پاک بحریہ ۔ بحرِ ہند میں امن و تعاون کی ضامن

Published in Hilal Urdu July 2017

تحریر: عثمان انصاری

پاک بحریہ بحرِ ہندکی ایک طاقتور اور تجربہ کار بحری قوت ہے جو کہ بحرِ ہند میں امن اور باہمی تعاون کو یقینی بنانے میں کلیدی کردار ادا کررہی ہے۔ انفرادی سطح پر پاک بحریہ بحر ہند کے شمال میں بحیرہ عرب میں امن و استحکام کی سب سے بڑی ضامن ہے ۔ بحیرہ عرب کو اس وجہ سے بھی اہمیت حاصل ہے کہ یہ سمندر خلیجی اور عالمی ممالک کے درمیان توانائی اور تجارت کا اہم راستہ ہے ۔علاقائی امن و استحکام کو یقینی بنانے میں پاک بحریہ کی کاوشوں میں اہم ترین چیز دیگر بحری افواج کے ساتھ مشترکہ تعاون ہے۔ اس سلسلے میں پاک بحریہ کثیر الملکی ٹاسک فورس
CTF-150
اور
CTF-151
کی اہم رکن ہے۔ان دونوں ٹاسک فورسز کا مقصد بحیرہ عرب میں میری ٹائم سکیورٹی ، دہشت گردی اور بحری قزاقی کی روک تھام کرنا ہے۔یہ ٹاسک فورسز اس لحاظ سے منفرد ہیں کہ ان میں30مختلف ممالک شامل ہیں جو اپنی خدمات رضاکارانہ طور پر انجام دے رہے ہیں۔ پاک بحریہ کی ان ٹاسک فورسز میں شمولیت خطے میں امن کے استحکام میں ایک اہم ترین کاوش ہے اورپاک بحریہ ان سر گرمیوں میں مسلسل اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پاک بحریہ علاقائی امن و استحکام کو کس قدر اہم تصور کرتی ہے۔ انہی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے ایما پر پاک بحریہ کو ان ٹاسک فورسز کی کمانڈ کا تجربہ متعدد بارحاصل ہوا ہے جو کہ پاک بحریہ کی خطے کے لئے خدمات کا ثبوت ہے۔ اگرچہ یہ خطہ عدم استحکام کا شکار ہے تاہم پاکستان نیوی کے کردار اور مشترکہ کوششو ں کی وجہ سے سمندروں میں صورتحال پرسکون ہے اور ہر قسم کی جہازرانی آزادانہ طریقے سے ہو رہی ہے۔ لہٰذا یہاں یہ مناسب ہوگا کہ اس پورے منظر نامے میں پاکستان نیوی کی کاوشوں پر روشنی ڈالی جائے ۔

pakbehriayabehre.jpg
ستمبر 2001ء میں افغانستان جنگ کے دوران بحیرۂ عرب میں بھاری بحری قوت صف بستہ نظر آئی تاکہ اس آپریشن میں مدد فراہم کی جاسکے، تاہم ضرورت اس امر کی بھی تھی کہ کسی بھی دہشت گرد کو فرا ر ہونے اور سمندری راستے سے ممکنہ طور پر خلیجی ممالک یا اس کے اطراف میں پہنچنے سے روکا جاسکے۔ اکتوبر 2002ء میں فرانسیسی رجسٹرڈ آئل سپر ٹینکر لمبرگ پر ہونے والے حملے نے جبکہ لمبرگ یمنی پورٹ آف عدن میں داخل ہونے کی کوشش کررہا تھا، علاقائی جہازرانی کو درپیش خطرات اور اس طرح عالمی معیشت کو پہنچنے والے نقصانات کو پوری طرح آشکار کر دیا ، جو کہ اس حملے کا اصل مقصدبھی تھا۔اگر بحری گزرگاہوں اور بندرگاہوں کو محفوظ نہیں بنایا گیا اور سمندروں میں بحری جہازوں کا تحفظ یقینی نہیں بنایا گیاتو عالمی معیشت کو اس کا شدید نقصان پہنچے گا۔ اس طرح بحیرۂ عرب اور اس کے اطراف کے پانیوں کو خصوصاََ خطرے کی زد میں تصور کیا جاتا تھاکیوں کہ خلیجی ممالک کو جانے والے توانائی اور تجارتی راستے یہیں سے نکلتے ہیں۔ اس لئے پورے خطے کو محفوظ بنایا جانا ضروری تھا تاہم یہ کسی بھی طرح کوئی آسان کام نہیں تھاکیوں کہ اس خطے کی وسعت کے باعث کوئی بھی نیوی تن تنہا اس کی نگرانی اور حفاظت کرنے کی اہل نہیں تھی۔
CTF-150
دراصل امریکی نیول ٹاسک فورس کے طور پرجود میں آیالیکن 2002ء میں یہ ایک کثیر القومی بحری قوت میں تبدیل ہوگیا جو بنیادی طور پر امریکی ، نیٹو کے چند یورپی اتحادیوں اور جاپان پر مشتمل تھی۔
پاکستان نیوی نے 2004ء میں
CTF-150
میں شمولیت اختیار کی اور اس وقت سے اس کا ایک اہم ترین رکن ہے، پاک بحریہ نے پہلی مرتبہ 2006ء میں
CTF-150
کی قیادت سنبھالی اور اس کے بعد سے تاحال نو مرتبہ یہ اعزاز حاصل کر چکی ہے۔
CTF-150
ایک وسیع علاقے کی نگرانی کی ذمہ دار ہے جہاں سے جہاز رانی کے مصروف ترین راستے گزرتے ہیں(دنیا کے ایک تہائی خام تیل کی ترسیل انہی راستوں سے ہوتی ہے) ۔ یہ علاقہ
2 Million
مربع میل سے زائد رقبے پر پھیلا ہوا ہے جس میں خلیج عمان، خلیج عدن، بحیرۂ احمر اور شمالی بحیرۂ عرب شامل ہیں۔ اس خطے سے مکمل واقفیت کے سبب پاکستان نیو ی
CTF-150
کا اہم ترین حصہ ہے۔
سربراہ پاک بحریہ ایڈمرل محمد ذکاء اللہ کے گزشتہ دورۂ بحرین کے دوران امریکی نیول فورسز سینٹرل کمانڈ
(NAVCENT)
کے کمانڈر وائس ایڈمرل کیون ایم ڈونیگن نے اس حقیقت کا واضح الفاظ میں اعتراف کیا۔
NAVCENT
بذاتِ خود امریکی سینٹرل کمانڈ
(CENTCOM)
کا حصہ ہے جس کے تحت کمبائنڈ میری ٹائم فورسز کا قیام عمل میں آیا۔ ایڈمرل ذکاء اللہ کے ساتھ باہمی دلچسپی کے امور بشمول دوطرفہ بحری اشتراک اور بحرِ ہند میں سکیورٹی کے معاملے سمیت مختلف معاملات پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے ایڈمرل ڈونیگن نے پاکستان نیوی کے افسروں اور جوانوں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہا اور علاقائی سکیورٹی اور استحکام کے قیام میں پاک بحریہ کے کردار کی تعریف کی۔ انہوں نے اس ضمن میں بیشتر کامیابی کو خطے میں پاک بحریہ کی مسلسل موجودگی سے منسوب کیا جس نے خطے میں آزادانہ جہاز رانی کے لئے محفوظ ماحول برقرار رکھا۔ سکیورٹی کے اعلیٰ معیار کی بدولت نہ صر ف سمندر میں دہشت گردی کے واقعات کا خاتمہ ہوا بلکہ دیگر غیر قانونی سرگرمیوں میں بھی کمی واقع ہوئی ہے۔
علاقائی سکیورٹی اور استحکام کو یقینی بنانے میں اگرچہ
CTF-150
کا اہم کردار رہا ہے تاہم 2000 ء کے درمیانی عشرے میں جنم لینے والے سکیورٹی کے نئے خطرات کے حوالے سے اس میں ایک امر واضح ہوا کہ یہ بحری قذاقی سے نمٹنے کا اختیار نہیں رکھتی تھی۔ صومالی بحری قزاقوں کی جانب سے پہلے پہل ہورن آف افریقہ کے اطراف اور بعد ازاں بحرِ ہند میں حملوں کے بڑھتے ہوئے واقعات کے نتیجے میں ایسے واقعات سے نمٹنے کا مطالبہ سامنے آیا۔ جس کے نتیجے میں 2009ء میں ایک خصوصی ٹاسک فورس
CTF-151
کا قیام عمل میں آیا۔
پاک بحریہ نے
CTF-150
میں اپنے کارہائے نمایاں اور خطے کے امن واستحکام کے لئے پاکستان کی ناگزیر حیثیت کو تسلیم کروانے کے لئے ٹاسک فورس 151 میں فوری شمولیت اختیار کی اور ٹاسک فورس کی کمانڈ کرنے والی خطے کی اولین بحری قوت ہونے کا اعزاز حاصل کیا اور اس کے بعد بھی وہ کئی مواقع پر یہ اہم ذمہ داری ادا کرتی رہی ہے۔
پاک بحریہ نے دھیرے دھیرے بحری قزاقوں کی کارروائیوں کو ناکام بنانا شرو ع کردیاجس کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی تجارتی راہداری جس کا گزر باب المندب سے خلیجِ عمان کی طرف ہوتا تھا، محفوظ ہوتا چلا گیا۔ اس ضمن میں پاکستان کی کاوشوں کا اعتراف کرتے ہوئے پاکستان کو اقوام متحدہ کے کونٹیکٹ گروپ برائے بحری قزاقی میں باقاعدگی سے شرکت کی دعوت دی جاتی رہی ہے ، جو صومالی بحری قزاقوں سے بہتر انداز میں نمٹنے کے لئے اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل
(Contact Group on Piracy)
کی قرارداد1851کے تحت قائم کیا گیا تھا۔
اگرچہ دونوں کمبائنڈ میری ٹائم فورسز میں پاک بحریہ کے جنگی جہازوں کی شرکت اکثر خبروں کی زینت بنی رہتی ہے مگر دونوں فورسز میں پاکستان کی شمولیت کا ایک اہم پہلو اس کے میری ٹائم پٹرول کرافٹ کی تعیناتی ہے۔ یہ پاک بحریہ کے نسبتاً غیر معروف اثاثے ہیں جوایک ہی مشن کے دوران سمندر کے وسیع علاقے کی نگرانی کی اہلیت رکھتے ہیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال کے دوران فوری مدد کے لئے بھی دستیاب ہوتے ہیں۔ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں ایئر کرافٹ کمبائنڈ میری ٹائم فورسز کا اہم اثاثہ ہوتے ہیں جو صحیح صورتحال کا پتہ لگاتے ہیں، مدد کی ضرورت پڑنے پر متاثر ہ فریق سے رابطہ قائم کرتے ہیں اور پھر بحرین میں قائم کمبائنڈ میری ٹائم فورسز کے ہیڈ کوارٹرزکو یہ تمام معلومات ارسال کرتے ہیں ۔
سمندری نگرانی کے حوالے سے لانگ رینج پی تھری سی اورین پاک بحریہ کا اثاثہ ہیں ۔ پی تھری سی یا اس کی دوسری اقسام جو کمبائنڈ میر ی ٹائم فورسز کے دیگر پارٹنرز تعینات کرتے ہیں، سے مطابقت کے سبب پاکستانی اورین فلیٹ ایک فطری انتخاب ہے۔
کمبائنڈ میری ٹائم فورسز150-اور151کے آپریشنز میں حصہ لینے کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ ان آپریشنز میں حصہ لینے سے مقامی بحری افواج کی استعداد اور تربیت میں اضافہ ہوا ہے جس سے علاقائی بحری افواج کے ساتھ شراکت داری مزید مضبوط ہوئی ہے۔اس نقطہ نظر سے پا ک بحریہ ایک تجربہ کار بحری قوت گردانی جاتی ہے کیونکہ پاک بحریہ خلیجی ممالک کی کئی بحری افواج کو تربیت دے چکی ہے اور اس کے تربیتی اداروں میں علاقائی بحری افواج کے کئی آفیسرز آج بھی تربیت حاصل کر رہے ہیں۔اس بات میں کوئی شک نہیں کہ دیگر بحری افواج کے ساتھ پیشہ ورانہ تجربات کے تبادلے اور مشترکہ آپریشنز کی انجام دہی کے ذریعے پاک بحریہ کی صلاحیتو ں میں اضافہ ہواہے۔ لیکن کئی علاقائی بحری افواج انفرادی طور پر بحری قزاقی اور سمندری دہشت گردی جیسے جڑواں خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت نہیں رکھتیں ( اور کچھ افواج اپنے محدود حجم اور وسائل کے سبب یہ اہلیت کبھی بھی حاصل نہیں کرسکتیں) ۔ اس سلسلے میں پاک بحریہ کا میری ٹائم مزاحمتی آپریشنز
(Maritime Interdiction Operations)
کی انجام دہی کے لئے سمال بوٹ انٹرڈکشن ڈرلز،سمندر میں سرچ اینڈ ریسکیو آپریشنز،ہیلی کاپٹرز کے ذریعے انجام پانے والے آپریشنز اور بحری جنگی جہازوں کی مہارتوں جیسی صلاحیتوں پر عبور اہم ہے۔ مزید برآں، زیادہ سے زیادہ باہمی رابطے حائل رکاوٹوں کو ختم کرنے اور علاقائی افواج کے ساتھ اشتراک کو فروغ دینے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں جس کے یقیناًمثبت نتائج برآمد ہوتے ہیں اور پاک بحریہ اس سے بھر پور مستفید ہوئی ہے۔
مختصراً یہ کہ پاک بحریہ کی خطے میں مسلسل موجودگی نے اسے سب کے لئے محفوظ بنادیا ہے۔ اگرچہ پاکستان کی 90فی صد تجارت سمندر کے راستے ہوتی ہے تاہم دیگر علاقائی ریاستیں خصوصاً خلیجی ممالک جو اپنی خوراک کا 80فی صد بذریعہ سمندر حاصل کرتی ہیں بھی یقیناًاس بحری امن سے مستفید ہو رہی ہیں۔ یہ صرف پاکستان کے ہی مفاد میں نہیں کہ وہ علاقائی امن و استحکام کے عزم پر کار بند رہے بلکہ پاک بحریہ کی کاوشیں تمام علاقائی ممالک کے لئے بھی سود مند ہیں۔ پاک بحریہ کی کاوشوں کی بدولت یہ سب پر واضح ہے کہ پاکستان ایک ذمہ دار ریاست ہے اور بحری امن کو یقینی بنانے کے سلسلے میں عالمی سطح پرکی جانے والی مشترکہ کوششوں کا اہم حصہ ہے ۔
اس تمام منظر نامے میں پاکستان کے کردار کے بغیر کمبائنڈ میری ٹائم فورسزکے مشن کی تکمیل ناممکن دکھائی دیتی ہے۔

 
Read 174 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter