قدرتی وسائل پاکستان کی معیشت بہتر کرسکتے ہیں

Published in Hilal Urdu July 2017

تحریر: ملیحہ خادم

دریا، پہاڑ، سمندر، صحرا،زر خیز زمین اور چارموسم۔ یہ وہ اجزائے ترکیبی ہیں جواگرکسی ملک کے پاس ہوں تو وہاں کے باشندوں کو خوش قسمت خیال کیا جاتا ہے کیونکہ ان چھ عناصر کی موجودگی میں معیشت خود انحصاری کی راہ پر رواں دواں رہتی ہے اور عوام خوشحال رہتے ہیں نیز بہتر طرز زندگی کی ضمانت اور ذرائع روزگار بھی ہمہ وقت میسر ہیں- چونکہ مضبوط اورمستحکم معاشی حالات پرسکون معاشرے کو جنم دیتے ہیں اس لئے عوام کی فلاح کو ذہن میں رکھتے ہوئے جہاں تجارت، کاروبار اور افراط زر کے حوالے سے پالیسی بنانی ضروری ہے وہیں قدرتی وسائل کادرست استعمال بھی بے حد ضروری ہے ۔


قدرت نے پاکستان کو ہر نعمت سے نوازاہے۔ ہمارے پاس یہ سب چیزیں بھی ہیں اور صلاحیتوں سے مالامال قوم بھی۔ لیکن پھر بھی ہمارے معاشی حالات ابتر ہیں اور بحیثیت مجموعی ہم اور ہمارا ملک بیرونی امداد کے محتاج ہوتے جارہے ہیں۔ ہم بارہ بارہ گھنٹے لوڈشیڈنگ جھیل رہے ہیں، ہمارے ذرائع آمدن اورروزگار کے مواقع سکڑ رہے ہیں، نتیجہ یہ ہے کہ عوام میں مایوسی پھیل رہی ہے۔ جہاں اوربہت سے عوامل اس صورتحال کو پیدا کررہے ہیں وہیں ہماری اپنی تساہل پسندی اور مستقبل پر نظر نہ رکھنے کی غلطی پاکستان کو نقصان پہنچارہی ہے۔


افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اگر ہمارے ارباب اختیار کی توجہ اس طرف کم ہے تو عام پاکستانی بھی کوتاہ اندیشی سے کام لے رہے ہیں۔ ہم قدرتی وسائل کو اندھادھند بغیر کسی منصوبہ بندی کے استعمال کررہے ہیں۔ ہم نے کل کے لئے سوچنا اور محنت کرنا کم کردیا ہے اس کے بجائے ہماری توجہ صرف آج سے وابستہ ہو کر رہ گئی ہے۔ تیل، پٹرولیم اور گیس کے ذخائر، قیمتی پتھر اور دھاتوں سے ہٹ کر اگر صرف قدرت کی طرف سے عطا کردہ وسائل کوہی اچھے طریقے سے بروئے کار لایا جائے تو پاکستان ترقی کرسکتا ہے۔

qudartiwasail.jpgدریا، پہاڑ جنگلات اور صحرا وغیرہ سیاحوں کے لئے خصوصی کشش رکھتے ہیں۔ وہ خدا کی خدائی دیکھنے کے لئے ایسے مقامات کی طرف کھنچے چلے آتے ہیں جس کا فائدہ نچلی سطح سے لے کر اوپر تک معیشت کو پہنچتا ہے۔ اس لئے ایسے مقامات کی حفاظت اور خوبصورتی میں اضافہ کیا جاتا ہے ۔


گزشتہ چند دہائیوں میں بدامنی اور دہشت گردی نے سیاحوں کو پاکستان سے خوفزدہ کردیا تھا لیکن اب جب کہ ہمارے ملک میں امن واپس آرہا ہے تو ہمیں سیاحت پر پوری توجہ دے کر پاکستان کو سیاحوں کی جنت بنا دینا چاہئے۔ اس سے معاشی حالات تو بہتر ہوں گے ہی ساتھ میں پاکستان اور پاکستانیوں کا اصل روشن اور مہمان نواز چہرہ بھی دنیا کے سامنے آئے گا۔ مناسب انتظامات اور بہتر منصوبہ بندی سے ہم مزید بہتری لا سکتے ہیں۔


پانی زندگی ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ تیل کے بعد پانی پرجنگیں شروع ہونے کے امکانات ہیں کیونکہ اس وقت ساری دنیا میں پانی کم ہورہا ہے۔ بیشتر ممالک نے اس بحران کی سنگینی کو بھانپتے ہوئے اس کی منصوبہ بندی شروع کردی ہے۔ پانی کے ذخائر بڑھانے کے علاوہ وہاں کی حکومتوں نے پانی کے بے جا استعمال اور زیاں کی روک تھام کا بندوبست بھی شروع کردیاہے لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ پاکستان میں اس مسئلے کی طرف توجہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ ہم نہ ڈیم بنارہے ہیں جو پانی ذخیرہ کرکے بجلی اور دیگر ضروریات کو پورا کریں اور نہ ہی ہماری توجہ استعمال شدہ پانی کو دوبارہ قابل استعمال بنانے کی طرف ہے۔ بارشوں کے بعد وہ تمام پانی جو ہماری بہت سی ضروریات پوری کرسکتا ہے، سیلاب کی نظر ہوجا تا ہے اور عوام بجلی اورپانی کو ترستے رہ جاتے ہیں۔ ہم دریاؤں اور سمندرکے باوجود لوڈشیڈنگ کا عذاب بھی بھگت رہے ہیں اور پانی کی کمی کا رونا بھی رورہے ہیں لیکن اس دہری مصیبت کے تدارک کی کوششیں سرکاری اورعوامی سطح پرآٹے میں نمک کے برابرہیں ۔ اگر ایک طرف ہماری موجودہ اور سابقہ تمام حکومتیں پانی کے ذخائر بنانے میں سستی کا مظاہرہ کرتی رہی ہیں تو دوسری طرف عوام بلا ضرورت گھروں کے صحن، کپڑے اور گاڑیاں دھو کر پانی ضائع کرنے میں اکثر اوقات چستی کا مظاہرہ کرتے ہیں ۔


پاکستان ایک زرعی ملک ہے جس کی نصف سے زیادہ آبادی زراعت کے شعبے سے وابستہ ہے،لیکن نااہلی اورناقص حکمت عملی نے ہمارے ملک کے زرعی شعبے کو پیچھے دھکیل دیا ہے۔ کسانوں کی جدید خطوط پر تربیت نہ ہونے کے باعث کسان کاشتکاری کے نئے طریقوں سے واقف نہیں ہیں جس کی وجہ سے فصل کی کاشت کے لئے پرانے اور روایتی طریقے اپنائے جاتے ہیں، نتیجہ زرعی پیداوار میں کمی کی صورت میں سامنے آرہا ہے ۔ اس کی وجہ سے زراعت میں ہماری خودانحصاری کم ہورہی ہے اور ہم سبزیاں درآمد کرنا شروع کرچکے ہیں۔ اس کے علاوہ پانی کی کمی اورزرعی اراضی کی سیرابی کے مروجہ طریقہ کارجو اکثر ملکوں میں متروکہ حیثیت اختیار کرچکے ہیں، بھی کسانوں کی مشکلات میں اضافے کا باعث بن رہے ہیں۔


گزشتہ کچھ سالوں سے دنیا بھرمیں موسمیاتی تبدیلیاں رونماہورہی ہیں جن کی لپیٹ میں پاکستان بھی آیا ہوا ہے۔ اب پاکستان کا موسم بھی زیادہ گرم ہوتا جارہا ہے اور سیلاب سمیت دیگر قدرتی آفات جن میں خشک سالی، زلزلے اور طوفانی بارشیں شامل ہیں، پہلے کی نسبت زیادہ وقوع پذیر ہونے لگے ہیں۔ اس موسمیاتی تبدیلی نے زرعی پیداوار کو براہ راست متاثر کیا ہے۔ بارش کی کمی‘ زیادتی یا شدید گرمی اور سردی فصلوں کونقصان پہنچارہی ہے اور چونکہ ہمارا کسان موسم کے ان تغیرات سے آگاہی نہیں رکھتا اس لئے وہ اپنی فصل کو موسمی تبدیلیوں سے بچا نہیں پاتا‘ لہٰذا اس کی محنت اور کمائی ضائع ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں ۔


ہم نے صنعتوں سے خارج ہونیوالی گیس اور فضلے کو ٹھکانے لگانے کے خاطر خواہ انتظامات نہیں کئے جو فضا کو آلودہ کرنے کے ساتھ ساتھ پانی میں شامل ہوکر انسانی زندگی کی لئے خطرے کا باعث بن رہے ہیں کیونکہ اکثر فیکٹریاں اپنا صنعتی فضلہ غیر محفوظ طریقے سے پھینک دیتی ہیں اور چونکہ سرکاری سطح پر یہاں بھی ناقص منصوبہ بندی اور حکمت عملی کا دوردورہ ہے اس لئے اکثر یہ زہریلا مواد صنعتی علاقوں کے قرب و جوار کی آبادیوں میں متعدد بیماریوں کا باعث بنتا ہے ۔ موسمیاتی تبدیلی کا ایک سبب یہ زہریلی اور مضر صحت گیس اور مادہ بھی ہیں جس کی طرف کسی کا دھیان نہیں ہے۔


گرمی کی شدت میں اضافے کے باعث ہر سال قیمتی انسانی زندگیاں ضائع ہوجاتی ہیں لیکن پھر بھی ہماری حکومت کی حکمت عملی نہیں بن پارہی ۔ ماہرین موسمیاتی تغیرات سے بچنے کا آسان ترین حل شجر کاری کو قرار دیتے ہیں لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ ہمارے یہاں نئے درخت لگانا تو درکنار لگے ہوئے درخت بھی کاٹے جارہے ہیں۔ دریاؤں کے کناروں پر موجود درخت سیلاب سے بچاو کابہترین اور قدرتی ذریعہ ہیں لیکن یہاں بھی ہم کوتاہ اندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان درختوں کو کاٹ دیتے ہیں۔ ہر سال کتنے ہی ایکڑ زرعی ا راضی، رہائشی مکانات، مویشی اور انسانی جانیں سیلاب کی بھینٹ چڑھ جاتی ہیں لیکن ہم بیرونی امدد کے آسرے پر حفاظتی اقدامات نہیں کرتے۔


بجلی کے بحران، طوفا نی بارش، سیلاب سمیت ان تمام نقصانات کا خمیازہ ہماری معیشت کو بھگتنا پڑتا ہے اور ہم مزید بیرونی قرضوں میں ڈوب جاتے ہیں۔ ضرورت وقت ہے کہ حکومت ان بنیادی مسائل پر خصوصی توجہ دے اور سب سے پہلے ملک میں پانی کے ذخائر میں اضافہ کرے تاکہ بجلی اور زراعت کا شعبہ مستحکم ہوسکے نیز ہر سال آنیوالے سیلاب اور اس کی تباہ کاریوں سے بھی بچاجا سکے۔ نیز شجرکاری پر بھرپور توجہ دی جائے تاکہ گرمی کی شدت کا تدارک ہوسکے۔ دریاؤں، چشموں کے پانی کو استعمال میں لا کر اس سے بجلی پیدا کی جاسکتی ہے۔ تھرکے صحرا کو پانی پہنچا کر وہاں قحط اور خشک سالی کی شکار معصوم زندگیاں بچائی جاسکتی ہیں اور زرعی پیداوار میں اضافہ بھی کیا جاسکتا ہے۔ یہ سب بہت زیادہ مشکل کام بھی نہیں ہیں، بس ذرا سی منصوبہ بندی اور عزم درکار ہے تاکہ معیشت پر پڑنے والے بوجھ کو کم کیا جاسکے اور قدرتی وسائل سے استفادہ حاصل کیا جاسکے ۔

ملیحہ خادم فری لانس صحافی ہیں۔ حالاتِ حاضرہ اور سماجی و سیاسی موضوعات پر لکھتی ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
Read 294 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter