خود کش حملے ‘ دہشت گردی اور شریعت کے نام پر طاقت کا استعمال حرام قرار

Published in Hilal Urdu June 2017

جید علماء کا فتویٰ

26مئی 2017کو اسلامک ریسرچ انسٹی ٹیوٹ اور اسلامی بین الاقوامی یونیورسٹی کے زیرِ اہتمام قائداعظم یونیورسٹی میں مذہبی برداشت و ہم آہنگی کے فروغ کے موضوع پر منعقدہ کانفرنس کا انعقاد ہوا۔ صدرِ مملکت ممنون حسین اس موقع پر مہمانِ خصوصی تھے۔ کانفرنس میں جید علماء کرام نے شرکت کی۔ کانفرنس کے اختتام پر متفقہ فتویٰ اور اعلامیہ جاری کیا گیا جس پر ملک کے معروف 31 علماء کرام و مشائخ عظام کے دستخط موجود ہیں۔
یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ وفا ق المدارس پاکستان‘ وفاق المدارس العربیہ‘ رابطۃ المدارس پاکستان‘ پاکستان علماء کونسل اور دارالعلوم کراچی سمیت مختلف اداروں ‘ مسالک اور مختلف مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے علماء کرام اور مشائخ عظام نے دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف متفقہ فتویٰ جاری کرتے ہوئے محاذ آرائی‘ فساد‘ دہشت گردی‘ شریعت کے نام پر طاقت کے استعمال کو حرام قرار دے دیا اور کہا کہ اسلام اوربرداشت کے نام پر قتل و دہشت گردی کو مسترد کرتے ہیں‘ دستور کے کسی حصہ پر عمل کرنے میں کسی کو کوتاہی کی بناپر ملک کی اسلامی حیثیت اور اسلامی اساس کا انکار کرنا کسی صورت درست نہیں۔ لہٰذا اس کی بنا پر ملک یا اس کی حکومت‘ فوج یا دوسری سکیورٹی ایجنسیوں کے اہلکاروں کے خلاف مسلح کارروائی کا کوئی شرعی جواز نہیں‘ ایسا عمل اسلامی تعلیمات کی رو سے بغاوت کا سنگین جرم ہے‘ نفاذِ شریعت کے نام پر طاقت کا استعمال‘ ریاست کے خلاف مسلح محاذ آرائی‘ تخریب و فساد اور دہشت گردی کی تمام صورتیں حرام قطعی‘ شریعت کی روسے ممنوع اور بغاوت ہیں‘ ریاست کے ملک دشمن عناصر کو کچلنے کے لئے شروع کئے گئے آپریشنز ’’ضرب عضب‘‘ اور ’’رد الفساد‘‘ کی مکمل حمایت کرتے ہیں ۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں علماء ومشائخ سمیت زندگی کے تمام شعبوں کے طبقات ریاست اور مسلح افواج کے ساتھ کھڑے ہیں۔

فتویٰ
یہ تحریر اس دہشت گردی اور خودکش حملوں سے متعلق ہے جن سے پاکستان اور اہل پاکستان سخت بے چین اور لہولہان ہو رہے ہیں اور جن سے ہمارے دشمن فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ آیات قرآنی اور احادیث مبارکہ کی روشنی میں ہم متفقہ طور پر تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے علماء اور مفتیان حضرات یہ فتویٰ دیتے ہیں کہ

jayadulmaka.jpg
-1 اسلامی جمہوریہ پاکستان، آئینی و دستوری لحاظ سے ایک اسلامی ریاست ہے جس کے دستور کا آغاز اس قومی و ملی میثاق قرارداد مقاصد سے ہوتا ہے اﷲ تبارک و تعالیٰ ہی کل کائنات کا بلاشرکت غیرے حاکم ہے اور پاکستان کے جمہور کو جو اختیار و اقتدار اس کی مقرر کردہ حدود کے استعمال کرنے کا حق ہے وہ ایک مقدس امانت ہے۔ نیز دستور میں اس بات کا اقرار بھی موجود ہے کہ اس ملک میں قرآن و سنت کے خلاف کوئی قانون نہیں بنایا جائے گا اور موجودہ قوانین کو قرآن و سنت کے مطابق ڈھالا جائے گا۔


-2ہم متفقہ طور پر اسلام اور برداشت کے نام پر انتہاپسندانہ سوچ اور شدت پسندی کو مسترد کرتے ہیں یہ فکری سوچ جس جگہ بھی ہو، ہماری دشمن ہے اور اس کے خلاف فکری و انتظامی جدوجہد دینی تقاضا ہے۔
-3 ہم یہ سمجھتے ہیں کہ فرقہ وارانہ منافرت، مسلح فرقہ وارانہ تصادم اور طاقت کے بل پر اپنے نظریات کو دوسروں پر مسلط کرنے کی روش شریعت کے احکام کے منافی اور فساد فی الارض ہے۔ نیز اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور و قانون کی رو سے ایک قومی و ملی جرم ہے۔ اس لئے ہم ریاستی اداروں کی جانب سے ایسی سرگرمیوں کے خلاف بھرپور جدوجہد کی درخواست کرتے ہیں۔
-4 پاکستان میں نفاذ شریعت کے نام پر طاقت کا استعمال، ریاست کے خلاف مسلح محاذ آرائی، تخریب وفساد اور دہشت گردی کی تمام صورتیں جن کا ہمارے ملک کو سامنا ہے، اسلامی شریعت کی رو سے ممنوع اور قطعی حرام ہیں اور بغاوت کے زمرے میں آتی ہیں اور ان کا تمام تر فائدہ اسلام اور ملک دشمن عناصر کو پہنچ رہا ہے۔
-5 ہم پاکستان کے تمام مسلکوں اور مکاتب فکر کے نمائندہ علماء شرعی دلائل کی روشنی میں اتفاق رائے سے خود کش حملوں کو حرام قرار دیتے ہیں اور ہماری رائے میں خودکش حملے کرنے والے، کروانے والے اور ان حملوں کی ترغیب دینے والے اور ان کے معاون پاکستانی اسلام کی رو سے باغی ہیں اور ریاست پاکستان شرعی طور پر اس قانونی کارروائی کی مجاز ہے جو باغیوں کے خلاف کی جاتی ہے۔
-6دینی شعائر اور نعروں کو نجی عسکری مقاصد اور مسلح طاقت کے حصول کے لئے استعمال کرنا قرآن و سنت کی رو سے درست نہیں۔
-7جہاد کا وہ پہلو جس میں جنگ اور قتال شامل ہیں، کو شروع کرنے کا اختیار صرف اسلامی ریاست کا ہے اور کسی شخص یا گروہ کو اس کا اختیار حاصل نہیں۔ ریاست سے بالاتر کسی گروہ کی ایسی کارروائی فساد اور بغاوت ہے جو اسلامی تعلیمات کی رو سے سنگین اور واجب تعزیر جرم ہے۔
-8 اسلامی جمہوریہ پاکستان کے تمام شہری، دستوری و آئینی میثاق کے پابند ہیں جس کی رو سے ان پر لازم قرار پاتا ہے کہ وہ بہرصورت حب الوطنی اور ملکی و قومی مفادات کا تحفظ پہلی ترجیح کے طور پر کریں اور اس پر کسی صورت آنچ نہ آنے دیں۔ ملک و قوم کے اجتماعی مفادات کو کسی بھی عنوان سے نظر انداز کرنے کی حکمت عملی اسلامی تعلیمات کی رو سے عہد شکنی اور غدر قرار پاتی ہے جو دینی نقطہ نظر سے سنگین جرم اور لائق تعزیر ہے۔
-9 ریاست پاکستان میں امن و سکون قائم کرنے اور دشمنان پاکستان کے خلاف جو جدوجہد ضرب عضب اور رد الفساد کے نام سے شروع کی گئی ہے، ہم اس کی بھرپور تائید کرتے ہیں۔


متفقہ اعلامیہ
قرآن و سنت اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے متفقہ دستور کے تقاضوں کے عین مطابق پیغام پاکستان کے ذریعے درج ذیل اقدامات کا اعلامیہ پیش کیا جاتا ہے:
-1 پاکستان کا 1973کا دستور اسلامی اور جمہوری ہے اور یہ پاکستان کی تمام اکائیوں کے درمیان سماجی اور عمرانی معاہدہ ہے جس کی توثیق تمام سیاسی جماعتوں کے علاوہ تمام مکاتب فکر کے علما و مشائخ نے متفقہ طور پر کی ہوئی ہے۔ اس لئے اس دستور کی بالادستی اور عمل درآمد کو ہر صورت میں یقینی بنایا جائے گا نیز ہر پاکستانی ریاستِ پاکستان کے ساتھ ہر صورت میں اپنی وفاداری کا وعدہ وفا کرے۔
-2 اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور کی رو سے تمام شہریوں کو بنیادی حقوق کی ضمانت حاصل ہے۔ ان حقوق میں قانون و اخلاق عامہ کے تحت مساوات حیثیت و مواقع، قانون کی نظر میں برابری، سماجی، اقتصادی اور سیاسی عدل ، اظہار خیال، عقیدہ ، عبادت اور اجتماع کی آزادی شامل ہے۔
-3 اسلامی جمہوریہ پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے جس کے دستور کا آغاز اس قومی و ملی میثاق سے ہوتا ہے: اﷲتبارک و تعالیٰ ہی کل کائنات کا بلاشرکت غیرے حاکم ہے اور پاکستان کے جمہور کو جو اختیار و اقتدار اس کی مقرر کردہ حدود کے اندر استعمال کرنے کا حق ہے، وہ ایک مقدس امانت ہے۔ نیز دستور میں اس بات کا اقرار بھی موجود ہے کہ اس ملک میں قرآن و سنت کے خلاف کوئی قانون نہیں بنایا جائے گا اور موجودہ قوانین کو قرآن و سنت کے دائرے میں رہتے ہوئے قرآن و سنت کے مطابق ڈھالا جائے گا۔
-4 پاکستان کے آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے قرآن و سنت کے احکام کے نفاذ کی پرامن جدوجہد کرنا ہر مسلمان کا دینی حق ہے۔ یہ حق دستور پاکستان کے تحت اسے حاصل ہے اور اس کی ملک میں کوئی ممانعت نہیں ہے جبکہ بہت سے ملی اور قومی مسائل کا سبب اﷲتعالیٰ سے کئے ہوئے عہد سے رو گردانی ہے۔ اس حوالے سے پیش رفت کرتے ہوئے ادارہ تحقیقات اسلامی، اسلامی نظریاتی کونسل، وفاقی شرعی عدالت اور سپریم کورٹ کے شریعت اپیلنٹ بینچ کو مزید فعال بنایا جائے۔
-5 دستور کے کسی حصہ پر عمل کرنے میں کسی کوتاہی کی بنا پر ملک کی اسلامی حیثیت اور اسلامی اساس کا انکار کسی صورت درست نہیں۔ لہٰذا اس کی بنا پر ملک یا اس کی حکومت، فوج یا دوسری سکیورٹی ایجنسیوں کے اہلکاروں کو غیرمسلم قرار دینے اور ان کے خلاف مسلح کارروائی کا کوئی شرعی جواز نہیں ہے اور ایسا عمل اسلامی تعلیمات کی رو سے بغاوت کا سنگین جرم قرار پاتا ہے۔ نفاذ شریعت کے نام پر طاقت کا استعمال، ریاست کے خلاف مسلح محاذ آرائی، تخریب وفساد اور دہشت گردی کی تمام صورتیں، جن کا ہمارے ملک کو سامنا ہے، حرام قطعی ہیں، شریعت کی رو سے ممنوع ہیں اور بغاوت ہیں۔ یہ ریاست، ملک و قوم اور وطن کو کمزور کرنے کا سبب بن رہی ہیں اور ان کا تمام تر فائدہ اسلام دشمن اور ملک دشمن قوتوں کو پہنچ رہا ہے۔ لہٰذا ریاست نے ان کو کچلنے کے لئے ’’ضرب عضب‘‘ اور ’’رد الفساد‘‘ کے نام سے جو آپریشن شروع کر رکھے ہیں اور قومی اتفاق رائے سے جو لائحہ عمل تشکیل دیا ہے ان کی مکمل حمایت کی جاتی ہے۔
-6 دہشت گردی کے خلاف جنگ میں علما اور مشائخ سمیت زندگی کے تمام شعبوں کے طبقات ریاست اور مسلح افواج کے ساتھ کھڑے ہیں اور پوری قوم قومی بقاء کی اس جنگ میں افواج پاکستان اور پاکستان کے دیگر سکیورٹی اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کا اعلان کرتی ہے۔
-7 تمام دینی مسالک کے نمائندہ علما نے شرعی دلائل کی روشنی میں قتل ناحق کے عنوان سے خودکش حملوں کے حرام قطعی ہونے کا جو فتویٰ جاری کیا تھا اس کی مکمل حمایت کی جاتی ہے۔ نیز لسانی، علاقائی، مذہبی اور مسلکی عصبیت کے نام پر جو مسلح گروہ ریاست کے خلاف مصروف عمل ہیں، یہ سب شریعت کے احکام کے منافی اور قومی وحدت کو پارہ پارہ کرنے کا سبب ہیں، لہٰذا ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ ان تمام گروہوں کے خلاف بھرپور کارروائی کریں۔
-8 فرقہ وارانہ منافرت، مسلح فرقہ وارانہ تصادم اور طاقت کے بل پر اپنے نظریات کو دوسروں پر مسلط کرنے کی روش شریعت کے احکام کی مخالف اور فساد فی الارض ہے نیز اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور و قانون کی رو سے ایک قومی اور ملی جرم ہے۔
-9 وطن عزیز میں قائم تمام درسگاہوں کا بنیادی مقصد تعلیم و تربیت ہے۔ ملک کی تمام سرکاری و نجی درسگاہوں کا کسی نوعیت کی عسکریت نفرت انگیزی انتہا پسندی اور شدت پسندی پر مبنی تعلیم یا تربیت سے کوئی تعلق نہیں ہو گا۔ اگر کوئی فرد یا ادارہ اس میں ملوث ہے تو اس کے خلاف ثبوت و شواہد کے ساتھ کارروائی کرنا حکومت اور ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے۔
-10 انتہاپسندانہ سوچ اور شدت پسندی کے خلاف فکری جہاد اور انتظامی اقدامات ناگزیر ہیں۔ گزشتہ عشرے سے قومی اور بین الاقوامی سطح پر ایسے شواہد سامنے آئے ہیں کہ یہ منفی رجحان مختلف قسم کے تعلیمی اداروں میں پایا جاتا ہے۔ سو یہ فکر جہاں کہیں بھی ہو، ہماری دشمن ہے۔ یہ لوگ خواہ کسی بھی درسگاہ سے منسلک ہوں، کسی رعایت کے مستحق نہیں۔
-11 ہرمکتبہ فکر اور مسلک کو مثبت انداز میں اپنے عقائد اور فقہی نظریات کی دعوت و تبلیغ کی شریعت اور قانون کی رو سے اجازت ہے۔ لیکن اسلامی تعلیمات اور ملکی قانون کے مطابق کسی بھی شخص، مسلک یا ادارہ کے خلاف اہانت اور نفرت انگیزی، اتہام بازی پر مبنی تحریر و تقریر کی اجازت نہیں۔
-12 صراحت، کنایہ، اشارہ، تعریض اور توریہ کے ذریعے کسی بھی صورت میں نبی کریم ﷺ انبیائے کرام و رُسل عظام علیہم السلام، امہات المومنین و اہل بیت اطہار، صحابہ کرام، شعائر اسلام کی اہانت کے حوالے سے ضابطہ فوجداری کے سیکشن 295 کی تمام دفعات کو ریاستی اداروں کے ذریعہ لفظاً اور معناً نافذ کیا جائے اور اگر ان قوانین کا کہیں غلط استعمال ہوا ہے تو اس کے ازالے کی احسن تدبیر ضروری ہے، مگر قانون کو کسی صورت میں کوئی فرد یا گروہ اپنے ہاتھ میں لینے اور متوازی عدالتی نظام قائم کرنے کا مجاز نہیں۔
-13 عالم دین اور مفتی کا منصبی فریضہ ہے کہ صریح کفریہ کلمات کے بارے میں قرآن و سنت کی روشنی میں شرعی حکم بتائے۔ البتہ کسی کے بارے میں یہ فیصلہ کرنا کہ آیا اس نے کفر کا ارتکاب کیا ہے، یہ عدالت کا دائرہ اختیار ہے۔
-14 سرزمین پاک اﷲتعالیٰ کی مقدس امانت ہے۔ اس کا ایک ایک چپہ اﷲتعالیٰ کی طرف سے ایک عظیم نعمت ہے۔ اس لئے اسلامی جمہوریہ پاکستان کی سرزمین کسی بھی قسم کی دہشت گردی کے فروغ، دہشت گرد ی کے گروہوں کی فکری و عملی تیاری، دہشت گردی کے لئے لوگوں کی بھرتی، دیگر ممالک میں دہشت گردی، مداخلت اور اس جیسے دوسرے ناپاک عزائم کے حصول کے لئے ہرگز استعمال نہ ہونے دی جائے۔
-15 مسلمانوں میں مسالک و مکاتب فکر قرون اولیٰ سے چلے آ رہے ہیں اور آج بھی موجود ہیں۔ ان میں دلیل و استدلال کی بنیاد پر فقہی اور نظریاتی ابحاث ہمارے دینی اور اسلامی علمی سرمائے کا حصہ ہیں اور رہیں گی۔ لیکن یہ تعلیم و تحقیق کے موضوعات ہیں اور ان کا اصل مقام درس گاہیں ہیں۔ درس گاہوں میں اختلاف رائے کے اسلامی آداب (آداب مراعاۃ الخلاف) یعنی
(ethics of disagreement)
کو تمام سرکاری و نجی درسگاہوں کے نصاب میں شامل کرنا چاہئے۔
-16 اسلامی تعلیمات اور 1973 کے متفقہ دستور کے مطابق حکومت اور عوام کے حقوق و فرائض طے شدہ ہیں، جس طرح عوام کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے فرائض درست اسلامی تعلیمات اور دستور پاکستان کے تقاضوں کے مطابق انجام دیں، اسی طرح ریاستی ادارے اور ان کے عہدیدا ر بھی اپنے فرائض اسلامی تعلیمات اور دستور پاکستان کے تقاضوں کے مطابق ادا کرنے کے پابند ہیں۔
-17 اسلام کے اصولوں کے مطابق جمہوریت، حریت، مساوات، برداشت، رواداری، باہمی احترام اور عدل و انصاف پر مبنی پاکستانی معاشرے کی تشکیل جدید ضروری ہے تاکہ پرامن بقائے باہمی کے لئے فضا سازگار ہو۔
-18 احترام انسانیت ، اکرام مسلم نیز بزرگوں، عورتوں، بچوں، خواجہ سراؤں، معذوروں الغرض تمام محروم طبقات کے حقوق کے تحفظ کے لئے سرکاری اور غیرسرکاری سطح پر اسلامی احکام کا نفاذ ضروری ہے۔ نیز پاکستانی معاشرے میں انسانی اقدار اور اخوت اسلامی پر مبنی اسلامی اداروں کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے۔
-19 پاکستان میں رہنے والے پابند آئین و قانون تمام غیرمسلم شہریوں کو جان و مال اور عزت و آبرو کے تحفظ اور ملکی سہولتوں سے فائدہ اٹھانے کے وہی تمام شہری حقوق حاصل ہیں جو پابند آئین و قانون مسلمانوں کو حاصل ہیں۔ نیز یہ کہ پاکستان کے غیر مسلم شہریوں کو اپنی عبادت گاہوں میں اور ان کے تہواروں کے موقع پر اپنے مذاہب کے مطابق عبادت کرنے اور اپنی مذہبی تعلیمات پر عمل کرنے کا پورا حق حاصل ہے۔
-20 اسلام خواتین کو احترام عطا کرتا ہے اور ان کے حقوق کی پاسداری کرتاہے۔ رسول اﷲ ﷺ نے خطبہ حجۃ الوداع میں بھی عورتوں کے حقوق کی پاسداری کی تاکید فرمائی ہے نیز رسول اﷲ ﷺ کے دورسے اسلامی ریاست میں خواتین کی تعلیم وتربیت جاری رہی ہے۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق خواتین کو حق رائے دہی‘ حصولِ تعلیم اور ملازمت کا حق حاصل ہے۔ خواتین کے تعلیمی اداروں کو تباہ کرنا اور خواتین اساتذہ و طالبات پر حملے کرنا انسانی اقدار‘ اسلامی تعلیمات اور قانون کے منافی ہے۔ اسی طرح اسلامی تعلیمات کی رو سے غیرت کے نام پر قتل ‘ قرآن سے شادی‘ وٹہ سٹہ‘ ونی اور خواتین کے دیگر حقوق کی پامالی احکامِ شریعت میں سختی سے ممنوع ہے۔ حکومت قانونِ قصاص و تعزیر کے علاوہ دیگرحق تلفیوں کے بارے میں قانون سازی کرسکتی ہے۔ اس کے علاوہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وراثت میں عورتوں کا حق یقینی بنائے۔
-21 لاؤڈ سپیکر کے ہر طرح کے غیر قانونی استعمال کی ہر صورت میں حوصلہ شکنی کی جائے اور متعلقہ قانون پر من و عن عمل کیا جائے اور منبر و محراب سے جاری ہونے والے نفرت انگیز خطابات کو ریکارڈ کرکے ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔ نیز ٹیلیویژن چینلوں پر مذہبی موضوعات پر مناظرہ بازی کو قانوناً ممنوع اور قابلِ دست اندازی پولیس قرار دیا جائے۔
-22 الیکٹرانک میڈیا کے حقِ آزادی اظہار کو قانون کے دائرے میں لایا جائے اور اس کی حدود کا تعین کیا جائے اور ہر اس پروگرام پر پابندی لگائے جائے جو پاکستان کی اسلامی شناخت کو مجروح کرے۔
متفقہ اعلامیہ کے اہم نکات
-1۔ دستورپاکستان 1973 اسلامی جمہوری ہے اور یہ پاکستان کی تمام اکائیوں کے درمیان ایسا عمرانی معاہدہ ہے جس کو تمام مکاتبِ فکر کے علماء و مشائخ کی حمایت حاصل ہے اس لئے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور کے تقاضوں کے مطابق پاکستان میں قانون قرآن و سنت کے منافی نہیں ہونا چاہئے اورنہ ہی اس دستور کی موجودگی میں کسی فرد یا گروہ کو ریاست پاکستان اور اس کے اداروں کے خلاف کسی قسم کی مسلح جدوجہد کا کوئی حق حاصل ہے۔
-2۔ نفاذِ شریعت کے نام پر طاقت کا استعمال ‘ ریاست کے خلاف مسلح محاذ آرائی نیزلسانی‘ علاقائی‘ مذہبی‘ مسلکی اختلافات اور قومیت کے نام پر تخریب و فساد اور دہشت گردی کی تمام صورتیں احکامِ شریعت کے خلاف ہیں اور پاکستان کے دستور و قانون سے بغاوت ہیں۔ طاقت کے زور پر اپنے نظریات کو دوسروں پر مسلط کرنے کی روش شریعت کے احکام کی مخالفت اور فسا د فی الارض ہے۔ اس کے علاوہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور قانون کی روسے ایک قومی اور ملی جرم بھی ہے۔ دفاعِ پاکستان اور استحکام پاکستان کے لئے ایسی تخریبی کارروائیوں کا خاتمہ ضروری ہے۔ اس لئے ان کے تدارک کے لئے بھرپور انتظامی‘ تعلیمی ‘ فکری اور دفاعی اقدامات لازم ہیں۔
-3۔ دستور پاکستان کے تقاضوں کے مطابق پاکستانی معاشرے کی ایسی تشکیلِ جدید ضروری ہے جس کے ذریعے سے معاشرے میں منافرت ‘ تنگ نظری‘ عدم برداشت اور بہتان تراشی جیسے بڑھتے ہوئے رجحانات کا خاتمہ کیا جاسکے اور ایسا معاشرہ قائم ہو جس میں برداشت و رواداری‘ باہمی احترام اور عدل و انصاف پر مبنی حقوق و فرائض کا نظام قائم ہو۔

Read 324 times
Rate this item
(0 votes)

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter