ایس سی او۔ پاکستان کی رکنیت اور علاقائی اہمیت

Published in Hilal Urdu July 2017

تحریر: فرخ سہیل گوئندی

شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن نے سرد جنگ کے خاتمے کے بعد خطے میں بدلتی صورتِ حال کے نتیجے میں ایک نئے علاقائی اتحاد کے طور پر جنم لیا۔ سرد جنگ کے زمانے میں، سابق سوویت یونین اور ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے مابین مقابلے کے نتیجے میں دونوں طاقتوں نے اپنے ہاں اسلحے کے انبار لگانا شروع کردئیے۔ جب سرد جنگ کا خاتمہ ہوا تو دنیا کے مختلف ممالک علاقائی اقتصادی اتحادوں میں جڑنے لگے۔انہی میں سے ایک اتحاد شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن ہے۔ چین ایک عالمی اقتصادی طاقت کے طور پر تیزرفتار‘ زور پکڑتا ہوا ملک جانا جانے لگا اور روسی فیڈریشن، اقتصادی اور نئے عسکری اتحادوں میں اہم کردار ادا کرنے لگی۔ چین کو علاقائی اور عالمی منڈیوں تک رسائی کے لئے نئے راستے درکار تھے۔ آج ہم آسانی سے دیکھ سکتے ہیں کہ چین اپنے ان اہداف میں کامیابی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن کا قیام اِن اہداف کے لئے ہی تھا جس میں روسی فیڈریشن علاقائی توازن میں اپنا برابر حصہ ڈال رہی ہے۔


سرد جنگ کے خاتمے کے بعد دہشت گردی ایک عالمی مسئلہ بن کر سامنے آیا، لیکن اہم بات یہ ہے کہ اس عالمی دہشت گردی کا مرکز، مشرقِ وسطیٰ بن کر ابھرا۔ عراق، شام اور لیبیا جیسی اہم ریاستوں کو جیسے کھوکھلا کیا گیا، اگر اس کو غور سے دیکھا جائے تو معاملہ سمجھ میں آتا ہے کہ دہشت گردی کو ان ممالک میں کیوں کر اور کن طاقتوں نے پلنے ‘بڑھنے اور پنپنے کے مواقع فراہم کئے۔ پاکستان بھی اُن ممالک میں شامل ہے جس کو دہشت گردی کے ذریعے کھوکھلا کرنے کی عالمی سازش کارفرما تھی، جسے پاکستان کی مسلح افواج نے بھرپور طریقے سے ناکام بنانے میں فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ پاکستان اس تناظر میں ایک اہم ترین ملک ہے، جو مشرقِ وسطیٰ، وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا کے سنگم پر واقع ہے اور نئی عالمی اقتصادی طاقت عوامی جمہوریہ چین کا دیرینہ دوست اور اتحادی ہے۔ حال ہی میں چین کو راہداری دینے کے منصوبے نے پاکستان کی علاقائی طاقت کو مضبوط تر کردیا ہے۔ پاکستان سرد جنگ کے خاتمے کے بعد ایک نیا کردار بنانے میں کوشاں ہے۔ شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن میں 2005ء سے ایک آبزرور کی حیثیت سے اس کی شمولیت اسی پالیسی کا حصہ ہے۔ اور اب جون 2017ء میں قازقستان کے دارالحکومت آستانہ میں شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن کی سربراہ کانفرنس میں پاکستان اور بھارت کو مکمل رکنیت دے دی گئی ہے۔ یہ پاکستان کا خطے میں ایک اہم ملک ہونے کا بڑا ثبوت ہے اور یہ کہ پاکستان کے بغیر علاقائی اتحاد نامکمل سمجھے جارہے ہیں۔ پاکستان نہ صرف ایک ایٹمی طاقت ہونے کے ناتے اہم ملک ہے بلکہ اس کی جیو سٹریٹجک اہمیت کو بھی کوئی علاقائی اور عالمی طاقت نظرانداز نہیں کرسکتی۔

scoorgoniz.jpg
آستانہ میں ہونے والی اس سربراہ کانفرنس میں وزیراعظم پاکستان نوازشریف نے شرکت کی اور کانفرنس میں شامل رہنماؤں سے ملاقاتیں بھی کیں۔ کانفرنس میں ایک اہم توجہ دینے والی بات روسی صدر ولادی میر پوٹن نے کی انہوں نے خطاب میں کہا کہ دہشت گردی ایک اہم مسئلہ ہے جس سے شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن کے رکن ممالک کو نمٹنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ عراق اور شام میں پُراسرار طریقے سے جنم لینے والی دہشت گرد تنظیم
ISIS
مشرقِ وسطیٰ کے بعد وسطی ایشیا اور جنوبی روس میں دہشت گردی پھیلا کر اِن خطوں کے ممالک کو
Destabilize
کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ یقیناًیہ ایک اہم مسئلہ ہے اور سوال یہ ہے کہ
ISIS
اُن ہی ممالک کو کیوں اپنے نشانے پر رکھ رہی ہے جو کسی حوالے سے عالمی سرمایہ داری کے سرخیل امریکہ کے زیادہ کہنے میں نہیں۔ شنگھائی کوآپریشن میں شامل روس اور چین کے علاوہ قازقستان، کرغستان، تاجکستان اور ازبکستان رکن ممالک ہیں۔ اگر روسی صدرپیوٹن کے اس بیان کو اس تناظر میں دیکھا جائے تو وہ گمبھیر صورتِ حال سمجھ میں آتی ہے جس کی طرف انہوں نے آستانہ کانفرنس میں اشارہ کیا ہے۔ پاکستان جہاں ایک طرف ایسی ہی دہشت گردی کا شکار ملک ہے، وہیں پاکستان علاقے میں اقتصادی راہداریوں کے ذریعے اپنی حیثیت بھی منوا رہا ہے۔ چند ماہ قبل پاکستان میں روسی سفیر نے باقاعدہ پریس کانفرنس میں اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ پاکستان چین اقتصادی راہداری سے روسی فیڈریشن مستفید ہونے کی خواہش رکھتی ہے۔ بھارت اس صورتِ حال میں پیچیدگی کا شکار ہے۔ لیکن ان بدلتے ہوئے حالات میں وہ جہاں پاکستان کو تنہا کرنے میں ناکام رہا، وہاں وہ پاکستان چین راہداری منصوبے میں، جس میں روس بھی دلچسپی رکھتا ہے، اب روڑے اٹکانے کے بجائے فوائد حاصل کرنے کا خواہاں بھی ہے۔ لیکن بھارتی حکومت اس حقیقت کو حلق سے نگلنے میں بڑی تکلیف محسوس کررہی ہے۔


بہرطور شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن میں بھارت اور پاکستان کی مکمل رکنیت کے بعد یہ تنظیم عالمی سطح پر ایک نئی اہمیت اختیار کرگئی ہے۔ جہاں اس میں چین اور روس جیسی اقتصادی اور عسکری طاقتیں شامل ہیں، وہیں پاکستان اور بھارت کی رکنیت نے اس تنظیم میں دنیا کی آدھی آبادی کو شامل کردیا ہے۔ اس تنظیم میں دنیا کی چار ایٹمی طاقتیں، چین، روس، پاکستان اور بھارت شامل ہیں۔ ایسے میں یہ ایک اقتصادی اور عالمی طاقت میں توازن میں فیصلہ کن کردار ادا کرنے والا علاقائی اتحاد بنتا چلا جا رہا ہے۔ شنگھائی کوآپریشن سرد جنگ کے خاتمے کے بعد جنم لینے والے اتحادوں میں ایک اتحاد ثابت ہونے جا رہا ہے۔ اس کی سب سے بڑی طاقت خطے کے دو اہم ممالک روس اور چین ہیں اور اس کے بعد پاکستان اور بھارت دوسرے اہم ممالک ہیں۔ اس اتحاد میں پاکستان کی مکمل رکنیت پاکستان کی ایک
Powerful State
ہونے کا ثبوت ہے۔ پاکستان دھیرے دھیرے جس طرح امریکی چنگل سے باہر آرہا ہے، اس نے پاکستان کی اہمیت کو مزید مضبوط کردیا ہے۔ اگر سفارتی حوالے سے دیکھا جائے تو پاکستان اس اتحاد کے اندر بھی ایک طاقت ور ملک کی حیثیت رکھتا ہے۔ چین کے ساتھ دوستی اور لاتعداد منصوبوں میں شمولیت اور خصوصاً اب پاک چین اقتصادی راہداری ، پاکستان کے‘ اس تنظیم کے اندر‘ ایک انتہائی اہم ملک ہونے کی دلیل ہے۔ روس، پاکستان کی اس اہمیت سے جس قدر آگاہ ہے، اس کا اندازہ گزشتہ چند برسوں میں دونوں ممالک کے مابین مضبوط ہوتے سفارتی تعلقات سے لگایا جا سکتا ہے۔

مضمون نگار معروف صحافی ‘ کالم نگار اور متعدد کتابوں کے مصنف ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
Read 386 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter