تحریر: یاسر پیرزادہ

کتنا اچھا ہو اگرآپ کی زندگی میں ہر چیز ترتیب کے ساتھ ہو!آپ کی جنم پرچی سے لے کر ایم اے کی سند تک اور پنگھوڑے میں انگوٹھا چوسنے کی تصویر سے لے کر شادی میں دودھ پلائی کی تصویر تک ہر شے ایک پرفیکٹ طریقے سے
organized
ہو ۔آپ کی سٹڈی میں کتابوں کی کیٹیلاگ ہو اور تمام کتابیں یوں نمبروں کے ساتھ ترتیب میں لگی ہوں جیسے لائبریری آف کانگریس ہو۔ آپ کی ذاتی فائلیں انڈیکس کے ساتھ الماری میں سجی ہوں اور ان میں موجود تمام کاغذ تاریخ کی ترتیب سے موجود ہوں تاکہ کوئی بھی کاغذ ڈھونڈنے میں تیس سیکنڈ سے زائد کا وقت نہ لگے ،یہی نہیں بلکہ یہ انڈیکس آپ کے کمپیوٹر میں بھی محفوظ ہو۔آپ کی فلموں اور پسندیدہ گانوں کی کلیکشن بھی اسی طرح مائیکرو سافٹ آفس کے کسی پروگرام میں محفوظ ہو اور ایک کلک پر آ پ اپنی مرضی کی فلم یا گانا ڈھونڈیں اور انجوائے کریں ۔آپ کی فیملی کی تصاویر،پاسپورٹ ،شناختی کارڈ ،بچوں کے رزلٹ کارڈ ،گھر کے بل ،مختلف اوقات میں خریدی گئیں اشیا کے گارنٹی کارڈز،کریڈٹ کارڈ بل ،بینک سٹیٹمنٹ،پرانے اخبارات کی فائل ،ٹیکس کے کاغذات ،کمپیوٹر کا ڈیٹا ۔۔۔غرض ہر شے یوں ترتیب میں ہو کہ اگر کوئی سرکاری اہلکار آپ سے پوچھ لے کہ سن 1933ء میں آپ کے نانا جان نے سرکاری ملازمت کی درخواست جمع کرواتے وقت جس اوتھ کمشنر سے تصدیق کروائی تھی اس کی باجی کا نام بتاؤ تو آپ فوراً اپنے لیپ ٹاپ میں جائیں ،نانا جان کا ’’پروفائل‘‘ کھولیں اور مطلوبہ انفارمیشن ڈھونڈ کر اس اہلکار کے منہ پر ماریں ۔کاش کہ ہماری زندگی اتنی پرفیکٹ ہو جائے !
ایک پرفیکٹ زندگی کی خواہش کرنے والا شخص پرفیکشنسٹ کہلائے گا ۔ہم میں سے ہر کوئی اپنے اپنے مزاج اور استطاعت کے مطابق پرفیکشنسٹ ہے مگر یہ کام نہایت جوکھم کا ہے ۔دن کے چوبیس میں سے اٹھارہ گھنٹے کام کرنا ،ان اٹھارہ میں سے دو گھنٹے جاگنگ کرنا، متوازن غذا کھانا‘ فیملی کو کوالٹی ٹائم دینا ،دفتر میں مثالی کارکردگی دکھانا ،دوستوں کے ساتھ وقت گزارنا ،روزانہ کسی کتاب کے پچاس صفحات کا مطالعہ کرنا ،فلم دیکھنا، اخبار پڑھنا ،دن میں تین دفعہ دانتوں میں برش کرنا،مہینے میں ایک دفعہ ڈاکٹر سے جنرل چیک اپ کروانا ،چھ مہینے بعد اپنے تمام ٹیسٹ کروانا،اپنے کتّے کو سیر کروانا، تھوڑا بہت ٹی وی دیکھنا ،عبادت کرنا، ہمسایوں سے میل جول رکھنا‘ نوکروں سے حسن سلوک کرنا اور ان تمام امور کی انجام دہی کے دوران ماتھے پر شکن نہ آنے دینا اور ہر کسی سے خوامخواہ خوش اخلاقی سے پیش آنا
perfectionism
کی معراج ہے ۔ یہی نہیں بلکہ گھر میں ہر چیز کو ایک پرفیکٹ اندازمیں اس کی جگہ رکھنا بھی پرفیکشنسٹ بندے کی مجبوری ہوتی ہے ۔لیکن کیا کرہ ارض پر ایسا کوئی پرفیکشنسٹ بندہ پایا جاتا ہے ؟

نہیں ۔ایسا کوئی شخص نہیں جو ہر کام کو اس قدر پرفیکٹ انداز میں کرنے کا اہل ہولیکن اس کے باوجود انسان میں یہ خواہش ضرور ہوتی ہے کہ اس کا ہر کام پرفیکٹ طریقے سے ہو ۔ایسے ہی ایک مہربان نے آج سے تین سال قبل مجھے بتایا کہ وہ اپنی زندگی میں اس قدر
organized
ہیں کہ اگر سر درد کی گولی بھی خریدیں تو اس کا بل سنبھال کے رکھتے ہیں ،انہوں نے ہیلتھ کئیر کی ایک فائل بنائی ہوئی ہے جس میں وہ ایسے تمام بل لگادیتے ہیں ۔اس مر د مومن نے یہ بھی بتایا کہ اس نوع کی لگ بھگ پچاس فائلیں وہ
maintain
کرتے ہیں جنہیں ہر اتوار کو اپ ڈیٹ بھی کیا جاتا ہے ۔ظاہرہے یہ باتیں کسی بھی شخص کو متاثر کرنے کے لئے کافی تھیں لہٰذااس دن کے بعد میں نے بھی فیصلہ کر لیا کہ اپنی زندگی میں ایسا ہی پرفیکٹ انقلاب لے کر آؤں گا ۔اس انقلاب کے اہداف میں وہ تمام امور شامل تھے جن کا ذکر میں نے ابھی کیا ہے۔ الحمد اللہ، آج تین سال گزرنے کے بعد میں پورے اطمینان سے یہ بات کہہ سکتا ہوں کہ میں نے ان میں سے ایک بھی بات پر عمل نہیں کیا !
پرفیکشنسٹ انسان کے ساتھ سب سے بڑی مصیبت یہ ہوتی ہے کہ چونکہ اس نے ہر کام پرفیکٹ انداز میں کرنے کا تہیہ کیا ہوتا ہے اس لئے وہ کوئی کام شروع ہی نہیں کر پاتا ۔کسی بھی کام کو پایا تکمیل تک پہنچانے کے لئے ضروری ہے کہ آپ وہ کام شروع کریں ،جب کام شروع ہوگا تو ختم بھی ہوگا اور جب ختم ہو گا تو اس دوران اس کام کی فائن ٹیوننگ کی جائے گی اور اسے ممکنہ حد تک پرفیکٹ بنایا جائے گا ۔لیکن پرفیکشنسٹ انسان کام شروع کرنے سے پہلے ہی اس سوچ میں پڑ جاتا ہے کہ اس کام کو پرفیکٹ انداز میں کرنا کس قدر مشکل ہے چنانچہ وہ کام شروع ہی نہیں کر پاتا ۔اس کی مثال ایسی ہے کہ آپ نے یہ سوچا ہو کہ گھر کی ہر چیز ایک ترتیب کے ساتھ اپنی جگہ آئیڈیل طریقے سے یوں موجود ہو کہ اگر آپ نیویارک میں بیٹھے ہوں اور کوئی آپ سے جنم پرچی مانگ لے تو آپ نے پہلے سے اسے سکین روا کے آن لائن رکھا ہو اور آپ وہیں دریائے ہڈسن کے کنارے بیٹھے بیٹھے اسے اپنے آئی فون کے ذریعے شئیر کردیں۔ یہ کرنا بالکل مشکل نہیں مگر مصیبت یہ ہے کہ ہم اس پرفیکٹ ماڈل کو صرف سوچتے ہیں اس پرکام کوئی نہیں کرتے ۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ گھر میں اگر کوئی پچھلے مہینے کا بجلی کا بل بھی مانگ لے تو پتہ چلتا ہے کہ وہ تو قمیض کی جیب میں رہ گیا تھا جودھل کر استری بھی ہو چکی ہے،بجلی کا فیوز اڑ جائے تو لگانے کے لئے تار کا ٹکڑا نہیں ملتا ،شناختی کارڈ ایکسپائر ہو چکا ہے،ڈرائیونگ لائسنس بنوایا ہی نہیں ،پچھلے ماہ جو مائیکرو ویو اوون لیا تھا وہ خراب ہو گیا ہے مگر اس کا گارنٹی کارڈ نہیں مل رہا اور ایک بنک آپ کو ہر ماہ غلط کریڈٹ کارڈ بل بھجوا دیتا ہے مگر آپ بے بس ہیں کیونکہ آپ نے اس کا کوئی ریکارڈ ہی نہیں رکھا !
ذاتی زندگی میں ہمارا یہ حال ضرور ہے مگر قومی معاملات میں ہم کوئی رعایت دینے کے عادی نہیں ۔ہم چاہتے ہیں کہ اس ملک میں ایک پرفیکٹ جمہوری نظام راتوں رات قائم ہو جائے جہاں شیر اور بکری ایک گھاٹ پر پانی پئیں ۔
آمریتوں کودس دس بار ہ بارہ سال دینے کے بعد جب ہم بادل نخواستہ جمہوریت قبول کرتے ہیں تو فوراً
perfectionism
کا لبادہ اوڑھ لیتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ پانچ سال کی بچہ جمہوریت کسی گھبرو جوان کی مانند
behave
کرے ۔اور جب ایسا نہیں ہوتا تو ہم کسی جھگڑالو ساس کے انداز میں جمہوری نظام کو طعنے دینا شروع کر دیتے ہیں ۔ہم ،جو اپنے گھر کی چار چیزیں ترتیب سے نہیں رکھ سکتے،چاہتے ہیں کہ انتخابی سسٹم اس قدر آئیڈیل ہو کہ سوائے چند خود ساختہ راست بازوں کے کوئی بھی اس کی چھاننی سے گزر نہ پائے ۔ترقی یافتہ ممالک کی طرح ہمارے پولنگ بوتھ بھی کسی فائیو سٹار ہوٹل کے کمرے کی طرز پر بنائے جائیں ،الیکشن کمیشن کے پاس جادو کی چھڑی ہو جس سے وہ ہر امیدوار کا کچھا چٹھا ایک کلک پر کھول سکے اور جب الیکشن کے نتائج آئیں تو ایسی صالح قیادت سامنے آئے کہ قرون اولیٰ کی یاد تازہ ہو جائے ۔کسی پرفیکشنسٹکی طرح ہم یہ سب چاہتے ضرور ہیں مگر اس کام کو شروع کرنے کے لئے گھر سے باہر نکل کر ووٹ ڈالنے کو تیار نہیں ۔ہم ’’دو نمبر‘‘ پرفیکشنسٹ ہیں !

مضمون نگار معروف کالم نویس اور تجزیہ نگار ہیں۔ This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
Read 166 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter