ستائیسویں رمضان اورقیام پاکستان

Published in Hilal Urdu

تحریر : ڈاکٹر صفدر محمود

میں اس بات پر یقین رکھتا ہوں کہ انسان زندگی بھر سیکھتا ہی رہتا ہے ۔ اس کے سیکھنے کا عمل یا علم حاصل کرنے کا سلسلہ قبر تک جاری رہتا ہے۔ علم و تحقیق کی دنیا میں کوئی حرف ،حرف آخر نہیں ہوتا اور نہ ہی کوئی انسان کامل علم کے حصول کا دعویٰ کرسکتا ہے۔ میں ایک معمولی سا طالب علم ہوں ، سیکھنے کی دل میں آرزو ہے اور مکالمے پر یقین رکھتا ہوں۔ البتہ اس بات کا قائل ہوں کہ بحث یا تبادلہ خیال علمی انداز میں اور تہذیب کے دائرے میں ہونا چاہئے اور طعن و تشنیع ، تنقیص اور طنز سے بچنا چاہئے کیونکہ اس سے علمی تکبر کا اظہار ہوتا ہے اور سچا علم تکبر نہیں، عاجزی سکھاتا ہے۔صرف اقتدار، اختیار ، دولت، عہدے اور شہرت ہی تکبر میں مبتلا نہیں کرتے، میں نے لوگوں کو ’’علم‘‘ کے تکبر میں مبتلا دیکھا ہے۔


سوال یہ ہے کہ پاکستان کس دن وجود میں آیا؟ میں اپنی بات بعد میں کروں گا پہلے دو معتبر حوالے ملاحظہ فرما لیجیے۔ اس سلسلے کی پہلی کتاب ’پاکستان کرونیکل‘ مرتبہ عقیل عباس جعفری ہے۔ کتاب میں پاکستان کے حوالے سے ہزاروں دستاویزات جمع کردی گئی ہیں۔اس لحاظ سے یہ پاکستان کی روزمرہ کی تاریخ ہے۔ کتاب کے صفحہ نمبر 1پر قائداعظم کو 14اگست 1947کو دستور ساز اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ سٹیج پر ہندوستان کے آخری وائسرائے ماؤنٹ بیٹن بیٹھے ہیں۔ حکومت برطانیہ کی جانب سے 14اگست بروز جمعرات صبح 9بجے دستور ساز اسمبلی کے خصوصی اجلاس میں ماؤنٹ بیٹن نے آزادی اور انتقال اقتدار کا اعلان کیا۔ قیام پاکستان کے لئے درمیانی شب یعنی مڈ نائٹ کا وقت طے ہوا تھا۔ پاکستان کرونیکل کے صفحہ نمبر 1کے مطابق:’’14اگست اور 15اگست کی درمیانی شب مطابق 27رمضان المبارک 1366 ہجری رات ٹھیک بارہ بجے دنیا کے نقشے پر ایک آزاد اور خود مختار اور دنیا ئے اسلام کی سب سے بڑی مملکت کا اضافہ ہوا جس کا نام پاکستان ہے۔ ‘‘
( ’پاکستان کرونیکل‘ عقیل عباس جعفری ، فضلی سنز (2010) صفحہ نمبر 1)
آزادی کا اعلان صبح دستور ساز اسمبلی میں ہوچکا تھا۔ پاکستان کے پرچم کی منظوری دستور ساز اسمبلی سے 12اگست کو حاصل کی جاچکی تھی۔ 14اگست کو قائداعظم قومی پرچم کشائی کے لئے کراچی گئے تو مولانا شبیر احمد عثمانی کو اپنے ساتھ لے گئے اورانہی سے پرچم کشائی کی رسم ادا کروائی۔ڈھاکہ میں قائداعظم کے حکم پر مولانا اشرف علی تھانوی کے خواہرزادے مولانا ظفر احمد عثمانی نے یہ رسم سرانجام دی۔ پرچم کشائی کا تذکرہ بھی پاکستان کرونیکل کے صفحہ نمبر 1پر موجود ہے۔ پاکستان کی پرچم کشائی کی پہلی تقریب میں دو نامور علماء اور مولانا اشرف علی تھانوی کے قریبی حضرات کو دعوت دینے اور ان سے پرچم لہروانے میں ایک پیغام پنہاں ہے۔ اس پر غور کیجئے اور سمجھنے کی کوشش کیجئے کیوں کہ قائداعظم کاہر فیصلہ سوچا سمجھا اور گہرے تدبر کا نتیجہ ہوتا تھا۔ مختصریہ ہے کہ آزادی اور انتقالِ اقتدار کا اعلان اور پاکستان کے پرچم لہرانے کی رسم 14اگست کو ہوئی اور 14 اگست کے دن چھبیس رمضان المبارک تھا۔ دوپہر دو بجے ماؤنٹ بیٹن دہلی روانہ ہوگئے جہاں اسی رات 12 بجے بھارت کی آزادی کے اعلان کے ساتھ انھیں بھارت کے گورنر جنرل کا عہدہ بھی سنبھالنا تھا۔


اسی کتاب کے صفحہ نمبر 2پر ریڈیو پاکستان کی تصویر کے ساتھ لکھا ہے: ’’15-14 اگست کی درمیانی شب لاہور، پشاور اور ڈھاکہ کے ریڈیو سٹیشنوں سے رات گیارہ بجے آل انڈیا ریڈیو سروس نے اپنا آخری اعلان نشر کیا۔ 12 بجے سے کچھ لمحے پہلے ریڈیو پاکستان کی شناختی دھن بجائی گئی اور ظہور آذرکی آواز میں انگریزی اعلان گونجا کہ آدھی رات کے وقت پاکستان کی آزاد اور خود مختار مملکت وجود میں آئے گی۔ رات کے ٹھیک بارہ بجے پہلے انگریزی اور پھر اردو میں یہ الفاظ گونجے: ’’یہ پاکستان براڈ کاسٹنگ سروس ہے۔‘‘ ۔ فوراً بعد مولانا زاہد القاسمی نے سورہ فتح کی آیات کی تلاوت فرمائی۔ 15 اگست کو جمعتہ الوداع تھا۔ اسی دن پاکستان کا پہلا سرکاری گزٹ شائع ہوا۔ اسی روز جمعتہ الوداع کے حوالے سے قائداعظم کا پیغام جاری ہوا۔


15اگست کو رمضان کی ستائیسویں تھی ۔ چنانچہ 15-14اگست کی درمیانی شب لیلتہ القدر تھی۔
اس سلسلے کا دوسرا حوالہ سید انصار ناصری کی کتاب ’’پاکستان زندہ باد‘‘ ہے۔ سید انصار ناصری ریڈیو پاکستان سے وابستہ تھے اور تاریخ ساز ایام اور فیصلہ کن ایام کے عینی شاہد ہیں۔ انہوں نے 3جون کے تقسیم ہندکے اعلان کے بعد قائداعظم کی تقریر کا اردو ترجمہ اپنی زبان میں آل انڈیا ریڈیو سروس سے نشر کیا اور تقریر کے آخر میں پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگایا۔ وہ 11اگست سے 14 اگست تک قائداعظم کی تقاریر کے تراجم ریڈیو سے نشر کرتے رہے۔ وہ اپنی کتاب ’’پاکستان زندہ باد‘‘ کے صفحہ نمبر 198 پر لکھتے ہیں :’’رمضان المبارک برکتوں اور رحمتوں کا مہینہ ہے۔ نزول قرآن پاک کی مقدس رات لیلتہ القدر کی نورانی صبح، جمعتہ الوداع کا مقدس دن، ایسا قران السعدین تھا، جب رب ذوالجلال والاکرام نے اپنے محبوب ، مکرم حضرت محمد ﷺ کے طفیل ان کے کروڑوں امتیوں کے جذبہ ایمانی اور مثالی اتحاد وبرکت سے، پاکستان کی وسیع و عریض مملکت کی عظیم نعمت عطا فرمائی۔ ‘‘
(پاکستان زندہ باد، سید انصار ناصری،دیا پبلی کیشنز، اسلام آباد (1993)

 

اسی کتاب کے صفحہ نمبر 2پر ریڈیو پاکستان کی تصویر کے ساتھ لکھا ہے: ’’15-14 اگست کی درمیانی شب لاہور، پشاور اور ڈھاکہ کے ریڈیو سٹیشنوں سے رات گیارہ بجے آل انڈیا ریڈیو سروس نے اپنا آخری اعلان نشر کیا۔ 12 بجے سے کچھ لمحے پہلے ریڈیو پاکستان کی شناختی دھن بجائی گئی اور ظہور آذرکی آواز میں انگریزی اعلان گونجا کہ آدھی رات کے وقت پاکستان کی آزاد اور خود مختار مملکت وجود میں آئے گی۔ رات کے ٹھیک بارہ بجے پہلے انگریزی اور پھر اردو میں یہ الفاظ گونجے: ’’یہ پاکستان براڈ کاسٹنگ سروس ہے۔‘‘ ۔ فوراً بعد مولانا زاہد القاسمی نے سورہ فتح کی آیات کی تلاوت فرمائی۔ 15 اگست کو جمعتہ الوداع تھا۔ اسی دن پاکستان کا پہلا سرکاری گزٹ شائع ہوا۔ اسی روز جمعتہ الوداع کے حوالے سے قائداعظم کا پیغام جاری ہوا۔

بلاشبہ پاکستان کی دستور ساز اسمبلی میں آزادی کا اعلان چودہ اگست کو ہوا، اسی روز پاکستان کے پرچم سرکاری طور پر لہرائے گئے۔ چودہ پندرہ اگست کی نصف شب پاکستان کا قیام عمل میں آگیا چنانچہ پہلا یوم آزادی پندرہ اگست کو منایا گیا۔
رمضان المبارک کی آخری راتیں قرآن مجید کے نزول کے حوالے سے اہم اور مقدس ہیں۔ رہا لیلتہ القدر کا مسئلہ تو وہ ستائیسویں رمضان کے ساتھ منسلک نہیں۔ اس مقدس رات کے حوالے سے تمام احادیث کا مفہوم یہ ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا کہ اسے رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو اور رات بھر عبادت کرو۔ ہم نے لیلتہ القدر کو ستائیسویں رمضان کے ساتھ وابستہ کرلیا ہے، جو کہ صحیح نہیں۔


یہ بات درست ہے کہ بھارت اسی رات کو آزاد ہوا۔ لیکن کیا بھارت مسلمان ملک ہے؟ کیا بھارت اسلام کے نام پر وجود میں آیا ہے؟ اور کیا بھارت رمضان، ستائیسویں رمضان اور نزول قرآن کے تقدس کو سمجھتا ہے؟ چودہ پندرہ اگست کی شب بے شمار واقعات ہوئے ہوں گے لیکن ہم بات کر رہے ہیں پاکستان کی ، جسے قائداعظم نے پریمئر اسلامی ریاست اور عالم اسلام کا حصار قراردیا تھا۔
(Speeches, Statements of Quaid e Azam vol (iv) Khurshid Ahmad Yusufi, Bazm-e-Iqbal, Lahore, p 2692 & p 2643)
بھارت تو پہلے سے موجود تھا ، بھارت کو تقسیم کرکے جو ملک دنیا کے نقشے پر معرض وجود میں آیا اس کا نام پاکستان ہے۔ یہ ایک تاریخی ، منفرد اور عظیم الشان کارنامہ تھا جو اﷲ سبحانہ وتعالیٰ کی رحمت سے سرانجام دیا گیا۔ اس لئے میرے درویش استاد اوربزرگ پروفیسر منور صاحب کہا کرتے تھے کہ پاکستان پر اللہ پاک کی رحمت کا سایہ ہے۔ میرے محترم ڈاکٹر اسرار احمد کہا کرتے تھے کہ پاکستان اللہ کا انعام ہے۔ وہ قرآن کی ایک آیت کا حوالہ دے کر کہا کرتے تھے کہ جب انعام الہٰی کی قدر نہ کی جائے تو سزا بھی ملتی ہے۔ بہرحال یہ اپنے اپنے نقطہ نظر، احساسات اور تصورات کا معاملہ ہے۔


نعمتوں پر شکرکی بات ہوئی ہے تو مجھے پروفیسر مرزا منور صاحب کے الفاظ یاد آرہے ہیں ، جو انہوں نے اپنی کتاب حصار پاکستان کے صفحہ نمبر 194 پر لکھے ہیں:’’لاکھ لاکھ شکراس خدائے مہرباں کا جس نے اولاد آدم کی دائمی ہدایت کے لئے قرآن الفرقان ماہ رمضان کی آخری متبرک راتوں میں سے ایک میں نازل کرنا شروع کیا ، اسی طرح لاکھ لاکھ شکر خدائے رحمن کا جس نے رمضان ہی کے ماہ مبارک کی آخری مقدس راتوں میں سے ایک میں امت مسلمہ کو پاکستان کی عظیم الشان نعمت غیر مترقبہ سے نوازا۔‘‘


پاکستان رمضان المبارک کے آخری مقدس عشرے میں معرض وجود میں آیا۔ کچھ حضرات ابہام پیدا کرنے کے لئے یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ 14اگست 1947کو 27 واں روزہ تھا۔ اس لئے 13اگست اور 14اگست کی درمیانی شب لیلتہ القدر تھی۔ ریکارڈ کی درستی اور تاریخ پاکستان کو مسخ ہونے سے بچانے کے لئے عرض کرتا ہوں کہ کراچی سے شائع ہونے والا ڈان کا پہلا پرچہ دیکھ لیں۔ اس کی پیشانی پر 15اگست کے ساتھ واضح طور پر 27 رمضان المبارک چھپا ہوا ہے۔ میں نے مزید تصدیق کے لئے لاہور سے شائع ہونے والا پاکستان ٹائمز بھی دیکھا۔ اس کی پیشانی پر بھی 15 اگست کے ساتھ 27رمضان المبارک چھپا ہوا ہے۔ چنانچہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جب 15 اگست کو پاکستان معرض وجود میں آیا تو اس روز رمضان کا ستائیسواں روزہ تھا اور جس رات پاکستان کے قیام کا اعلان ہوا وہ ہمارے ہاں مروجہ تصور کے مطابق میں لیلتہ القدر تھی۔

 

بھارت تو پہلے سے موجود تھا ، بھارت کو تقسیم کرکے جو ملک دنیا کے نقشے پر معرض وجود میں آیا اس کا نام پاکستان ہے۔ یہ ایک تاریخی ، منفرد اور عظیم الشان کارنامہ تھا جو اﷲ سبحانہ وتعالیٰ کی رحمت سے سرانجام دیا گیا۔ اس لئے میرے درویش استاد اوربزرگ پروفیسر منور صاحب کہا کرتے تھے کہ پاکستان پر اللہ پاک کی رحمت کا سایہ ہے۔ میرے محترم ڈاکٹر اسرار احمد کہا کرتے تھے کہ پاکستان اللہ کا انعام ہے۔ وہ قرآن کی ایک آیت کا حوالہ دے کر کہا کرتے تھے کہ جب انعام الہٰی کی قدر نہ کی جائے تو سزا بھی ملتی ہے۔ بہرحال یہ اپنے اپنے نقطہ نظر، احساسات اور تصورات کا معاملہ ہے۔

سوال یہ ہے کہ ہم نے پہلا یوم آزادی پندرہ اگست کو منایا تو پھر چودہ اگست کو یوم آزادی منانے کا فیصلہ کیونکر ہوا؟سرکاری ریکارڈ کے مطابق پاکستان کی مرکزی کابینہ نے وزیراعظم لیاقت علی خان کی زیر صدارت 29 جون 1948 کو فیصلہ کیا کہ آئندہ پاکستان کا یوم آزادی چودہ اگست کو منایا جائے گا۔ یہ فیصلہ کیوں کر ہوا،؟کس کی تجویز تھی؟ یہ معلوم نہ ہوسکا۔ لیکن بظاہر مقصد پاکستان کے یوم آزادی کو ہندوستان کے یوم آزادی سے الگ رکھنا تھا۔ پاکستان کی دستور ساز اسمبلی میں چودہ اگست کو ہندوستان ہندوستانی وائسرائے اور برطانوی حکومت کا نمائندہ ماؤنٹ بیٹن پروانۂ آزادی دے گیا تھا اور پاکستان کے پرچم بھی اسی تاریخ کو لہرا دیئے گئے تھے۔ چنانچہ چودہ اگست کو یوم آزادی منانے کا جواز موجود تھا۔ بہرحال کابینہ کے اس فیصلے کی منظوری جولائی 1948ء میں گورنر جنرل سے لی گئی اور اس حوالے سے سرکاری طور پر فوری ہدایات جاری کردی گئیں۔ چنانچہ دوسرا یوم آزادی چودہ اگست کو منایا گیا۔
میری گزارش ہے کہ ہمارے لئے ستائیسویں رمضان بہت اہم او رمقدس ہے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ ہم چودہ اگست کے ساتھ ساتھ 27ویں رمضان کو بھی ذہن میں رکھیں اور نئی نسلوں کو اس تاریخی حقیقت سے آگاہ کریں۔ ستائیسویں رمضان کے ذکر سے قوت ایمانی کو تقویت ملتی ہے اور پاکستان کے مستقبل پر اعتماد میں اضافہ ہوتا ہے۔


سوال یہ ہے کہ آزادئ ہند اور قیام پاکستان کے لئے چودہ اگست 1947ء کا دن کیونکر طے ہوا، کیونکہ اس تاریخ کا اعلان کرنے والوں کو ہر گز علم اور احساس نہیں تھا کہ یہ رمضان کا مبارک مہینہ ہوگا، جس رات بارہ بجے قیام پاکستان کا اعلان ہوگا، وہ شب قدر ہوگی جسے مسلمان مبارک ترین رات سمجھتے ہیں اور جس صبح پاکستان میں سورج طلوع ہوگا وہ جمعتہ الوداع ہوگا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ انگلستان کے وزیراعظم اٹیلی نے فروری 1947ء میں پارلیمینٹ میں اعلان کیا تھا کہ ہندوستان کو جون 1948ء میں آزادی دی جاسکتی ہے۔ انگلستان کے وزیراعظم کا اعلان اپنی جگہ ، لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا اور ہونا وہی تھا جو قدرت کو منظور تھا۔ اگر لارڈ ویول ہندوستان کا وائسرائے رہتا تو شاید آزادی میں تاخیر کا سبب بنتا۔ مارچ 1947ء میں ویول کی جگہ لارڈ ماؤنٹ بیٹن وائسرائے بن کر آیا تو اس نے حالات کا جائزہ لینے اور ہندوستانی لیڈروں سے ملاقاتیں کرنے کے بعد محسوس کیا کہ ہم آتش فشاں کے دہانے پر بیٹھے ہوئے ہیں جو کسی وقت بھی پھٹ کر تباہی لاسکتا ہے۔ وہ جب دورے پر پنڈی کہوٹہ کے قریب ایک گاؤں دیکھنے کے لئے گیا تو یہ دیکھ کر صدمے سے نڈھال ہوگیا کہ سارا گاؤں فرقہ وارانہ فسادات کے سبب تباہ ہوچکا تھا۔ ’فریڈم ایٹ مڈ نائٹ‘ کی ایک تصویر میں اسے گھروں کے ملبے پر چلتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ وہ پشاور پہنچا اور قلعے کی فصیل سے نیچے نظر ڈالی تو حد نظر تک برقعہ پوش خواتین کا جلوس دیکھا جو آزادی کے لئے نعرے لگارہی تھیں۔ سیاسی اور معاشرتی صورت حال کا بغور جائزہ لینے کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچا کہ ہندوستان کو جلد از جلد آزاد کردینا اور یہاں سے برطانوی اقتدار کا جلد رخصت ہوجانا ہی برطانیہ اور ہندوستان دونوں کے مفاد میں ہے۔ دوسری جانب جنگ عظیم دوم نے کچھ اس طرح کا معاشی دباؤ انگلستان پر ڈالاتھا کہ انگلستان کے لئے اپنی کالونیوں پر تسلط قائم کررکھنا ممکن نہ رہا۔ ماؤنٹ بیٹن نے تقسیم کا منصوبہ بنایا ، حکومت سے منظوری لی اور 2 جون1947ء کو ہندوستان کے لیڈروں قائداعظم، نہرو، سردار بلدیو سنگھ سے ملاقات کرکے ٹرانسفر آف پاور کے منصوبے کو منظور کروالیا۔چنانچہ 3جون کو انتقال اقتدار کا سرکاری اعلان بھی کردیا لیکن اس میں انتقال اقتدار اور قیام پاکستان کی تاریخ اور دن کا کہیں ذکر نہیں تھا۔ معاملات کو ڈھالنے کا قدرت کا اپنا انداز ہوتا ہے جو نظر نہیں آتا لیکن اپنا کام کرجاتا ہے۔ 3جون کو تقسیم ہند اور انتقال اقتدار کا اعلان کرتے وقت ماؤنٹ بیٹن نے اپنی نشری تقریر میں صرف یہ کہا تھا کہ آئندہ چند ماہ میں ہندوستان کو آزادی دے دی جائے گی۔ اسی حوالے سے ماؤنٹ بیٹن نے 4 جون کو پریس کانفرنس کی۔ یہ دوسرا موقع تھا کہ ہندوستان کے کسی وائسرائے نے پریس کانفرنس کرنے کی ضرورت محسوس کی تھی۔ اس میں کوئی تین سو سے زائد ملکی اور غیر ملکی پریس نمائندے شریک تھے۔


پریس کانفرنس سے خطاب کے بعد اسمبلی چیمبر دہلی تالیوں سے گونج اٹھا۔ اسی گونج میں ماؤنٹ بیٹن نے سوالات کی دعوت دی۔ لطف کی بات ہے کہ سوالات کا سارا رخ انتقال اقتدار کی تفصیلات کی جانب تھا۔ آخر میں ایک ہندوستانی نمائندے نے سوال پوچھا:’’سر، ٹرانسفر آف پاور کے لئے دن رات کام کرنے کی ضرورت ہے۔ مجھے یقین ہے کہ آپ کے ذہن میں اس کے لئے کوئی تاریخ بھی ہوگی؟‘‘ ماؤنٹ بیٹن خود اعتمادی کے گھوڑے پر سوار تھا۔ جواب دیا ’’ہاں ہے‘‘۔ اخباری نمائندے نے پوچھا تو پھرسر، کون سی تاریخ ہے؟ ماؤنٹ بیٹن نے فریڈم ایٹ مڈ نائٹ کے مصنفین کو بتایا کہ میں انتقال اقتدار کی تاریخ کے بارے میں واضح نہیں تھا کیونکہ ابھی برطانوی پارلیمینٹ نے آزادئ ہند کا قانون پاس کرنا تھا اور کوئی نہیں جانتا تھا کہ اس میں کتنا وقت لگے گا۔ جب یہ سوال پوچھا گیا تو ماؤنٹ بیٹن یہ تاثر بھی نہیں دینا چاہتا تھا کہ فیصلے کرنے کا اختیار اس کے پاس نہیں ہے۔ چنانچہ وہ لمحہ بھر سوچ میں پڑگیا کہ تاریخ کا مخمصہ کیسے حل کرے۔ ماؤنٹ بیٹن جنگ عظیم دوم میں ساؤتھ ایسٹ ایشیا کا کمانڈر تھا اور اس نے برما کے جنگلوں میں دشمن کو شکست دی تھی۔ جنگ عظیم دوم یورپ میں تو مئی 1945ء میں ختم ہوگئی تھی لیکن جاپان کی فوجیں مزاحمت کرتی رہیں اور لڑائی جاری رہی۔ جاپان نے چودہ اگست 1945ء کو شکست تسلیم کی اور ہتھیار ڈالنے کے لئے شرائط اپنے فیلڈ کمانڈر کو پہنچائیں۔ چنانچہ جنگ عظیم دوم سرکاری طور پر چودہ ،پندرہ اگست 1945ء کی نصف شب ختم ہوئی ۔ یہ تاریخ ماؤنٹ بیٹین کے ذہن ، قلب اور لاشعور میں کندہ تھی۔ کیونکہ یہ انگلستان کی عظیم فتح کا دن تھا۔ چنانچہ اس نے پریس کانفرنس کے آخری سوال کے دباؤ کے جواب میں فوراً اعلان کردیا ’’ہندوستان کو انتقال اقتدار 15 اگست 1947ء کو کردیا جائے گا۔ ‘‘اسے اندازہ تھا، نہ برطانوی حکمرانوں کو علم تھا کہ پندرہ اگست مسلمانوں کے ستائیسویں رمضان کا مبارک دن ہے اور 15-14 اگست کی شب ، شب قدر ہے۔ یہ قدرت کا فیصلہ تھا اور یقین رکھئے کہ قدرت کے فیصلے بلاوجہ نہیں ہوتے۔

مضمون نگار ممتاز محقق اور دانشور ہیں۔ ایک قومی اخبار میں کالم لکھتے ہیں اور متعدد کتابوں کے مصنف ہیں۔ پاکستانیات کے حوالے سے وہ ایک مستند شناخت رکھتے ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
Read 615 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter