نریندر مودی کی مسلم دشمنی

Published in Hilal Urdu

تحریر: عبد الستار اعوان

47ء میں تقسیم کے بعد بھارت کی فضا کبھی بھی مسلمانوں کے لئے سازگار نہیں رہی تاہم جب سے نریندر مودی ا ورا ن کا ٹولہ برسراقتدار آیا ہے مسلمانوں کے خلاف ریاستی سطح پر نفرتوں میں خاصا اضافہ ہوا ہے اوریہ سرزمین ان پر اس قدر تنگ کر دی گئی ہے کہ اس کا تصور بھی لرزا دیتا ہے۔بھارت کے سنجیدہ حلقے بھی یہ نقطہ نظر رکھتے ہیں کہ ملک میں جس انداز سے اقلیتوں اور خاص طور پر مسلمانوں کے لئے مسائل پیدا کئے جا رہے ہیں اگر یہ پالیسی ترک نہ کی گئی تو اس سے خود ریاست بہت بڑے نقصان سے دوچار ہو سکتی ہے ۔ مودی سرکار کا مسئلہ یہ ہے کہ اسے جونہی کوئی بہانہ ہاتھ آتا ہے مسلمانوں کے گرد گھیرا تنگ کر دیا جاتا ہے۔ نریندر مودی کی منافقت دیکھئے کہ وہ ایک طرف ’’سب کا ساتھ سب کا وکاس ‘‘ (وکاس ہندی زبان میں ترقی کو کہتے ہیں) کے نعرے لگاتے ہیں اور دوسری جانب مسلمانوں کے خلاف تعصب‘ تنگ نظر ی اور نفرتوں کو پروان چڑھایا جا رہا ہے۔آج کل ریاست آسام کے ایک کروڑ مسلمان نریندر مودی کے نشانے پر ہیں اور انہیںآسام سے بے دخل کرنے کے لئے نام نہاد قانونی جواز تلاش کرنے کی تیاریاں جار ی ہیں ۔آسام کی وزارت اعلیٰ پر مسلسل 16برس تک ترون گوگوئی جیسا متعصب شخص براجمان رہا جس کے دور میں مسلمانوں کے مسائل میں بے پناہ اضافہ ہو ا اور اس نے انہیں پریشان کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی،آج کل آسام کے وزیراعلیٰ بھارتیہ جنتا پارٹی کے راہنما سبرانند سونووال ہیں جو 2016ء میں اس منصب پر فائز ہوئے ‘ان کے دور میں بھی مسلمانوں کے حصے میں مایوسی کے سوا کچھ نہیں آیا۔


ریاست آسام بھارت کے شمال مشر ق میں واقع ہے ، اس کا دارالحکومت دسپور ہے ۔ یہ ریاست گھنے جنگلوں اور سرسبز پہاڑوں کی سرزمین کہلاتی ہے ۔ آسام کی مجموعی آبادی میں مسلمانوں کا تناسب چونتیس فیصد بتایا جاتا ہے۔ آسام کے اکثر مسلمان بنگالی زبان بولتے ہیں جس کی وجہ سے ان پر الزام لگایا جاتا ہے کہ یہ بنگالی ہیں۔آسام میں مسلمانوں کی شہریت کا معاملہ گزشتہ39برس سے انتہائی سنگین چلاآ رہا ہے ۔ ماضی میں ایسے لاتعداد واقعات رونماہو چکے ہیں جب ریاستی اداروں کی ہلہ شیری سے متشدد ہندو تنظیموں نے مسلمان آبادیوں پر حملے کئے جن میں ہزاروں افراد جاں بحق ہوئے ا ور ان کی جائیدادیں برباد ہوئیں۔ مسلمانوں کو مختلف ادوار میں بنگالی ہونے کے الزام میں موت کے گھاٹ اتاراجاتا رہا ہے ۔آسام کے مظلوم مسلمان 1983ء کے فسادات کو یاد کر کے آج بھی خون کے آنسو بہاتے ہیں جب ہندو تنظیموں نے صرف چند دنوں میں چار ہزار کے قریب مسلمانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا، عورتوں کی عصمت دری کی اور ان کی املاک کو لوٹاگیا ۔ اس واقعے کے متاثرین آج تک خوارہو رہے ہیں لیکن بھارتی عدالتیں انہیں انصاف فراہم کرنے سے کلی طور پر انکاری ہیں ۔

 

narindramodi.jpgکچھ عرصہ قبل جب آسام میں قتل و غارت کا بازار گرم ہوا توعالمی نشریاتی ادارے بی بی سی نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا:’’ آسام میں گزشتہ ہفتوں کے دوران بہت بڑے پیمانے پر قتل وغارت گری ہوئی ہے۔ آزادی کے بعد غالباً یہ سب سے بڑا فساد ہے جس میں تقریباً چار لاکھ لوگ بے گھر ہو ئے۔ بھارت کے قومی اقلیتی کمیشن کے مطابق منظم حملوں کے بعد مسلمانوں کے مکانوں کو لوٹا گیا اور اس کے بعد ان کی آبادیوں کو پوری طرح خاکستر کر دیا تاکہ یہ دوبارہ کبھی اپنے گھروں کو نہ لوٹ سکیں۔غیر قانونی تارکین وطن کا سوال خطے کا ایک سنگین مسئلہ ہے اور اس میں مذہبی نفرت کا پہلو بھی شامل رہا ہے۔بھارتی میڈیا کی جانب سے آسام کے بھیانک مظالم کی خبریں کبھی شائع نہیں کی جاتیں۔‘‘
اگر ہم اس معاملے کا مختصر جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ شہریت کے عنوان پر آسامی مسلمانوں کے خلاف یہ مہم 1978ء میں آل آسام سٹوڈنٹس اور دیگر ہند و تنظیموں کی جانب سے شروع کی گئی۔ ان تنظیموں کا نعرہ تھا کہ یہ لوگ آسامی نہیں بنگالی ہیں اور انہیں ملک بدر کیا جائے ۔بعد ازاں یہ مہم مسلمانوں کے خلاف زبردست تحریک میں بدل گئی اور انہیں تشدد کا نشانہ بنایا جانے لگا ۔ جمعیۃ علما ئے ہند آسامی مسلمانوں کے حقوق کے لئے کام کرنے والی سب سے پرانی اور نمائندہ تنظیم ہے ۔اس جماعت نے دیگر اقلیتی پارٹیوں کے ساتھ مل کر مسلمانوں اوردیگر اقلیتوں کے خلاف جاری اس پرتشدد ہندو تحریک کو روکنے کے لئے بھرپور کردار ادا کیا اورمسلمانوں کے خلاف 1978ء سے جاری اس مہم کو 1985ء میں
Accord Assam
معاہدے کی صورت میں ختم کرانے میں کامیاب ہوئی۔ یہ معاہدہ اس وقت کی راجیو گاندھی مرکزی حکومت ، آسام حکومت ، مسلمان مخالف تحریکوں اور جمعیۃ علمائے ہند کی باہمی رضامندی سے ہو ا۔ اس میں طے پایا کہ1971ء کو بنیاد بنایا جائے گا اور اس سے پہلے آسام میں آکر سکونت اختیار کرنے والوں کو بھارتی شہری تسلیم کیاجائے گا۔ بعد ازاں اس معاہدے کو پارلیمنٹ سے بھی پاس کروایا گیا اور ملک بھر کی جماعتوں نے اسے قبول کیا۔1985ء سے اب تک سب کچھ ٹھیک تھا لیکن چند سال پیشتر یہ معاہدہ اس وقت متنازع بنانے کی کوشش کی گئی جب سابق وزیر اعلیٰ ترون گوگوئی کے دورِحکومت میں ہندو تنظیموں نے بھارتی عدالتوں میں رٹ دائر کر دی کہ 1971کے بجائے 1951ء کی ووٹر لسٹوں کو بنیادبنا کر شہریت کا فیصلہ کیا جائے، اس رٹ میں آسام اکارڈمعاہدے کی قانونی حیثیت کو بھی چیلنج کر دیا گیا جس کی وجہ سے اب آسام کے لاکھوں مسلمانوں کا مستقبل خطرے میں پڑ گیاہے ۔ان حالات کو دیکھتے ہوئے ایک بار پھر مسلمانوں کی نمائند ہ سیاسی جماعت جمعیۃ علمائے ہند اپنی دو حامی جماعتوں آل آسام مینارٹیز سٹوڈنٹس اور سٹیزن رائٹ پریزرویشن کمیٹی کے تعاون سے میدان میں آ کر آسام اکارڈ کا بھرپور دفاع کررہی ہے۔


اس وقت یہ کیس بھارتی سپریم کورٹ میں ہے جسے آسام کی 14مسلمان مخالف ہندوجماعتوں کی بھرپور تائید حاصل ہے جبکہ دوسری جانب تین جماعتیں جمعیۃ علمائے ہند ، آل آسام مینارٹیز سٹوڈنٹس اور سٹیزن رائٹ پریزرویشن کمیٹی اپنے حق کے لئے لڑ رہی ہیں۔یہ مقدمہ پہلے سپریم کورٹ کے ڈویژن بنچ کے پاس تھا جس نے فریقین سے سوالات کر کے انہیں جواب داخل کرنے کا حکم دیا ،بعد میں یہ مقدمہ سپریم کورٹ کے پانچ ججوں پر مشتمل ایک بنچ کے حوالے کر دیاگیا ۔ یکم مئی 17ء کو جمعیت علمائے ہند اور اس کی حامی جماعتوں نے ان سوالات کے جوابات اور دیگر دستاویزات بنچ کے رو بروپیش کیں۔ اب سپریم کورٹ میں ان مقدمات کی باقاعد ہ سماعت کا آغا ز ہو چکا ہے اور آسام کے لاکھوں مسلمانوں کی نظریں اس فیصلے پر ہیں جو ان کے مستقبل پر اثر انداز ہونے جا رہا ہے ۔


مسلمان راہنما ؤں کا موقف بڑا واضح اور مدلل ہے کہ حکومت آسام اکار ڈ 1985کی پاسداری کرے اور اس کے مطابق ہی شہریت کا فیصلہ کیا جائے۔ آسام میں مذہب کی بنیاد پر شہری تفریق قابل قبول نہیں۔شہریت کے لیے مذہب کو بنیاد بنا نا متحدہ قومیت اوراُس سیکولراز م کے بھی سراسر منافی ہے جس کا بھارت دعویدار ہے۔ آسام میں کوئی غیر ملکی غیر قانونی طور پر رہ رہا ہے تو اسے ملک سے فوراً نکالا جانا چاہیے خواہ اس کا تعلق کسی بھی طبقے سے ہولیکن کسی حقیقی شہری کو بلا وجہ پریشان نہ کیا جائے۔


مسلم قیادت کا کہنا ہے کہ ہندو تنظیمیں ریاستی آشیر باد سے مسلمانوں کے خلاف ایک نیا محاذ کھڑا کر رہی ہیں کیونکہ آسام اکارڈ میں شہریت کا جو پیمانہ مقرر کیا گیا تھا اور جس کے تحت قومی شہری اندراج(‘ نیشنل سٹیزن رجسٹریشن) کا کام تقریباً مکمل ہوچکا تھا ،اس میں چونکہ مسلمانوں کے حوالے سے بنگلہ دیشی مسئلہ دم توڑتا ہوا نظرآیا اس وجہ سے حکومت نے یہ نئی ساز ش تیار کی اوراب وہ عدالتوں کاسہارا لے کر 71ء کے مقرر کردہ اپنے ہی وضع کردہ پیمانے کو کالعدم قرار دے کر مسلمانوں کے لئے نئی مشکلات پیدا کرنا چاہتی ہے ۔ آسامی مسلمانوں کے ممتاز لیڈراور رکن پارلیمنٹ مولانا بدرالدین اجمل کا کہنا ہے کہ آسام کے مسلمانوں کے خلاف سازش چل رہی ہے کہ ان سے شہریت کے حقوق چھین لئے جائیں ، ان سے ووٹنگ کا حق سلب کر لیا جائے لیکن ہم ایسا ہونے نہیں دیں گے۔


اس ضمن میں معروف بھارتی صحافی عابد انور اور عمران عاکف خان کہتے ہیں کہ ’’ا فسوسناک بات یہ ہے کہ آسام کی سابق ترون گوگو ئی حکومت اس اہم مسئلے کو حل کرنے کے بجائے محض سیاسی مفادات کی خاطر لٹکاتی رہی۔ آسام کے مسلمانوں کے استحصال کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ریاستی حکومت نے آسام میں بارڈر پولیس بناکر اسے مکمل اختیا دے دیا ہے کہ وہ جسے چاہے غیر ملکی قرار دے کر عقوبت خانوں میں ڈال سکتی ہے۔ ہزاروں معصوم لوگ بارڈر پولیس کے ظلم و ستم کا شکار ہو چکے ہیں۔بھارتی صحافی برادری کا کہنا ہے کہ نئی دلی سرکار کا دوہرا پیمانہ دیکھئے کہ ایک طرف تو حکومت ترمیمی بل پارلیمنٹ میں پیش کر چکی ہے جس کے پاس ہوتے ہی لاکھوں غیر ملکی ہندو پناہ گزینوں کو بھارتی شہریت مل جائے گی جبکہ دوسری جانب بھارت کے لاکھوں حقیقی شہریوں کو صرف مسلمان ہونے کی وجہ سے بھارتی شہریت سے محروم کر دیاجائے گا ‘‘۔


دوسری طرف صورتحال یہ ہے کہ آسام میں شہریت کے حوالے سے گوہاٹی ہائی کورٹ کے ظالمانہ فیصلے سے براہ راست پچاس لاکھ مسلمان خواتین کے متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے ۔ آسام کے حقیقی شہری اور بنگالی مہاجر کے درمیان فرق کرنے کے لئے قومی شہری رجسٹریشن کا فارمولہ اختیار کیا گیا تھا اور اس میں شہریت کو ثابت کرنے کے لئے جودستاویزات درکار تھیں ان میں ایک پنچایت سرٹیفکیٹ بھی شامل تھا ۔ یہ سرٹیفکیٹ پنچایت سیکرٹری کی جانب سے اس لڑکی کو دیاجاتا ہے جو شادی کر کے دوسرے گھر چلی جاتی ہے، یہ سرٹیفکیٹ اس بات کی تصدیق کرتاہے کہ لڑکی بنگالی نہیں آسامی شہریت کی حامل ہے ۔گوہاٹی ہائی کورٹ نے ایک تازہ فیصلے میں قومی رجسٹر برائے شہریت نامی اس سرٹیفکیٹ اور اس کی معاون دستاویزات کو واضح طور پربے حیثیت ،بے معنی اور غیر مستند قرار دے دیا ہے جس سے 50لاکھ سے زائد خواتین کی شہریت منسوخ ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے ۔آسام کی مسلم قیادت کا کہنا ہے کہ ان دستاویزات کی روشنی میں اب تک 80فی صد کام مکمل ہو چکا تھا کہ گوہاٹی ہائی کورٹ نے اس کے خلاف فیصلہ دے ڈالا۔ علاوہ ازیں مسلمانوں کی شہریتی جانچ پڑتال کے لئے ایک ٹربیونل بھی کام کر رہاہے جس کی جانب سے مسلمانوں کولاتعداد مسائل کا سامنا ہے۔ اس حوالے سے آسامی مسلمانوں کے نمائند ہ سیاسی وفد نے حال ہی میں وزیراعلیٰ آسام سے ملاقات کر کے کہا کہ ہمارے ساتھ ہونے والی زیادتیوں اور ناانصافیوں کو روکاجائے لیکن تاحال وزیراعلیٰ کی جانب سے کسی قسم کے اقدامات سامنے نہیں آئے۔ایک طرف ہندو تنظیموں نے آسام اکارڈ کے خلاف درجنوں مقدمات دائر کر رکھے ہیں تو دوسری جانب مسلمانوں کے لئے سب سے زیادہ پریشان کن امریہ ہے کہ پولیس نے گوہاٹی ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد مسلمان خواتین کو گرفتار کر ناشروع کر دیا ہے ۔


بھارتی صحافیوں کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال اس قدر خطرنا ک ہے کہ عموماً مسلمان خواتین کو رات کے وقت گرفتار کر کے انہیں حراستی مراکز
(Detention Camps)
میں قید کر دیاجاتا ہے جبکہ یہ گرفتاریاں سراسر غیر قانونی ہیں۔بھارتی آئین کی روسے کسی خاتون کی گرفتاری رات کے وقت اور بغیر لیڈی پولیس کے نہیں کی جاسکتی لیکن آسام میں اس کی واضح خلاف ورزیاں کی جارہی ہیں ۔ رکن پارلیمنٹ مولانا بدرالدین اجمل نے جب ان حراستی مراکز میں جانے کے لئے اجازت چاہی تو کہا گیا کہ وزارت داخلہ سے اجازت لینا ہوگی، جب انہوں نے وزارت داخلہ سے رجوع کیا تو انہیں وہاں سے بھی کوئی اجازت نامہ نہ ملا ۔ انہوں نے ایک پریس کانفرنس میں میڈیا کو بتایا کہ حراستی مراکز میں خواتین کے ساتھ کیا ہورہاہے کچھ بھی پتہ نہیں چل رہا لیکن جو تھوڑی بہت اطلاعات ہم تک پہنچ رہی ہیں وہ بہت لرزہ دینے والی ہیں۔ ہمیں معلوم ہوا ہے کہ مسلمان خواتین کو مجرموں کے ساتھ رکھا جارہا ہے اوردرندگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کی عصمت دری کی جارہی ہے ۔ ایک رپورٹ کے مطابق ان کیمپوں میں ہزاروں مسلمان خواتین تڑپ رہی ہیں لیکن ’’سیکولر بھارت ‘‘ اور ’’سب کا ساتھ سب کا وکاس ‘‘کی دعویدار مودی سرکار انہیں کوئی رعایت دینے کو تیار نہیں۔


آسام کے گزشتہ ادوار اور تازہ صورتحال کو پیش نظر رکھتے ہوئے اس نتیجے پر پہنچا جا سکتا ہے کہ یہ سراسر بی جے پی حکومت اور نریندر مودی کی مسلم دشمنی کا شاخسانہ ہے ، چونکہ آسام اکارڈ اور قومی شہری رجسٹریشن کی رو سے بھارتی حکومت کی مسلمانوں کے خلاف مہم دم توڑ چکی تھی اور ان کی شہریت کا مسئلہ تقریباً حل ہو چکا تھا جبکہ مودی حکومت اور ہندو تنظیمیں نہیں چاہتیں کہ مسلمان اس سے نجات حاصل کریں چنانچہ نئی دلی سرکار ایک بار پھر ہندو تنظیموں کو تھپکی دے کر قومی شہریت کی منسوخی کا یہ ڈرامہ کھیل رہی ہے اور اپنی عدالتوں اور اپنے ہی وضع کردہ قانون اور آئینی پیمانے کے ذریعے اخلاقی جواز تلاش کرکے یہ مسئلہ دوبارہ تازہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ آسام کے ایک کروڑ مسلمانوں کی شہریت منسوخ کر کے انہیں ملک بدر کر دیا جائے۔ اس ضمن میں غالب گمان یہی ہے کہ بھارتی سپریم کورٹ کافیصلہ بھی آسام کے مسلمانوں کے خلاف آئے گا کیونکہ ماضی کے لاتعداد فیصلے گواہ ہیں جو ان نام نہادعدالتوں نے واضح طور پر جانبدار ی اور ہندو نوازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسلمانوں کے خلاف دیئے ۔ خاکم بدہن‘ اگر یہ فیصلہ بھی آسام اکارڈ کے خلاف آتا ہے تو اس سے ایک کروڑ مسلمانوں کا مستقبل داؤ پر لگنے کا خدشہ ہے۔شہریت کے حوالے سے آسامی مسلمانوں کو اس وقت آسام سول کورٹس، گوہاٹی ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں درجنوں مقدمات کا سامنا ہے اور اب یہ لاکھوں فرزندان اسلام حسرت و یاس بھری نگاہوں سے ان عدالتوں کی طرف دیکھ رہے ہیں جن کے فیصلوں سے ان کا مستقبل روشن یا پھر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے تاریک ہو جائے گا .......


بہر کیف معاملہ گولڈن ٹیمپل کا ہو ، بابری مسجد ، گجرات قتل عام یا آسام کے مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کی حالتِ زار کا‘ یہ سب بھارتی حکمرانوں کی تنگ نظری کے مظاہر ہیں۔ جب تک بھارتی حکمران ،فوج اور ہندو لیڈراپنے اندر سے تعصب کے میل کو ختم نہیں کرتے ،اپنی اصلاح پر توجہ نہیں دیتے، اقلیتوں کے حقوق کو تسلیم کرتے ہوئے انہیں باعزت شہری کی طرح زندگی گزارنے کے مواقع نہیں دیتے ‘بھارت مسائل کی دلدل میں دھنستا جائے گا اور بقول بھارتی صحافی خشونت سنگھ بالآخر اس کے ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں گے ‘پاکستان یا دنیا کا کوئی بھی ملک اسے تباہ نہیں کرے گا بلکہ یہ اپنے تعصبانہ رویوں کی بدولت ہی خود کشی کا ارتکاب کر ے گا۔

مضمون نگار ایک قومی اخبار میں کالم نویس ہیں

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
Read 109 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter