سوشل میڈیا پر شدت پسند اتنے کامیاب کیونکر ؟

Published in Hilal Urdu June 2017

تحریر: عفت حسن رضوی

تحریر کو پڑھنے سے پہلے وہ قارئین جن کے پاس انٹرنیٹ کی سہولت ہے ذرا گوگل سرچ کریں "بیتھنی موٹا" ، اکیس سالہ امریکی ویب اسٹار جو وڈیو بلاگر ہے ، اس وقت یوٹیوب پر ایک کروڑ سے زائد فالوئرز رکھتی ہے جو کسی بھی عالمی سیاسی لیڈر یا ہالی وڈ اسٹار سے زیادہ ہیں ، بیتھنی نہ کوئی اداکارہ ہے نہ کسی سیاسی شخصیت کی بیٹی اور نہ ہی کوئی علمی ادبی پس منظر۔ بیتھنی نے دوہزار نو میں جب وہ صرف پندرہ سال کی تھی یوٹیوب پر اپنا چینل بنایا اور اپنی روزمرہ کی وڈیوز موبائل سے بنا کر انٹرنیٹ پر لگانے لگی ، جلد ہی نو عمر لڑکے لڑکیوں کی ایک بڑی تعداد بیتھنی کی گرویدہ ہوگئی، اب حال یہ ہے کہ وہ ویب ریٹنگ میں امریکی پاپ گلوکارہ کیٹی پیری اور میڈونا سے کئی درجے اوپر ہے۔


بیتھنی جیسے کتنی ہی نو عمر لڑکے لڑکیاں ٹیکنالوجی کے اس دور میں اپنی شناخت ڈھونڈنے کی تگ و دو میں لگے ہیں ، یہ وہ خو ہے جو انہیں اپنے والدین ، خاندان اور اپنے معاشرے سے الگ اپنی پہچان بنانے کے لئے اکساتی ہے، یہ کوئی منفی جذبہ نہیں ، اپنا نام بنانے کی خاطر تو اللہ جانے سیانے لوگ کئی زمانوں سے کیا کیا جتن کر رہے ہیں۔ اب دور اور ہے ، اب ہاتھوں میں چمکیلے اسمارٹ فونز وہ آفت کے پرکالے ہیں جو انگلیوں کی پوروں سے کلک ہوتے ہی ان نوجوانوں کو ایک نئی دنیا میں پہنچا دیتے ہیں۔


ہم جیسے عام سے لوگ اس بات سے انکار نہیں کرسکتے کہ ایک تصویر فیس بک پر لگانے کے بعد ہماری جبلت ہمیں مجبور کرتی ہے کہ دیکھیں کتنے لوگوں نے لائک کیا، کوئی اچھوتا کام کرکے اس کی تفصیل سوشل میڈیا پر ڈالتے ہی اشتیاق ہوتا ہے یہ جاننے کا کہ کتنے لوگوں نے میرا کارنامہ پسند کیا اورکس کو پسند نہیں آیا ۔

socialmediaper.jpg
حیدرآباد کی نورین لغاری ، اچھی خاصی زندگی اور ایم بی بی ایس کی پڑھائی چھوڑ کر ایک دہشت گرد گروپ سے جا ملی ، بغیر کسی کے زور زبردستی کے خود اپنے والدین‘ دوستوں اور اساتذہ کو دھوکا دے کر لاہور جا نکلی ، لاہور جا کر اس لڑکے علی طارق سے شادی کرلی جو شدت پسند تھا، نورین نے خود کو تیار کرلیا کہ وہ مسیحیوں کے اہم دن ایسٹر پر ، خود کو کسی چرچ میں دھماکے سے اڑا لے گی۔ یہ سب اپنی پہچان ، اپنی شناخت ڈھونڈنے کے سوا کیا ہے؟ نورین کو ایک دہشتگرد لڑکے کی باتوں میں اپنے لئے اہمیت نظر آئی ، حیدرآباد کے علاقے حسین آباد کے رہائشی ، سندھ یونیورسٹی کے پروفیسر عبدالجبار لغاری کی بیٹی نورین کو اپنے بل بوتے پر حیدرآباد سے لاہور جانے میں ایڈونچر محسوس ہوا ، ایسا نہیں کہ نورین کو معلوم ہی نہیں تھا کہ علی طارق ایک شدت پسند لڑکا ہے ،جس کے منصوبوں میں معصوم افراد کا قتل عام شامل ہے ، بس نورین علی طارق کی شخصیت کے حصار میں تھی۔


میں یہ تحریر کسی عمومی رائے کے طور پر نہیں لکھ رہی ،2015 میں میرا امریکی ریاست کالوراڈو کے شہر ڈینور میں کافی عرصے تک قیام رہا، ڈینور میں میری دوستی فرینک اینیلو سے ہوئی ، فرینک کالوراڈو میں پراجیکٹ ورتھ مور نامی این جی او چلاتے ہیں جوکہ سیاسی پناہ حاصل کرنے والے مسلمان پناہ گزینوں کی مدد کرتی ہے۔ فرینک سے ہی پتا چلا کہ 2014 میں ڈینور میں مقیم ایک سومالی پناہ گزین فیملی کی دو نو عمر بچیاں گھر سے ہائی اسکول گئیں‘ واپس نہ آئیں ، کچھ دیر بعد انہوں نے گھر والوں کو اطلاع دی کہ وہ شام میں جاری جنگ کے لئے دہشت گرد تنظیم داعش میں شامل ہونے جارہی ہیں۔ اگرچہ بروقت کارروائی کرکے ان کم سن لڑکیوں کو جرمنی سے پکڑ لیا گیا مگر یہ واقعہ ایک بڑے سوال کے طور پر ابھر کر سامنے آیا کہ آخر کیوں ان بچیوں کو پر سکون زندگی چھوڑ کر داعش میں شمولیت کا خیال سوجھا۔


اس حوالے سے ڈینور کی انٹیلی جنس سروسز نے جب کریدا تو معلوم ہوا کہ دونوں بہنیں سوشل میڈیا پر ایسے دوستوں کے ساتھ رابطے میں تھیں جو داعش کو کسی ایڈونچر رائیڈ کے طور پر پیش کرتے تھے ، انہیں کم عمری میں یورپین مسلمان لڑکوں سے شادی کا جھانسہ دیا گیا، فرینک اینیلو کی مدد سے میری ملاقات ان بچیوں کے والد سے ہوئی، اس واقعہ کو ایک سال گزر گیا تھا، بچیوں کے والد علی فرح مجھے مسلمان اور پاکستانی جان کر خاصے خوش تھے ، کچھ بات ہوتی رہی پھر جب فرینک نے میرا تعارف پاکستانی صحافی کے طور پر کرایا تو علی فرح مکمل طور پر ناگواری کے ساتھ خاموش ہوگئے بس اتنا ہی بتا سکے کہ ایک سیاہ فام پناہ گزین لڑکی کے لئے انٹرنیٹ پر خوش شکل گورے یورپی مسلمان لڑکے کی داعش جوائن کرنے کی آفر کتنی اہمیت رکھتی ہوگی ، اندازہ خود لگا لیں۔


گزشتہ چند برسوں میں تقریبا ایک ہزار برٹش نیشنل شام اور عراق جاچکے ہیں جن میں بعض تو مسلمان بھی نہیں،اچھی خاصی تعداد کالجز اور ہائی اسکول طالبات کی ہے۔ پاکستان میں کسی پڑھی لکھی لڑکی کا گھر بار چھوڑ کر شدت پسند تنظیم میں شامل ہونا اگرچہ عمومی مسئلہ تو نہیں مگر نورین لغاری کامعاملہ ٹیسٹ کیس ہے۔ یہ واقعہ پہلا ہے مگر آخری نہیں۔
ایسی خبریں روز اخبارات کی زینت بنتی ہیں کہ اسلام آباد کی لڑکی کو قصور کے لڑکے نے شادی کا جھانسہ دے کر قتل کردیا ، کراچی کے کسی امیر خاندان کی لڑکی کی لاش چک اٹھائیس جنوبی پنجاب کے ایک ہوٹل سے ملی، انٹرنیٹ کی دوستی جان کو پڑگئی سرگودھا کے لڑکے کو اٹک میں لوٹ لیا گیا۔ یہ فرضی نام سہی مگر ایسی خبریں ہم صحافیوں کی روزمرہ رپورٹنگ کا حصہ ہیں۔ کیا بعید ہے جو محض شادی کا جھانسہ تھا وہ کسی شدت پسند تنظیم میں شمولیت کا پیغام ہو۔
یہ کوئی زیب داستان نہیں،آج کل کی حقیقت ہے کہ نو عمر بچے بچیوں کو شیشے میں اتارنے کے لئے دہشت گرد تنظیمیں سوشل میڈیا کو بہت فعال طریقے سے استعمال کررہی ہیں ، خوش شکل لڑکے لڑکیاں سوشل میڈیا پر اپنی تصاویر شئیر کرتے ہیں، یہاں مذہبی عقائد ڈسکس ہوتے ہیں ، نوجوان اپنی نفسیاتی الجھنوں پر بات کرتے ہیں ، رفتہ رفتہ صنف مخالف میں کوئی ایک ایسا ٹکر جاتا ہے جو محبت میں مذہبی عقائد کی آمیزش کرکے ایسا رومانوی پلان بناتا ہے جس کی انتہا کوئی بم دھماکہ اور معصوموں کا قتل عام ہوتا ہے۔


اس آنے والے طوفان کا صرف ایک بند ہے ، اس مرض کا علاج اگر کسی کے پاس ہے تو وہ ہیں والدین، ایڈونچرز کے اس سونامی میں والدین ہی اپنے بچوں کی انگلی پکڑ کر، سنبھل کر چلنا اور اپنی شناخت بنانا سکھا سکتے ہیں۔
دنیا کی طاقتور عسکری قوت امریکہ اوربرطانیہ کی فوجیں بھی کسی کے گھر میں گھس کر یہ نہیں جان سکتیں کہ نوجوان لڑکے لڑکیوں کے والدین سے تعلقات کیسے ہیں، وہ کن سے ملتے ہیں ، کہاں جاتے ہیں اور یہ انٹرنیٹ پر جو گھنٹوں طویل نشستیں چلتی ہیں تو یہ کس سے بات کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا سرویلنس کے ہزار ہا طریقے ایجاد ہو بھی جائیں تب بھی پوری دنیا میں موجود دو ارب ٹین ایجرز اور نوجوانوں پر مکمل طور پر نگاہ رکھنا ناممکن ہے۔
جس طرح بھوک لگنا فطری فعل ہے مگر اس کے لیئے کھانا کھانے کی ایک حد ہے ، جیسے بیماری کا علاج کرنا فطری ہے مگر اس کے لئے دوا لینے کی بھی اپنی حدود ہیں ایسے ہی ٹیکنالوجی کے دور میں معلومات حاصل کرنے کی خُو اچھی اور فطری ہے، مگر اس کی بھی اب حدود و قیود واضح کرنا ہوں گی، جس یوٹیوب کی ویب سائٹ پر بچوں کی اے بی سی اور ٹوئنکل ٹوئنکل لٹل اسٹار کی نظم وڈیو کی شکل میں موجود ہے وہیں عمر کی حد ملحوظ خاطر رکھے بغیر جہادی ، شدت پسند اور عصبیت پسندوں کی پروپیگنڈہ وڈیوز ایک کلک کی دوری پر ہیں، حکومت چاہے تو اس سلسلے میں پالیسی لا سکتی ہے ،" ایج ریسٹرکشن " کی اصطلاح ایسی بھی کوئی راکٹ سائنس نہیں۔ یہ ممکن ہی نہیں کہ روزانہ رات کو آپ اپنی اٹھارہ سالہ بیٹی کے ہاتھ سے موبائل چھین کر اس کی سیکورٹی اسکروٹنی کرکے واپس کردیں اور وہ ردعمل میں اپنی معمولی باتیں بھی آپ سے چھپا نہ سکے۔میرے خیال میں تو اب والدین کو اپنے نوجوان بچوں کو سوشل میڈیا کے استعمال پر طعن و تشنیع دینے کے بجائے ان کی فیملی لسٹ کے ساتھ ساتھ فرینڈ لسٹ میں بھی شامل ہونے کی ضرورت ہے۔

مضمون نگار نجی نیوز چینل میں ڈیفنس کاریسپانڈنٹ بلاگر اور کالم نگار ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
Read 235 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter