ماہِ رمضان ۔۔۔ نیکیوں کا موسم بہار

Published in Hilal Urdu

تحریر: مفتی محمد وقاص رفیع

ماہِ رمضان درحقیقت رحمتوں اور برکتوں کا موسم بہار ہے ، اس میں خزاں کے پتوں کی طرح گناہ جھڑتے اور موسم بہار کی طرح خیر و بھلائی کی تازہ کونپلیں پھوٹتی ہیں ،مغفرت کی ہوائیں چلتی اور رحمت کی پھوار برستی ہے ، یہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا پھل جنت ہے ، یہ لوگوں کے ساتھ غم خواری کرنے کا مہینہ ہے ، اس مہینہ میں مؤمن کا رزق بڑھادیا جاتا ہے ، اس میں نوافل کا ثواب فرضوں جتنا اور فرضوں کا ثواب ستر گنا بڑھادیا جاتا ہے، اس کا پہلا عشرہ رحمت کہلاتاہے ، دوسرا مغفرت کہلاتا ہے اور تیسرا جہنم کی آگ سے خلاصی کہلاتا ہے ۔
(صحیح ابن خزیمہ ، سنن بیہقی)
اللہ تعالیٰ نے اپنی تمام آسمانی کتابیں اور صحیفے اسی مبارک مہینہ میں نازل فرمائے ہیں ، چنانچہ قرآنِ مجید لوحِ محفوظ سے آسمانِ دُنیا پر تمام کا تمام اسی مہینہ میں نازل ہوا اور وہاں سے حسب موقع تھوڑا تھوڑا تیئس (23) سال کے عرصہ میں آنحضرت ﷺ کے قلب اطہر پر نازل ہوا ۔ اس کے علاوہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اسی ماہ کی یکم یا تین تاریخ کو صحیفے عطاء کئے گئے ، حضرت داؤد علیہ السلام کو بارہ یا اٹھارہ رمضان میں ’’ زبور ‘‘ عطاء کی گئی ، حضرت موسیٰ علیہ السلام کو چھ رمضان میں’’تورات‘‘ عطاء کی گئی ، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بارہ یا تیرہ رمضان میں ’’انجیل‘‘ عطاء کی گئی ، اور حضور نبی پاک ﷺ کو چوبیس رمضان میں’’ قرآن مجید‘‘ جیسی مقدس کتاب عطاء کی گئی۔
(مسند احمد، معجم طبرانی)
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس ماہِ مبارک کو کلام الٰہی کے ساتھ ایک خاص قسم کی مناسبت حاصل ہے ، اسی وجہ سے قرآنِ پاک کی تلاوت کی کثرت اس مہینہ میں منقول ہے اور مشائخ کا معمول ہے۔ چنانچہ حضرت جبرئیل علیہ السلام ہرسال رمضان میں تمام قرآن شریف نبی کریم ﷺ کو سناتے تھے اور بعض روایات میں آیا ہے کہ نبی کریم ﷺسے سنتے تھے ۔ علماء نے ان دونوں حدیثوں کے ملانے سے قرآنِ پاک کے (مروّجہ) باہم دَور کرنے کے مستحب ہونے پر استدلال کیا ہے ۔
(فضائل رمضان بحذف و تغیر)
مؤرخین نے لکھا ہے کہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ پورے رمضان المبارک میں اکسٹھ (61) قرآنِ مجید ختم کیا کرتے تھے ، ایک دن کا ، ایک رات کا اور ایک تمام رمضان شریف میں تراویح کا۔ اور امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ پورے رمضان المبارک میں ساٹھ (60) قرآنِ مجید ختم کیا کرتے تھے ، اس طرح کہ روزانہ دو قرآنِ مجید پڑھ لیتے تھے اور اس کے علاوہ عام دنوں میں روزانہ ایک قرآنِ مجید ختم فرمایا کرتے تھے ۔(فضائل قرآن)اس کے علاوہ روزانہ دس ، پندرہ پارے پڑھنا تو عام مشائخ کا معمول رہا ہے کہ رمضان نزولِ قرآن کی سالگرہ اور جشن عام کا مہینہ ہے۔
رمضان المبارک کے بابرکت مہینہ میں جنت کے تمام دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور جہنم کے تمام دروازے بند کردیئے جاتے ہیں ۔ چنانچہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’جب رمضان المبارک کا مہینہ شروع ہوتا ہے تو جنت کے (تمام) دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور جہنم کے (تمام) دروازے بند کردیئے جاتے ہیں اور شیاطین کو قید کردیا جاتا ہے۔‘‘
(صحیح بخاری)
اور صحیح مسلم کی ایک روایت میں آتا ہے جو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے کہ : ’’(رمضان کی آمد پر ) رحمت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں۔‘‘

(صحیح مسلم)
حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ : ’’جنت میں ایک دروازہ ہے جس کا نام ’’ریّان‘‘ ہے ، اس دروازہ سے قیامت کے دن صرف روزہ دار لوگ داخل ہوں گے ، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمام روزہ داروں کا نام لے کر بلایا جائے گا ، وہ اس دعوت پر کھڑے ہوں گے اور اُن کے علاوہ کوئی اور اس دروازے سے داخل نہیں ہوگا ، پس جب روزہ دار اس دروازے سے داخل ہوجائیں گے تو وہ دروازہ بند کردیا جائے گا، پھر اس دروازہ سے اس کے بعد کوئی داخل نہیں ہوسکے گا۔‘‘

(بخاری و مسلم)
‘‘ ایک روایت میں ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے ہی مروی ہے کہ جب رمضان کا مہینہ آتا تو رسولِ پاک ﷺکا رنگ بدل جاتا، نماز میں اضافہ ہوجاتا ، دُعاء میں آہ و زاری بڑھ جاتی اور آپؐ کا رنگ سرخ ہوجاتا۔‘‘
(شعب الایمان للبیہقی)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی پاک ﷺ سے پوچھا گیا کہ : ’’رمضان (کے روزہ) کے بعد کون سا روزہ افضل ہے ؟ ‘‘ آپؐ نے فرمایا کہ : ’’ رمضان کی تعظیم کی وجہ سے شعبان کا روزہ رکھنا افضل ہے ۔‘‘ پھر سوال کیا گیا کہ : ’’کون سا صدقہ افضل ہے ؟‘‘ آپ نے فرمایا کہ : ’’رمضان میں صدقہ کرنا افضل ہے۔‘‘
(جامع ترمذی)
حضرت اُم معقل رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’رمضان میں عمرہ کرنا حج کے برابر (فضیلت رکھتا) ہے ۔
(جامع ترمذی)
ایک حدیث میں آتا ہے ، حضرت ابو ہریرہؓ نے حضورِ اکرم ﷺسے نقل کیا ہے کہ : ’’ میری اُمت کو رمضان شریف کے بارے میں پانچ چیزیں مخصوص طور پر عطاء کی گئی ہیں جو پہلی اُمتوں کو نہیں ملیں :
1۔ان کے منہ کی بدبو اللہ تعالیٰ کے یہاں مشک سے زیادہ پسندیدہ ہے۔
2۔ان کے لئے دریا کی مچھلیاں تک دُعا کرتی ہیں اور افطار تک کرتی رہتی ہیں۔
3۔جنت ہر روز اُن کے لئے آراستہ کی جاتی ہے ، پھر حق تعالیٰ شانہ فرماتے ہیں کہ : ’’ قریب ہے کہ میرے نیک بندے (دُنیا کی) مشقتیں اپنے اوپر سے پھینک کر تیری طرف آجائیں ۔‘‘
4۔اس میں سرکش شیاطین قید کردیئے جاتے ہیں کہ وہ رمضان میں اُن برائیوں کی طرف نہیں پہنچ سکتے جن کی طرف اور دنوں میں پہنچ سکتے ہیں۔
5۔رمضان کی آخری رات میں ( تمام ) روزہ داروں کی مغفرت کی جاتی ہے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ یہ ’’شبِ مغفرت‘‘ ’’شبِ قدر‘‘ ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ’’ نہیں! بلکہ دستور یہ ہے کہ مزدور کو کام ختم ہونے کے وقت مزدوری دے دی جاتی ہے۔‘‘
(مسند احمد ، مسند بزار ، سنن بیہقی)
چونکہ رمضانُ المبارک کی راتوں میں ’’شبِ قدر‘‘ سب سے افضل رات ہے ، اس لئے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے خیال فرمایا کہ اتنی بڑی فضیلت اسی رات کی ہوسکتی ہے ، مگر حضور اقدس ﷺنے ارشاد فرمایا کہ : ’’اس کے فضائل مستقل علیٰحدہ چیز ہیں ۔‘‘
حضرت سلمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ : ’’جو شخص کسی روزہ دار کا روزہ افطار کرائے ، اس کے لئے گناہوں کے معاف ہونے اور (جہنم کی) آگ سے چھٹکارا پانے کا سبب ہوگا اور روزہ دار کے ثواب کی طرح اس کو بھی ثواب ہوگا ، مگر اس روزہ دار کے ثواب سے کچھ کم نہیں کیا جائے گا ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا : ’’ یارسول اللہ! ( ﷺ) ہم میں سے ہر شخص تو اتنی وسعت نہیں رکھتا کہ روزہ دار کو افطار کرائے ۔‘‘ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ : ’’(اس سے پیٹ بھر کر کھلانا مراد نہیں ہے ) بلکہ یہ ثواب تو اللہ تعالیٰ کسی کو ایک کھجور سے روزہ افطار کرادینے سے ، ایک گھونٹ لسی کا پلادینے سے بھی عطا فرمادیتے ہیں۔
( صحیح ابن خزیمہ)
ایک اور حدیث میں آتا ہے حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضورِ اقدس ﷺ نے رمضان المبارک کے قریب ارشاد فرمایا کہ : ’’رمضان کا مہینہ آگیا ہے جو بڑی برکت والا ہے ، حق تعالیٰ شانہ اس میں تمہاری طرف متوجہ ہوتے ہیں اور اپنی رحمت خاصہ نازل فرماتے ہیں ، خطاؤں کو معاف فرماتے ہیں ، دُعاء کو قبول کرتے ہیں ، تمہارے ’’تنافس‘‘ (یعنی نیکی میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے) کو دیکھتے ہیں اور ملائکہ سے فخر کرتے ہیں ، پس تم اللہ تعالیٰ کو اپنی نیکی دکھلاؤ! ، بد نصیب ہے وہ شخص جو اس مہینہ میں بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت سے محروم رہ جائے۔
(معجم طبرانی)
رمضان المبارک کی راتوں میں سے ایک رات ’’شبِ قدر‘‘ کہلاتی ہے جو بہت ہی خیر و برکت والی رات ہے ، قرآنِ پاک میں اس کو ہزار مہینوں سے افضل بتلایا گیا ہے ، ہزار مہینوں کے تراسی برس اور چار ماہ ہوتے ہیں ، خوش نصیب ہے وہ شخص جس کو اس رات کی عبادت نصیب ہوجائے ۔ چنانچہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسولِ اکرم ﷺنے ارشاد فرمایا کہ : ’’شبِ قدر‘‘ اللہ تعالیٰ نے (صرف ) میری اُمت کو مرحمت فرمائی ہے ، پہلی اُمتوں کو نہیں ملی ۔‘‘
(دُرّمنثور)
رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں آنحضرت ﷺ عادت شریفہ اعتکاف کی ہمیشہ رہی ہے ، اس مہینے میں تمام مہینے کا اعتکاف فرمایا اور جس سال وصال ہوا ہے اس سال بیس روز کا اعتکاف فرمایا تھا ، لیکن اکثر عادت شریفہ چونکہ اخیر عشرہ ہی کے اعتکاف کی رہی ہے اس لئے علماء کے نزدیک’’سنت مؤکدہ‘‘ اعتکاف اخیر عشرہ ہی کا ہے ۔ اور چوں کہ اس اعتکاف کی بڑی غرض ’’شبِ قدر‘‘ کی تلاش ہے اس لئے حقیقت میں اعتکاف اس کے لئے بہت ہی مناسب ہے۔
(فضائل رمضان)
ایک حدیث میں نبی اکرم ﷺ کا ارشاد وارد ہوا ہے کہ اعتکاف کرنے والا شخص گناہوں سے محفوظ رہتا ہے اور اُس کے لئے نیکیاں اتنی ہی لکھی جاتی ہیں جتنی کہ کرنے والے کے لئے۔

(سنن ابن ماجہ)
مطلب یہ ہے کہ بہت سے نیک اعمال جیسے جنازہ میں شرکت ، مریض کی عیادت وغیرہ ایسے اُمور ہیں کہ اعتکاف میں بیٹھ جانے کی وجہ سے اعتکاف میں بیٹھنے والا شخص ان کو نہیں کرسکتا ، اس لئے اعتکاف کی وجہ سے جن عبادتوں سے وہ رُکا رہتا ہے اُن کا اجر بغیر کئے بھی اُسے ملتا رہتا ہے۔
(فضائل رمضان)
کتنے خوش قسمت اور خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو اس مبارک مہینے کے ایک ایک لمحہ کی دل و جان سے قدر کرتے ہیں ، اُن کے شب و روز میں خوف خدا سے آہوں اور سسکیوں کی صدائے بازگشت سنائی دیتی ہے اور اُن کے اشک ہائے ندامت دل کی میل اور اُس کی کدورتوں کو بہاتے دکھائی دیتے ہیں ۔ بلاشبہ ماہِ رمضان ۔۔۔ روحانیت اور نیکیوں کا موسم بہار ہوتا ہے ، یہ مہینہ رحمت و مغفرت کی معطر ہواؤں سے مشک بار ہوتا ہے۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
Read 57 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter