ادارے ملکی سلامتی اور بقاء کے ضامن ہوا کرتے ہیں۔ ملک کا ہر فرد اور سبھی ادارے باہم مل کر ریاست کی بنیادیں مضبوط کرتے ہیں۔ لہٰذا ادارے جتنی تن دہی اور اولوالعزمی سے اپنے اپنے حصے کے فرائض انجام دے رہے ہوں‘ ریاست اُسی طرح سے ترقی اور وقار کی منازل طے کرتی چلی جاتی ہے۔ افواجِ پاکستان بھی دیگر اداروں کی مانند اپنے حصے کا کام جو کہ وطنِ عزیز کی جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت ہے‘ بخوبی انجام دے رہی ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ وقت پڑنے پر افواجِ پاکستان سیلاب اور زلزلوں ایسی قدرتی آفات سمیت ہر مشکل گھڑی میں اپنے ہم وطنوں کی داد رسی کے لئے اپنا کردار کرتی ہیں‘پاک افواج صرف بیرونی ہی نہیں اندرونی خلفشار سے نمٹنے کے فرائض بھی سرانجام دے رہی ہوتی ہیں۔ اس کی ایک مثال کراچی آپریشن ہے جس کے ذریعے پاکستان کے سب سے بڑے تجارتی مرکز اور صوبائی دارالحکومت کراچی سمیت ملک کے بعض دیگر علاقوں میں امن و امان کی بحالی میں پاک فوج کا مثالی کردار سامنے آیا ہے۔اسی طرح دہشت گردی کے عفریت پر کافی حد تک قابو پانے کے بعد اب پاک فوج فسادیوں کی سرکوبی کے لئے مصروفِ عمل ہے جس کا مقصدملک کے کونے کونے میں موجود فسادیوں اور ان کے نیٹ ورک کا سراغ لگا کر اُنہیں ٹھکانے لگانا ہے تاکہ وطنِ عزیز کو درپیش دہشت گردی کے خطرات کو کم سے کم کیا جاسکے۔


افواجِ پاکستان اس مقصد کے لئے کہ مادرِ وطن کے شہری سکون اور امن کی زندگی بسر کرسکیں‘ مسلسل کام کرتی ہیں۔ وہ جہاں سیاچن کی یخ بستہ وادیوں میں دشمن سے نبر د آزما ہیں وہیں لائن آف کنٹرول سمیت مشرقی اور مغربی سرحدوں کی حفاظت اپنی جان سے بڑھ کرانجام دے رہی ہوتی ہیں۔پاک افواج ان دنوں بھی چیلنجز سے نبرد آزما ہوتی ہیں جب اس ملک کے شہری اپنے اپنے خاندانوں کے ساتھ قومی اور مذہبی تہوار منارہے ہوتے ہیں۔ اس دوران افواجِ پاکستان کے جری سپوت اپنے اپنے گھروں اور خاندانوں سے ہزاروں میل دور دفاعِ وطن کے فریضے پر مامور ہوتے ہیں کہ بلاشبہ ملک کی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کسی بھی شہری کی ذاتی خوشیوں اور منفعتوں سے کہیں زیادہ اہمیت کی حامل ہوا کرتی ہے۔ اس طرح سے عسکری خدمات صرف ایک پیشہ نہیں بلکہ اس سے بھی بڑھ کر ایک مقدس فریضہ ہے۔ یقیناًپاک افواج کے ہر شخص کی خوشیاں اپنی قوم اور اپنے شہریوں کی خوشیوں اور ان کے چہرے پر پھیلی ہوئی مسکراہٹوں کے ساتھ جُڑی ہوئی ہوتی ہیں۔ مسلح ا فواج کے جانبازوں کی عیدیں‘ تہوار اور دیگر خوشیاں اُن کے محاذ پر ڈٹے رہنے کے جذبوں کے اندر موجود اطمینان اور اعتمادمیں پنہاں ہوا کرتی ہیں۔ بقول یاور عباس
؂ کبھی بھول کر نہ آنا میری سرحدوں کی جانب
مری سرحدوں کی جانب کبھی بھول کر نہ آنا
مری سرحدوں کے اندر نہ قدم بڑھا سکو گے
مری سرحدوں تک آئے تو نہ بچ کے جا سکو گے
مری ضربِ حیدری ہے کہاں تاب لا سکو گے
کبھی بھول کر نہ آنا میری سرحدوں کی جانب
افواج پاکستان زندہ باد
پاکستان پائندہ باد

Read 144 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter