جانثارانِ وطن

Published in Hilal Urdu July 2017

تحریر: ڈاکٹر عاطف منصورملک

فلائیٹ لیفٹیننٹ وقاص شمیم شہید کے بارے میں ونگ کمانڈر (ر)ڈاکٹر عاطف منصورملککی ایک یادوں بھری تحریر

اگر آپ اکبری دروازے سے اندرون لاہو ر میں داخل ہوں تو تنگ بازار سے گزر کر محلہ سریاں والا آتا ہے۔ غازی علم دین شہید کا گھر اِسی محلے میں تھا، انہی کے نام پر اب وہا ں کا چوک موسوم ہے۔ اس چوک سے بائیں جانب مڑ کر کوچہ چابک سواراں سے گزرتے جائیے تو آگے محلہ ککے زئیاں آتا ہے۔ ککے زئی اسے عرفِ عام میں بڑی گلی کہتے ہیں۔ گو کہ یہ گلی اتنی تنگ ہے کہ کسی مرگ پر جنازہ بھی آسانی سے نہ نکل پائے ۔ کہتے ہیں کہ سلطان محمود غز نوی کے ساتھ حملہ آور لشکر میں یہ قبیلہ تھا۔ فاتح قوم کے طور پر انہوں نے مفتوح علاقے کو اپنا مسکن بنا یا۔ صدیا ں گزر گئیں مگر ککے زئی اپنے رنگ کے ساتھ جڑے رہے۔ ککے زئی ایک لڑاکا قوم ہے۔ اندرون لاہو ر میں محلہ ککے زئیاں کی لڑا ئیاں اور شادیاں دونوں ضرب المثل ہیں۔ یہ عجب رنگ کے لوگ ہیں، ایک طرف لڑنے کو تیار، دوسری جانب یار باش، مہمان نواز ، کھل کر کِھلانے والے۔ آپ سے محبت بھی کھل کر کریں گے اور لڑیں گے بھی کھل کر۔
وقاص شمیم ککے زئی تھا، ٹھیٹ ککے زئی۔ لڑنے مرنے کو تیار، کھل کر پیا ر کرنے والا ۔ اس کی آنکھوں میں ہمیشہ شرارت کی چمک تھی، اس کے چہرے پر ہمیشہ ایک مسکراہٹ رہتی تھی ایسے کہ ابھی کوئی حرکت کرے گا، کوئی طوفان لائے گا۔ وہ ایک بے چین روح تھا، کبھی نہ بیٹھنے والا، جس کو کسی طور چین نہ آئے۔ آتے جاتے کو ئی بات کرنے والا، ایک معرکے سے نکل کر اگلے معرکے کی تلاش میں رہنے والا ۔

 

jansaranwaten.jpgاس کی آواز اس کی آنکھوں کی طرح اندر اترنے والی تھی۔ وہ عجب شخص تھا ، اس کی آ نکھیں، اس کا چہرہ ، اس کا اندر باہر ایک تھا۔ ہما را اس سے عجب تعلق تھا، کبھی اس کی حرکتوں سے ہم زچ ہو جاتے تھے ، کبھی وہ ہما را محبوب تھا۔ وہ ہما ری زندگیوں میں غیر محسوس انداز میں داخل ہو گیا، اس کا ظاہری دکھاوا ایک لاپروا ، لااُبالی، سر پھرے کا تھا، مگر اس کی عجب خا صیت تھی وہ آپ کے درد کو خود بخود محسوس کر لیتا تھا بغیر بتائے جان لیتا تھا اور پھر وہ اپنی بسا ط سے بڑ ھ کر جو کچھ کر سکتا تھا کرتا تھا۔ کورس میٹ، افسر، ائیر مین، بیٹ مین سب کے لئے اس کے دل کے دروازے کھلے تھے، اور کھلے بھی چار چوپٹ تھے، بلکہ وقا ص کی شخصیت کے لحاظ سے تو اس نے دروازے کے کواڑ ہی اتار کر پھینک دئیے تھے کہ کسی کو آنے میں پریشانی نہ ہو۔


میں نے بچپن سے اپنے بزرگوں سے ککے زئیوں کی کئی باتیں سنی تھیں، نعرہ تھا، ’’ککے زئی، ہائے جان گئی۔‘‘ وقا ص کو جب میں نے کہا، ’’ککے زئی، میں نے سنا ہے کہ درانتی کے ایک طرف دندے ہوتے ہیں، مگر ککے زئی کے دو طرف دندے ہوتے ہیں۔‘‘ تو وہ ہنس پڑا اور کہنے لگا، ’’ملک جا نے دے۔‘‘


مجھے نہیں علم کہ کب وقاص کے بزرگ اندرون لاہور سے نکلے اور بیگم روڈ پر آ کر رہنے لگے۔ بیگم روڈ مزنگ اڈہ سے شروع ہوتی ہے اور جین مندر پر ختم ہوتی ہے۔ اس کے گھر میں داخل ہوں تو کھلاصحن تھا، جہاں ہر روز اس کی والدہ ہر شام نوکروں کے اور محلے کے بچوں کو پڑھا تی تھیں۔ اس کی والدہ ایف جی سکول میں تعلیم دیتی تھیں، جبکہ اس کے والد کرنل شمیم پی ایم اے کاکول میں شعبہ ریا ضی کے سربراہ تھے۔ یہ اسا تذہ کا گھر تھا۔ بے لوث، کھرے، مخلص۔ وقا ص خود کیڈٹ کالج حسن ابدال سے پڑھا تھا۔ مگر مجھے نہ جانے کیوں وقا ص میں مزنگ اڈے کے تھڑے پر فارغ بیٹھے لوگوں کی یار باشی اور جین مندر میں گائے گئے بھجنوں کا رنگ نظر آتا تھا۔ سرگودھا میں پوسٹنگ کے وقت اس نے ایک کنٹینر قابوکیا ہوا تھا اور اس میں اکیلا رہتا ۔ اس کی طبیعت کی سیمابی اس کی متحمل نہ تھی کہ وہ کسی اور کے ساتھ کمرے میں رہتا۔ شام کو وہ اپنے بیٹ مین کے بچے کو پڑھاتا تھا۔ وہ اپنے ماں باپ کے پیچھے چلتے اپنے حصے کی تعلیم کی شمع کو روشن کئے ہوئے تھا۔


وہ ایک بے چین روح تھا، ہر کام جلد کرنے والا، ہر دم تیزی میں رہنے والا، شاید اسے علم تھا کہ اس کے پاس وقت کم ہے۔ اکیڈ می میں چھٹیوں پر جا نے کے لئے جب بک شدہ فلائنگ کوچیں آتی تھیں تو وقا ص ہمیشہ اچک کر ڈرائیور کے ساتھ والی سب سے اگلی سیٹ پر بیٹھتا تھا، اب کوئی جو مرضی کر لے وہ سیٹ کسی اور کو نہیں مل سکتی تھی۔ یہ ہر دفعہ کا معاملہ تھا۔ میں اسے کہتا تھا، ’’ککے زئی، اگلی سیٹ پر بیٹھ کر کیا تو کوچ سے پہلے لاہور پہنچ جائے گا۔‘‘ وہ ہنستا تھا اور کہتا تھا،’’ملک، جانے دے۔‘‘


وقاص خود دار تھا، بلا کا خود دار۔ یہ صفت اس کے خون میں شامل تھی۔ جب اس کا بڑا بھائی جنید شمیم پی ایم اے کاکول سے پاس آؤٹ ہو رہا تھا تو وقاص نے پریڈ پر جانے کے لئے چھٹی کی درخواست دی جو کہ نہ ملی۔ جنید پی ایم اے کا سب سے بڑا اپائٹمنٹ ہو لڈر تھا، پا سنگ آؤٹ پریڈ کمانڈ کر رہا تھا، پا سنگ آؤٹ پر اسے اعزا ز مل رہا تھا۔ وقا ص کے والد پی ایم اے کے شعبہ ریا ضی کے ہیڈ تھے۔ اکیڈمی سے کیڈٹ سرکاری طور پر پریڈ دیکھنے پی ایم اے جا رہے تھے، مگر وقا ص اس گریجویشن پریڈ پر نہیں گیا۔ کرنل شمیم کی خودداری یہ اجازت نہ دیتی تھی کہ وہ کسی کو ایک فون ہی کر لیتے۔


جب وقا ص کی سرکاری جیپ سرگودھا کے کرانہ پہاڑ سے گری وہ اپنے دو ساتھی افسروں کے ہمراہ بیس کے میڈیکل سکواڈرن سے سالانہ طبی معائنہ کر وا کر پہاڑ کی چوٹی پر لگے ریڈار پر جا رہے تھے۔ مجھے یقین ہے کہ جب موت کا فر شتہ اس کے سامنے آیا ہوگا تو وقا ص نے آ نکھوں میں شرارت کے سا تھ اس سے پوچھا ہوگا، ’’بھائی، آپ لینے تو آگئے ہیں مگر ریکارڈ چیک کر لیں کسی اور کی جگہ تو مجھے غلطی سے نہیں لے جا رہے۔ اچھا اب آپ آ ہی گئے ہیں تو یو نیفا رم میں ڈیوٹی پر ہوں، پہاڑ کی اتنی بلندی سے گرا ہوں، شہادت کا رتبہ لکھنا نہ بھولئے گا۔ صبح کا نا شتہ بھی نہیں کیا، دیکھیں یہ اخبار میں لپٹا ساتھ ہے، روزہ دار کا درجہ بھی لکھ لیں۔‘‘


مغرب کے قریب میانی صاحب کے قبرستان میں وقا ص کو دفنا کر میں اس کے گھر پہنچا۔ اس کے والد غم پر قابو پانے کی کوشش کرتے لوگوں کی تواضع کے بارے میں فکر مند تھے، اس کی والدہ اس کے کورس میٹوں کو لپٹا کر چوم رہی تھیں۔ میں چپ چا پ اپنے موٹر سائیکل کو سٹا رٹ کئے بغیر گھسیٹتا جین مندر تک آ گیا، روح میں دور تک دکھ اتر آیا تھا۔ آدھا فر لانگ چل کر موٹر سائیکل کو کک مار ی اور اپنے گھر کو چل پڑ ا، آگے ڈیوس روڈ سے ٹھنڈی سڑک کو جا مڑا۔


ٹھنڈی سڑک ویسے بھی ایک فسوں رکھتی ہے، ایک جانب ا یچی سن کالج ا ور زمان پارک دوسری جانب انگریز دور کے بنے ریلوے افسران کے بڑے بڑے بنگلے۔ درخت اتنے کہ سخت گرمی میں بھی اِس سڑک پر داخل ہوں تو ٹھنڈک کا احساس ہوتا ہے، اِسی وجہ سے لاہور کے باسی سندر داس روڈ کو عرفِ عام میں ٹھنڈی سڑک کہتے ہیں۔ طبیعت پر بوجھ اتنا تھا کہ موٹر سائیکل سڑک کے کنارے ایک طرف روک دی اور آ نکھوں سے بے ساختہ آ نسو جاری ہو گئے، رومال اور دامن دونوں تر تھے۔ اچا نک درختوں میں تیز ہوا چلنے لگی اور آواز آئی،’’ملک جانے دے۔‘‘


ککے زئی، جانے دیا۔ پر کیا کرو ں برسوں گزر گئے مگر جانے نہیں دیا جاتا۔ تیری تصویریں البم سے نکا ل کر رکھ دی ہیں مگر تو بڑا سخت جان ہے، دل پر تیرا نقش ماہ و سا ل کی گرد کے باوجود روشن ہے۔ ابھی تو آئے گا، کسی نئی حرکت، کسی نئے چٹکلے کے ساتھ۔ خوش رہ، امید ہے کہ تو نے وہاں بھی خوب ادھم مچا رکھا ہوگا۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
Read 646 times

3 comments

  • Comment Link Zeeshan Zeeshan 19 July 2017

    A heart touching writing that unleashed the ocean of love for our coursemates that we carry and envelope in our hearts. A wonderful piece of art from the pen of a scientist (as we know you sir).

    Zeeshan Ahmed
    Wg Cdr

  • Comment Link Fawad Fawad 19 July 2017

    Thank you Atif for recalling old buddy lost in the midst of this fast moving world......I was there when this accident happened.....the other two persons were also gem of human beings.....one was my course mate Manzar Afaq .....man from Balakot.....the other was senior to both, Iqbal Nazeer Sb.....we were "dim chaps" for him.......life is like that.....next month it would be 23 years that have gone by since this incident.....but we still all remember it.....all three joyous human beings......may Almighty grant them highest place in Jannah.......Ameen

  • Comment Link Ali Ali 18 July 2017

    Great effort

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter