مناماٹا کنونشن پر پاکستان کے دستخط

Published in Hilal Urdu July 2017

تحریر : وقاراحمد

مناماٹا کنونشن ایک عالمی سطح کا معاہدہ ہے جو انسانی صحت اور قدرتی ماحول کو مرکری کے نقصان دہ اثرات سے تحفظ دینے کے لئے تشکیل دیا گیا۔اقوامِ متحدہ کے زیرِ سرپرستی اس معاہدے پر 19 جنوری2013 کو سوئٹزر لینڈ کے شہر جنیوا میں دستخط ہوئے اور اسی سال اکتوبر میں جاپان کے شہر کما موٹو میں مناماٹا کنونشن کی باقاعدہ توثیق کردی گئی۔ اس کنونشن میں پاکستان سمیت دنیا کے 128 ممالک دستخط کر چکے ہیں۔ جبکہ50 ممالک قومی سطح پر اس کا اطلاق کر چکے ہیں۔ پاکستان میں ابھی اس کا اطلاق ہونا باقی ہے۔ اس معاہدے کا نام جاپان کے شہر مناماٹا کے نام پر کیوں رکھا گیا اور اس کی تاریخ مرکری سے کیسے جڑی؟ یہ ایک دلچسپ واقعہ ہے۔


گو کہ پارا (مرکری) ایک قدرتی دھات ہے، اور زمین یا چٹانوں میں پایا جاتا ہے، تاہم عصرِ حاضر میں اس کے صنعتی استعمال کی وجہ سے ماحول میں اس کی آمیزش ہزاروں گنا بڑھ گئی ہے۔ دنیا نے سب سے پہلے اس کی زندہ مثال جاپان میں دیکھی۔ جاپان کے شہر مناماٹا میں ہونے والا واقعہ تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا یہاں 1908 میں چسسو کارپوریشن نامی ایک کیمیکل فیکٹری لگی جس نے 1932 میں پارے سے کچھ کیمیکلز تیار کرنا شروع کر دئیے اور اس سے آلودہ پانی مناماٹاکی خلیج میں ڈالنے لگی۔ اس کی وجہ سے وہاں کی آبی حیات پارے سے متاثر ہونے لگی اور وہاں کے سمندر میں مچھلیوں اور دیگر آبی حیات، انسانوں اور جانوروں کو متاثر کرنے لگی۔ پارے میں ایک خصوصیت یہ ہے کہ اگر ایک بار اس کو قدرتی ماحول میں پھینک دیا جائے تو وہ سالہا سال وہاں رہتا ہے اور حیاتیاتی انواع کو متاثر کرتا رہتا ہے۔یہ سمندر کے پودوں اور مچھلیوں وغیرہ کے جسم میں جذب ہو جاتا ہے، جب ان مچھلیوں، جھینگوں وغیرہ کو انسان بطور خوراک استعمال کرتا ہے تو انسانی جسم میں داخل ہوکر لوگوں کو دماغی طور پر معذور کرنے لگتا ہے۔چنانچہ جاپان کے شہر مناماٹا میں بھی ایسا ہی ہوا خصوصاً وہ بچے جو اپنی پیدائش سے قبل شکم مادر میں ہی اس سے متاثر ہو چکے تھے، وہ طرح طرح کی ذہنی اور جسمانی معذوریوں کے ساتھ اس دنیا میں آنے لگے۔


رفتہ رفتہmanamataconve.jpg یہ صورتحال خطرناک ہوتی گئی اور 1956 میں کماموٹو یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے ’’مناماٹا ڈزیز‘‘ کے نام سے اس بیماری کی تشخیص کی جس میں مرکری کی وجہ سے طرح طرح کی اعصابی اور دماغی کمزوریاں، جیسا کہ ذہنی معذوری، رعشہ، سماعت، گویائی اور بینائی کا متاثر ہونا، اور دیگر اعصابی بیماریاں شامل ہیں‘ اور نہ صرف انسان اس کے اثرات سے متاثر ہوئے بلکہ جانوروں میں بھی ایسے ہی اثرات نظر آئے اور لوگوں نے دیکھا کہ وہاں کی بلیاں پاگل ہو گئیں اور وہ چلتے ہوئے ناچتی تھیں۔ اس بیماری سے 1784 انسان اور بیشمار جانور ہلاک ہوگئے، جبکہ ہزاروں لوگ مذکورہ بیماریوں سے متاثر ہوئے۔ عدالتی حکم نامے کے تحت چسسو کارپوریشن نے کل 86 ملین ڈالر متاثرین کو ادا کئے اور ماحول کو صاف کرنے کے اقدامات کئے۔


مناماٹا کنونشن کے ذریعہ پارے کی ماحول میں بڑھتی ہوئی مقدار اور تیزی سے پھیلتی ہوئی بیماریوں کی طرف اقوامِ عالم کی توجہ مبذول کروائی جارہی ہے۔ پارا ایک ایسی دھات ہے جو کہ خالص حالت میں مائع کی شکل میں ہوتا ہے جیسا کہ تھرمامیٹر میں‘ تاہم دیگر عناصر مثلاً آکسیجن، کلورین وغیرہ سے جڑنے کے بعد اس کی کیمیاوی شکلیں اور خصوصیات مختلف ہوجاتی ہیں، جس کے باعث اس کو روزمرہ کے استعمال کی بیشمار چیزوں میں شامل کیا جاتا ہے مثلاً انرجی سیور بلب، تھرمامیٹر، اس کے مرکبات کی دانتوں میں فلنگ، الیکٹرانک اشیا میں استعمال، بیٹریز، رنگ گورا کرنے کی کریمیں، پینٹس کے علاوہ اور دیگر بیشمار صنعتی ذرائع جیسا کہ کوئلہ پاور پلانٹس، سونے کی نجی کانیں وغیرہ شامل ہیں میں استعمال ہوتاہے۔ لہٰذا ان اشیا کی پیداوار سے لے کر استعمال اور پھر فضلہ میں پھینکے جانے سے ہوا اور پانی میں اس کی مقدار بڑھ رہی ہے اور پودوں، جانوروں اور انسانوں پر اس کے زہریلے اثرات مرتب ہورہے ہیں۔ نجانے آج کے دور میں کتنی ایسی بیماریاں ہیں جو اس دھات یا اس جیسی دیگر ماحولیاتی آلودگی کی وجہ سے ہو رہی ہیں۔


پارے کے زہریلے اثرات کے بڑے واقعات جاپان کے علاوہ عراق اور پیرو وغیرہ میں بھی سامنے آچکے ہیں جس کا تفصیلی ذکر ایک امریکی سائنسدان مائیکل گوچفیلڈ اپنے2003 کے مضمون میں کر چکے ہیں. جبکہ عالمی ادارہ صحت کی تازہ رپورٹ میں اس دھات کو نہایت کم مقدار میں بھی خطرناک قرار دیا جا چکا ہے اور خصوصاً چھوٹے بچوں کے لئے یہ انتہائی مضر ہے۔ اس کے ساتھ ہی کارخانوں میں کام کرنے والے مزدور اس سے متاثر ہوتے ہیں۔ اب یہ ایک عالمگیر مسئلہ بن چکا ہے۔


مرکری زمین یا چٹانوں سے کانوں کے ذریعہ نکالا جاتا ہے لہٰذا اس معاہدہ میں مرکری کے پھیلا کو روکنے کے لئے جن اقدامات کا فیصلہ ہوا ہے ان میں مرکری کی نئی کانوں پر پابندی، موجودہ کانوں کا بتدریج خاتمہ، اس دھات کا مختلف اشیاء میں استعمال ختم کرنا، مختلف صنعتوں میں اس کے استعمال کو دیگر متبادل عناصر سے تبدیل کرنا، صنعتوں سے ہوا، پانی اور زمین سے اس کے اخراج کو کم کرنا وغیرہ شامل ہیں۔ مزید یہ کہ معاہدے کی رُو سے موجودہ مرکری ملی اشیاء احتیاط سے ذخیرہ کرنا اور اس کے فضلے کو حفاظت کے ساتھ ٹھکانے لگانے کے اقدامات کرنا بھی ہے۔


اپریل میں یورپی پارلیمنٹ اس معاہدے کو منظور کر چکی ہے اور 18 مئی 2017 کو آٹھ یورپی ممالک اس معاہدے کو اپنے ہاں نافذ کر چکے ہیں۔ اس سلسلے میں یورپی یونین کی ماحولیاتی بیورو کی پروجیکٹ مینجر الینا لیمبریڈی کا کہنا ہے ’’یورپ نے ایک بار پھر اپنے عالمی قیادت کے کردار کو قائم رکھا ہے، اور اب اس معاہدے کو نافذ کرنے والے ممالک پچاس سے تجاوز کر چکے ہیں۔ یہ بین الاقوامی سطح پر ایک امید افزا بات ہے۔ اسی طرح بھارتی ماہرین نے رواں سال میں ہونے والے اجلاس میں اپنی حکومت پر زور دیا ہے کہ پارے کے استعمال پر فوری طور پر پابندی لگائی جائے۔ یہی صورتحال دنیا کے دیگر ممالک کی ہے۔


مناماٹا کنونشن کو قابلِ عمل بنانے اور ماحول میں اس دھات اس کے موجودہ پھیلا ؤکا صحیح اندازہ لگانے کے لئے ایک اور منصوبہ شروع کیا گیا جس کا نام
Innitial Assessment (MIA) Minamata
ہے. پاکستان میں کنونشن کو لاگو کرنے اور ایم ائی اے منصوبے پر عمل کرنے کی ذمہ داری کلائمیٹ چینج کی وزارت کو ملی ہے۔اس منصوبے کے نیشنل پروجیکٹ کوارڈینٹر ڈاکٹر ضیغم عباس کا کہنا ہے کہ ایم ائی اے منصوبہ 30 ستمبر 2017 تک مکمل کر لیا جائے گا ان کا کہنا ہے کہ 2009 میں ایک سروے کے مطابق ملک میں مرکری کا اخراج 36900 کلوگرام تھا تاہم اس منصوبے کے تحت بعض کیمیکل فیکٹریوں میں مرکری کے متبادل پیش کئے گئے اور اس طرح مرکری کے اخراج کو 21000 کلوگرام کم کردیا گیا۔ تاہم ایم ائی اے منصوبے پر ابھی کام ہو رہا ہے، ملک بھر میں مرکری کی کتنی مقدار استعمال اور اخراج ہو رہی ہے اس کا صحیح اندازہ منصوبے کی تکمیل پر ہی لگایا جا سکتا ہے۔


ایم ائی اے منصوبے کی تکمیل کے بعد اس معاہدے کو قومی اسمبلی سے منظور کروانے اور ملک میں نافذ کرنے میں مدد ملے گی۔ معاہدے میں کل 35 آرٹیکل ہیں، پہلا آرٹیکل معاہدے کے مقصد کو بیان کرتا ہے، جبکہ باقی آرٹیکلز مرکری کے ماحول میں آنے کے ذرائع سے لے کر تجارتی تفصیل، اس دھات سے بنی اشیاء، اس کے صنعتی استعمال، ہوا پانی اور دیگر ماحول میں اس کے اخراج کی تفصیل کو بیان کرتے ہیں۔ معاہدے میں پارے کی ماحول میں آمیزش کی روک تھام اور اس کے لئے کئے جانے والے ممکنہ اقدامات کی مکمل ہدایات موجود ہیں۔ غرض یہ کہ 59 صفحوں پر مشتمل یہ مسودہ پارے کے متعلق ہر قسم کی تفصیل اور اس سے حفاظتی اقدامات مہیا کرتا ہے۔ یہ مسودہ ویب سائٹ پر موجود ہے اور کوئی بھی شخص اس کی تفصیل پڑھ سکتا ہے۔


لوگوں کو چاہئے کہ ایسی تمام اشیاء جن میں مرکری ملا ہو ان کے استعمال سے گریز کریں اور ان کا متبادل تلاش کریں، مثلا رنگ گورا کرنے کی کریمیں اور دیگر میک اپ کے سامان میں اجزا پڑھ کر بغیر مرکری والی اشیاء خریدیں، دانتوں کی فلنگ کے مرکب بھی اب بغیر مرکری کے تقریباً اتنی ہی قیمت میں مل ر ہے ہیں لہٰذا ان کا انتخاب کریں. اس سلسلے میں معلومات کو عام کیا جانا چاہئے۔


عوام کی صحت کی ذمہ داری حکومتوں پر عائد ہوتی ہے۔ نہ صرف مرکری بلکہ اس جیسی دیگر دھاتیں جن میں سیسہ، تانبہ اور کیڈمیم وغیرہ شامل ہیں، ماحول کو شدید نقصان پہنچا رہے ہیں اور مختلف ذہنی اور جسمانی بیماریوں کا باعث بن رہے ہیں اور نہ صرف انسانی صحت بلکہ دیگر جانداروں کے لئے بھی نقصان دہ ہیں۔ حکومت کو چاہئیے کہ ان کی ماحول میں روک تھام کے لئے زہریلے مادوں پر جامع حکمتِ عملی تیار کرے اور اپنی عوام کو بہتر ماحول اور صحت مند زندگی دے۔

مضمون نگار جامع کراچی میں تدریس اور تحقیق سے وابستہ ہیں۔ This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
Read 294 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter