بدلتے حالات میں افغانستان کا غیرذمہ دارانہ رویہ

Published in Hilal Urdu July 2017

تحریر: عقیل یوسفزئی

سیاسی اور دفاعی ماہرین کا خیال ہے کہ افغان حکومت پر متعدد ایسی عالمی اور علاقائی قوتیں اثر انداز ہو رہی ہیں جو نہیں چاہتیں کہ دونوں ممالک کے تعلقات بہتر ہوں۔ جبکہ افغان حکومت کے اندرونی اختلافات اور اداروں کے درمیان مس انڈرسٹینڈنگ جیسے عوامل کے باعث نہ صرف حملہ آور تنظیمیں پھر سے طاقت پکڑنے لگی ہیں بلکہ حملوں کی تعداد بھی روز بروز بڑھتی جا رہی ہے جب بھی کوئی بڑا حملہ سامنے آ جاتا ہے افغانستان روائتی انداز میں پاکستان پر الزامات کی بوچھاڑ کر دیتا ہے جس کے باعث تلخی اور کشیدگی مزید بڑھ جاتی ہے۔

 

کچھ عرصہ قبل تک توقع کی جا رہی تھی کہ بدلتے حالات اور متوقع چیلنجز کے تناظر میں پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں بہتری واقع ہو گی۔ مگر لگ یہ رہا ہے کہ ابھی ایسا ہونے یا کرنے میں مزید وقت لگے گا اور کشیدگی بدستور برقرار رہے گی۔ مسلسل بداعتمادی اور کشیدگی کی تاریخ کئی دہائیوں پر مشتمل ہے اور اس کے متعدد عوامل اور اسباب ہیں۔ تاہم موجودہ افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی کے برسراقتدار آنے کے بعد جو جذبہ خیرسگالی تھا اور اعتماد سازی کا جو ماحول بنتا دکھائی دے رہا تھا بدقسمتی سے وہ سلسلہ بوجوہ برقرار نہ رہ سکا اور کابل میں منعقدہ ایک حالیہ کانفرنس کے دوران جناب غنی نے پھر سے وہی مسئلہ دہرایا ہے کہ ان کے بقول پاکستان نے افغانستان پر غیراعلانیہ جنگ مسلط کی ہے۔ بعض صحافیوں کی رپورٹس کے مطابق افغان صدر نے 32ممالک کی مذکورہ کانفرنس کے لئے جو تقریر تیار کی تھی اس کے نکات کے بارے میں جب بعض عالمی طاقتوں کو معلوم ہوا کہ اس سے پاک افغان تعلقات میں مزید تلخی آئے گی تو انہوں نے ایک معتبر عالمی ادارے کے ذریعے جناب غنی کو پیغام بھیجوایا کہ وہ ایسی باتیں کرنے سے گریز کریں جس کے نتیجے میں ان کی کوششوں کو دھچکا لگنے کا خدشہ ہوجو کہ عالمی سطح پر دونوں ممالک کو قریب لانے کے لئے کی جا رہی ہیں۔ تاہم عجب صورت حال اس وقت پیدا ہو گئی جب ایوان صدر کے بعض پاکستان مخالف لوگوں نے ایک پڑوسی ملک کے زیراثر افغان میڈیا کے ذریعے وہ تقریر لیک کروائی جس میں پاکستان کے خلاف سخت الفاظ استعمال کئے گئے تھے اور پاکستانی میڈیا نے بھی اسی لیک تقریر کو ری پروڈیوس یا فالو کر کے چلایا۔ ذرائع کے مطابق یہ واردات انہی لوگوں نے کی جنہوں نے مری ڈائیلاگ کے پہلے مرحلے کے بعد ایوان صدر ہی سے طالبان رہنما ملا محمدعمر کی ہلاکت کی خبر چلوائی تھی۔ یہ اس بات کا ثبوت تھا کہ انتظامی طور پر افغان اداروں میں ڈسپلن کا سخت فقدان ہے اور یہ کہ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات خراب کرنے میں صرف بھارت ملوث نہیں ہے بلکہ بعض دیگر پڑوسی ممالک بھی اپنے اثر و رسوخ کے باعث اسی رویے پر گامزن ہیں۔ جس کا مظاہرہ بھارت کرتا آ رہا ہے۔ اشرف غنی کے مذکورہ الزام یا بیان کا پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بذات خود یہ کہہ کر جواب دیا کہ افغان صدر نے ایسا کہہ کر غلط بیانی اور الزام تراشی سے کام لیا ہے اور یہ کہ پاکستان ایک پُرامن اور مستحکم افغانستان کا نہ صرف خواہش مند ہے بلکہ اس کے لئے عملی کوششیں بھی کر رہا ہے۔ کور کمانڈر اجلاس میں بھی اس معاملے اور بیان کا نوٹس لیا گیا جبکہ وزارت خارجہ نے بھی اس الزام کو بلاجواز قرار دے دیا۔ جناب اشرف غنی کے اس یک طرفہ بیان نے واقعتا فاصلوں میں مزید اضافے کا راستہ ہموار کر دیا اور اس کی بازگشت کئی روز تک اسلام آباد اور کابل میں سنائی دی۔ اس کے فوراً بعد جب کابل سمیت متعدد صوبوں میں حملے ہوئے تو حسب معمول افغان میڈیا اور بعض پاکستان مخالف حلقوں نے پھر سے پاکستان پر الزامات لگائے اور صورت حال میں مزید کشیدگی واقع ہونے لگی۔ اسی تناظر میں آستانہ کانفرنس کے دوران جب افغان صدر اور پاکستان کے وزیراعظم محمدنوازشریف کی ملاقات ہوئی تو اس معاملے پر تبادلہ خیال کیا گیا اور وزیراعظم پاکستان نے مختصر بات چیت کے دوران افغان صدر کو مشورہ دیا کہ وہ حالات کی نزاکت کا ادراک کرتے ہوئے ذمہ داری سے کام لیا کریں تاکہ کشیدگی اور بداعتمادی میں کمی لائی جا سکے۔ اس تمام صورت حال اور وضاحتوں کے باوجود نہ تو تاحال اعتمادسازی کا ماحول قائم ہوا ہے اور نہ ہی طالبان اور افغان حکومت کے درمیان مذاکرات کا کوئی امکان پیدا ہوا ہے۔

 

یہ اس بات کا ثبوت تھا کہ انتظامی طور پر افغان اداروں میں ڈسپلن کا سخت فقدان ہے اور یہ کہ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات خراب کرنے میں صرف بھارت ملوث نہیں ہے بلکہ بعض دیگر پڑوسی ممالک بھی اپنے اثر و رسوخ کے باعث اسی رویے پر گامزن ہیں۔ جس کا مظاہرہ بھارت کرتا آ رہا ہے۔

سیاسی اور دفاعی ماہرین کا خیال ہے کہ افغان حکومت پر متعدد ایسی عالمی اور علاقائی قوتیں اثر انداز ہو رہی ہیں جو نہیں چاہتیں کہ دونو ممالک کے تعلقات بہتر ہوں۔ جبکہ افغان حکومت کے اندرونی اختلافات اور اداروں کے درمیان مس انڈرسٹینڈنگ جیسے عوامل کے باعث نہ صرف حملہ آور تنظیمیں پھر سے طاقت پکڑنے لگی ہیں بلکہ حملوں کی تعداد بھی روز بروز بڑھتی جا رہی ہے جب بھی کوئی بڑا حملہ سامنے آ جاتا ہے افغانستان روائتی انداز میں پاکستان پر الزامات کی بوچھاڑ کر دیتا ہے جس کے باعث تلخی اور کشیدگی مزید بڑھ جاتی ہے۔


المیہ یہ ہے کہ افغان حکام اور میڈیا کی سوئی ابھی تک پاکستان اور حقانی نیٹ ورک پر اٹکی ہوئی ہے۔ حالانکہ گزشتہ چند برسوں کے دوران افغانستان کی جنگ میں نہ صرف یہ کہ متعدد دیگر پراکسی ٹولز داخل ہو گئی ہیں بلکہ داعش کی صورت حال میں ایک خطرناک جنگی مشین نے بھی جڑیں پکڑ لی ہیں۔ عالمی سطح پر داعش کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اسے امریکہ کی آشیرباد حاصل ہے۔ تاہم افغانستان میں مشکوک امریکی کردار اور پالیسیوں پر کوئی بحث نہیں ہو رہی۔ حالانکہ داعش نے نہ صرف افغان طالبان اور القاعدہ کو پیچھے دھکیلنے کی قوت حاصل کر لی ہے بلکہ رواں برس کے دوران سب سے زیادہ اور خطرناک حملے بھی داعش ہی نے کرائے ہیں اور صوبہ ننگرہار سمیت متعدد صوبوں میں یہ تنظیم لمبے عرصے تک قابض بھی رہی ہے۔ حال ہی میں ننگرہار میں مقامی لوگوں نے طالبان کے ساتھ مل کر داعش کے ٹھکانوں پر لشکر کشی کی جبکہ حکومت کا اس پر یہ رد عمل آیا کہ لشکر کشی اس لئے کی گئی کہ مذکورہ علاقوں میں افغان فورسز تعینات یا موجود نہیں ہیں۔ طالبان کے ساتھ اگر شہریوں نے ہاتھ ملا کر داعش پر لشکر کشی کی تو اس کو عوام کی بے بسی اور فورسز کی ناکامی ہی کا نام دیا جا سکتا ہے۔ اور یہی وہ بنیادی نکتہ یا مسئلہ ہے جس سے نمٹنے میں افغان حکومت کوشش کے باوجود ناکام رہی ہے کہ داعش نے اب تک سیکڑوں افراد کو نشانہ بنایا ہے۔


کابل کے سفارتی علاقے میں ایک ٹینکر کے ذریعے جس طریقے سے بارودی مواد پہنچایا گیا اور اس عمل کو جس انداز میں سکیورٹی کے بعض ذمہ داران کی مبینہ معاونت حاصل رہی اس پر عالمی قوتوں اور برادری نے بھی سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ جبکہ بعض ماہرین اس تمام صورت حال کو نئی امریکی حکمت عملی کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔ ان کی رائے ہے کہ امریکہ افغانستان میں امن کے قیام میں ناکام رہا ہے اور اب چاہتا ہے کہ ایک بار پھر اس جنگ زدہ ملک میں اپنی فورسز کی تعداد بڑھائے۔ افغانستان کے حکمران اور عوام یہ بھی بھول رہے ہیں کہ داعش نے سال 2001 کے دوران برطانیہ سمیت یورپ اور مڈل ایسٹ کے تقریباً ایک درجن ممالک کو کامیابی سے نشانہ بنایا جس سے ثابت ہوتا ہے کہ عالمی دہشت گردی میں خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔ جس سے افغانستان متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ تاہم حقانی نیٹ ورک کے روائتی کردار کی آڑ میں پاکستان کو مورد الزام ٹھہرانے کا سلسلہ اب بھی جاری ہے اور یہی وہ رویہ ہے جس نے مسئلے کو گھمبیر بنا دیا ہے۔

 

نیٹو کے انٹیلی جنس ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ افغان فوج میں شامل بعض اہم عہدیداران اور حلقے نہ صرف یہ کہ پسِ پردہ طالبان اور دیگر حملہ آور قوتوں کے ساتھ ملے ہوئے ہیں بلکہ حالیہ دہشت گرد حملوں کے دوران بھی انہی لوگوں نے طالبان اور دیگر کو بعض اطلاعات، گائیڈ لائن اور دیگر سہولتیں فراہم کیں۔ معتبر سفارتی ذرائع نے اس ضمن میں بتایا کہ اس بات کا انکشاف حال ہی میں کابل میں موجود بعض سفاتکاروں نے اسلام آباد کی ایک متعلقہ یورپی مشن کے سربراہ کو ایک خفیہ مراسلے کے دوران کیا ہے۔ ان ذرائع کے مطابق سال 2017 کے دوران کابل سمیت افغانستان کے 13صوبوں میں خودکش حملوں سمیت 100سے زائد حملے کئے گئے جن میں سیکڑوں افراد نشانہ بنے۔ جن میں فورسز اور پولیس کے 300 سے زائد افراد کے علاوہ تقریباً ایک درجن غیرملکی اور سفارتکار بھی شامل ہیں۔ ان ذرائع کے مطابق سی آئی اے اور نیٹو کے انٹیلی جنس اداروں نے جب ان حملوں کے بارے میں تفصیلات اکٹھی کیں تو معلوم ہوا اکثر حملے اس وجہ سے کامیاب ہوئے اور حملہ آور آسانی کے ساتھ اس لئے حساس مقامات تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے کہ انہیں افغان فوج، پولیس اور انٹیلی جنس کی معاونت حاصل رہی اور بعض حلقے حملہ آوروں کے ساتھ بوجوہ نہ صرف رابطوں میں ہیں بلکہ انہوں نے خودکش بمباروں اور بارودی مواد کو ٹارگیٹڈ ایریاز میں پہنچنے کی سہولتیں بھی فراہم کیں۔ کہا جا رہا ہے کہ قندھار، ہرات، کابل اور قندوز میں حساس مقامات اور ملٹری ایریاز پر کئے گئے حملوں کی سہولت کاری کے فرائض بھی ایسے ہی عناصر نے انجام دیئے۔ جو حکومت کا حصہ ہونے کے باوجود طالبان اور دیگر کے ساتھ ملے ہوئے ہیں۔ اس سے قبل قندھار کے گورنر ہاؤس پر کئے گئے خوفناک دھماکے کے بعد بھی ایسی ہی رپورٹس سامنے آئی تھیں۔ اس حملے کی جب نیٹو اور متحدہ عرب امارات کی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے تحقیقات کیں تو پتہ چلا کہ حملہ آوروں کو بعض سکیورٹی حکام کی معاونت حاصل تھی۔ جبکہ مزار شریف کے فوجی ہیڈکوارٹرز پر کئے گئے حملے میں بھی اندرونی ہاتھ ملوث پایا گیا تھا۔ حال ہی میں جب کابل کے سفارتی علاقے کو ٹینکر کے ذریعے نشانہ بنایا گیا اور اس میں 100 افراد جان بحق اور 400زخمی ہوئے تو اس کی تحقیقات کے بعد بھی یہی صورت حال سامنے آئی اور نیٹو کے انٹیلی جنس اداروں نے اپنی رپورٹ میں پھر سے نشاندہی کی کہ اس حملے میں بھی حملہ آوروں کو مذکورہ افغان حلقوں یا حکام کی درپردہ معاونت حاصل تھی۔

کابل حملوں کے بعد 10جون کو افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اﷲ مجاہد نے ایک بیان جاری کیا جس میں انہوں نے ان حملوں سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے ان کی کھل کر مذمت کی اور کہا کہ طالبان کی جنگ عوام یا سفارت کاروں کے بجائے امریکی اور نیٹو ٹروپس کے خلاف لڑی جا رہی ہے اور ان کی کبھی یہ پالیسی نہیں رہی کہ عوام یا بے گناہ لوگوں کو نشانہ بنایا جائے۔ تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ افغانستان عالمی اور علاقائی پراکسی وارز کا پھر سے مرکز بن گیا ہے اور صورت حال سے نمٹنے کے لئے ٹھوس اقدامات اٹھانے کے بجائے ابھی تک روائتی الزامات اور بیانات کا سہارا لیا جا رہا ہے۔ افغان صدر اور چیف ایگزیکٹو کے تعلقات ر کا یہ عالم ہے کہ دونوں کئی ماہ سے ایک دوسرے کے ساتھ بات چیت نہیں کر رہے جبکہ وزراء بھی کابینہ کے اجلاسوں اور اپنے دفاتر سے غائب رہتے ہیں۔ دوسری طرف میڈیا کے علاوہ افغان سفارتی امور میں پروفیشنلز کے بجائے ایسے لوگ بٹھائے گئے ہیں جو کہ حدود و قیود اور صورتحال کی نزاکت کا خیال رکھے بغیراور اصل پراکسی ٹولز کا نام لئے بغیر پورے کا پورا ملبہ پاکستان پر ڈالنے کا کوئی موقع ضائع نہیں کرتے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ کابل کے خوفناک حملے کی ذمہ داری نہ تو داعش نے قبول کی اور نہ طالبان نے۔ مگر اس کے ڈانڈے پاکستان سے ملانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی۔ حالانکہ افغان حکمرانوں کو بخوبی علم ہے کہ چند اور طاقتور قوتیں بھی اس گیم کا عملی حصہ بنی ہوئی ہیں۔ حال ہی میں افغانستان میں کئی برسوں تک فرائض سرانجام دینے والے ایک برطانوی فوجی آفیسر رابرٹ گیلی مور کا انٹرویو سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے بعض دیگر باتوں کے علاوہ یہ بھی کہا ہے کہ بھارت ہی افغان عوام اور فوج میں پاکستان کے خلاف بدگمانیاں پھیلا رہا ہے۔ اور یہ کہ افغانستان میں آئی ایس آئی یا پاکستان کی مداخلت ایک فسانہ ہے ان کے مطابق کابل میں بھارت کا بڑھتا ہوا اثرو رسوخ خطے کے لئے ایک بڑا خطرہ ہے اور بھارت پاکستان کے خلاف لابنگ اور پراپیگنڈے کے لئے معقول فنڈنگ کر رہا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ انہوں نے جنوبی افغانستان میں طالبان کے خلاف کئی جنگیں لڑی ہیں۔ مگر اس دوران ان سمیت کسی کو بھی پاکستان کی براہ راست مداخلت کے ثبوت نہیں ملے۔ ان کے بقول اس وقت افغانستان میں بھارت، پاکستان اور افغانستان کے درمیان تیسری گریٹ گیم جاری ہے جس کا محرک اور فعال کردار بھارت ہے۔ افغانستان کے عوام پچھلے 40برسوں سے بدترین حالات کا سامنا کر رہے ہیں اور اب ان کی قوت برداشت بھی جواب دے گئی ہے۔ ایسے میں اگر وہ کسی کے بھی خلاف رد عمل دکھاتے ہیں تو اس میں زیادہ حیرت کی کوئی بات نہیں۔ تاہم ریاستی ذمہ داران، سیاست دان اور حکمران جتنی جلد اس بات کا ادراک اور احساس کریں کہ معاملات تیزی کے ساتھ ان کے ہاتھ سے نکلتے جا رہے ہیں اتنا ہی ان کے لئے افغانستان کے لئے اور خطے کے لئے بہتر ہو گا۔ دوسری طرف پاکستان کو بھی عملی اور سفارتی سطح پر یہ مزید یقین دلانا ہو گا کہ اس کی سرزمین افغانستان کے خلاف استعمال نہیں ہو گی اور بھارت یا دیگر قوتیں افغان سرزمین اس کے خلاف استعمال کر رہی ہیں تو اس کی بھی روک تھام کی جائے تاکہ علاقائی امن کو یقینی بنایا جا سکے۔


نیٹو کے انٹیلی جنس ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ افغان فوج میں شامل بعض اہم عہدیداران اور حلقے نہ صرف یہ کہ پسِ پردہ طالبان اور دیگر حملہ آور قوتوں کے ساتھ ملے ہوئے ہیں بلکہ حالیہ دہشت گرد حملوں کے دوران بھی انہی لوگوں نے طالبان اور دیگر کو بعض اطلاعات، گائیڈ لائن اور دیگر سہولتیں فراہم کیں۔ معتبر سفارتی ذرائع نے اس ضمن میں بتایا کہ اس بات کا انکشاف حال ہی میں کابل میں موجود بعض سفاتکاروں نے اسلام آباد کی ایک متعلقہ یورپی مشن کے سربراہ کو ایک خفیہ مراسلے کے دوران کیا ہے۔ ان ذرائع کے مطابق سال 2017 کے دوران کابل سمیت افغانستان کے 13صوبوں میں خودکش حملوں سمیت 100سے زائد حملے کئے گئے جن میں سیکڑوں افراد نشانہ بنے۔ جن میں فورسز اور پولیس کے 300 سے زائد افراد کے علاوہ تقریباً ایک درجن غیرملکی اور سفارتکار بھی شامل ہیں۔ ان ذرائع کے مطابق سی آئی اے اور نیٹو کے انٹیلی جنس اداروں نے جب ان حملوں کے بارے میں تفصیلات اکٹھی کیں تو معلوم ہوا اکثر حملے اس وجہ سے کامیاب ہوئے اور حملہ آور آسانی کے ساتھ اس لئے حساس مقامات تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے کہ انہیں افغان فوج، پولیس اور انٹیلی جنس کی معاونت حاصل رہی اور بعض حلقے حملہ آوروں کے ساتھ بوجوہ نہ صرف رابطوں میں ہیں بلکہ انہوں نے خودکش بمباروں اور بارودی مواد کو ٹارگیٹڈ ایریاز میں پہنچنے کی سہولتیں بھی فراہم کیں۔ کہا جا رہا ہے کہ قندھار، ہرات، کابل اور قندوز میں حساس مقامات اور ملٹری ایریاز پر کئے گئے حملوں کی سہولت کاری کے فرائض بھی ایسے ہی عناصر نے انجام دیئے۔ جو حکومت کا حصہ ہونے کے باوجود طالبان اور دیگر کے ساتھ ملے ہوئے ہیں۔ اس سے قبل قندھار کے گورنر ہاؤس پر کئے گئے خوفناک دھماکے کے بعد بھی ایسی ہی رپورٹس سامنے آئی تھیں۔ اس حملے کی جب نیٹو اور متحدہ عرب امارات کی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے تحقیقات کیں تو پتہ چلا کہ حملہ آوروں کو بعض سکیورٹی حکام کی معاونت حاصل تھی۔ جبکہ مزار شریف کے فوجی ہیڈکوارٹرز پر کئے گئے حملے میں بھی اندرونی ہاتھ ملوث پایا گیا تھا۔ حال ہی میں جب کابل کے سفارتی علاقے کو ٹینکر کے ذریعے نشانہ بنایا گیا اور اس میں 100 افراد جان بحق اور 400زخمی ہوئے تو اس کی تحقیقات کے بعد بھی یہی صورت حال سامنے آئی اور نیٹو کے انٹیلی جنس اداروں نے اپنی رپورٹ میں پھر سے نشاندہی کی کہ اس حملے میں بھی حملہ آوروں کو مذکورہ افغان حلقوں یا حکام کی درپردہ معاونت حاصل تھی۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
Read 420 times
More in this category: فہرست »

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter