دردِ دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو

Published in Hilal Urdu

تحریر: ڈاکٹرہما میر

وقت کا پہیہ تیزی سے گھومے جارہا ہے‘ دن ہفتوں میں‘ ہفتے مہینوں میں اور مہینے سالوں میں بدلتے جارہے ہیں۔ پتہ نہیں یہ 24 گھنٹے اتنے جلدی کیسے گزر جاتے ہیں۔ ہمارے بچپن میں تو لگتا تھا دن بہت لمبے ہوتے ہیں‘ صبح سکول جانا‘ دوپہر میں گھر واپس آکر ہاتھ منہ دھو کر کھانا کھانا‘ پھر ذرا آرام کرنا۔ سہہ پہر میں ٹیوشن پڑھنا‘ ہوم ورک کرنا‘ پھر شام میں گھر سے باہر جاکرکھیلنا‘ رات کا کھانا کھانا اور پھر مزے سے سو جانا۔ اس دوران گھومنا پھرنا اور رشتہ داروں کے گھر ملنے جانا بھی ہوتا تھا۔ سب کچھ کتنی جلدی بیت گیا۔ بچپن میں خواہش تھی کہ بس جلدی سے بڑے ہو جائیں‘ جلدی سے تعلیم کا سلسلہ مکمل ہو اور پھر زندگی میں بس آرام ہی آرام ہو۔


کیا خبر تھی کہ اصل زندگی تو وہی تھی‘ وہی بچپن کا سنہری دور تو سب سے خوبصورت تھا جب نہ کوئی فکر تھی نہ پریشانی‘ نہ غم ‘ نہ اداسی‘ نہ کوئی ذمہ داری ‘ نہ کوئی ٹینشن۔ یہ سب عارضے تو اس وقت لاحق ہوتے ہیں جب ہم اپنی عملی زندگی میں قدم رکھتے ہیں‘ صحیح معنوں میں آٹے دال کا بھاؤ معلوم ہوجاتا ہے۔


ایسا عموماً سبھی کے ساتھ ہوتا ہے‘ مگرایک خاص طبقہ ایسا بھی ہے جن کے نہ یہ معمولات ہوتے ہیں نہ مسائل‘ یہ وہ اشرافیہ ہے جن کی گھٹی میں صرف مال بنانا ہوتا ہے۔ (میں نے مال کمانا نہیں بلکہ مال بنانا لکھا ہے) ایسے لوگوں کے بچے ملک سے باہر تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ ان کی نفسیات میں دوسروں کو حقیر فقیر سمجھنا اور خود کو شہزادہ سمجھنا ہوتا ہے۔ یہ کسی کو خاطر میں نہیں لاتے۔ انہیں ماں باپ کی وہ توجہ اور محبت نہیں ملتی جو ایک عام آدمی کے بچے کو ملتی ہے۔ لہٰذا ان کی محبت و توجہ کا مرکز صرف پیسہ ہوتا ہے۔ ان کی کردار سازی کی ذمہ داری کسی نے پوری نہیں کی ہوتی اس لئے یہ ہر قسم کی اخلاقی پابندیوں سے آزاد ہوتے ہیں۔ ایک عام آدمی کے مسائل میں اپنے کنبے کی پرورش کرنا‘ محنت سے روزی روٹی کمانا اور زندگی کی گاڑی کو آبرومندانہ طریقے سے کھینچنا ہوتا ہے۔


جب سے میں کینیڈا آئی ہوں میرے اندر یہ احساس بڑھتا جارہا ہے کہ عوام کا کیا حق ہے اور اُنہیں اپنے جائز حقوق سے محروم رکھنا کتنا تکلیف دہ عمل ہے۔ جب میں دیکھتی ہوں کہ یہاں تعلیم و صحت سمیت لوگوں کو بہترین سہولیات حاصل ہیں تو مجھے اپنے سرکاری سکولز اور سرکاری ہسپتال یاد آنے لگتے ہیں‘ میں نے بطورِ ڈاکٹر وطنِ عزیز میں سرکاری ہسپتال میں کام کیا ہے اور مجھے اچھی طرح اندازہ ہے کہ وہاں کیا حالتِ زار ہے۔ سکولوں کے حوالے سے بھی حقیقت سب پر عیاں ہے۔ بس جی کُڑھتا رہتا ہے۔ ابھی ہمارے ایک دوست کو عارضۂ قلب لاحق ہوا تو اُنہیں ڈاکٹروں نے بائی پاس آپریشن کا مشورہ دے ڈالا۔ انہوں نے یہاں ونکوور کے ایک مقامی ہسپتال میں اپناآپریشن کروایا۔ میں ان کی عیادت کے لئے ہسپتال گئی۔ ہسپتال کیا تھا کسی سیون سٹار ہوٹل جیسا شاندارماحول تھا۔ مریض کے آپریشن کو دو روز گزر چکے تھے مگر وہ نقاہت کے باعث زیادہ بات چیت نہیں کرپا رہے تھے‘ ان کی بیگم نے بتایا کہ آپریشن کے بعد پانچ چھ دن ہسپتال میں رکھتے ہیں پھر چھٹی مل جائے گی۔ اب گھر پر دو مہینے آرام کریں گے۔


کینیڈا کے ہسپتال میں سٹریچر بھی ہیں اور مناسب بستر بھی‘ لہٰذا مریضوں کو ٹھنڈے فرش پر لٹا کے مارنے کا بھی کوئی واقعہ درپیش نہیںآیا۔ ڈاکٹروں کی تنخواہ لاکھوں کروڑوں میں ہوتی ہے جس وجہ سے ڈاکٹر بڑے خوشحال ہیں۔ جب میں نے ڈاکٹری مکمل کی تو ایک ہسپتال میں نوکری کے لئے انٹرویو دینے گئی‘ انہوں نے کہا چار ہزار وپے ماہانہ میں آپ کام شروع کردیجئے‘ میں نے بتلایا جناب اس سے دُگنی تنخواہ میں اپنے ڈرائیور کو دیتی ہوں‘ انہوں نے کہا تو کیا ہوا ہم اپنے چوکیدار کو 10 ہزارروپے ماہانہ تنخواہ دیتے ہیں۔ آج اتنے برس بیت گئے مگر وہ کرب میں اب بھی محسوس کرتی ہوں کہ کس طرح عمرِ عزیز کے کئی قیمتی سال پڑھائی میں صرف کرکے اتنی محنت کرکے ڈاکٹر بنی اور پھر تنخواہ کے نام پر ایسی تذلیل ہوئی کہ انسان توبہ کرے۔ دکھی انسانیت کی خدمت کرنے کو اپنا مشن سمجھنے والوں کی ایسی بے قدری کے باعث ہی قابل ڈاکٹر ملک سے باہر جاکر کما رہے ہیں کہ اپنے ہاں گارڈ یا ڈرائیور ان سے زیادہ خوشحال ہیں۔
بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی

مصنفہ ‘ مشہور ادا کارہ‘ کمپیئر اوردو کتابوں کی مصنفہ ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
Read 64 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter