تھرکا سفر۔۔

Published in Hilal Urdu

تحریر: مجاہد بریلوی

میں آپ کو ذرا تھر یعنی سندھ کے اُس علاقے میں لئے چلتا ہوں جو غربت کے اعتبار سے سندھ کے 29 اضلا ع میں آخری نمبروں پرآتا ہے ۔ مگر یقین کیجئے کہ ہفتے بھر پہلے تھر جانا ہوا تو پورے اعتماد سے کہہ سکتا ہوں کہ آنے والے برسوں میں اور برسوں کا مطلب روایتی طور پر دہائیاں نہیں حقیقتاً دسمبر 2017 میں سندھ اینگروکول اینڈ پاور پروجیکٹ کے چیف ایگزیکٹیوشمس الدین احمد شیخ کے دعوے کے مطابق کوئلہ نکلنا شروع ہوگیا تو جون 2018 میں یہاں سے 660 میگاواٹ بجلی نیشنل گرڈ میں جانا شروع ہوجائے گی۔

therkasafarj.jpg


بیس برس تو گزر ہی گئے مگر آج بھی یاد ہے کہ اسلام کوٹ کا کٹھن سفر ایک پرانی جیپ میں اس طرح طے کیا تھا کہ جسم کا کوئی حصہ ایسا نہ تھا کے جس کا جوڑ جوڑ نہ ہل گیا ہو۔ ادھر برسوں سے تھر میں کوئلے کے اربوں روپے کے خزانے کے ساری دنیا میں چرچے ہیں۔ گزشتہ دو دہائیوں میں سندھ میں آنے والی ہر حکومت یہ دعویٰ کرتی رہی ہے کہ اگلے سال اتنے ’’کروڑ ٹن کوئلہ‘‘ اور اُس سے اگلے سال اتنے ’’سو میگاواٹ بجلی‘‘ کی پیدوار شروع ہوجائے گی ۔ بین الاقوامی شہرت یافتہ ماہرین اس بات کا برسوں سے دعویٰ کر رہے ہیں کہ ’’تھر‘‘ اور اُس کے اطراف کا علاقہ کول یعنی کوئلے کا اتنا بڑا ذخیرہ رکھتا ہے کہ اُسے دنیا کے دس بڑے ملکوں کی صف میں رکھا جا سکتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق وطن عزیز میں اگر 187 ارب ٹن کوئلے کے ذخائز ہیں تو اس میں 175 ارب ٹن کوئلے کے ذخائز صرف تھر میں ہیں۔ مئی کے پہلے ہفتے میں ’’سندھ اینگرو کول مائننگ کمپنی‘‘ کے سربراہ شمس الدین احمد شیخ کی جانب سے دعوت ملی کہ ذرا تھر میں ایک دن ہمارے ساتھ گزاریں۔تو کانوں کو ہاتھ لگایا کہ عمر کے اس حصّے میں کراچی کی گرمی برداشت نہیں ہوتی آپ دنیا کے گرم ترین علاقے کے لق و دق صحرا میں اور وہ بھی اُس وقت جب سورج سوا نیزے پر ہوتا ہے اور گرمی کا پارہ 50 ڈگری کو چھو رہا ہوتا ہے‘ سارا دن گزارنے کی دعوت دے رہے ہیں۔ مگر شمس الدین احمد شیخ جس اصرار اور محبت سے بُلا کر ہمیں مستقبل کی نوید دے رہے تھے‘ اُس پر انکار ممکن نہ تھا۔ حالیہ برسوں میں وطنِ عزیز ہو یا وطن سے باہر ‘’’خواہشِ سفر‘‘ کا سودا سر میں ایسا سمایا ہے کہ ادھر کوئی دعوت ملتی نہیں ادُھر ’’بسترا‘‘ بندھنا شروع ہو جاتا ہے۔ جھوٹ کیوں بولوں ’’ کول یعنی کوئلے‘‘ میں ہاتھ سیاہ کرنے سے زیادہ ’’تھر‘‘ میں شام گزارنے کا خیال غالب تھا۔ سال بھر پہلے جب تھر کے لق ودق صحرا میں بڑی مشکل سے ایک کنویں کے ساتھ لگے درخت کی چھاؤں ملی تو شیخ صاحب نے ایک بینچ پر نقشہ جما کر دسمبر 2017 میں کوئلہ اورجون 2018 میں 660 میگاواٹ بجلی نیشنل گرڈ میں دینے کاانکشاف اور اس کے لئے ’’اعداد و شمار‘‘ کا جو دفتر کھولا تو شیخ صاحب کے احترام میں سُن تولیا مگر یقین کرنے کو جی نہ چاہا۔ سات گھنٹے کا سفر طے کر کے اسلام کوٹ پہنچے اور پھر وہاں پروجیکٹ کے ایک رہائشی بلاک میں شام تو اُسی طرح گزاری کہ جو برسوں سے گزرتی ہے مگر اُس کی تفصیل میں خوفِ خلقِ خدا کے سبب نہیں جاؤں گا۔ کوئلہ نکالنے کے لئے سندھ حکومت نے پانچ بلاکس مختلف کمپنیوں کو دیئے تھے۔ سندھ اینگرو تھر پروجیکٹ کو بلاک 2 دیا گیا ہے جس میں ایک محتاط اندازے کے مطابق 2 ارب ٹن کوئلے کے ذخائز ہیں جس سے 5 ہزار سالانہ میگاواٹ بجلی 50 سال تک فراہم ہوسکے گی۔

مجموعی طور پر پانچ میں سے یہ واحد بلاک ہے جس پر اتنی تیزی سے کام جاری ہے کہ شیخ صاحب کے دعوے کے مطابق ہم مرحلہ وار ٹارگٹس کے حوالے سے 4 ماہ آگے ہیں۔ شیخ صاحب نے اعتراف کیا کہ اگر سی پیک نہ آتا تو ہمارا پروجیکٹ اتنی تیزی سے تکمیل کے مراحل طے نہ کر پاتا۔ ہماری درخواست پر وزیراعظم پاکستان نے خصوصی طور پر اس پر توجہ دی اور پھر غالباً پاکستان کی سیاسی تاریخ میں کسی اقتصادی منصوبے کے حوالے سے یہ پہلا پروجیکٹ ہے جس کا سنگِ بنیاد رکھنے کی تقریب میں پہلی بار سابق صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم میاں نواز شریف نے شانہ بہ شانہ کھڑے ہو کر یہ پیغام دیا کہ یہ ایک ’’قومی پروجیکٹ‘‘ ہے۔ شیخ صاحب نے سندھ تھر کول پروجیکٹ کے حوالے سے ہماری روایت کے بر خلاف سابق وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا ۔ وعدے کے مطابق دس منٹ بعد شیخ صاحب کی ہمراہی میں‘ میں پتھریلی سڑکوں کے دائیں بائیں چینیوں اور تھّریوں کو 50 ڈگری ٹمپریچر میں جس طرح جتے دیکھا اُس پر اُن کی استقامت اور عظمت کو بے ساختہ سلام پیش کیا۔ سال بھر پہلے پروجیکٹ پر دس بارہ گاڑیاں‘ ٹریکٹر اور مشینیں اور اُن پر سو ڈیڑھ سو افراد سر گرم نظر آتے تھے۔ شیخ صاحب نے تھر کول پروجیکٹ کے عین قلب میں ایک انتہائی گہری کھائی کی طرف انگلی سے اشارا کرتے ہوئے بتایاکہ اگر مزید اتنی ہی گہرائی میں گئے تو کوئلے کی پہلی کھیپ اگلے سات ماہ بعد بیلٹ سے پلانٹ کو روانہ ہوگی۔گہرائی سے نکلی مٹی کو دیکھنے کے لئے مشکل سے بس دو تین منٹ گاڑی سے باہر گزرے کہ لگا ایک قیامت ٹوٹ رہی ہے۔ واپس لوٹا تو دوپہر کا آخری پہر تھا ۔ یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ وطن عزیز کا یہ پہلا پرائیوٹ‘پبلک پروجیکٹ اُن مخالفین کے لئے ایک جواب ہوگا جنہیں سندھ میں وڈیرہ شاہی‘ اداروں کی تباہی اور بچوں کی اموات ہی نظر آتی ہیں ۔۔۔

مضمون نگار پاکستان کے ایک معروف صحافی اور تجزیہ نگار ہیں۔ آپ ایک نجی چینل پر حالات حاضرہ سے متعلق ایک پروگرام کے میزبان بھی ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
Read 458 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter