مقبوضہ کشمیر میں سوشل میڈیا پر پابندی۔۔۔کب تک؟

Published in Hilal Urdu July 2017

تحریر: صائمہ جبار

قائداعظم محمدعلی جناحؒ نے کشمیر کوپاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا۔ظاہر ہے شہ رگ کے بغیر کوئی شخص زندہ نہیں رہ سکتا۔یہی وجہ ہے کہ پاکستانیوں کے دل اپنے کشمیری بہن بھائیوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ وہ ظلم و ستم کا شکار ہوں تو یہ کیسے ممکن ہے کہ یہاں کے شہری پُرسکون رہ سکیں۔ گویا ان کی بے قراری ایک فطری امر ہے۔


مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی ظلم و بربریت انتہا پر ہے ۔ ضلع بڈگام میں لوگوں کے پتھراؤ سے بچنے کے لئے ایک نوجوان کو فوجی جیپ کے آگے باندھ دیا گیا۔سوشل میڈیا کے ذریعے وائرل ہونے والی اس ویڈیونے دنیا کو بھارتی بربریت کی صحیح تصویر دکھا ئی تو بھارت چکرا کر رہ گیا اوردنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہو نے کا دعویٰ کرنے والے بھارت نے26 اپریل 2017 کوکشمیر میں انٹر نیٹ مہیا کرنے والی تمام کمپنیوں کو فیس بک، ٹوئٹر اور واٹس ایپ جیسی تمام سوشل میڈیا ویب سائٹس عارضی طور پر بند کرنے کے احکامات جاری کر دیئے۔ گزشتہ پانچ برس میں بھارت 30 سے زائد کشمیریوں کا انٹر نیٹ بند کر چکا ہے۔جبکہ گزشتہ برس کشمیری کمانڈر برہان وانی کی شہادت کے بعد تو انٹرنیٹ بلیک آوٹ چھ ماہ تک جاری رہا۔برہان وانی کی شہرت بھی سوشل میڈیا سے ہی پھیلی تھی۔
یاد رہے کہ بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر میں اسرائیلی طرز پر کشمیری پنڈتوں کی علیٰحدہ بستیاں قائم کرنے کا منصوبہ بھی بنا رکھا ہے۔ اور برہان وانی نے اپنی سوشل میڈیا پر پوسٹ کئے جانے والے ویڈیو پیغامات میں بھارت کے اس منصوبے کو بے نقاب کیا تھا۔ نوجوان کشمیری اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر مظاہروں کی ویڈیو بناتے ہیں اور انٹرنیٹ پر اپ لوڈ کرتے ہیں۔مقبوضہ کشمیر میں بھارتی حکام نے اس کا جواز یہ دیا ہے کہ سماج دشمن عناصر سوشل میڈیا کو قومی مفاد کے خلاف استعمال کر رہے ہیں۔

Software Freedom Law Centre
کی رپورٹ کے مطابق 2012 سے 2016 تک 31 سے زائد مرتبہ انٹرنیٹ کو کشمیر میں بلاک کیا گیا ہے ۔ تاہم اب پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ سوشل میڈیا نیٹ ورکنگ سائٹس پر مکمل پابندی لگائی گئی ہے۔مقبوضہ کشمیر میں تقریباً آٹھ لاکھ فوجی تعینات ہیں جو دنیا میں اس وقت سب سے زیادہ فوجی موجودگی والا علاقہ بن چکا ہے۔ نیو یارک میں قائم کمیٹی’’ ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹ ‘‘نے بھارت سے مطالبہ کیا ہے کہ جموں و کشمیر میں سوشل میڈیا پر عائد پابندی اٹھائی جائے۔رپورٹرز ودآؤٹ بارڈر کی عالمی تنظیم نے بھی کشمیر میں سوشل میڈیا بین پر تشویش کا اظہار کیا ہے،اور بھارت کو فوری طور پر یہ بین ختم کرنے کا کہا ہے۔


آج کے دور میں سوشل میڈیا کی اہمیت سے انکار کرنا نا ممکن ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں نوجوان نسل کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ اور وہ سوشل میڈیا کا استعمال کر کے دنیا کو بھارت کا اصل چہرہ دکھا رہے ہیں۔ پیلٹ گن فائرنگ سے متاثر افراد کی تصاویر شاید ہم تک کبھی نہ پہنچتیں کیونکہ روایتی میڈیا پر تو پہلے سے پابندیاں تھیں۔ یہ تو سوشل میڈیا ہی تھا کہ جس کے ذریعے دنیا تک وہ تصاویر پہنچیں جو کہ بھارتی غنڈا گردی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔کشمیری نوجوان نہ صرف سوشل میڈیا پر اپنے غصے کا اظہار کرتے ہیں بلکہ احتجاج کی کال دینے کے لئے بھی اس کا استعمال کرتے رہے ہیں۔لوکل انتظامیہ اس بات سے خوفزدہ ہو کر سوشل میڈیا سایٹس پر پابندی لگا رہی ہے۔ٹویٹر،فیس بک اور واٹس ایپ وغیرہ کو بند کیا جا چکا ہے۔


لیکن ہمت ہے ان کشمیری نوجوانوں کی جنہوں نے ہار نہ ماننے کی قسم اٹھا رکھی ہے۔انیس سالہ طالب علم عزیر جان نے کشمیریوں کے رابطے کے لئے فیس بک کا ایک لوکل ورژن بنا ڈالا۔جس کا نام کیش بک ہے۔کچھ ہی روز میں اس سائٹ پر سات سے آٹھ ہزار لوگوں نے اپنے آپ کو رجسٹر ڈکیا ہے اور روز بروز ان میں اضافہ ہو رہا ہے۔عزیر جان کے مطابق یہ سائٹ بنانے کی وجہ یہ ہے کہ جب باقی تمام سوشل نیٹ ورکس کو بند کر دیا گیا ہے تو کشمیری آپس میں کیسے رابطے کریں گے۔ یہ سائٹ ان کو یہی سہولت دے گی۔بیانیے کی یہ جنگ اب سوشل میڈیا پر بھی پھیل چکی ہے۔


آج کشمیر پہلے سے زیادہ بھارت کے خلاف ہے۔کشمیریوں نے ہتھیار ڈالنے سے انکار کر دیا ہے اورکشمیر میں حقِ خود ارادیت کا مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے۔ یہ مطالبہ 1947 سے چلا آ رہا ہے۔
مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کا قدیم ترین بین الاقوامی حل طلب مسئلہ ہے۔بھارت پاکستان میں پہلی جنگ اسی مسئلے پر ہوئی۔بھارت اس مسئلے کو اقوامِ متحدہ میں یکم جنوری 1948میں لے کر گیا۔کشمیر میں بھارت اور پاکستان کے فوجی تعینات ہو گئے تھے۔اقوامِ متحدہ سکیورٹی کونسل کی قرارداد میں کہا گیا کہ کشمیر بھارت کے ساتھ الحاق کرے گا یا پاکستان کے ساتھ اس کا فیصلہ ایک جمہوری طریقے سے حقِ خود ارادیت کے تحت کیا جائے گا۔بعد میں 3 اگست 1948 اور 5 جنوری 1949 کو اس قرارداد پر پھر سے زور دیا گیا۔


اب تک کشمیرمیں بھارتی فوج کے مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق اب تک ایک لاکھ کے قریب لوگ شہید ہو چکے ہیں۔ پیلٹ فائرنگ کا نیا ہتھیار بھارتی فوج کے ہاتھ آ گیا ہے جس سے ہزاروں لوگوں کی بینائی جا چکی ہے۔ خواتین کی عصمت دری ، ماؤں کے سامنے جوان بیٹوں کا قتل بھارتی فوج کے لئے ایک عام سی بات ہے۔بھارتی افواج نے انسانی حقوق کی پامالی کا ریکارڈ کشمیر میں قائم کیا ہے۔


پاکستان کے ساتھ کشمیریوں کی محبت کا سلسلہ بہت پرانا اور تاریخی ہے۔ کشمیری شہدا کو پاکستانی جھنڈے میں دفنایا جاتا ہے۔ جنازوں میں پاکستان زندہ باد اور ہم لے کے رہیں گے آ زادی کے نعرے گونجتے رہتے ہیں۔
قدرتی حسن سے مالا مال وادی جموں وکشمیر انیسویں صدی میں مشہور سیاحتی مقام ہوا کرتی تھی۔ اس کا موسم اور دلکش مناظر سیاحوں کی نگاہ کا مرکز ہوا کرتے تھے۔ لیکن اس حسین وادی کو ایسی نظر لگی کہ یہاں امن و امان ناپید ہو گیا۔ ایسا لگتا ہے کہ وادی کسی دیو کے تسلط میں ہے جس کی آزادی کے لئے وہاں کے مقیم اپنے خون کا نذرانہ دے رہے ہیں۔


ضرورت اس امر کی ہے کہ دنیا بھارت کی ان سفاکانہ اور ظالمانہ کارروائیوں کا نوٹس لے تا کہ کشمیر کو فلسطین بننے سے روکا جا سکے۔پاکستان کی طرف سے ہمیشہ مسئلہ کشمیر پر بات چیت کو خوش آمدید کہا گیا ہے لیکن بھارت کسی صورت اس مسئلے پر کسی تیسرے فریق کی ثالثی ماننے پر تیار نہیں ہوتا۔


بہرکیف جدید ٹیکنالوجی کے اس دور میں بھارت کے لئے ناممکن ہو گیا ہے کہ وہ اپنے مظالم کو دنیا سے چھپائے رکھے۔ لہٰذا بھارت جس قدر بھی کوشش کرلے‘ ظلم و ستم کا بازار گرم کرے یا پھر سوشل میڈیا پر پابندیاں لگائے ۔ اب یہ بات طے ہے کہ جلد یا بابدیر بھارت کو کشمیریوں کے حقِ خود ارادیت کو تسلیم کرنا ہی پڑے گا اور کشمیریوں کو بھارت سے نجات مل کر رہے گی۔

مضمون نگار نجی ٹی وی چینل سے منسلک ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
Read 317 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter