حقیقی حسنِ انتخاب اور مثالی طرزِ عمل

Published in Hilal Urdu July 2017

تحریر: ڈاکٹر ہما میر

آج ہم اپنے مضمون میں ایک ایسے تجربے کا ذکرکرنا چاہتے ہیں جو عمر بھر کے لئے ہمارے دل و دماغ پہ ثبت ہوگیا ہے۔ ہمیں وہ دیکھنے کو ملا جس کا ہم شاید کبھی گمان بھی نہ کرسکتے ہوں۔ اگر چہ2015 میں بھی ہم نے اس کی جھلک دیکھی تھی۔ مگر اس بارہم خود اس کا حصہ تھے لہٰذا ہمیں قریب سے اس پورے نظام کو سمجھنے کاموقع ملا۔


یہ ساری تمہید اس لئے ہے کہ قارئین جان سکیں کہ جمہوریت دراصل ہے کیا؟ انتخابات، ووٹ کے ذریعے اپنے پسندیدہ امیدوار کو چننا پولنگ کا عمل، گنتی، بیلٹ بکس، نتائج، یہ سارا عمل کیسے شفاف ،مہذب اور عمدہ طریقے سے ہوتا ہے، وہ ہم بیان کریں گے، نیز ہم یہ بھی عرض کردیں کہ اب ہمیں واقعی پتہ چل گیا کہ جمہوریت کتنی خوبصورت چیز ہے‘ اگر حقیقی ہو۔ ورنہ جمہوریت کا ڈراما تو ایک بھیانک عفریت سے کم نہیں جو غریب کی جان کے درپے ہے۔


9 مئی کو کینیڈا کے صوبے برٹش کو لمبیا میں صوبائی الیکشن تھے۔ اس الیکشن کی بازگشت تو مہینوں پہلے سے سنائی دے رہی تھی جب اُمیدواراپنے اپنے حلقوں میں مستعدی کے ساتھ متحرک تھے۔ امیدوار اپنے الیکشن آفس کا افتتاح کرتے ہیں جس میں اپنے ووٹرز اور حامیوں کو مدعو کرتے ہیں، تواضع ہوتی ہے۔ امیدوار ہر ایک سے نہایت عاجزی سے ملتا ہے، اپنا منشور بتاتا ہے اور یوں لوگ اپنا ذہن بنانے لگتے ہیں۔ یہ دعوتِ عام ہے مگر لوگ زیادہ تر اُسی امیدوار کے آفس جاتے ہیں جس پارٹی سے اُن کا تعلق ہو۔ اُمیدوار کے آفس میں اس کے ورکرز دن رات کام کرتے ہیں۔ لوگوں کو فون کرنا، ان کوپولنگ سٹیشن بتانا، یہ تمام کام رضاکارانہ طور پر ہوتا ہے یعنی رضاکار کوئی پیسہ نہیں لیتے، مفت میں ہوتا ہے۔ سیاستدانوں کے آفس ہر الیکشن میں الگ ہوتے ہیں کیونکہ یہ کرایہ پر حاصل کئے جاتے ہیں۔ سڑکوں پر کیمپ لگانا یہاں کا رواج نہیں۔ ان بیچاروں کو معلوم ہے کہ سڑکوں پر تمبو گاڑ کر‘ کیمپ لگا کر ‘اونچی آواز میں ٹیپ چلا کر اپنی پارٹی کے گانے یاترانے لگانے سے کیا ہوتا ہے؟ٹرکوں پر چڑھ کر ہنگامہ آرائی کا بھی انہیں معلوم نہیں۔ سیاسی جماعتوں کے جلسے بھی ہوتے ہیں مگر کسی ہال میں جہاں لوگ خوب جوش و خروش سے شریک ہوتے ہیں۔


9 مئی2017 کے الیکشن میں ان لوگوں نے بھی حصہ لیا جو حکومت میں ہیں یعنی وزیر وغیرہ، مگر یہاں عجیب سسٹم ہے یعنی اگر کوئی حکومت میں ہے اور اگلے الیکشن میں حصہ لے رہا ہے تو وہ اپنی کرسی، اپنے اختیارات کا استعمال نہیں کرسکتا۔ ایسے لوگ بھی جلسے کرتے ہیں مگر ان کے جلسوں میں امیدوار فرعون کے بجائے مسکین بنا نظر آتا ہے۔ ہر ایک کے پاس جا کر ہاتھ ملانا، اس کی خیریت معلوم کرنا اور رسمی گفتگو کرنایہاں کا طریقہ ہے۔ امیدوار کے چمچے ہوتے ہیں مگر اس کو گھیرے میں لے کر عوام کو دھتکار تے نہیں۔ حیرت انگیز طور پر اسلحہ نہیں ہوتا۔ پولیس بھی نہیں ہوتی نہ سیکورٹی گارڈ ز ہوتے ہیں۔2015 کے فیڈرل الیکشن میں ہم کئی تجربات سے گزرے تھے۔ اس بار سوچا کہ خود اس عمل میں حصہ لیں اور دیکھیں کہ یہاں انتخابات کیسے ہوتے ہیں۔ ہم نے الیکشن بی سی2017 کی ویب سائٹ کھولی تو وہاں الیکشن سٹاف کی اسامیاں خالی تھیں۔ واضح رہے کہ الیکشن سٹاف الیکشن سے بہت پہلے ہی چنا جاتا ہے۔ ویب سائٹ پر پوری تفصیل درج ہوتی ہے، ہر حلقہ، ہر حلقے کا الیکشن دفتر، وہاں کا فون نمبر، ای میل ایڈریس، افسر کا نام، سب درج ہوتا ہے۔ نیز معاوضہ بھی لکھا ہوتا ہے۔ ہم نے کئی حلقوں کے نمبر نوٹ کئے پھر سوچا خود جا کے اپنا
Resume
پیش کریں اوردیکھیں کہ بھرتی کیسے ہوتی ہے۔ ہم نے انٹرنیٹ سے فارم ڈاؤن لوڈ کیا، ساتھ اپنا
Resume
لگایا اور قریبی الیکشن آفس پہنچ گئے۔ انہوں نے ہم سے کاغذات لئے اور پوچھا انٹر ویو کے لئے کب آسکتی ہیں؟ ہم نے جھٹ کہا ابھی کرلیں انٹرویو۔ انہوں نے نے ہمیں بیٹھنے کا اشارہ کیا، ایک فارم پُرکرنے کو کہا اور پوچھا ہم کس دن ڈیوٹی دے سکتے ہیں؟

heqeeqihusneint.jpg
آپ حیران ہوں گے کہ الیکشن 9 مئی کو ہے تو پھر یہ کیسا سوال ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہاں ایڈوانس پولنگ بھی ہوتی ہے، یعنی 9مئی کو جنرل الیکشن ڈے ہے باقی کچھ دن ویک اینڈ پر ایڈوانس پولنگ ہوتی ہے۔ ہم نے کہا کہ ہم کسی بھی دن کام کرسکتے ہیں، دس منٹ کے بعد ہمیں انٹرویو کے لئے بلالیا گیا۔ اگر چہ ویب سائٹ پہ لکھا ہے کہ تجربہ ضروری نہیں لیکن اگر ہو تو اچھا ہے، پھر بھی انٹرویو میں پوچھتے ہیں کوئی تجربہ؟ ہم نے بتایا ہمیں کوئی تجربہ نہیں۔ دوچار سوالات کئے اور ہمیں 9مئی کے لئے ووٹنگ آفیسر منتخب کر لیا گیا۔ ووٹنگ آفیسر کی کیا ڈیوٹی ہوتی ہے، یہ ہم بعد میں بتائیں گے۔لیکن یہ ضرور بتادیں کہ ہم پر واضح کردیا گیا کہ الیکشن سٹاف کے لئے ضروری ہے کہ وہ آن لائن ٹریننگ حاصل کریں پھر ایک دن کلاس روم ٹریننگ لیں اس کے بعد ہی وہ الیکشن سٹاف بن سکتے ہیں۔ اگر آن لائن یا کلاس روم ٹریننگ نہیں لی تو ان کو کام کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ ان دونوں ٹریننگ کے لئے معمولی سی رقم بھی ملتی ہے۔ الیکشن کے دن ڈیوٹی14-16 گھنٹے کم از کم ہوتی ہے جس کا معقول معاوضہ ملتا ہے۔ اگر پہلے الیکشن میں کام کرنے کا تجربہ ہو، پھر بھی آن لائن اور کلاس روم ٹریننگ لازمی ہوتی ہے۔ ہمیں یہ بتایا گیا کہ الیکشن کے دن ڈیوٹی پر کالے، سفید یا سرمئی رنگ کے کپڑے پہنیں کیونکہ ایسا نہ ہو کوئی رنگ کسی پارٹی کے رنگ سے ملتا ہو لہٰذا اپنے آپ کو مکمل نیوٹرل رکھیں۔ ہم نے تمام کاغذی کارروائی مکمل کی اور خوشی خوشی گھر آگئے۔ ہمیں یہ پتہ چلا کہ سٹاف کی بھرتی میرٹ پر ہوتی ہے اور ہمیں سختی سے یہ بھی باور ہوگیا کہ ہم کسی پارٹی کو سپورٹ نہیں کرسکتے۔ اگر ہمارا ووٹ ہے تو ہم ڈیوٹی کے علاوہ کسی اور دن جاکے ڈال آئیں کیونکہ ڈیوٹی والے دن ہم اپنی جگہ سے ہِل بھی نہ سکیں گے۔


ہم نے آن لائن اور کلاس روم ٹریننگ لی، ہمیں ایک کیو آر جی دیا گیا، یہ ایک گائیڈہے جس سے ہمیں کام میں مدد ملتی ہے۔ الیکشن کی ڈیوٹی سے قبل سپروائزر کی بار بار ای میل آتی رہی جس میں لکھا ہوتا کہ کیا کرنا ہے مثلاً پھر دہرایا گیا کہ لباس کا رنگ کیا ہو، پھر بتایا گیا کہ اپنا کھانا پانی ساتھ لائیں جو14-16 گھنٹے کے لئے کافی ہو، وہاں نہ مائیکرو ویو اوون ہوگا نہ فریج، یہ ذہن میں رکھیں۔ پارکنگ کہاں ہوگی، موسم کے حساب سے سوئیٹر ، شال رکھیں، طویل دورانیہ کے لئے کرسی پر بیٹھنا ہوگا لہٰذا جب موقع ملے تھوڑا بہت کرسی پہ بیٹھے بیٹھے کھالیں۔ واش روم بلااجازت نہیں جاسکتے۔ سپروائزر کو بتائیں وہ آپ کا سٹیشن اتنی دیر بند کرے گا جب تک آپ واپس نہ آجائیں۔ یہ تمام باتیں کلاس روم میں سمجھا دی گئی تھیں۔ پھر بھی ای میل کے ذریعے ان کو دہرانے کا مقصد یہ تھا کہ سٹاف مکمل تیاری سے آئے تاکہ اسے پریشانی نہ ہو۔


ہمیں پہلے تو ہنسی آ رہی تھی کہ ایک دن کی پولنگ کے لئے اتنے جھمیلے، اتنی تیاری، آن لائن سمجھو، پھر کلاس روم میں پریکٹس کرو۔ عجیب بے وقوفی لگ رہی تھی مگر الیکشن والے دن ہمیں پتا چل گیا کہ جسے ہم بے وقوفی سمجھ رہے تھے، وہ دراصل ہماری ہی آسانی اور سہولت کے لئے تھے۔


ہمارا پولنگ اسٹیشن ایک اسکول میں تھا۔ پولنگ صبح آٹھ بجے سے لے کر رات آٹھ بجے ہونی تھی۔ پولنگ کے عملے کو صبح ٹھیک7بجے پہنچنے کے لئے کہا گیا تھا۔ ہم اپنی دانست میں 7:15 بجے یہ خیال لے کر پہنچے کہ وہاں الو بول رہا ہو گا۔ مگر یہ دیکھ کر حیرت کی انتہا نہ رہی کہ ہم پندرہ منٹ لیٹ تھے۔ ساراعملہ ٹھیک 7بجے پہنچ گیا تھا۔ سپروائزر تو ساڑھے چھ بجے سے موجود تھی۔ جلدی جلدی ہم نے اپنے ووٹنگ کلرک کے ساتھ مل کر ٹیبل سیٹ کی۔ آپ سوچتے ہوں گے کہ یہ ٹیبل سیٹ کرنا کیا ہوتا ہے۔ تو بھئی یہ بات ہے کہ تمام سٹیشن ایک ہی طرح سیٹ ہوتے ہیں۔ بیلٹ بکس، ووٹرز لسٹ، بیلٹ پیپر سبھی اپنے مقررہ مقام پر ہی رکھنے ہوتے ہیں۔ بیلٹ بکس ہمیشہ دائیں طرف، بیلٹ پیپر ووٹنگ افسرکلرک کے آگے۔ کیو آر جی یعنی تصویری گائیڈبک درمیان میں۔ بیلٹ پیپر کا
Counter Bail
رکھنے کے لئے کاغذ کی تھیلی ٹیپ سے کونے میں چپکے گی۔ ہم عملے کے بارے میں بھی بتاتے ہیں۔


ہر میز پر ایک ووٹنگ افسر اور ایک ووٹنگ کلرک بیٹھتا ہے۔ دو انفارمیشن آفیسرز ہوتے ہیں جو عمارت کے بیرونی حصے میں کھڑے ہو کر ووٹرز کو گائیڈ کرتے ہیں کہ انہیں کس میز پر جانا ہے۔ واضح رہے کہ ہر میز کا نمبر ہوتا ہے۔ ووٹر کو گھر پر ووٹنگ کارڈ بھیجا جاتا ہے جسے وہ اپنی تصویری شناخت کے ساتھ پولنگ اسٹیشن لے کر جاتا ہے۔ متعلقہ میز پر جا کے ووٹنگ کلرک کو اپنی شناخت، پتہ کارڈ وغیرہ دکھاتا ہے۔ جسے کلرک ووٹرز لسٹ میں تلاش کر کے نشان لگاتا ہے اور ووٹر سے دستخط کروانا ہے۔ ووٹر کا نام جس نمبر پر ہوتا ہے وہی نمبر ووٹنگ افسر بیلٹ پیپر پر دو جگہ درج کرتا ہے اور بیلٹ پیپر ووٹر کو تھماتا ہے تاکہ وہ ایک دوسری میز پر جا کے اپنے پسندیدہ امیدوار کے نام کے آگے نشان لگا دے۔ ووٹرز کی سہولت کے لئے اس میز پر گتے کی آڑ رکھی ہوتی ہے تاکہ وہ خفیہ ووٹنگ کرے اور کوئی دیکھ نہ لے۔ بیلٹ بکس بھی لوہے کے بجائے گتے کا ہوتا ہے اور اس پر
Seal
کاغذی ہوتی ہے۔ ہم پر تو ہر بار حیرت کے پہاڑ ہی ٹوٹ رہے تھے۔ سپروائزر نے ہمیں کہہ دیا تھا کہ کوئی مسئلہ ہو اس کو آواز دے لیں وہ فٹافٹ آ کے مسئلہ نمٹا دے گی۔


9مئی کو ساڑھے سات بجے تک ہم میزیں وغیرہ سیٹ کر چکے تھے۔ پونے آٹھ بجے سپروائزر نے کہا پانی وغیرہ پی لیں۔ کچھ کھا لیں ٹھیک آٹھ بجے پولنگ شروع ہو جائے گی۔ گھڑی نے آٹھ بجائے تو ایک سیکنڈ کی دیر کے بغیر پولنگ کا عمل شروع ہو گیا۔ ووٹر قطار بنا کے کھڑے تھے، جیسے ہی آٹھ بجے وہ داخل ہو گئے۔ پولنگ کا عمل اسکول کے جمنازیم میں ہو رہا تھا۔ ہمارا خیال تھا لیکشن والے دن عام تعطیل ہو گی مگر تعطیل کا یہاں ویسا تصور نہیں جیسا ہمارے ہاں ہے۔ کوئی چھٹی نہیں تھی، اسکول بھی لگا ہوا تھا۔ مگر پولنگ اس طرح ہو رہی تھی کہ نہ بچے ڈسٹرب ہوئے نہ ہمیں احساس ہوا کہ اسکول میں تدریس جاری ہے۔ عجیب لوگ ہیں یہ۔ نہ کسی کے یوم پیدائش پر چھٹی، نہ موت پر، نہ برسی پر چھٹی، نہ الیکشن پر، کا م کام اور کام۔ یہ بھی کوئی بات ہے۔ اوپر سے وقت کی پابندی، ہمیں تو عادت کچھ اور ہی پڑی ہے۔ برس ہا برس ہم اپنے یہاں ہونے والے الیکشن کی خصوصی نشریات کی میزبانی کرتے رہے ہیں۔ ہم نے پولنگ اسٹیشنوں پر جا کے لائیو رپورٹنگ بھی کی ہے۔ کتنی بار ایسا ہوا کہ دوپہر بارہ بجے تک بھی بعض علاقوں میں پولنگ کا عمل شروع نہ ہو سکا۔ کتنی بار عملہ دیر سے پہنچا کیسے کیسے جعلی ووٹ بھگتائے گئے۔ لگے ہاتھوں ہم بتا دیں کہ یہاں جعلی یا دو دفعہ ووٹ دینا یا کوئی فراڈ ایسا جرم ہے جس پر 20ہزار ڈالر جرمانہ اور دو سال قید ہے۔ لہٰذا ایسا کوئی سوچ بھی نہیں سکتا۔ دوم یہاں ووٹر کے انگوٹھے پر سیاہی بھی نہیں لگائی جاتی۔ اعتبار کی بھی کوئی انتہاہوتی ہے۔


اب ذرا لیکشن میں حصہ لینے والے امیدواروں کے حامیوں کا بھی حال جان لیجئے۔ بغیر کاغذی اجازت نامے کے کوئی کارکن کوئی حمایتی وہاں داخل نہیں ہو سکتا۔ اسے رجسٹر میں اندراج کروانا پڑتا ہے۔ وہ پولنگ کے عمل کا جائزہ تو لے سکتے ہیں مگر مداخلت نہیں کر سکتے۔


اب ایک جماعت کی کارکن اس پر معترض ہو گئیں کہ ضعیف ماں ووٹ ڈالتے ہوئے اپنی بیٹی کی مدد کیوں لے رہی ہے۔ یا کوئی بچہ کیوں نشان لگاتے وقت موجود ہے۔ یہ سب نہایت حیرت انگیز ہے۔ اوپر سے ایک عجیب و غریب قانون یہ کہ سیاسی جماعتوں کے نمائندے سے پولنگ کا عملہ کچھ لے نہیں سکتا۔ یعنی کوئی کھانے کی چیز۔ ان کے لئے کبھی پیزا آ رہا ہے تو کبھی مصالحہ چائے ،سموسے، کبھی پراٹھے تو کبھی برگر۔ مگر سپروائزر نے واضح کر دیا تھا کہ نہ ہم ان کو کھانا پینا دے سکتے ہیں نہ وہ کوئی اشیاء ہمیں دے سکتے ہیں۔ پھر یہ بھی دیکھنے کو ملا کہ نمائندے ہم سے یعنی عملے سے براہ راست گفتگو نہیں کر سکتے کوئی مسئلہ ہے تو وہ سپروائزر کو آگاہ کریں گے۔ کمال ہے ہمارے وطن میں تو ایک خاتون امیدوار نے الیکشن والے دن پولنگ اسٹاف کی دھنائی کر دی تھی۔ یہاں کینیڈا میں تو پولنگ کے عملے کی بڑی عزت ہے۔ یہاں ہر ایک کی عزت و وقار کا تحفظ کیا جاتا ہے۔ کسی کی مجال نہیں تھی کہ اونچی آواز یا ذرا تلخ لہجے میں تو کیا براہ راست ہی بات کر لیتا۔ نہ کوئی پولیس تعینات تھی نہ گارڈ۔ دراصل لوگوں کو معلوم ہے کہ دنگا کریں گے تو فرض شناس پولیس قانون کے تقاضے پورے کرے گی۔ کوئی کسی کو نہیں کہہ رہا تھا کہ کسے ووٹ دو۔ کوئی بینر، کوئی پوسٹر بھی نہیں تھے۔ کوئی مشورہ بھی نہیں کر رہا تھا کہ کسے ووٹ دیں۔ ہر کوئی اپنا مختار تھا۔ پولنگ کا عمل بغیر شورشرابے کے خاموشی کے ساتھ 12گھنٹے جاری رہا اور ٹھیک آٹھ بجے رات دروازے بند کر دیئے گئے۔ گنتی کے وقت امیدواروں کے نمائندے موجود ہوتے ہیں۔ ویسے پورا عمل اتنا شفاف اور بے عیب ہوتا ہے کہ گڑبڑ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تبھی تو لوہے کے بجائے گتے کا ڈبہ بیلٹ بکس ہوتا ہے۔ ہم رات کے دس بجے تک مصروف رہے۔ ہارنے والے امیدواروں کے حمایتی اور جیتنے والے امیدواروں کے حمایتی کے تاثرات یکساں ہوتے ہیں، نہ چیخ و پکار، نہ ہنگامہ نہ زندہ باد کے نعرے۔جیتنے والے کسی ہال میں جمع ہو کر خوشیاں مناتے ہیں اور ہارنے والے گھر جا کے سو جاتے ہیں۔ وہ بیلٹ بکس چھیننا نہیں جانتے۔ وہ اسے ہاتھ تک نہیں لگا سکتے۔ گنتی صرف عملہ کرتا ہے۔ 9مئی صوبائی الیکشن کا دن تھا۔ ہمیں یہ دن ہمیشہ یاد رہے گا۔ ہمیں اندازہ ہوا کہ قانون اگر سخت ہو، سب کے لئے یکساں ہو‘ لوگوں کو اعتبار ہواور ان کی جان و مال محفوظ ہو۔ انہیںیہ معلوم ہو کہ وہ اپنا حقِ رائے دہی استعمال کر رہے ہیں جو ان کے امیدوار کو ایوان میں لے جائے گا۔ جہاں وہ ان کے مسائل حل کروا سکے گا تو اس سے زیادہ طمانیت بخش بات اور کوئی نہیں ہو سکتی۔ جمہوریت عوام سے ہے عوام اصل طاقت ہے عوام کی رائے کتنی اہم ہے۔یہ سب یہیں آ کے معلوم ہوا۔ واقعی جمہوریت بہت عمدہ چیز ہے۔

مصنفہ ‘ مشہور ادا کارہ‘ کمپیئر اوردو کتابوں کی مصنفہ ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

اور ہم سب اس میں رہتے ہیں

اِک شخص جزیرہ رازوں کا اور ہم سب اس میں رہتے ہیں
اِک گھر ہے تنہایادوں کا اور ہم سب اُس میں رہتے ہیں
اِک آنکھ ہے دریا آنکھوں کا‘ ہر منظر اُس میں ڈوب گیا
اِ ک چہرہ صحرا چہروں کا اور ہم سب اس میں رہتے ہیں
اِک خواب خزانہ نیندوں کا وہ ہم سب نے برباد کیا
اِک نیند خرابہ خوابوں کااور ہم سب اس میں رہتے ہیں
اِک لمحہ لاکھ زمانوں کا وہ مسکن ہے ویرانوں کا
اِک عہد بکھرتے لمحوں کااور ہم سب اس میں رہتے ہیں
اِک موسم ہرے پرندوں کا وہ سرد ہوا کا رزق ہوا
اِک گلشن خالی پیڑوں کا اور ہم سب اس میں رہتے ہیں
اِک رستہ اس کے شہروں کا‘ ہم اس کی دھول میں دھول ہوئے
اِک شہر اس کی اُمیدوں کااور ہم سب اس میں رہتے ہیں

ڈاکٹراجمل نیازی

*****

 
Read 109 times
More in this category: « جانثارانِ وطن

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter