بدلتے حالات میں مسلم امہ کااتحاد،وقت کی اہم ضرورت

Published in Hilal Urdu June 2017

تحریر: علی جاوید نقوی

سعودی عرب کے دارلحکومت ریاض میں ہونے والی امریکہ ،عرب اسلامی سربراہی کانفرنس اپنی نوعیت کے حوالے سے ایک منفردکانفرنس تھی، کانفرنس کے کیانتائج برآمد ہوں گے ،یہ آنے والاوقت بتائے گا۔ حیرت کی بات ہے امریکی صدر کودہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیاں نظر نہ آئیں ،انہوں نے پاکستان میں دہشت گردی کوفروغ دینے والے بھارت کودہشت گردی سے متاثرہ ملک قراردے دیا۔اس کانفرنس سے ہمیں ایک سبق ضرور ملا ہے کہ آنکھیں بند کرکے کسی پراعتماد کرنے کے کیانتائج ہوسکتے ہیں۔پاکستان عالم اسلام کی قیادت کی نہ صرف اہلیت رکھتاہے،بلکہ پاکستان ہی وہ واحداسلامی ملک ہے جس پرمشرق وسطی تنازعے کے تمام فریق اعتماد کرتے ہیں۔ہم اپنی غیرجانب دارانہ حیثیت برقراررکھتے ہوئے ،مشرق وسطی میں قیام امن کے لئے مؤثرکردار ادا کر سکتے ہیں۔ اس کانفرنس کی صدارت سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیزنے کی ۔ تمام مسلم ممالک کادہشت گردی اوردہشت گردو ں کے خلاف مل کرجنگ لڑنا ایک سنہرا خواب ہے ۔کیا ہی اچھاہوتا اس’’عرب اسلامک امریکن سمٹ‘‘ میں دیگربرادر اسلامی ممالک کو بھی مدعوکرلیاجاتا ۔اس کانفرنس میں دعوت نامے کے باوجود ترکی کے صدررجب طیب اردگان نے شرکت نہیں کی ،ترکی کی نمائندگی ترک وزیرخارجہ نے کی۔


امریکہ ،عرب اسلامی کانفرنس کے اختتام پرجومشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا۔ اس میں کہا گیا ہے کہ’’ عالمی اورعلاقائی سطح پردہشت گردی،انتہاپسندی کی روک تھام اورامن واستحکام وترقی کے لئے عرب واسلامی ممالک اورامریکہ قریبی پارٹنرشپ قائم کریں گے۔ فریقین نے مشترکہ کارروائیوں اورتعلقات کی مضبوطی کے لئے تعاون بڑھانے اوراقدامات اٹھانے کے لئے تمام وسائل بروئے کار لانے پراتفاق کیا‘‘۔مشترکہ کارروائیوں کالفظ اپنے اندربہت سے معنی لئے ہوئے ہے۔ کیا ان مشترکہ کارروائیوں میں پاکستان شامل ہوگا؟ امریکہ اورخلیج تعاون کونسل (جی سی سی ) کے درمیان دہشت گردوں کی فنڈنگ روکنے کے لئے بھی ایک سمجھوتہ طے پایا ۔اس حوالے سے امریکہ اورچھ خلیجی ممالک کے حکام نے مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط کئے ۔ سربراہ اجلاس کے بعدصدرٹرمپ نے ریاض میں انتہاپسندی کے انسداد کے لئے قائم ہونے والے خصوصی انسٹی ٹیوٹ’گلوبل سنٹرفارکومبیٹنگ ایکسٹریم ازم‘‘ کی افتتاحی تقریب میں بھی شرکت کی۔یہ سنٹرانتہاپسندانہ نظریات سے لڑنے کے لئے حکمت عملی بنائے گا۔اس کے بورڈ آف ڈائریکٹرزمیں مختلف ممالک سے بارہ نمائندے منتخب کئے جائیں گے۔


دہشت گردی اوردہشت گردوں سے نمٹنے کے لئے مسلم ممالک کی مشترکہ فوج ایک اچھاآئیڈیاہے۔اس پرمزید کام کیاجاناچاہیے ۔اس اسلامی فوج کوپوری امت مسلمہ کی فوج بنانے کی ضرورت ہے۔امت مسلمہ کادشمن تویہ ہی چاہتا ہے کہ ہم فرقہ وارانہ اختلافات کاشکارہوجائیں۔سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی اسلامی اتحادی فوج کی سربراہی پاکستان کے لئے یقینی طورپرایک اعزاز ہے اورامید ہے جلد ایک پیشہ ور فوج تیارہوجائے گی،جوداعش اورالقاعدہ جیسی دہشت گردتنظیموں سے نمٹ سکے گی۔ سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف بھی اس کانفرنس میں موجود تھے۔

badaltyhalatmuslim.jpg
یہ پاکستان کے امتحان کابھی وقت ہے ،سعودی عرب اورایران دونوں پاکستان کے دوست ہیں۔دونوں ممالک نے مشکل وقت میں پاکستان کاساتھ دیا۔ پاکستان نے بھی ہمیشہ ان دونوں دوستوں کواہمیت دی اوربھائی سمجھا۔اب ہمارے ان دونوں دوستوں میں بعض امورخصوصاشام اوریمن کے معاملے پرسخت کشیدگی ہے۔پاکستان کی اسلامی ممالک کی اتحادی فوج میں شرکت پربرادرملک ایران کے تحفظات ہیں۔جبکہ ہم مشکل وقت میں سعودی عرب کوبھی تنہانہیں چھوڑسکتے۔اس کانفرنس میں ایران کانام لے کراسے تنہاکرنے کی باتوں نے پاکستان کوآزمائش میں ڈال دیا ہے۔بہترہوتااس کانفرنس سے پہلے پاکستان، سعودی عرب اورایران کواپنے اختلافات کم کرنے اوربات چیت کے ذریعے طے کرنے پرراضی کرلیتا۔جہاں تک طاقت کے ذریعے مسائل حل کرنے کامعاملہ ہے تودنیا کے سامنے امریکہ کی مثال موجودہے جوآج تک افغانستان میں کامیاب نہیں ہوسکا۔


کانفرنس میں امریکی صدرنے جوکچھ کہا،ہماری طرف سے یہ پیغام ضرور جاناچاہئے تھاکہ ہماراامریکی پالیسیوں سے سوفیصد متفق ہوناضروری نہیں،خاص کر بھارت کی شان میں صدرٹرمپ نے جو فرمایاہے۔ سعودی فرماں رواشاہ سلمان بن عبدالعزیزنے اپنے خطاب میں اسلامی عسکری اتحاد کابھی ذکرکیااورکہا کہ یہ اتحاددہشت گردی کوشکست دینے کے لئے بنایاگیاہے۔ دہشت گردی کے خلاف اسلامی ممالک کااتحاد ایک اچھااقدام ہے لیکن اگراس اتحادمیں امریکہ بھی شامل ہوگاتوبہت سے سوالات اورغلط فہمیاں پیداہوں گی ۔ مشرق وسطی میں ہمارا کردار ایک ثالت کاہوناچاہیے فریق کانہیں۔داعش اورالقاعدہ جیسی تنظیمیں مسلم ممالک میں انتشار اورتباہی کاباعث بن رہی ہیں۔داعش نوجوانوں کوورغلاکراپنے منفی مقاصد کے لئے استعمال کررہی ہے۔تاہم داعش اورعلاقے کی اسرائیل مخالف مزاحمتی تنظیموں میں فرق ہے۔
امریکی صدرٹرمپ جن کی کرسی صدارت خطرے میں ہے اوران کے مواخذے کی باتیں ہورہی ہیں۔ٹرمپ نے اپنے پہلے غیرملکی دورے کا آغاز اسلام کے مرکزسعودی عرب سے کرکے اپنے مسلم دشمن ہونے کے الزام کو دھونے کی کوشش کی ہے۔ لیکن اس کے لئے انھیں زبانی جمع خرچ کے علاوہ بہت کچھ کرنا ہوگا۔ ٹرمپ سعودی عرب کے بعد اسرائیل اورویٹی کن سٹی بھی گئے۔ان کا دیوارگریہ جانابھی متنازعہ عمل ہے ،عربوں کے اس علاقے پراسرائیل نے قبضہ کیا ہوا ہے۔ ڈونلڈٹرمپ نے اسرائیل کے دورے کے موقع پرکھل کرکہاکہ’’ اسرائیل سے محبت ہے اوراس کااحترام کرتے ہیں ،وہ اسرائیل کے ساتھ ہیں‘‘۔اگرٹرمپ اسرائیل کے ساتھ ہیں تووہ مسلم ممالک کے ساتھ کیسے ہیں؟بات اتنی سادہ نہیں ہے۔


ٹرمپ اپنے دورے سے یہ بھی ثابت کرناچاہ رہے تھے کہ وہ دنیاکے تین بڑے مذاہب مسیحیت،اسلام اوریہودیت کوساتھ لے کرچلناچاہتے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ مذاہب کی جنگ توہرگز نہیں ہے۔دہشت گردوں کانشانہ تمام مذاہب اورفرقے ہیں۔مشرق وسطی سمیت دنیا بھرمیں جوقتل وغارت جاری ہے اس کی ایک وجہ امریکی پالیسیاں بھی ہیں۔امریکہ کوایسے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے جس سے ایک آزاد فلسطینی ریاست کاقیام جلدازجلد عمل میں آسکے اوراسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم کے آگے بندباندھا جائے ۔


ٹرمپ نے اس کانفرنس میں دہشت گردی کے خلاف تقریر کی ،انہوں نے ایران کی پالیسیوں پرتنقید کی اوراُسے تنہاکرنے کی بات کی ۔پاکستان ،امریکہ کے ساتھ مل کردہشت گردی کے خلاف جنگ لڑرہاہے،لیکن صدرٹرمپ نے ہماری قربانیوں کااعتراف نہ کیا،جس پرہماراشکوہ بنتاہے۔ سابق صدراوبامہ کے دور میں امریکہ اورسعودی عرب کے تعلقات سردمہری کاشکارتھے،جس کی وجہ سے مشرق وسطی امریکی ترجیحات میں نچلی سطح پرآگیاتھا۔اب ان تعلقات میں ایک نئی گرم جوشی آگئی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ امریکہ اورخلیجی ممالک کی اس نئی فرینڈ شپ کے خطے پرکیااثرات ہوں گے۔بعض عرب دوستوں کے گوادرپورٹ کے حوالے سے بہت سے تحفظات ہیں۔امریکہ اوربھارت بھی نہیں چاہتے کہ گوادرپورٹ کے راستے خطے میں چین کااثروروسوخ بڑھے۔


ٹرمپ ایک بزنس مین ہیں انہوں نے امریکی معیشت کومستحکم کرنے اورنوجوانوں کے لئے روزگارکے نئے مواقع پید اکرنے کے لئے اپنے پہلے غیرملکی دورے کے لئے سعودی عرب کاانتخاب کیا۔ وہ سعودی عرب کے ساتھ اربوں ڈالرکے معاہدے کرنے میں کامیاب رہے۔امریکی پالسیی سازوں کواندازہ تھاکہ یہ سعودی عرب کوامریکی اسلحہ بیچنے کابہترین موقع ہے۔سعودی عرب جوپہلے ہی معاشی دباؤ کاشکارہے، اربوں ڈالرکے اسلحے کی خریداری معیشت پرمزیدبوجھ ڈالے گی، جبکہ امریکی اسلحہ سازکمپنیوں کی چاروں انگلیاں گھی میں ہوں گی۔


سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے صدرٹرمپ کوسعودی عرب کے سب سے بڑے اعزازسے نوازا۔اب ظاہر ہے میڈل پہننے کے لئے میڈل دینے والے کے آگے سرجھکاناپڑتا ہے۔صدرٹرمپ پر بداعتمادی کایہ حال ہے کہ صدرٹرمپ کی اس تصویرپرامریکہ میں ہنگامہ کھڑاہوگیا۔چندسال پہلے امریکی صدراوبامہ نے بھی اسی طرح جھک کرمیڈل پہنا تھا،اس وقت ٹرمپ کی طرف سے اوبامہ کوشدید تنقید کانشانہ بنایاگیا۔اب ٹرمپ کواسی تنقید کاسامناکرناپڑا ہے۔


اہم سوال یہ ہے کہ کیاامریکی صدرٹرمپ کے دورے کے اثرات دیگرمسلم ممالک پرمرتب ہوں گے اورکیاصدرٹرمپ مسلم ممالک کے حوالے سے اپنی پالیسی تبدیل کریں گے؟ہمارا خیال ہے یہ سب زبانی جمع خرچ ہے ۔صدرٹرمپ کی مسلم ممالک کے حوالے سے پالیسی تبدیل نہیں ہوگی ۔مسلم دنیا کابھی صدرٹرمپ سے یہ امیدیں وابستہ کرلیناکہ وہ امت مسلمہ کے مفادات کاتحفظ کریں گے ایک لطیفہ ہی ہے۔امریکہ کی اپنی ترجیحات ہیں اوردیگرممالک کی اپنی ترجیحات اورمفادات ہیں ۔ہماری پالیسی ہے کہ ہم کسی ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کریں گے ،اورنہ پاکستان کسی ملک کے اندرمہم جوئی کاارادہ رکھتاہے۔ کسی مسلح گروپ کے ذریعے کسی ملک کی حکومت کو ہٹانے کارحجان کسی طرح بھی قابل قبول نہیں۔اس پالیسی کے تحت پاکستان،شام میں صدربشارالاسد کی حکومت کوتسلیم کرتاہے اوریمن میں حوثی باغیوں کی مسلح جدوجہد کی مخالفت کرتاہے۔یوں اگردیکھاجائے توشام کے مسئلے پرپاکستان ،ایران کے قریب ہے جبکہ یمن کے معاملے پرپاکستان سعودی عرب کے ساتھ ہے۔پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدے موجود ہیں۔پاکستان ان دفاعی معاہدوں پرعمل کرنے اورکسی غیرملکی جارحیت کی صورت میں سعودی عرب کی مدد کاپابند ہے،تحفظ حرمین شریفین بھی ہم سب کی ذمہ دار ی ہے۔ لیکن اس کامطلب یہ نہیں کہ پاکستان کوکسی کے کہنے پرکسی تیسرے ملک میں مہم جوئی شروع کردینی چاہئے۔ہم اس وقت خود ایک مشکل صورتحال کاشکارہیں،دہشت گردوں کے خلاف ایک ایسی لڑائی لڑرہے ہیں۔جس میں ٹی ٹی پی اورداعش جیسی تنظیموں کوغیرملکی خفیہ ایجنسیوں کی مدد بھی حاصل ہے۔یہ بھی واضح ہے کہ ملکوں کے تعلقات باہمی مفادات پرہوتے ہیں ناں کہ مذہب اورفرقے کی بنیادپر۔ امریکہ اورایران کے درمیان مخاصمت چالیس سال سے جاری ہے۔یہ ایران اورامریکہ کی مرضی ہے کہ وہ اپنے تعلقات کس طرح رکھتے ہیں ۔ہم نے اب تک اپنادامن بچاکررکھا ہواہے۔ہمارے دشمن کی شروع سے کوشش ہے کہ پاکستان کوکسی طرح فرقہ واریت کی آگ میں دھکیلاجائے۔لیکن پاکستان کے عوام نے مل کراس سازش کوناکام بنایاہے،سب کے دل پاکستان کے لئے دھڑکتے ہیں۔ہمیں کسی نئی سازش کاشکارہونے کی بجائے بھائی چارے اورامن کی فضا کوقائم رکھنا ہے۔پاکستان میں کوئی فرقہ وارانہ لڑائی نہیں۔مختلف فرقوں کی آپس میں رشتہ داریاں ہیں،جب کسی ایک بھائی کوتکلیف ہوتی ہے اس کادرد دوسرا بھی محسوس کرتاہے ۔ہمارامفاد یہ ہے کہ مسلم ممالک بھی فرقہ واریت کاشکارنہ ہوں۔


سفارتی امورکے بعض ماہرین کی رائے یہ ہے کہ ہمارے عرب دوستوں نے جلدبازی میں اپناوزن امریکی پلڑے میں ڈال کرگھاٹے کاسوداکیاہے۔انھیں امریکہ ،روس اورچین تینوں عالمی طاقتوں کے ساتھ متوازن تعلقات رکھنے چاہئیں۔اگراس کانفرنس میں روسی صدرپیوٹن بھی آجاتے توبہترہوتا۔سارے انڈے امریکہ کی باسکٹ میں ڈالنے کافیصلہ دانشمندانہ نہیں۔امریکی صدرڈونلڈٹرمپ نے خادم الحرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے علاوہ بحرین،کویت،قطر،متحدہ عرب امارات،اومان اورمصرکے سربراہان مملکت سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں ۔میڈیا رپورٹس کے مطابق دفترخارجہ کی کوششوں کے باوجود وزیراعظم نوازشریف اورڈونلڈٹرمپ کے درمیان ون ٹوون ملاقات نہ ہوسکی۔نائن الیون کے بعد پاکستان دہشت گردی کاسب سے زیادہ شکارہواہے۔اب تک ہزاروں لوگ اپنی جانوں کی قربانیاں پیش کرچکے ہیں۔پاکستانی معیشت کواربوں روپے کانقصان ہوا ہے لیکن امریکی صدرٹرمپ نے اپنی تقریرمیں پاکستان کی قربانیوں کاذکرنہیں کیا۔یہ بات طے ہے کہ مشرق وسطی میں اس وقت تک امن نہیں آسکتاجب تک تمام برادرممالک بیٹھ کر مسئلہ حل کرنے کی کوشش نہیں کریں گے۔سعودی عرب اورایران کے اختلافات اتنے سنگین نہیں کہ انھیں دورنہ کیاجاسکے ۔اس لئے بہتر یہ ہی ہے کہ مسلم ممالک اپنے مسائل کاحل کسی دوسرے سے لینے کی بجائے آپس میں بات چیت کا آغاز کریں۔ اس ضمن میں پاکستان ثالثی کاکرداراداکرسکتاہے۔

مضمون نگار اخبارات اورٹی وی چینلز سے وابستہ رہے ہیں۔آج کل ایک قومی اخبارمیں کالم لکھ رہے ہیں۔قومی اورعالمی سیاست پر آٹھ کتابیں شائع کرچکے ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

سرنگوں کبھی نہ ہوپرچم تیرا


زندگی تیرے نام ہے
شہادت مرا انعام ہے
میری عیدیں اور شبراتیں
اے وطن تیرا دوام ہے
تری عظمت و شان و شوکت
مرا سکھ چین آرام ہے
سرنگوں کبھی نہ ہوپرچم تیرا
اسلحہ مرا بے نیام ہے
ترے نظریے کے لئے
پینا شہادت کا جام ہے
تو رہے پائندہ و تابندا
فوج کا بس یہی کام ہے
دنیا میں تُو ہو سربلند‘ اس لئے
لیاقت حاضر صبح و شام ہے
بریگیڈیئرلیاقت محمود

*****

 
Read 189 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter