تحریر: مونا خان

آخری حصہ

نہ تو ہم جیمز بانڈ ہیں اور نہ ہی ہماری پچھلی نسل میں کوئی صحافی رہا ہے۔ یہ جسارت اپنے پورے خاندان میں ہم نے ہی کی ہے۔ یہ صحافت کا کیڑا کب سرایت کر گیا پتہ ہی نہیں چلا۔ جی تو بات ہو رہی تھی مشن نیپال کی۔ گزشتہ شمارے میں جس نیپال کی کتھا آپ کو سنائی تھی، اس کا اصل قصہ تو ابھی باقی ہے۔ فوج سے جلد ریٹائرمنٹ لینے والے بہت سے فوجی سکیورٹی ایجنسیز کھول لیتے ہیں یا کسی بڑے تھنک ٹینک کے ساتھ وابستہ ہو جاتے ہیں ۔ فوج ایک نوکری ہی نہیں بلکہ ایک جذبہ ہے، جب فوجی ریٹائرڈ ہو جاتا ہے تو بسا اوقات بندے سے نوکری ڈھونڈنے میں بھول چوک ہو جاتی ہے۔ اور یہی بھول ہوئی 2014میں فوج سے ریٹائرڈ ہونے والے لیفٹیننٹ کرنل حبیب ظاہر سے۔ اسلام آباد بحریہ ٹاؤن میں رہنے والے کرنل صاحب نے اپنا سی وی نوکری کی تلاش میں انٹرنیٹ پر ڈالا ۔ ان کے سی وی میں کچھ اتنی مزیدار چیزیں تھیں جو کوسوں دور بیٹھے کچھ لوگوں کو بہت بھائیں ۔ جس میں سرفہرست یہ تھا کہ کرنل صاحب پاکستان کی خفیہ ایجنسی میں خدمات سرانجام دے چکے ہیں ۔اب بندہ پوچھے جب ایجنسی تھی ہی خفیہ تو پھر سی وی میں لکھنے کی کیا ضرورت تھی لیکن بات وہی ہے کہ جب برا وقت آتا ہے تو ایسی ہی غلطیاں ہو جاتی ہیں جن کا پھر خمیازہ بھگتنا پڑ جاتا ہے۔سٹریٹ سلوشن نامی کمپنی نے کرنل حبیب سے رابطہ کیا اور آٹھ ہزار ڈالر تک ماہانہ کا پرکشش پیکج آفر کیا۔ جنوری 2017 سے ای میلز کا سلسلہ شروع ہوا۔ ای میلز میں مارک تھامسن نامی شخص نے خود کوسٹریٹ اسٹریٹجک سلوشن نامی کمپنی کا سینئر ریکروٹر ظاہر کیا۔ مارک تھامسن نے حبیب ظاہر کی سی وی موصول ہونے کے بعد انہیں انٹرویو کے لئے کھٹمنڈو بلایا۔ کرنل حبیب ظاہر کو کھٹمنڈو آنے کے لئے بزنس کلاس کی ٹکٹ دی گئی۔ حبیب ظاہر کو پرکشش مراعات کا جھانسہ دے کر باقاعدہ پھنسایا گیا۔ ای میلز کیرئیرز ایٹ سٹریٹ سلوشنز ڈاٹ بز
(This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.)
کے ای میل ایڈریس سے بھیجی گئیں۔ مارک تھامسن نے حبیب ظاہر کی رہائش کے لئے کھٹمنڈو میں حیات ریجنسی نامی ہوٹل میں بکنگ کروائی۔
حبیب ظاہر کو ای میل کے ذریعے ہوٹل بکنگ کنفرمیشن نمبر 226339 بھیجا گیا۔ حبیب ظاہر کے لئے کھٹمنڈو میں 6 سے 9 اپریل تک ہوٹل میں بکنگ کرائی گئی۔


لیفٹیننٹ کرنل( ر) حبیب ظاہر کی گمشدگی کے بعد سے مارک تھامسن بھی منظر عام سے غائب ہوگیا اور سٹریٹ سلوشنز کی ویب سائٹ بھی بند ہے۔ واقعے کے بعد جب تحقیقات کا سلسلہ شروع کیا گیا تو پتہ چلا کہ سٹریٹ سلوشنز ویب سائٹ کاہوسٹ سرور بھارت میں تھا۔ ویب سائٹ کو پروٹیکشن پرائیویسی پروٹیکٹ آسٹریلیا نامی کمپنی دے رہی تھی۔ جس برطانوی نمبر سے کرنل حبیب کو نوکری کے سلسلے میں کالز موصول ہوتی رہیں وہ برطانوی موبائل نمبر بھی جعلی نکلا۔ تب جا کر عقدہ کھلا کہ یہاں معاملہ کوئی اور ہے۔ سیدھا سادا جھانسہ اور مکمل معلومات کے بعد کسی کوپھنسانا کیا ہوتا ہے؟ یہ اِس ساری کہانی سے واضح ہو گیا۔ ایک کام کرنل صاحب ٹھیک کر گئے جو انھوں نے کھٹمنڈو ائیرپورٹ اور لمبینی ائیرپورٹ سے اپنے گھر والوں کو تصویر اور میسیج بجھوا دیا جس سے ان کا نیپال پہنچنا ثابت ہوا۔ کرنل حبیب ظاہر نے کھٹمنڈو ایئرپورٹ اور اپنے بورڈنگ پاس کی تصاویر واٹس ایپ کے ذریعے اہل خانہ کو بھیجیں۔ لیفٹیننٹ کرنل حبیب ظاہر کی ای میلز کا ڈیٹا جب چیک کیا گیا تو ساری ٹائم لائن سامنے آ گئی۔ 8 فروری کو موصول ای میل میں حبیب ظاہر کو 10 روز میں ایئرٹکٹ و دیگر دستاویزات کی فراہمی کی یقین دہانی کرائی گئی۔ 22 فروری کو ای میل کے ذریعے انٹرویو کا پہلا مقام تبدیل کرنے کی اطلاع دی گئی۔

 

missionnepal.jpgحبیب ظاہر کو انٹرویو کے نئے مقام سے بروقت آگاہ کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی۔ ایک ای میل میں حبیب ظاہرکو بتایا گیا کہ انٹرویو پینلسٹ کوالالمپور پراجیکٹ میں مصروف ہے۔ عہدیدار کی مصروفیت کے باعث حبیب ظاہر کو مارچ کے تیسرے ہفتے تک انتظار کا کہا گیا۔ 4 اپریل کی ای میل کے ذریعے حبیب ظاہر کو موبائل پر انٹرنیٹ آن رکھنے کا کہا گیا۔ چار اپریل کی ای میل میں حبیب ظاہر کو اپنی لوکیشنز سے متعلق مسلسل آگاہ رکھنے کا کہا گیا۔ سولہ مارچ کو بھیجی گئی ای میل میں حبیب ظاہر کو اومان ایئرلائن کا بزنس کلاس ٹکٹ فراہم کیا گیا۔ ای میل میں حبیب ظاہر کو کھانے پینے اور سفری اخراجات کے بل سنبھال کر رکھنے کا بھی کہا گیا۔ بدھا ائیر ویز کے جہاز کے سامنے بنائی گئی تصویر کے بعد کرنل حبیب کو دوبارہ نہیں دیکھا گیا۔ یہ وہ آخری تصویر تھی جو انھوں نے اپنے گھر والوں کو وٹس ایپ کی تھی۔


ہمارا نیپال جانے کا مقصد تھا کہ جو معلومات سامنے آئی ہیں اسکے فٹ پرنٹس سامنے رکھ کر یہ ثابت کرنا کہ کرنل حبیب کو کس نے پھنسایا اور کس نے اغوا کیا۔ کرنل ریٹائرڈ حبیب ظاہر کو اغوا کرانے والے تینوں اہم کردار بھارتی نکلے۔ سفل چوہدری نامی بھارتی شہری نے حبیب ظاہر کے لئے ٹکٹ خریدا۔ یہ ٹکٹ پریشیسزٹریولز اینڈ ٹوورز کھٹمنڈو سے خریدا گیا۔ سفل چوہدری نامی بھارتی شہری نیپال میں لوکل ٹورسٹ گائیڈ ہے۔ صابو رجورا نامی بھارتی شہری نے حبیب ظاہر کے لئے ہوٹل میں بکنگ کرائی۔ صابو رجورا جلجلے نامی کمپنی میں مارکیٹنگ منیجر کے روپ میں کام کرتی ہے۔ ڈولی رینچن نامی بھارتی شہری نے کرنل ریٹائرڈ حبیب ظاہر کو ایئرپورٹ سے ساتھ لیا تھا۔ یہ وہ معلومات تھیں جو یہ ثابت کرنے کے لئے کافی تھیں کہ کرنل حبیب کی گمشدگی اور اغوا میں بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کا ہاتھ ہے۔


ہم جب نیپال پہنچے تو آن ارائیول ویزہ لینے کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ پہلے سے ہی وہاں موجود’لوگ‘ الرٹ نہ ہو جائیں اور جس مقصد کے لئے ہم وہاں گئے ہیں وہ اس میں ہماریلئے رکاوٹیں کھڑی نہ کر دیں ۔ ائیرپورٹ پہنچ کر ہم چھ لوگوں نے آن ارائیول ویزہ لیا اور ہوٹل کی جانب گامزن ہوئے۔ نیپال میں موجود پاکستانی سفارت خانے نے ہمارا کافی ساتھ دیا اور ہر ممکن مدد بھی کی۔ لیکن نیپال میں بھارت کا اثر بہت زیادہ ہے۔ نیپال کی سیاست میں بھی بھارت کا عمل دخل ہے۔ نیپال جیسا لینڈ لاکڈ ملک جو کھانے پینے کی اشیاء بھارت کے ساتھ زمینی راستوں سے درآمد کرتا ہے، وہاں بھارت آنے جانے کے لئے کسی ویزہ کی ضرورت نہیں اور نہ ہی بھارتی شہری کو نیپال آنے کے لئے ویزہ کی ضرورت ہے۔ بھارت نیپال سرحد پر کوئی روک ٹوک نہیں، کوئی امیگریشن نہیں، بس دو چوکیاں آمنے سامنے بنی ہوئی ہیں ۔ پہلے دن صرف گھوم پھر کر جگہ کا جائزہ لیا۔ دوسری صبح کھٹمنڈو سے لمبینی کے لئے فلائٹ لی۔ مقصد یہ تھا کہ جو بھارت کے ساتھ سرحدی مقام ہیں ان کو اپنی آنکھوں سے دیکھ کر جائزہ لیں اور کچھ وڈیوز بنا لیں ۔ ہچکولے کھاتی فلائٹ لمبینی پہنچی تو بھیروا ائیرپورٹ جس کو گوتم بدھا ائیر پورٹ بھی کہا جاتا ہے ‘کی تصاویر بنائیں ۔ پھر معلومات کے مطابق سنولی کراسنگ پوائنٹ ، جو ائیر پورٹ سے صرف پانچ کلو میٹر کے فاصلے پر واقع تھا، وہاں جانے کے لئے ٹیکسی ہائر کی۔ سنولی سرحد کے قریب پہنچے تو شکر ہے ٹیکسی والے نے بروقت بریک لگا ئی کیونکہ اگر وہ کراس بھی کر لیتا تو ہمیں تب پتہ چلتا جب ویلکم ٹو انڈیا کا بورڈ نظر آتا۔ خیر وہاں اتر کر تصاویر بنائیں ۔ بھارت آنے جانے والے لوگوں کی وڈیوز بنائیں ۔ ہمارے اور بھارت کی سرحد کے درمیان صرف چند فٹ کا ہی فاصلہ تھا۔ اتنے میں سرحدی چوکی پر موجود پولیس والے کی نظر ہم پر پڑی۔ ایک تو ہم دیکھنے میں نیپالی یا بھارتی نہیں لگ رہے تھے اور دوسرا ہم وڈیو بنا رہے تھے۔ اس نے آکر پوچھا کہ سرحد پر آپ کس کی اجازت سے وڈیوز بنا رہے ہیں؟ اب ہم یہ تو نہیں کہہ سکتے تھے کہ بھیا تمہاری وڈیو بنا رہے ہیں اس لئے کہانی بنانے میں ہی عافیت جانی اور کہا کہ سارک ممالک کی تجارت پر سٹوری کر رہے ہیں اس لئے بارڈر فوٹیج بنا رہے ہیں۔‘‘ اس کو جواب تھوڑا تسلی بخش لگا اور وہ چلا گیا۔ لیکن پانچ منٹ بعد ہی اس کو سامنے والی چوکی (بھارت) کی جانب سے اشارہ ہوا کہ یہ کون لوگ ہیں۔ تو وہ دو تین مزید پولیس افسران کے ساتھ آیا اور بولا آپ کو ڈپٹی کمشنر کے دفتر جانا پڑے گا اجازت لے کر آئیں ،معاملہ تھوڑا سنجیدہ ہو رہا تھا۔ رسک بھی تھا۔ ہمیں سرحد پار لے جانے میں ان کو دو منٹ بھی نہ لگتے اور ہم جو آئے تھے کرنل حبیب کی رپورٹنگ کرنے، کوئی ہماری گمشدگی کی رپورٹ کر رہا ہوتا۔ ہم نے اسے یقین دلایا کہ ہم ابھی ڈی سی آفس جا کر اجازت لے کر آتے ہیں۔ بس وہاں سے جان چھڑا کر بھاگے اور لمبینی گیٹ پر پہنچ کر دم لیا۔ وہاں جا کر ایز لائیو ریکارڈ کروائے جو ٹی وی پر چلنے تھے۔ اس کے بعد رخ کیا ’کالی دہا‘نامی سرحدی چوکی کا۔ وہاں جانے کا خیال اس لئے آیا کیونکہ کرنل حبیب کے پاس جو نیپال کا موبائل نمبر موجود تھا اس کے آخری سگنل ’کالی دہا‘نامی سرحد کے قریب مایا دیوی مندر کے احاطے میں لگے ٹاور سے ملے تھے۔ جس سے یہ ثابت ہوا کہ ڈولی رینچن نامی بھارتی شہری نے جب کرنل حبیب کو ائیر پورٹ سے لیا تو بجائے اس کے کہ وہ سنولی سرحد سے جاتا اس نے لمبا رستہ اختیار کیا جو کہ ائیرپورٹ سے تقریباً 25کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ مندر تک تو ہم آرام سے پہنچ گئے۔ مندر سے ’کالی دہا‘ سرحد کا فاصلہ سات منٹ کا تھا لیکن ٹیکسی ڈرائیور سے جب کہا کہ ’کالی دہا‘ جانا ہے تو اس کے چہرے کے تاثرات ایسے تھے جیسے وہ نہیں چاہتا کہ ہم وہاں جائیں۔ ہم چھ لوگ دو ٹیکسیوں میں سوار تھے۔ ایک ٹیکسی والے نے تو سیدھا انکار کر دیا کہ میں ادھر نہیں جا سکتا اور نہ جانے کی اس نے وجہ نہیں بتائی۔ جس ٹیکسی میں ہم سوار تھے اس ٹیکسی والے نے بھی یہی کہا کہ ’’میڈم!کچا سا راستہ ہے اور ادھر اتنی آمدورفت بھی نہیں ہے ، اگر آپ لوگ جائیں گے تو فوراً نظر میں آ جائیں گے اور کچھ ہوا تو میں ذمہ دار نہیں ہوں۔‘‘ اس نے بہت واضح الفاظ میں تنبیہہ کر دی تھی۔ تحقیقاتی صحافت کا جذبہ اتنا تھا کہ رسک کی پروا کئے بغیر میں وہاں جانا چاہتی تھی، لیکن میرے ساتھ آئے پانچ صحافیوں نے مجھ اکیلی لڑکی کو اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوئے سمجھایا کہ جب ٹیکسی والا لے کر نہیں جا رہا تو ہم کیسے جا سکتے ہیں؟ اور ایسے میں ہم بھی تمہیں نہیں جانے دیں گے۔ ’’لو بات ہی ختم ہو گئی۔ ایک تو ہمارے معاشرے میں لڑکی کا انویسٹیگیٹو صحافی ہونا بھی اچنبھا ہے ساتھ والے آپ کی حفاظت میں ہی لگے رہتے ہیں۔ خیر میں نے زیادہ بحث نہیں کی اور ٹیکسی والے سے کہا کہ بھیا پیسے لے لو مجھ سے اور ہمیں ائیرپورٹ چھوڑ کر تم کالی دہا کی تصاویر بنا کر مجھے وٹس ایپ پر بھیجنا ‘‘ ٹیکسی والا بھی یقیناًان کی ایجنسی والا ہی تھا وہ اس بات پر بھی نہیں مانا۔ ہم ائیر پورٹ پہنچے واپس کھٹمنڈو کی فلائٹ لی۔ کھٹمنڈو پہنچ کر اگلی صبح پاکستانی سفیر کا انٹرویو کیا اور اس کے بعد تھامل نامی بازار جہاں بہت سے دفاتر بھی قائم تھے، وہاں کا رُخ کیا۔ بھارتی کردار جن دفاتر میں کام کرتے تھے، ان کی ریکی کی، باہر سے جاکر اور تصاویربنا کر جگہ کو اسٹیبلیش کیا تاکہ جب رپورٹ بنائیں تو تمام تصاویری اور وڈیو ثبوت کے ساتھ دیں ۔ یہ ہمارا نیپال میں آخری دن تھا۔ صرف ایک خلش تھی کہ کالی دہا سرحد پر نہیں جا سکی لیکن پھر سوچا جو ہوتا ہے اچھا ہوتا ہے۔

 

بہرحال تمام معلومات اور پھر اس کے بعد آنکھوں دیکھے حال کے بعد بھارت کا اثرو رسوخ، بھارتی ایجنسیوں کا نیپال میں کردار، کھلی سرحدیں، کرنل حبیب ظاہر کو پھنسانے میں بھارتی ویب سائٹ، بھارتی کردار، موبائل فون کا بھارتی سرحد کے قریب جا کر سگنل ختم ہونا یہ تمام ثبوت یہ ثابت کرنے کے لئے بہت تھے کہ لیفٹیننٹ کرنل حبیب ظاہر کو’ را‘ نے باقاعدہ جال بچھا کر پھنسایا اور اس کا مقصد کرنل حبیب کو پاکستانی جاسوس ظاہر کر کے کلبھوشن کیس میں کلبھوشن یادیو کو بچانے کے لئے یہ ہتھکنڈا استعمال کرنا تھا لیکن کرنل حبیب کے گھر والوں کی بروقت ایف آئی آر اور پاکستانی میڈیا پر کرنل حبیب کی نیپال سے گمشدگی کی خبر سے بھارت اس کہانی پر کھیل نہیں سکا۔ نیپال میں موجود پاکستانی سفارت خانے نے بھی بروقت نیپالی دفتر خارجہ کے ساتھ معاملہ اٹھا لیا۔ نیپالی پولیس رپورٹ کے مطابق کرنل حبیب نیپال میں نہیں ہیں اور وہاں موجود خفیہ ایجنسیز ان کے اغوا میں ملوث ہیں۔ لیکن نیپال نے سرکاری طور پر پاکستانی سفارت خانے کو ابھی تک کوئی رپورٹ نہیں دی اور نہ ہی اس کا کوئی امکان ہے۔ کیونکہ2010 میں پاکستانی سفارت خانے کے ایک اہلکار کو سفارت خانے سے صرف چند قدم کے فاصلے پر آٹھ گولیاں ماری گئیں اور اس واقعے کی رپورٹ آج تک نیپالی حکومت کی جانب سے نہیں دی گئی کہ گولیاں کس نے ماریں۔ کرنل حبیب کے کیس میں بھارت کی جانب سے تاحال کوئی جواب نہیں آیا۔ لیکن میڈیا نے اس واقعے کو اسٹیبلش کرنے میں کردار ادا کر دیا کہ کرنل حبیب ظاہر بھارتی خفیہ ایجنسی را کے قبضے میں ہی ہیں ۔

مونا خان ایک نجی نیوز چینل سے منسلک ہیں۔ فارن افیئرز اور ڈیفنس کارسپونڈنٹ ہیں۔ قائداعظم یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہیں ۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
Read 264 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter