ہائے لندن۔۔ وائے لندن۔۔

Published in Hilal Urdu July 2017

تحریر: مجاہد بریلوی

لندن میں ہوں۔ لاہور کے دفتر سے حکمِ حاکم آیا کہ یہاں کے الیکشن بہت دیکھ لئے اب ذرا برطانوی الیکشن دیکھنے جائیں۔ ایئرپورٹ سے میلوں کا فاصلہ طے کر تے ہوئے اپنے ٹھکانے پر پہنچے۔ راستے میں نہ کوئی جلسہ‘ نہ دھرنا‘ نہ پوسٹر‘ نہ بینر‘ یہ کیسا الیکشن ہے؟
دل تو میرا اُداس ہے ناصر
شہر کیوں سائیں سائیں کرتا ہے
بات لندن میں الیکشن کے حوالے سے ہو رہی تھی اور اس پر مزید بات نہیں ہو گی کہ الیکشن کہیں کے بھی ہوں مدیر اعلیٰ ’’ہلال‘‘ سے طے ہو چکا ہے کہ کم از کم آپ کے جریدے میں یہ موضوع ممنوعہ رہے گا۔ لندن شہر کے حوالے سے جو میں کہہ بیٹھا کہ ’’کوئی ویرانی سی ویرانی ہے‘‘ تو اس پر مشہور اسکالر ڈاکٹر جانسن یاد آگئے جنہوں نے برسوں پہلے لندن پر کیسا تاریخی جملہ کہا تھا کہ ’’جو زندگی سے بیزار ہو وہ لندن چلا آئے‘‘۔ کسی بدبخت کی جہالت چٹخی تو جوابی سوال کیا ’’اور اگر لندن ہی سے بیزار ہو جائے تو؟‘‘ ڈاکٹر جانسن نے بڑی بیزاری سے جواب دیا ’’تو پھر سمجھیں وہ زندگی سے بیزار ہے‘‘۔ کہا جاتا ہے محبوب کا مزاج، لندن کا موسم اور پاکستان کی۔۔؟ یہ لیجئیے پھر اس کے آگے وہ لفظ آنے والا تھا جس پر پہلے ہی کہہ چکا ہوں کہ یہ ’’شجر ممنوعہ‘‘ ہے۔ جہاں تک محبوب کے مزاج کا تعلق ہے تو عمر کے اس پہر میں ساری توجہ بیوی کے مزاج پر رہتی ہے۔ اور جو ہمارے شہر سے نکلتے ہی بے رحمی کی حد تک برہم رہتا ہے۔ حالانکہ وہ دن کب کے ہوا ہوئے کہ
؂ کیا زمانہ تھا اِدھر شام اُدھر ہاتھ میں جام
اب تو رستے بھی رہے یاد نہ میخانوں کے
اگر ان میخانوں یعنی پبوں کے پاس سے گزر بھی ہوتا ہے تو اس میں بیٹھی خوش جمالوں کو دور سے سلام کرتے ہوئے اپنی راہ پکڑتے ہیں۔ جو یوں بھی ان دنوں صراطِ مستقیم پر چل رہی ہے کہ ماہِ رمضان ہے۔ جی ہاں لندن بلکہ سارے برطانیہ میں ماشاء اللہ جس پاکستانی سے ملنا ہوا، اور جن کی تعداد اب 10 لاکھ کے لگ بھگ ہے‘ ایک دو کو چھوڑ کر سارے الحمدللہ روزے سے ہوتے ہیں۔ اور تو اور ہمارے مستقل میزبان بیرسٹر صبغت اللہ قادری کوئن کونسل یعنی
Q.C
کا اعزاز رکھنے والے کہ جو لندن میں اپنی شام کی دعوتوں کی شہرت رکھتے ہیں روزے سے ہیں۔ روزے اور پھر لندن میں۔۔ جی ہاں یہاں ساڑھے اٹھارہ گھنٹے کے روزے ہوتے ہیں۔
Scandinavian
ممالک میں تو یہ کھنچ کر 21 گھنٹے کے ہو جاتے ہیں۔ ایک ویب سائٹ پر پڑھ رہا تھا کہ برصغیر بلکہ ایشیائی ممالک سے آنے والے مسلمان جو 14/15 گھنٹے کا روزہ رکھنے کے عادی ہیں‘ مستند علماء کرام سے رجوع کر رہے ہیں کہ فن لینڈ میں تو معاملہ 22 گھنٹے تک آپہنچا ہے۔ یعنی کیا فرماتے ہیں علماء دین کہ ’’سحری اور افطار‘‘ کے وقت میں فرق بس گھنٹے کا ہی ہے۔ خوفِ خلقِ خدا کے سبب اس موضوع کو یہیں چھوڑتا ہوں کہ لندن کا موسم ’’ہائے لندن۔۔ وائے لندن‘‘۔۔ ایک زمانہ تھا کہ جس دن یہاں سورج نکلتا وہ گوروں کے لئے روزِ عید ہوتا مگر ادھر چند برسوں سے لندن کو بھی گرمی نے آلیا ہے۔لندن کی 38 ڈگری کی جھلستی گرمی میں جب ایئر پورٹ سے باہر نکلا سورج سوا نیزے پر تو نہیں تھا مگر اتنا ضرور تھا کہ سوئیٹر‘کوٹ اُتار پھینکے۔ مگر یہ صورتحال محض شام تک تھی۔ شام ڈھلتے ہی ہلکی بارش اور خُنکی اور پھر رات کے پہلے پہر میں پھر سے سوئیٹر پر کوٹ۔ جب تک یہ سطرآپ پڑھ رہے ہوں گے انتخابی نتائج آچکے ہونگے۔ 24 گھنٹے پہلے تک تو امریکہ کی طرح برطانوی الیکشن کے بارے میں سارے سروے اور میڈیا کے سرخیل ایک بڑے
Upset
کے منتظر تھے۔ یعنی مہینے بھر پہلے جو لیبر پارٹی 24 پوائنٹ پیچھے تھی، الیکشن سے ایک دن پہلے صورتحال یہ ہے کہ ٹوری 45.5 تو لیبر 44.5 ۔ ایک پرسنٹ کا فرق۔ یہ تو پہلے ہی بتا چکا ہوں کہ برطانوی الیکشن کی ہلکی سی بھی جھلک یہاں کے چوراہوں، سڑکوں اور بازاروں میں نظر نہیں آتی۔ سارا انتخابی معرکہ اخباروں اور اسکرینوں پر ہوتا ہے۔ جس روز لندن پہنچا اُس شب دونوں وزرائے اعظم کے درمیان
Debate
تھی۔ نامزد وزرائے کرام ایک طرف کھڑے تھے دوسری طرف اینکر اور اُن کے ساتھ سو کے لگ بھگ شرکاء جنہوں نے براہ راست بڑے چبھتے ہوئے سوال کئے اور بہرحال جواب بھی بڑے برجستہ آئے۔ الیکشن کے حوالے سے یہ دلچسپ بات بھی بتاتا چلوں کہ یہ گزشتہ 85 سال سے چاہے ضمنی ہوں یا قبل از وقت یا پھر 5سال بعدجمعرات ہی کے دن ہی کیوں ہوتے ہیں اس بارے میں مختلف کہانیاں بتائی جاتی ہیں مگر ایک مستند لندن والے دانشور نے بتایا کہ گورے پانچ دن ڈٹ کر کام کرتے ہیں جمعہ کی شام تنخواہ ملنے کے بعد اگلے دو دن ساری کمائی تفریح پر لٹا دیتے ہیں اور یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ چھٹی کے دو دنوں میں گوروں کی پہلی ترجیح تفریح ہی ہوتی ہے اور اگر ان دنوں الیکشن ہوں تو 25 فیصد بھی پولنگ کی طرف رخ نہ کریں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ الیکشن کے دن چھٹی بھی نہیں ہوتی۔ اسکول ، کالج اور بازار سب کھلے ہوتے ہیں۔ صبح سات بجے سے رات دس بجے تک کسی بھی وقت ووٹ کاسٹ کرلیں۔ اُس سے بھی زیادہ حیرت ناک بات میرے لئے یہ تھی کہ پولنگ ختم ہوتے ہی یعنی دس بجے بی بی سی نے اپنے
Exit
Poll
میں جو نتائج بتائے وہی اگلے دن سرکاری طور پر بھی سامنے آئے۔ اور جیسا کہ ابتداء میں لکھ چکا ہوں کہ یہ ساری دنیا کے لیئے
Upset
تھے
Poor
وزیراعظم تھریسا مئے کی ٹوری پارٹی بھاری اکثریت لینے کے بجائے سادہ اکثریت بھی حاصل نہ کر سکی۔ یعنی 326 ووٹ جو حکومت بنانے کے لئے اُسے چاہئے تھے اُس سے آٹھ ووٹ پیچھے جبکہ لیبر پارٹی جس کے 2015 کے انتخاب میں 223 امیدوار کامیاب ہوئے تھے اُس کے 262 امیدوار کامیاب ہوئے۔
Poor

ٹوری وزیراعظم اس تحریر لکھنے تک حکومت بنانے میں کامیاب نہیں ہو سکی ہیں۔ یہ لیجئیے برطانوی انتخابات کی تفصیل میں میں اتنا آگے چلا گیا تو یہ بتانا بھول گیا کہ وہ گرمی جس کا میں نے ذکر کیا تھا اُس کی جگہ کھڑکی کے باہر سے خنک ہوائیں اور پھواریں پڑتی دیکھ رہا ہوں۔ ایسے میں اب کیا الیکشن ولیکشن کا ذکر۔۔ سوئیٹر پر کوٹ ڈال لیا ہے اور لندن برج کی جانب قدم بڑھ رہے ہیں۔ اور ہاں معاف کیجئیے گا ایک بار پھرخوفِ خلقِ خدا کے سبب اپنے ٹھکانے کی جگہ نہیں بتاؤں گا مگر کون نہیں جانتا کہ لندن کے اس خوشگوار موسم میں دو ہی مقام ایسے ہوتے ہیں جو بانہیں کھولے کھڑے ہوتے ہیں ایک پارک اور دوسرے ۔۔۔۔ جانے دیجیئے۔

مضمون نگار پاکستان کے ایک معروف صحافی اور تجزیہ نگار ہیں۔ آپ ایک نجی چینل پر حالات حاضرہ سے متعلق ایک پروگرام کے میزبان بھی ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
Read 132 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter