ون بیلٹ ون روڈ اور پاکستان

Published in Hilal Urdu June 2017

تحریر: حماس حمید چودھری

206 قبل مسیح میں ہان خاندان چین میں برسر اقتدار آیا۔ہان خاندان کی چار سو سالہ حکومت چین کی معاشی تاریخ میں سنہرے دور کے طور پر یاد کی جاتی ہے کیونکہ ہان خاندان نے تاریخ میں پہلی بار ایشیا کو افریقہ اور یورپ کے ساتھ تجارتی مقاصد کے لئے براہ راست جوڑنے کا سوچا اور پھریہی سوچ بنیاد بنی شاہراہ ریشم کی۔ اس قدیم شاہراہ ریشم(سلک روڈ) کی کچھ جھلکیاں آج بھی گلگت شہرسے قراقرم روڈ کے ذریعے خنجراب بارڈر کی طرف جاتے ہوئے دریا کی دوسری جانب دیکھی جاسکتی ہیں۔قدیم زمانے میں شاہراہ ریشم مشرق میں جاپانی جزیروں تک اور مغرب میں بحیرہ روم تک پھیلی ہوئی تھی لیکن بعد میں مختلف وجوہات کے باعث یہ عظیم الشان تجارتی سلسلہ آہستہ آہستہ ختم ہوتا چلا گیا حتیٰ کہ ایشیا اور یورپ کو ایک سڑک کے ذریعے جوڑنے کاسنہری خواب تاریخ کے اوراق میں کہیں گم ہو گیا۔


سیکڑوں سالوں بعد آج جب ہم نے اکیسویں صدی کی دہلیز پر قدم جمالئے ہیں تو ایک بار پھر سے ایشیا کو افریقہ اوریورپ سے ایک سڑک کے ذریعے جوڑنے کا خیال زبان زد عام ہے۔اس خیال کی باز گشت اس وقت سنائی دی جب ستمبر اور اکتوبر 2013ء میں ایشیا اور یورپ کی مختلف ریاستوں کے دورے کے موقع پر چینی صدر شی جن پنگ کی جانب سے مَیری ٹائم سلک روڈ اور سلک روڈ اکنامک بیلٹ کا تصور پیش کیا گیا۔ اس خیال نے اس وقت حقیقت کا روپ دھارنا شروع کیا جب نومبر2014ء میں چینی حکومت نے سی پیک منصوبے کی صورت میں پاکستان میں 46بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا اس معاہدے پر دستخط 20 اپریل 2015ء کو چینی صدر شی جن پنگ نے اپنے دورہ پاکستان کے موقع پر کئے لیکن یہ صرف ابتداء تھی چین کے اس بین البر اعظمی منصوبے کی، جس نے ایشیا کو افریقہ اور یورپ سے براہِ راست جوڑنا تھا‘ 14اور15 مئی 2017ء کو چین نے ون بیلٹ ون روڈ منصوبے کو فروغ دینے کے لئے بیجنگ میں ایک بہت بڑے اجلاس کی میزبانی کی جس میں دنیا بھر کے مختلف ممالک کے سربراہان بشمول روسی صدر ولادی میر پیوٹن اور ترک صدر رجب طیب اردوان اور مختلف نمائندوں نے علاوہ مختلف عالمی اداروں ‘ آئی ایم ایف اور اقوام متحدہ کے سربراہان اور مندوبین نے بھی شرکت کی۔اس دو روزہ اجلاس کے دوران پاکستان اور چین نے تقریباً 500 ملین ڈالر کے بھاشا ڈیم، 333 ملین ڈالر کے گوادر ایئر پورٹ، حویلیاں ڈرائی پورٹ اور ریلوے ٹریک کے منصوبوں کے چھ اضافی معاہدوں پر دستخط کئے جس سے پاک چین اقتصادی راہداری کے منصوبوں کی مالیت اب تقریباً 75بلین ڈالر تک جا پہنچی ہے۔ اس اجلاس میں وزیر اعظم کے ساتھ ساتھ چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کا شرکت کرنا بین الصوبائی ہم آہنگی کا پیغام دیتا ہے جو ایک خوش آئند بات ہے۔ایشیا، مشرق وسطیٰ، یورپ اور افریقہ کے درجنوں ممالک کو براہ راست جوڑنے کے لئے چین سمندری اور زمینی راستوں کا ایک وسیع نیٹ ورک تعمیر کرنا چاہتا ہے جس پر تقریباً ایک کھرب ڈالر لاگت آئے گی۔ چین 2014ء سے اب تک ون بیلٹ ون روڈ سے ملحقہ ممالک کے ساتھ تقریباً 400 ارب ڈالر کے منصوبے سائن کر چکا ہے اور 2017ء میں ہی مذکورہ منصوبوں کے لئے تقریباً 90 ارب ڈالر اپنے تین سرکاری بینکوں میں منتقل کر چکا ہے۔


چین کی ایک کھرب ڈالر کی مجوزہ سرمایہ کاری سے پاکستان اور سری لنکا میں بندرگاہوں سے لے کر مشرقی افریقہ میں تیز رفتار ٹرینوں اور وسطی ایشیا سے گزرنے والی گیس پائپ لائنوں ، سنکیانگ سے گوادرکی گہرے پانی کی بندرگاہ تک57 ارب ڈالر کی لاگت کا زمینی راستہ، ایک ارب ڈالر کی لاگت سے سری لنکا کے شہر کولمبو میں ایک پورٹ سٹی کی تعمیر، سنکیانگ سے سنگاپور تک تین ہزار میل لمبی تیز رفتار ٹرین کی پٹری بچھانے کے ساتھ ساتھ نیوزی لینڈ اور برطانیہ کے ساتھ بھی بیشتر منصوبوں پر عمل درآمد شامل ہے۔اس کے علاوہ چین کا ایگزم بینک افریقہ کے کئی ممالک میں ریلوے نیٹ ورک کے لئے بھی سرمایہ کاری کر رہا ہے۔

onebeltroadpak.jpg
امریکہ کی بھارت نواز پالیسیوں کی وجہ سے پاکستان کے امریکہ سے فاصلے پیدا ہو چکے ہیں۔ چین دنیا کی دوسری بڑی معیشت اور پاکستان کا قریبی دوست اور ہمسایہ ہے۔فوربز کے مطابق چین 2018ء تک معاشی میدان میں امریکہ کو پیچھے چھوڑ کر نمبر ون پر چلا جائے گا اور حالات بھی کچھ ایسے ہی دکھائی دے رہے ہیں کیونکہ فوکس بزنس کے مطابق ایک امریکی اوسطاً 62ہزار ڈالر قرض کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ ون بیلٹ ون روڈ دنیا کا مستقبل ہے اور یہ بین البراعظمی منصوبہ دنیا کو ایک نئی شکل اور ترتیب دے گا۔


مشہور کورین دانشورجے ہو چنگ کا کہنا ہے کہ ون بیلٹ ون روڈ منصوبہ جب مکمل ہوگا تو تقریباً60 ممالک اس کا حصہ ہوں گے اور دنیا کی دو تہائی آبادی اس سے منسلک ہوگی جبکہ یہ عالمی جی ڈی پی کے 55فیصد اور عالمی توانائی کے75فیصد حصے پر مشتمل ہوگا۔ہانگ کانگ کے اخبار ساؤتھ چائنہ مارننگ پوسٹ کے مطابق یہ انسانی تاریخ کا اب تک کا سب سے بڑا اور اہم منصوبہ ہے۔ کچھ تجزیہ نگاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ دنیا اب امریکہ کی امریکہ فرسٹ پالیسی سے تنگ آکر چین کی جانب جھکتی دکھائی دے رہی ہے کیونکہ چین کی پالیسیاں باہمی تعاون ، باہمی دلچسپی اور باہمی منافع پر مبنی ہیں۔چین ایشیائی سپر پاور بننے کے بعد اب عالمی سپر پاور بنتا دکھائی دے رہا ہے جبکہ دوسری عالمی طاقتوں روس اور امریکہ کی جنگی پالیسیوں کی نسبت چین کی پرامن معاشی پالیسیاں ہیں جس کی وجہ سے دنیا چین کی جانب دیکھ رہی ہے۔


اس عالمی اجلاس میں چینی صدر شی جن پنگ نے زور دیتے ہوئے کہا کہ دنیا کا کوئی بھی ملک اس منصوبے کا حصہ بن سکتا ہے اورواشنگٹن پوسٹ کے مطابق ان کا اشارہ بھارت کی جانب تھا کیونکہ بھارت نے اس اجلاس میں شرکت نہیں کی تھی۔ بھارت کا مؤقف ہے کہ اس کے بار ہا احتجاج کے باوجود چین نے بھارت کو اعتماد میں لئے بغیر پاکستان میں سی پیک کا آغاز کر دیا جوکہ ون بیلٹ ون روڈ منصوبے کا ہی حصہ ہے ۔ حالانکہ حالیہ دنوں میں ہی بھارت میں چین کے سفیر لیو ژو ہیو نے نئی دہلی میں منعقدہ ایک تقریب میں پاک چین اقتصادی راہداری پر وضاحت دی کہ سی پیک منصوبہ کسی لحاظ سے بھی بھارت کی ترقی کے خلاف نہیں اور وہ ون بیلٹ ون روڈ کے اس عظیم منصوبے میں بھارت کی شمولیت چاہتے ہیں۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ چینی سفیر کے مذکورہ بیان پر پاکستانی حلقوں نے اعتراضات کئے تھے جس کے بعد چینی سفیر کو سی پیک کا نام تبدیل کرنے کے حوالے سے دیا گیا اپنا بیان واپس لینا پڑا۔


اب یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ ون بیلٹ ون روڈ منصوبے کی کامیابی کا دارومدار پاک چین اقتصادی راہداری کی کامیابی سے منسلک ہے کیونکہ سی پیک ایک فلیگ شپ منصوبہ ہے اور اس کی کامیابی کو چین دنیا کے سامنے بطور مثال پیش کرے گا۔جب بھی کسی بڑے منصوبے کا آغاز کرنا ہو تو اس سے پہلے ایک پائلٹ منصوبہ بنایا جاتا ہے جس کی کامیابی کی بنیاد پر بڑے منصوبے کا آغاز کیا جاتا ہے اس لحاظ سے دنیا کی نظریں سی پیک پر مرکوز ہیں۔ سی پیک کی وجہ سے پاکستان میں سات لاکھ نوکریاں پیدا ہو رہی ہیں تو ون بیلٹ ون روڈ کی وجہ سے ستر لاکھ پاکستانیوں کو روزگار ملے گا اور یہ باتیں ہمارے دشمنوں کو بھاتی نہیں ہیں۔ پاکستان میں ہونے والے حالیہ دہشتگردی کے واقعات کا مقصد بھی سی پیک کو سبو تاژ کرنا تھا۔بارڈر کے اس پار بیٹھے دشمن اور ہماری صفوں میں موجود منافق کبھی نہیں چاہیں گے کہ پاکستان میں معاشی استحکام اور خوشحالی آئے جس کے لئے وہ کسی بھی اخلاقی حد سے گر جانے میں قباحت محسوس نہیں کرتے ۔


اس ساری صورتحال میں افواج پاکستان کا کردار نہایت اہمیت کا حامل اور فیصلہ کن ہے کیونکہ پاکستان اس وقت اندرونی و بیرونی دہشتگردی کا شکار ہے جبکہ افواج پاکستان پچھلے سولہ سالوں سے حالت جنگ میں ہیں اگرچہ حالات بتدریج کامیابی کی جانب گامزن ہیں تاہم حکومت کی ناکام فلاحی پالیسیاں اور سیاسی عدم استحکام اس امن کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ دشمن کبھی جاسوس ایجنسیوں کے ذریعے بلوچستان کے معصوم لوگوں کو ورغلاتا ہے تو کبھی افغان بھائیوں کے دلوں میں نفرت کے بیج بو تا ہے، کبھی چاہ بہار بندرگاہ کے ذریعے گوادر منصوبے کو ناکام بنانے کی کوشش کرتا ہے تو کبھی کراچی کے حالات خراب کرتا ہے۔بارڈر کے اس پار بیٹھا دشمن بد امنی اور دہشتگردی کو بنیاد بنا کر سی پیک منصوبے کو دنیا کی نظر میں ناکام دکھانا چاہتاہے لیکن اس کے ناپاک مقاصد کے حصول کی راہ میں افواج پاکستان سیسہ پلائی دیوار بنی ہوئی ہیں۔


ایک اور بات قابل غور ہے کہ چین او بی او آر سے منسلک ممالک کو آسان قرضوں کی صورت میں سرمایہ دے گا اور ایک وقت پر ان ممالک کو یہ قرضہ اتارنا ہوگا تو پاکستان کو چاہئے کہ مکمل پلاننگ کے ساتھ اس منصوبے کے ساتھ چلے تاکہ آج کا دوست کل کا آقا نہ بن جائے۔دوستی اپنی جگہ ہوتی ہے لیکن جہاں مفادات کی بات آجاتی ہے تو عقلمند سب سے پہلے اپنے مفادات محفوظ کرتا ہے اور پھر دوسروں کے ۔ اپنے دوست چین کی طرح ہمیں بھی اسی اصول پر عمل پیرا ہو کر آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔


سی پیک اور ون بیلٹ ون روڈ منصوبے سے اگر چین کا زیادہ فائدہ ہوتا ہے اور پاکستان کا کم تو بھی یہ گھاٹے کا سودا نہیں کیونکہ اس وقت پاکستان کے عوام کی معاشی حالت بہتر کرنا بہت ضروری ہے۔ گیلپ کے مطابق پاکستان کی چالیس فیصد سے زائد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے رہنے پر مجبور ہے اور نو جوانوں میں بے روزگاری کی شرح روزبروز بڑھتی جا رہی ہے۔اس موقع پر ہمیں بحیثیت قوم مل کر سی پیک کو کامیاب بنا کر ون بیلٹ ون روڈ منصوبے کی جنگی بنیادوں پرانتہائی محتاط انداز میں راہ ہموار کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

خودی کی زندگی


خودی ہو زندہ تو ہے فقر بھی شہنشاہی
نہیں ہے سنجر و طغرل سے کم شکوہِ فقیر
خودی ہو زندہ تو دریائے بیکراں پایاب
خودی ہو زندہ تو کہسار پرنیان و حریر
نہنگِ زندہ ہے اپنے محیط میں آزاد
نہنگ مُردہ کو موجِ سراب بھی زنجیر

*****

 
Read 648 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter