رنگ لائے گا شہیدوں کا لہو

Published in Hilal Urdu July 2017

تحریر: محمداعظم خان

ستمبر 1965 کی جنگ کے دوران تخلیق کئے گئے قومی نغموں کا ایک احوال اُس وقت کے پروڈیوسر ریڈیو پاکستان لاہور کی زبانی

میڈم نور جہاں کا فنی سفر چھ دہائیوں پر محیط ہے۔ ان تمام کا ذکریہاں بیان کرنا مقصود نہیں۔ میں اس وقت صرف میڈم نور جہاں کے اُن ملی نغموں کا ذکر کرتا ہوں جو ریڈیو پاکستان میں ہم نے مل کر پروڈیوس کئے۔آج جس نغمے کا ذکر ہے یہ 12 ستمبرکو ریکارڈ کیا گیا۔ اس کے شاعرتنویر نقوی ہیں۔ میں پہلے بھی ذکر کرچکا ہوں‘ مجھے بطور پروڈیوسر یہ انتخاب کرناہوتا تھا کہ آج کون سا نغمہ ریکارڈ کیا جائے۔ ملی نغمے تو ہمیں بے شمار موصول ہوتے مگر جنگی حالات و واقعات کے مطابق ہمیں ملی نغمے کا انتخاب روزانہ کرنا ہوتا۔میں ریکارڈنگ کے لئے سارا دن اپنی منتخب ٹیم کے ساتھ مصروفِ عمل رہتا۔بعض اوقات یہ کام رات گئے تک جاری رہتا کیونکہ ملی نغمے کے انتخاب سے لے کر ریکارڈنگ مکمل ہونے تک بہت سی مشکلات درپیش ہوتیں مگر جذبۂ ایمانی اور لگن کی وجہ سے تمام امور بخوبی انجام پاجاتے۔ مجھے میڈم نور جہاں اکثر کہتیں کہ اعظم میاں تم کتنے انتھک انسان ہو‘ کام کرتے چلے جاتے ہو‘ تھکتے نہیں ۔ یہ سب کچھ اﷲ پاک کی مجھ پر مہربانی تھی کہ اتنے بڑے کام کا ذمہ لیا ہوا تھا‘ اس کو پورا کرنا میرا فرض تھا۔ یہ سب کچھ اپنی پیاری‘ نڈر اور بہادر افواجِ پاکستان کے لئے تھا۔ وہ محاذ پر اپنی ڈیوٹی دے رہی تھیں‘ اور میں ثقافتی محاذ پر اپنی ڈیوٹی دے رہا تھا۔
تنویر نقوی نے یہ ملی نغمہ ہمیں لکھ کر بھیجا’’رنگ لائے گا شہیدوں کا لہو‘‘ آپ خود دیکھیں کہ کس طرح تنویر نقوی نے شہیدوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے اپنے جذبات کا اظہار کیا ہے۔
رنگ لائے گا شہیدوں کا لہو۔ یہ لہو سرخی ہے آزادی کے افسانے کی
یہ شفق رنگ لہو
جس کے ہر قطرے میں خورشید کئی‘ جس کی ہر بوند میں اک صبح نئی
دُور جس صبح درخشان سے اندھیرا ہوگا
رات کٹ جائے گی‘ گل رنگ سویرا ہوگا
اپنی رفتار کو اب اور ذرا تیز کرو
اپنے جذبات کو کچھ اور جنوں خیز کرو
ایک دو گام پر اب منزلِ آزادی ہے
آگ اور خوں کے اُدھر امن کی آبادی ہے
خود بخود ٹوٹ کے گرتی نہیں زنجیر کبھی
بدلی جاتی ہے بدلتی نہیں تقدیر کبھی
میں نے اپنی پوری ٹیم اور میڈم نور جہاں کی مدد سے ان اشعار کو موسیقی کی مدد سے پُراثر بنانے کی بھرپور کوشش کی۔ اﷲ تعالیٰ نے مجھے اپنی اس کوشش میں کامیاب فرمایا۔ بہادر افواج پاکستان کے شہیدوں کالہو رنگ لایا اور ہم ہر محاذ پر کامیاب ہوئے ۔ یہ اﷲ تعالیٰ کا کرم تھا کہ تعداد میں ہم سے زیادہ فوج کی موجودگی کے باوجود ہم نے اور ہماری بہادر افواجِ پاکستان نے اپنے جذبہ ایمانی سے ہر محاذ پر دشمن کو عبرت ناک شکست سے دور چار کیا اور دُنیا نے یہ سب کچھ دیکھا۔ یہ ہماری فوجی اور ثقافتی تاریخ کا ایک سنہرا باب ہے اور ہمیں اپنی اس قربانی کو کبھی نہیں بھولنا چاہئے۔ ملک پاکستان ایک نظریاتی مملکت ہے اور یہاں کا ہر باشندہ اپنے ملک کے لئے خاص نظریات رکھتا ہے ہمیں اس کی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کی ہر حالت میں حفاظت کرنی ہے۔ اور عہد کرنا ہے کہ اپنے پاک وطن کے لئے وقت آنے پر اپنی جان تک قربان کردیں گے۔

 
 
Read 156 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter