیر ذمہ دارانہ اورجارحانہ اقدام کو نہ صرف چینی سرحد کی خلاف ورزی اور مداخلت قرار دے کر اس کی سخت مذمت کی گئی، بلکہ بھارتی فوجی دستے کی فوری واپسی کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ چین کا مؤقف یہ ہے کہ یہ مسئلہ اُس کے اور بھوٹان کے درمیان ہے۔ بھارت کا اس سے کوئی سروکار نہیں کیونکہ بھارت کی طرف سے اس علاقے کی ملکیت کاکبھی دعویٰ نہیں کیا گیا۔ اس لئے بھارت کی طرف سے جو کچھ کیا گیا ہے وہ ایک صریح اشتعال انگیزی ہے جس کے خطرناک نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔ دوسری طرف بھارت نے اپنے اقدام کے جواز میں یہ موقف اختیار کیا ہے کہ چونکہ 1949 کے معاہدے (جسے بھوٹان کے مطالبے پر 2007 میں نئے سرے سے تشکیل دیا گیا تھا) کے تحت بھارت بھوٹان کے دفاع اور سلامتی کا ذمہ دار ہے۔ اس لئے بھارت کو اس علاقے میں چینی فوج کو روکنے کا حق حاصل ہے۔ چین کے مطالبے پر اپنی فوجیں پیچھے ہٹانے کے بجائے،بھارت نے چین پر زور دیا ہے کہ وہ’ سٹیٹس کو
(Status Quo)
‘ بحال کرنے کے لئے اپنی فوج15 جون سے پہلے کی پوزیشینوں پر واپس لے جائے۔
بھارت اور چین کے درمیان تقریباً3500 کلومیٹر لمبی سرحد کا تنازعہ کافی پرانا ہے۔ اس کی وجہ سے1962 میں دونوں ملکوں کے دمیان جنگ بھی ہو چکی ہے۔ سرحدی تنازعے کو حل کرنے کے لئے چین اور بھارت نے ایک مشترکہ میکانزم cheenbharatserhad.jpgبھی قائم کر رکھا ہے۔ جس کے تحت وزراء کی سطح پر باہمی مذاکرات کے کئی دور ہو چکے ہیں لیکن سرحدی تنازعے پر بات چیت آگے نہیں بڑھ سکی کیونکہ بھارت چین پر اقصائے چن
(Aksai Chin)
پر قبضہ کرنے کا الزام عائد کرتا ہے جبکہ چین کا دعویٰ ہے کہ بھارت کے شامل مشرق میں واقع ریاست اروناچل پردیش دراصل چین کا علاقہ ہے اور بھارت نے اس پر ناجائز قبضہ کررکھا ہے۔ باقی سرحد کی بھی چونکہ حتمی نشاندہی نہیں کی گئی اس لئے کبھی چینی اور کبھی بھارتی فوجی جوان متنازعہ علاقوں میں گھس آتے ہیں۔ اس قسم کی دراندازیوں کو روکنے اورکسی ناخوشگوار واقعے یا تصادم کی روک تھام کے لئے1988سے دونوں ملکوں کے درمیان جوں کی تُوں صورتِ حال برقرار رکھتے ہوئے سرحد کے ساتھ ساتھ امن اور استحکام کو قائم رکھنے کے لئے مفاہمت اور سمجھوتہ چلا آرہا ہے۔ اس کے باوجود ہمالیہ کے بلند و بالا دشوار گزار اور برف سے ڈھکے ہوئے چھوٹے علاقوں سے گزرتی ہوئی چین اور بھارت کی طویل سرحد کی نوعیت ایسی ہے کہ دراندازیوں کے اِکا دُکا واقعات رونما ہو جاتے ہیں۔ بعض اوقات سنگین صورتِ حال بھی پیدا ہو جاتی ہے اور دونوں اپنی پوزیشنوں سے پیچھے ہٹنے سے انکار کردیتے ہیں تاہم بھارت نے ہمیشہ اشتعال انگیزی کا سہارا لیا ہے اور اسے چین کی مخالف قوتوں سے کیش کرانے کی کوشش کی ہے۔ اسی قسم کے سنگین واقعات 2013،2014 اور2015 میں رونما ہو چکے ہیں لیکن ڈپلومیسی اور دونوں ملکوں کی سیاسی قیادت کی مداخلت سے صورت حال کو خطرناک حد تک بگڑنے سے روک دیا جاتا ہے لیکن ڈوکلم سطح مرتفع کا مسئلہ ایک مختلف ،پیچیدہ اور خطرناک مسئلہ ہے۔ مبصرین کے نزدیک اگر آئندہ دوتین ماہ میں اس بحران کو دور نہ کیا گیاتو ہمالیہ کی گود میں 1962 سے کہیں زیادہ تباہ کن نتائج کا حامل تصادم وقوع پذیر ہو سکتا ہے۔ اسی لئے کہ اس میں بھارت اور چین کے علاوہ بھوٹان بھی ملوث ہے اور نیپال بھی اس سے الگ تھلگ نہیں رہ سکتا۔ چین نے جس ردِ عمل کا اظہار کیا ہے‘ وہ بالکل اصولی ہے۔ بھارت پرنہ صرف سرحد پار فوجیں بھیجنے کا الزام ہے بلکہ اس اقدام کو چین نے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی اور چین کی علاقائی سالمیت اور خود مختاری کے لئے ایک چیلنج قرار دیا ہے۔ چین نے اس بحران کو ڈپلومیسی اور بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی ہے۔تاہم چین نے بھارت کو خبردار کیا ہے کہ جب تک بھارت کی فوجوں کو واپس نہیں بلایا جاتا ، چین کسی قسم کے مذاکرات میں شرکت نہیں کرے گا۔ چین کا مؤقف تو سیدھا سادہ اور واضح ہے کہ اس علاقے سے بھارت کا توکوئی تعلق ہی نہیں، اس مسئلے کو تو چین اور بھوٹان دو طرفہ بات چیت کے ذریعے حل کرسکتے ہیں لیکن یہ علاقہ بھارت کے لئے دفاعی اور سیاسی نقطۂ نظر سے دووجوہات کی بناء پر سٹریٹجک اہمیت کا حامل ہے۔ ایک یہ کہ ڈوکلم سطح مرتفع کا علاقہ بھارت اور اس کی شمال مشرقی ریاستوں کے درمیان واحد تنگ راستے‘ جسے مرغی کی گردن
(Chicken's neck)
سے تشبیہہ دی جاتی ہے‘ کے بالکل نزدیک واقع ہے یہاں چین کی موجودگی اور خصوصاً سڑک کی تعمیر سے بھارت کے اس راستے کو مستقل خطرہ لاحق رہے گا اور دونوں ملکوں میں کسی تصادم کی صورت میں چین بڑی آسانی سے بھارت کی سات شمال مشرقی ریاستوں (اروناچل پردیش ، آسام،منی پور، میگالیا،میزورام، سکم اور تریپورہ) کو باقی ملک سے الگ کرسکتا ہے۔ بھارت کے لئے یہ ریاستیں بڑی سٹریٹجک اہمیت کی حامل ہیں۔ بھارت کی فضائیہ نے یہاں نارتھ اور ایسٹ کمانڈ قائم کررکھی ہے۔ جسے کسی وقت بھی چین کے خلاف حرکت میں لایا جاسکتا ہے۔ بھارت کی یہ ریاستیں چونکہ برما (میانمار) سے ملحقہ ہیں، اس لئے بھارت نے جنوب مشرق اور خصوصاً ہند چینی ممالک کے ساتھ قریبی تجارتی، اقتصادی، ثقافتی اور سیاسی تعلقات کی بنیاد پر جو حکمتِ عملی ایکٹ ایسٹ
(Act East)
اپنا رکھی ہے، اُس پر عمل درآمد اور کامیابی میں ان ریاستوں کا کلیدی کردار ہے۔ لیکن بھارت کے لئے تشویش اور خطرے کی اصل اور سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ اس بحران کے دوران چین نے نہ صرف بھوٹان کے ساتھ بھارت کے خصوصی تعلقات بلکہ بھارت میں سکم کے انضمام کو بھی چیلنج کردیا ہے۔ چین نے کہا ہے کہ اقوامِ متحدہ کا رُکن ہونے کی حیثیت سے بھوٹان ایک آزاد اور خود مختار ملک ہے اور بھارت کو اس کے دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات میں مداخلت یا اس کے علاقے میں فوج بھیجنے کا کوئی حق حاصل نہیں ۔سطح مرتفع ڈوکلم میں چین کا سامنا کرنے کے لئے اپنے فوجی دستے بھیج کر بھارت دراصل بھوٹان پر اپنی گرفت مضبوط کرنا چاہتا ہے جو گزشتہ تقریباً پانچ برس سے بھوٹان کے بارے میں بھارت کے متکبرانہ رویہ کی وجہ سے ڈھیلی پڑتی آرہی ہے جب ہندوستان برطانوی سلطنت کا حصہ تھا، تو بھوٹان کو ایک تولیتی علاقے
(Protectorate)
کی حیثیت حاصل تھی۔ آزادی کے بعد بھارت کو بھوٹان پر یہ اختیارات ورثے میں ملے جنہیں1949 میں ایک معاہدے کے تحت باقاعدہ تحریری شکل دے دی گئی۔ اسی معاہدے کی شق نمبر2 کے تحت بھوٹان خارجہ تعلقات میں بھارت کی رہنمائی
Guidance
کا پابند تھا۔ 2007 میں بھوٹان کے اصرار پر اس معاہدے کی شِق نمبر2 میں ترمیم کرکے ’’خارجہ پالیسی کے معاملے میں بھارت کی رہنمائی‘‘ کے الفاظ حذف کرکے ’’قومی مفادات سے متعلقہ امور پر باہمی تعاون‘‘ کو شامل کرلیا گیا۔ بھارت کا دعویٰ ہے کہ اس نے اس شق کے تحت اپنی فوجوں کو بھوٹان کے علاقے میں داخل کیا ہے۔ لیکن بیشتر مبصرین کا خیال ہے کہ حال ہی میں وزیرِاعظم نریندر مودی کے دورۂ امریکہ کے اختتام پر جاری کئے گئے مشترکہ اعلامیے میں علاقائی اور عالمی مسائل پر بھارت اور امریکہ کے مؤقف میں جس طرح یکسانیت کا اظہار کیا گیا ہے اور اسی سے قبل مودی حکومت نے چینی احتجاج کے باوجود دلائی لاما کو متنازعہ ریاست ارونا چل پردیش کا دورہ کرنے کی اجازت دی ہے اس سے چین کی طرف سے کسی ردِ عمل کا آنا ناگزیر تھا۔ جنوب مشرقی بحرِ ہند میں امریکہ ا ور جاپان کے ساتھ بحری مشقوں میں حصہ لینے کے لئے بھارت کی رضامندی بھی چین کے خلاف ایک اقدام ہے۔ چین کی طرف سے نیوکلیئر سپلائرز گروپ میں بھارت کے داخلے کی مخالفت نے بھی دونوں ملکوں میں کشیدگی کو ہوا دی ہے۔ اس وقت پر اگرچہ چین اور بھارت کے تین چار سو کے قریب مسلح فوجی جوان ایک دوسرے کے آمنے سامنے کھڑے ہیں لیکن معاملے کے طول پکڑنے پر دونوں طرف سے فوجی قوت میں فوری طور پر اضافہ کیا جاسکتاہے۔ تاہم بیشتر مبصرین اس بات پر متفق ہیں کہ صورتِ حال کشیدہ اور خطرناک ہونے کے باوجود کسی بڑے تصادم یا جنگ کا امکان نہیں کیونکہ دونوں فریق اس بات سے آگاہ ہیں کہ اس سے بڑی تباہی ہوگی اور گزشتہ ایک آدھ دہائیوں میں چین اور بھارت نے دوطرفہ بنیادوں پر تجارت، معیشت، اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں جو تعلقات قائم کئے ہیں وہ ختم ہو جائیں گے۔ دونوں میں سے کوئی فریق بھی یہ صورت حال نہیں چاہتا۔ تاہم بھارت چین کے خلاف اِس طرح کی اشتعال انگیزی کرکے اپنے نئے دوست امریکہ کو خوش کرنا چاہتا ہے۔ مگر اس طرح کی وقتی اور موقع پرستانہ خارجہ اور دفاعی پالیسی علاقائی امن کے لئے انتہائی خطرناک ہے۔ اقوامِ متحدہ اور دنیا کے دیگر بڑے ممالک کو آگے آنا ہوگا اور بھارت کو اس امن دشمن رویے سے روکنا ہوگا۔

پروفیسر ڈاکٹر رشید احمد خان معروف ماہر تعلیم اور کالم نویس ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
Read 466 times
More in this category: فہرست »

1 comment

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter