مضبوط دفاع اور قومی سا لمیت

Published in Hilal Urdu June 2017

ملکی دفاع کسی بھی ریاست کی اولین ترجیح ہوا کرتا ہے۔ اور ہونا بھی چاہئے کیونکہ اگر کوئی ریاست دفاعی اعتبار سے کمزور ہو اور اس کی سپاہ اس قابل نہ ہو کہ وہ ملکی سرحدوں کی حفاظت کو یقینی بناسکے تو پھر ایسی ریاست کی سالمیت کا برقرار رہنا ممکن نہیں رہتا۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کی ترقی یافتہ اقوام نے معاشرت اور سماجی اعتبار سے ترقی کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی دفاعی لائن کو بھی مضبوط خطوط پر استوار رکھا ہے۔ مضبوط دفاع اور ملکی سالمیت کو یقینی بنانے کے پیش نظر وطنِ عزیز پاکستان نے بھی بطورِریاست کبھی اس پر سمجھوتہ نہیں کیا۔ ہمارا دین بھی ہمیں اپنا دفاع مضبوط رکھنے اور خود کو تیار رکھنے کا درس دیتا ہے۔ قرآنِ پاک کی آیت کا مفہوم ہے ۔


’’اور(مسلمانوں) جس قدر طاقت اور گھوڑوں کی جتنی چھاؤنیاں تم سے بن پڑیں اُن سے مقابلے کے لئے تیار کرو جن کے ذریعے تم اﷲ کے دشمن اور اپنے(موجودہ) دشمن پر ہیبت طاری کرسکو‘ اور ان کے علاوہ دوسروں پر بھی جنہیں ابھی تم نہیں جانتے‘ (مگر) اﷲ اُنہیں جانتا ہے۔ ‘‘
(سورۃ الانفال آیت 60)
افواج پاکستان ’الحمدﷲ‘ پیشہ ورانہ اہلیت کے اعتبار سے دنیا کی بہترین افواج میں سے ایک ہیں۔ ہماری بری‘ بحری اورفضائی افواج نے ہر ہر معرکے میں اپنی اہلیت اور قوت دونوں ثابت کی ہیں۔ ظاہر ہے ریاست کو اس امر کا ادراک ہے کہ ملکی سالمیت اور جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کو یقینی بنانا کس قدر اہم ہے۔ لہٰذا ہر سال دفاع کے لئے بجٹ مختص کیا جاتا ہے ۔ رواں برس بھی بجٹ2017-18 کے47کھرب اور 52 ارب کے وفاقی بجٹ میں سے928 ارب دفاعی بجٹ کے لئے مختص کئے گئے ہیں جو مجموعی بجٹ کا تقریباً16 فیصدبنتا ہے۔مختص کردہ بجٹ کا اگر پڑوسی ملک ہندوستان اور بعض دیگر بڑی طاقتوں سے موازنہ کیاجائے تو یہ نہایت قلیل ہے لیکن ریاست کی تینوں افواج اس مختص کردہ بجٹ کے اندر رہتے ہوئے نہ صرف اپنی پیشہ ورانہ اہلیت اور صلاحیتوں کو مضبوط سے مضبوط تر بنانے کی سعی کرتی ہیں بلکہ وقت پڑنے پر کسی بھی چیلنج سے نبرد آزما ہو کر ملکی دفاع کو یقینی بناتی ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان ایک دہائی سے زائد عرصے سے نبرد آزما ہے جس میں بری‘ بحری اور فضائی افواج نے اپنی اپنی ذمہ داریاں اس انداز سے نبھائی ہیں کہ ایک دنیا ان کااعتراف کرتی ہے۔


اس میں کوئی شک نہیں کہ آج بھی وطنِ عزیز کو خطرات اور چیلنجز کا سامنا ہے اور پاکستان دشمن عناصر ملک کے خلاف کارروائیاں کرنے میں کامیاب بھی ہو جاتے ہیں لیکن ہماری فورسز کی جانب سے نہ صرف ایسی کارروائیوں کا مؤثرجواب دیا جاتا ہے بلکہ ان عناصر کا پیچھا اُن کی کمین گاہوں تک کیا جاتاہے۔افواجِ پاکستان اپنی ذمہ داریوں سے نہ صرف کماحقہ‘ آگاہ ہیں بلکہ دشمن کو منہ توڑ جواب دینے کی اہلیت سے بھی مالامال ہیں اور وہ اس امر سے بھی آگاہ ہیں کہ صرف امن ہی وہ واحد راستہ ہے جس سے ترقی اور خوشحالی حاصل کی جاسکتی ہے۔بلاشبہ دیرپا امن کے حصول کے لئے پاکستان کو ایک طاقت ور اور مضبوط ریاست کے طور پر خود کو منوانا ہے جس کے لئے پاکستان کے عوام اور اس کی افواج مل کر کام کررہی ہیں کہ باہمی اتحاد و یگانگت ہی میں ریاست کا امن اور وقار پنہاں ہیں۔

Read 264 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter