اُمید فتح رکھو اور عَلَم اُٹھائے چلو

Published in Hilal Urdu June 2017

تحریر: محمد اعظم خان

ستمبر 1965 کے ملی نغموں کی کہانی جاری ہے۔ اس شمارے میں 16ستمبر کو ریکارڈ ہونے والے ملی نغمے کی کہانی بیان کرتا ہوں۔ جیسا کہ پہلے بھی بیان کر چکا ہوں کہ ستمبر 1965 کی جنگ کے دوران ریڈیو پاکستان لاہور نے ملی اور جنگی ترانے پیش کر کے ثقافتی محاذ پر ایک نئی تاریخ رقم کی۔ دشمن کا یہی پراپیگنڈہ تھا کہ یہ نغمے پاکستان نے پہلے سے تیار کر رکھے تھے۔ مگر جب اسے معلوم ہوا کہ یہ نغمے روزانہ کی بنیاد پر حالات و واقعات کی مناسبت سے لکھے گئے اور پروڈیوس ہوئے ہیں تو دشمن بے حد شرمندہ ہوا۔۔۔ یہ سب کچھ پاکستانی قوم اور پاک فوج کے جذبہ حب الوطنی سے ممکن ہو سکا۔ ایک طرف پاکستانی فوج ہماری جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کی حفاظت میں مصروف عمل تھی تو دوسری طرف ریڈیوپاکستان لاہور اپنے ثقافتی محاذ پر دن رات نت نئے نغمے تخلیق کرنے میں مصروف تھا۔


جنگ ستمبر1965 کے دوران پوری قوم کا ایک ہی تبصرہ تھا کہ دشمن نے ہم پر جنگ مسلط کی ہے ہم اسے سبق سکھائیں گے۔ مختلف محاذوں سے جب ہمیں کامیابی کی اطلاعات ملنی شروع ہوئیں تو پھر میں نے حالات و واقعات سے متاثر ہو کر اس نغمے کا انتخاب کیا۔ ’’اُمید فتح رکھو اور علم اٹھائے چلو‘‘ یہ نغمہ ہمیں کراچی سے محترم رئیس امروہوی سے موصول ہوا۔ اس نغمے میں فتح کی امید اور مصروف عمل رہنے کی تلقین ہے۔ اس کی کمپوزیشن بھی میں نے اور ملکہ ترنم نور جہاں نے مل کر بنائی۔ جیسا کہ میں پہلے بھی عرض کر چکا ہوں کہ مجھے دفتر کی جانب سے ایک جیپ اور ڈرائیور ملا ہوا تھا۔ جو مجھے صبح صبح گھر سے لیتا اور پھر میں گلبرگ میں میڈم نور جہاں کو لینے چلا جاتا۔ سارے دن میں نغمے کی تیاری ہوتی رہتی، میری یہی کوشش ہوتی کہ ملکہ ترنم نورجہاں کو پوری طرح مصروف رکھوں،کھانا میڈم نور جہاں کے گھر سے بھی آتا اور میرا نائب قاصد فضل بھی میرے گھر سے کھانا لاتا۔ ہم اکٹھے بیٹھ کر اپنے کمرے میں کھانا کھاتے اور پھر فوراً اسٹوڈیو ہی میں گانے کی ریہرسل کے لئے چلے جاتے۔ یہ عمل سارا دن جاری رہتا۔ کوشش ہوتی کہ وقت ضائع نہ جائے اور نغمہ ریکارڈ ہو جائے۔ یقین مانیں ان دنوں میرے ساتھ تمام سازندوں نے جو میری اس خاص ٹیم میں شامل تھے، میرے ساتھ بہت تعاون کیا۔ یہی وجہ ہے کہ ہم سارا سارا دن ملی نغمے کی ریہرسل کرتے اور شام کے وقت ریکارڈنگ ہوتی۔ ریکارڈنگ میں بھی بہت وقت لگتا۔ کیونکہ میوزک
Balance
کرنے میں بہت محنت درکار ہوتی ہے۔ اس وقت ریکارڈ کے آلات بھی بڑے محدود تھے۔ بڑی مشکل سے میں میوزک کو ریکارڈ کر پاتا۔ پھر ہیڈفون لگا کر
Track
کے ساتھ میڈم کو گانے کے لئے کہتا۔ ریہرسل کے دوران تمام ریکارڈنگ کے لوازمات طے ہو جاتے یہی وجہ ہے کہ ملی نغمہ بہت اچھے طریقے سے ریکارڈ ہوتا۔ ریکارڈنگ کرنے کے بعد میڈم نورجہاں اور میں ریکارڈنگ کو دو تین مرتبہ سنتے اور جب تک تسلی نہ ہوتی ریکارڈنگ چلتی رہتی۔ یہ عمل کافی دیر تک چلتا۔ ریہرسل ایک ایسی چیز ہے جو کسی بھی نغمے کو کامیاب کرنے میں بہت اہمیت رکھتی ہے۔ آج کل کے سنگر ریہرسل کو کوئی اہمیت نہیں دیتے یہی وجہ ہے کہ نغمے اچھے نہیں ہوتے۔ کسی بھی کام میں نیت، محنت اور خلوص کی ضرورت ہوتی ہے۔ میں نے اور میڈم نور جہاں نے جس خلوص اور محنت سے یہ نغمے ریکارڈ کئے ہیں یہ ہم ہی جانتے ہیں۔ میڈم نورجہاں کا سارا دن میرے ساتھ ریڈیو اسٹیشن پر رہنا ایک بہت بڑی بات تھی۔ انہوں نے بچوں اور گھر کی بھی پروا نہیں کی۔ میں نے اپنے بیوی بچوں کو سیالکوٹ بھیج دیا تھا۔ ان کو کہا کہ میرا کچھ پتہ نہیں، میں رات کو کب فارغ ہوتا ہوں۔ بعض اوقات مجھے ریڈیو اسٹیشن پر ہی سونا پڑ جاتا اور صبح سویرے گھر جا کر تیار ہو کر پھر ریڈیو اسٹیشن آتا اور میڈم نور جہاں کو لینے چلاجاتا۔ میڈم نورجہاں جیسی فنکارہ نے بھی میرے ساتھ بہت تعاون کیا یقین مانیں ان نغموں کی ریکارڈنگ کے دوران ہماری بہت انڈر سٹینڈنگ ہو گئی تھی مجھے کہتی تھیں اعظم بھیا تم تھکتے نہیں اور تم کس قدر جنون سے کام کرتے ہو۔ ان نغموں کی وجہ سے میڈم نورجہاں کا میرے گھر بھی آ نا جانا ہو گیا۔ وہ میرے بچوں کی شادیوں میں شامل ہوئیں۔ ایک دفعہ میرے گھر کا راستہ بھول گئیں تو معروف گلوکار مسعود رانا کو لے کر میرے گھر پہنچ گئیں۔ مجھے کہتیں کہ اعظم صاحب مجھے کسی چیز کی پروا نہیں، نہ پیسے کی نہ شہرت کی، میں تو کمرشل سنگر تھی ان ترانوں نے قوم میں میری عزت بڑھا دی ہے۔ میں یہی جواب دیتا کہ میڈم آپ تو خود ہی ملکہ ہیں فن موسیقی میں آپ کا کوئی جواب نہیں، میری اور آپ کی اس خدمت کو پوری قوم بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔

 
Read 229 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter