بھارتی جنگی جنون اور دفاعی بجٹ

Published in Hilal Urdu June 2017

تحریر: خالد محمود رسول

بھارت کا جنگی جنون اور خطے میں برتری کی شدید خواہش ڈھکی چھپی نہیں۔ حال ہی میں بھارتی ایئر فورس کے سربراہ بی ایس دھنوا نے پہلی بار اپنے دستخطوں کے ساتھ اپنے بارہ ہزار سے زائد افسروں کو براہِ راست مخاطب کرتے ہوئے ایک خط تحریر کیا ہے جس میں انہیں کسی بھی وقت کسی بھی چیلنج کے لئے تیار رہنے کی ہدایت کی ہے۔ اخبارات کو اس خط کی اطلاع پہنچی تو زیادہ تر ماہرین نے اسے بھارتی سیکیورٹی کو درپیش مسائل کے پس منظر میں ایک سنگین اشارہ سمجھا۔ بھارت اس وقت کشمیر میں جاری مزاحمت اور تحریک آزادی کو دبانے کے لئے ہر حربہ آزما رہا ہے۔ مزاحمت کی شدت بھارتی افواج کی جارحیت سے شدید تر ہے جس پر بھارت کو ملک کے اندر اور ملک سے باہر سبکی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بھارت نے مسلسل پاکستان کی سرحدوں اور لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزیوں کووطیرہ بنایا ہوا ہے تاکہ دنیا کی نظر کشمیر کے نہتے شہریوں پر توڑنے والے مظالم سے ہٹا سکے۔


ابھی اس غیر معمولی خط پر تبصرے جاری تھے کہ ایک اور خبر نے دفاعی حلقوں کی توجہ مبذول کرا لی۔ اسرائیل کے سرکاری ادارے اسرائیل ایرو سپیس انڈسٹریز نے بھارتی نیوی کے لئے 630 ملین ڈالرز کے میزائیل ڈیفنس سسٹم اور دفاعی ساز و سامان کی فروخت کا معاہدہ کیا۔ یہ خریداری اپریل میں دونوں ممالک کے مابین ہونے والے اسرائیل بھارت کے درمیان اب تک ہونے والے سب سے بڑے خریداری معاہدے کے تحت ہوئی۔ اس معاہدے کی رو سے اسرائیل ٹیکنالوجی سے لیس دو ارب ڈالرز کے ہتھیار اور سازو سامان بھارتی نیوی کو فراہم کرے گا۔ اسرائیل کے دفاعی حلقوں میں اس معاہدے پر خوشی کی لہر دوڑ گئی کیونکہ اسرائیل کے اس اسلحہ ساز ادارے کی تاریخ کا یہ سب سے بڑا اسلحہ بیچنے کا معاہدہ تھا۔

bharatkajangijnoon.jpgبھارت آبادی کے اعتبار سے دنیا کا دوسرا سب سے بڑا ملک ہے۔ دنیا بھر میں انتہائی غریب افراد کی سب سے زیادہ تعداد بھارت میں ہے۔ اس تلخ حقیقت کے باوجود یہ بھی ایک سنگین حقیقت ہے کہ بھارت کا جنگی جنون اسے چین نہیں لینے دے رہا ۔ دفاعی اخراجات کے اعتبار سے اب بھارت دنیا کا پانچواں سب سے بڑا ملک بن چکا ہے۔ اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ دنیا بھر کے نمایاں ممالک کے ملٹری اخراجات پر مبنی ایک حقائق نامہ یعنی
Fact Sheet
ترتیب د یتا ہے۔ اس ادارے کی 2016کی رپورٹ کے مطابق دنیا میں سب سے زائد ملٹری اخراجات امریکہ نے کئے یعنی 611 ارب ڈالر جو اس کی مجموعی قومی پیداوار کا3.3% تھا۔ دوسرے نمبر پر چین، تیسرے نمبر پر روس، چوتھے نمبر پرسعودی عرب اور پانچویں نمبر پر بھارت تھا۔ بھارت کے کل ملٹری اخراجات کا اندازہ 55.9 ارب ڈالر لگایا گیا جو اس کی مجموعی قومی پیداوار کا 2.5 %تھا۔ اس کے برعکس پاکستان کے ملٹری اخراجات کا تخمینہ اس فیکٹ شیٹ کے مطابق فقط 9.9 ارب ڈالر لگایا گیا۔
بھارت کا بجٹ 2017-18 یکم فروری کو پیش کیا گیا۔ بھارت کے تمام دفاعی اداروں کے لئے بشمول پنشن اخراجات وزیر خزانہ ارون جیتلی نے 3,59,854 کروڑ بھارتی روپوں کا دفاعی بجٹ پیش کیا یعنی 53.3ارب ڈالر کے برابر۔ پنشن کے لئے مختص 85,740کروڑ بھارتی روپے کے بعد اس دفاعی بجٹ کا حجم 2,74,144کروڑ بھارتی روپے ہے یعنی چالیس ارب ڈالرز سے کچھ زائد۔ یہ بجٹ گزشتہ سال کے بجٹ سے 5.54% زیادہ ہے۔ اس بجٹ کے ساتھ ایک تین سالہ میڈیم ٹرم
Fiscal Policy Statement
بھی پیش کی گئی جس کے مطابق دفاع کے لئے مختص جاری اخراجات میں 2018-19میں آٹھ فیصد اضافہ کیا جائے گا جبکہ 019-20 میں اسے مزید 11%بڑھایا جائے گا۔
دفاعی اخراجات اصل میں کتنے ہیں؟ اسے عام آدمی کی نظر سے چھپانے کے لئے گزشتہ سال سے بجٹ میں اسے پیش کرنے کا انداز بدل دیا گیا ہے ۔ سالہاسال سے بجٹ میں دفاعی اخراجات کی مختلف مدوں کے لئے ایک
Demand of Grant Format
رائج تھا۔ اس سال کے بجٹ میں گزشتہ سال کی طرح اس میں تبدیلی روا رکھی گئی جس کی وجہ سے دفاعی تحقیقی اداروں کو بھی اصل دفاعی اخراجات کا کھوج لگانے میں دقت پیش آئی۔
گزشتہ سال کے اخراجات کے گوشوارے بجٹ کے ساتھ پیش کئے گئے تو یہ حیران کن امر سامنے آیا کہ گزشتہ سال دفاع کے لئے مختص وسائل کا8.11% استعمال نہ کیا جا سکا یعنی 6,970کروڑ بھارتی روپے استعمال نہ کئے جانے کی صورت میں یہ رقم واپس حکومتی خزانے میں چلی گئی یعنی
Surrender
کر دی گئی۔
بھارتی دفاعی بجٹ کی مختلف افواج اور دفاعی اداروں میں تقسیم کچھ یوں ہے ؛ انڈین آرمی پر کل دفاعی بجٹ کا 57% خرچ ہوتا ہے۔ اس کے بعد دوسرا سب سے بڑا حصہ بھارتی ایئر فورس کے لئے مختص ہوتا ہے یعنی 22 % ۔ نیوی کے لئے چودہ فی صد، ڈیفنس ریسرچ ایند ڈیویلپمنٹ ادارے کے لئے چھ فی صد اور آرڈی نینس فیکٹریوں کے لئے ایک فی صد مختص کیا گیا۔ دفاعی صلاحیتوں کی اپ گریڈیشن کے لئے مختص بجٹ میں آرمی اور نیوی کے بجٹ میں فی صدی اضافہ نہیں کی گیا البتہ بھارتی ایئر فورس کو جدید بنانے کے لئے مختص بجٹ میں 12 % اضافہ کیا گیا۔ اس نمایاں اضافے کا مقصد بھارتی ایئر فورس کے لئے نئے رافیل جنگی طیارے، اپاچی اور چینوک ہیلی کاپٹرز کی مزید خریداری کو ممکن بنانا ہے۔


بھارت کی معیشت گزشتہ تین سالوں کے دوران عالمی معیشت میں مشکلات کے باوجود سات فی صد سالانہ کے لگ بھگ شرح نمو کے ساتھ بڑھتی رہی۔ اس سے قبل کئی سال تک مسلسل بھارت کی معیشت دس گیارہ فی صد سالانہ کی رفتار سے نمو پاتی رہی۔ اس وقت عالمی معیشت میں شرح افزائش میں اضافہ واجبی سا ہے۔ گزشتہ کچھ عرصے سے دنیا کے اکثر ممالک میں فری مارکیٹ کے خلاف ردِ عمل دیکھنے میں آیا ہے۔ یورپ میں پاپولر سیاست دان یورپی یونین اور آزادانہ عالمی تجارت سے اپنے ملکوں کے لئے مناسب
Protection
کے حامی ہیں۔ امریکہ کے حالیہ صدارتی انتخابات میں بھی عالمی تجاری معاہدوں پر کڑی تنقید کی گئی۔ بلکہ نئے صدر نے پہلے سے تقریباٌ طے شدہ معاہدے ٹرانس پیسیفک پارٹنر شپ میں شمولیت سے انکار کر دیا۔ بعد ازاں یورپ اور امریکہ کے درمیان زیرِ غور معاہدے ٹرانس انٹلانٹک ٹریڈ اینڈ ایویسٹمنٹ پارٹنرشپ کے مذاکرات بھی معطل کر دئیے ہیں۔ بھارتی معیشت برآمدات ، درآمدات اور سرمایہ کاری کے بھاری حجم کی وجہ سے عالمی معیشت کے ساتھ بہت مربوط ہے۔ بھارت کے ماہرین معیشت بھارت کی گزشتہ عشرے کی نسبت حالیہ تین فی صد کم شرح نمو پر اکثر تشویش کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔ ملک کے اندر غربت، کرپشن اور کم ہوتی ہوئی شرح نمو بھارتی معیشت کے لئے بہت بڑے چیلنجز ہیں لیکن اس کے باوجود بھارت اپنے دفاعی بجٹ میں مسلسل اضافہ کئے جا رہا ہے۔ بلکہ علاقائی برتری کے خبط میں مبتلا اکثر ماہرین اس بجٹ کو مزید بڑھانے کے لئے مشورے دیتے رہتے ہیں کہ بقول ان کے بھارت کی افواج کے موجودہ سازو سامان کو نئے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے اور بڑی طاقتوں کے ہم پلّہ بنانے کے لئے موجودہ بجٹ ناکافی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ حکومت نے تین سالہ پالیسی پیپر میں اگلے سال مزید آٹھ فی صد اور اس سے اگلے سال مزید گیارہ فی صد کا عندیہ ابھی سے ظاہر کر دیا ہے۔


بھارت کے جنگی جنون کا سب سے بڑا اور مسلسل نشانہ پاکستان ہے۔ پاکستان کی طویل سرحد پر باڑ لگانے کے باوجود پاکستان پر دراندازی کے الزامات لگانے کا سلسلہ بھارت میں اپنی سکیورٹی کی ناکامی کے ہر نئے واقعے کے ساتھ پھر سے شروع کر دیا جاتا ہے۔ پٹھانکوٹ ایئر بیس پر حملہ ہو یا اڑی کیمپ پر حملہ، ابھی گولیوں کی تڑتڑاہت ختم نہیں ہوتی کہ بھارتی میڈیا کی انگلیاں پاکستان کی طرف اٹھ جاتی ہیں اور زبانیں پاکستان کے خلاف زہر اگلنا شروع کر دیتی ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں جاری آزادی کی تحریک دبانے میں ناکامی اور وہاں لاکھوں کی تعداد میں بھارتی فوج کی موجودگی اور بربریت کے باوجود کشمیریوں کی حیران کن مزاحمت نے بھارتی انا اور برتری کے تفاخر کو زمیں بوس کر دیا ہے۔ افغانستان میں پاکستان دشمنی پر مبنی کارروائیوں، پاکستان کی سرحدوں پر اور پاکستان کے اندر مکروہ خفیہ کارروائیوں کے سامنے پاکستان کی افواج نے کامیابی سے بند باندھ رکھا ہے۔ سی پیک منصوبے پر بھارت دنیا بھر میں واویلا مچا رہا ہے۔ پاکستان کو سفارتی تنہائی کا شکار کرنے والا بھارت اس وقت خود سفارتی تنہائی کا شکار ہو گیا جب گزشتہ ماہ بیجنگ میں ون بیلٹ اینڈ ون روڈ منصوبے کے لئے کانفرنس میں انچاس سربراہان مملکت سمیت 130ممالک نے شرکت کی لیکن بھارت نے عین آخری وقت پر سی پیک پر اپنے اعتراض کو بہانہ بنا کر شرکت سے کنارہ کشی کر لی۔


بھارت کا جنگی جنون پاکستان کے خلاف ہمیشہ کی طرح مصروفِ عمل ہے لیکن اب سی پیک کے منصوبے کے بعد بھارت کا جنون نئی حدوں کو چھو رہا ہے۔ سرحدوں پر مسلسل گولہ باری اور پاکستان میں غیر اعلانیہ اور خفیہ کارروائیوں کا واحد ہدف پاکستان کو معاشی اور عسکری طور پر الجھانا اور کمزور کرنا ہے۔ پاکستان نے بجا طور پر اپنی دفاعی پیداوار میں مسلسل خود انحصاری پر توجہ دے کر اپنے دفاع کو مزید محفوظ اور مضبوط کرنے کا عمل کامیابی سے جاری رکھا ہے۔ بھارت کے حالیہ دفاعی بجٹ میں مزید اضافے ، نئے جنگی سازو سامان کی خریداری اور اپنے افسران کی ہمہ وقت تیار رہنے کی ہدایت ظاہر کر رہی ہے کہ بھارت کا جنگی جنون ٹھنڈا ہونے کی بجائے مسلسل بھڑک رہا ہے۔ ایسے میں پاکستان کو اپنے دفاع کے لئے ہمیشہ کی طرح چوکس اور دفاعی سازو سامان میں برتری یا کم از کم توازن رکھنے کی حکمت عملی پر عمل پیرا رہنے کی ضروت ہے۔

مضمون نگار ایک قومی اخبارمیں سیاسی ‘ سماجی اور معاشی موضوعات پر کالم لکھتے ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
Read 332 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter