شکریہ ۔۔۔۔ پاک فوج

Published in Hilal Urdu June 2017

تحریر: خدیجہ محمود

جس طرح ہر فردہے ملت کے مقدر کا ستارہ۔ اسی طرح میری نظر میں پاک فوج سے تعلق رکھنے والا ہر فرد خواہ سپاہی ہو یا جرنیل آسمانِ شجاعت کا ایک درخشندہ ستارہ ہے جس کے سینے پر کسی نہ کسی قربانی کا تمغہ سجا ہوا ہے اور وہ قربانی صرف دفاعِ وطن کے مقدس فریضہ کے دوران رتبۂ شہادت پر فائز ہونے کی ہی نہیں بلکہ خون کو جماتی ہوئی سیاچن گلیشیر جسے برف کا صحرا کہیں تو مناسب ہوگا کی سردی میں توکبھی جھلسا دینے والی ریگستان کی گرمی میں اپنے تمام پیاروں سے دوری‘ دورانِ تربیت زخمی ہو کر یا کسی آپریشن میں جسم کے کسی حصے کی تاعمر معذوری کی صورت میں بھی شامل ہے اور پھر بھی وہ مسکراتے ہوئے کہتے ہیں کہ:’’ اے وطن! ہم ہیں تیری شمع کے پروانوں میں‘‘
بظاہر یہ چمکتی ہوئی کلف زدہ بے شکن فوجی وردی ہے لیکن اپنے اندراَن گنت داستانیں سموئے ہوئے خاموشی کی زبان میں بہت کچھ سناتی ہے جو شاید صرف چند اہلِ دل ہی سمجھ پاتے ہیں۔
آج کا مضمون ان
Unsung Heroes
کوخراج تحسین پیش کرنے کی ایک چھوٹی سی کاوش ہے جو اس پاک وطن کے عشق میں چُور‘ اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔
زمانے میں ادا کرتے ہیں جب بھی رسمِ شبیری
تو نوکِ خنجرِ باطل پہ بھی سررقص کرتا ہے
اپنی اس تحریر میں میں چاہ کر بھی لفاظی نہیں کرپاؤں گی کیونکہ میرے وطن کے وہ گمنام سپاہی جن کے سینوں میں دل کی جگہ پاکستان دھڑک رہا ہے‘ وہ کسی ستائش کی پروا کئے بغیر اس ملک کی خدمت کررہے ہیں۔ ان کا صرف ایک ہی جنون‘ ایک ہی عشق اور ایک ہی ایمان ہے ۔ جس کا نام پاکستان ہے۔

shukriayapakfoj.jpg
کچھ صحافی اور اینکر حضرات پرنٹ ‘ الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کے مختلف میڈیم پر پاک فوج کے خلاف ہرزہ سرائی کرکے اپنے آقاؤں کو خوش کرنے کی کوشش میں مصروفِ عمل ہیں۔ ان سب سے مخاطب ہو کر یہ کہنے اور لکھنے کی جسارت کررہی ہوں کہ پاکستان میں ایک ہی تو ادارہ ہے جس کے نمائندگان نہایت یقین سے اس ملک کے شہریوں کو اعتماد دلاتے ہیں کہ ’’تم سکون کی نیندسو لو‘ پاک فوج جاگ رہی ہے۔‘‘


کچھ حب الوطنی کے دعوے داروں کا اعتراض ہے کہ ملک کے بجٹ کا 70فیصد حصہ پاک فوج پر خرچ ہوتا ہے۔ ان سے درخواست ہے کہ ذرا غور سے اعداد و شمار کو دیکھیں۔ پالیسیوں پر نظردوڑائیں اور عینک کے دھندلائے شیشے صاف کریں تو صاف نظر آجائے گا کہ50 فیصدسے اوپر بجٹ تو قرض اتارنے کی مد میں صرف ہوتا ہے اور باقی تمام اخراجات کے بعد دفاعِ وطن پر ملک کا 17 فیصد سے بھی کم بجٹ تینوں افواج پر خرچ کیا جاتا ہے۔ اگر اس دعوے پر کسی کوشبہ یا اعتراض ہے تو وہ کسی بھی سینئر تجزیہ کار صحافی یا اکانومسٹ جو اس مضمون میں کمال رکھتے ہیں اعداد و شمار کے حوالے سے تصدیق کرسکتے ہیں۔ ہمارے چند دانشور یہ بھی کہتے سنائی دیتے ہیں کہ پاک فوج اپنے فرائض کی انجام دہی کی تنخواہ لیتی ہے تو سرکار پھر یہ بھی بتا دیں کہ آپ کے بازار میں خون کن داموں فروخت ہوتا ہے؟ سہاگنوں کی ٹوٹی ہوئی چوڑیوں کی کیا قیمت ہے؟ وہ نو بیاہتا دلہن جس کے ہاتھوں کی مہندی بھی ابھی پھیکی نہیں ہوئی اور جس کی آنکھوں میں لمبی راتوں میں نیند کی جگہ انتظار جم گیا ہے۔ ایک نہ ختم ہونے والا انتظار اس کی کیا بولی لگائیں گے آپ؟


ایک بوڑھی ماں جس کا جوان بیٹا اس دھرتی کی مٹی کو سیراب کرگیا اپنے لہو سے۔۔۔ اس کی خالی کوکھ کی قوتِ خرید کی جرأت کرسکتے ہیں آپ؟ وہ بچے جن کے باپ یہ کہہ کر جاتے ہیں کہ عید کے کپڑے لے کر آئیں گے۔ وہ اس آس میں دن گزارتے ہیں کہ نئے کپڑے ملیں گے۔ ان کو کپڑے ملتے ہیں لیکن باپ کے‘ وہ بھی لہو سے تر اور سبز ہلالی پرچم۔۔۔ اس ٹوٹی ہوئی آس کو آپ کتنے میں خریدسکتے ہیں؟
پوچھنے پر آؤں تو نہ جانے ان صاحبانِ علم و دانش سے کتنی چیزوں کے دام پوچھ سکتی ہوں لیکن جانے دیجئے صاحب آپ کی ان باتوں کے باوجود سلام ہے ان مٹی کے بندوں کی دیوانگی پر جو کسی نہ کسی آپریشن یا تربیتی مراحل میں ہونے والی ساری عمر کی معذوری کے باوجود بھی اپنے اندر سے جذبۂ حب الوطنی ختم نہ کرسکے۔

 

ایک بوڑھی ماں جس کا جوان بیٹا اس دھرتی کی مٹی کو سیراب کرگیا اپنے لہو سے۔۔۔ اس کی خالی کوکھ کی قوتِ خرید کی جرأت کرسکتے ہیں آپ؟ وہ بچے جن کے باپ یہ کہہ کر جاتے ہیں کہ عید کے کپڑے لے کر آئیں گے۔ وہ اس آس میں دن گزارتے ہیں کہ نئے کپڑے ملیں گے۔ ان کو کپڑے ملتے ہیں لیکن باپ کے‘ وہ بھی لہو سے تر اور سبز ہلالی پرچم۔۔۔ اس ٹوٹی ہوئی آس کو آپ کتنے میں خریدسکتے ہیں؟

گفتارکے ان غازیوں پر حیرانی بھی ہوتی ہے کہ وہ اس مملکت خدا داد پاکستان کے ٹوٹنے کی بات کس منہ سے کرتے ہیں۔ اس کی برائیوں کو محدب عدسے سے ڈھونڈ ڈھونڈ کر نکالتے ہیں اور پھر ایک نہ ہونے والی ہولناک تباہی کی خوفناک عکاسی کرتے ہیں۔ جب زلزلہ آتا ہے‘ سیلاب آتا ہے یا کوئی اور مشکل وقت تواس کاسامنا پاک فوج کو کرنا پڑتا ہے اور یہ محبِ وطن کسی اخبار یا چینل پر دُکھ کا اظہارکرتے ہوئے اس ملک سے محبت کا ثبوت نہیں دیتے بلکہ ایمرجنسی میں فوری طور پر امدادی کارروائی کے لئے پہنچتے ہیں مخیر حضرات اپنی فراخ دلی کا ثبوت دیتے ہوئے ضرورت کا سامان ضرور فراہم کردیتے ہیں لیکن خطرناک مقامات پر پہنچاتا کون ہے؟ پاکستان اور افواج میں خامیاں نکالنے والوں سے ایک سوال یہ بھی ہے کہ کیا ان کے علم میں نہیں کہ برادر اسلامی ممالک کہ جن کی ہزاروں سال پرانی تاریخ ہے اور وسائل کے انبار ہیں کیا وہ جدید آلاتِ حرب میں باقی دنیا کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں؟ کیا وہ نہیں جانتے کہ اﷲ کے فضل وکرم سے ہر قسم کا جدید اسلحہ ٹینک‘ میزائل‘ جہاز ماشاء اﷲ نہ صرف پاکستان میں بنتے ہیں بلکہ ان میں سے کچھ اسلحہ جات برآمد بھی کئے جاتے ہیں۔کیا ان کے کان اس نعرۂ تکبیر کی گونج سے محروم ہیں جو بھارت کے پرتھوی میزائل کے جواب پر غوری میزائل کے کامیاب تجربے کے بعد پوری دنیا کو سنائی دیا تھا۔


1965 میں جب امریکہ نے پاکستان کی امداد بند کر دی تھی تو کیا پاکستان مفلوج ہوگیا تھا؟ بالکل نہیں۔ سپر پاور کا دعویٰ کرنے والا ملک روس جس نے پاکستان کے خلاف انڈیا کی مدد کی آج وہ خود کئی ریاستوں میں بٹ چکا ہے‘ تقسیم ہو چکا ہے لیکن بفضلِ تعالیٰ پاکستان جو خدا کے رازوں میں سے ایک راز ہے۔ وہ تھا‘ وہ ہے اور انشاء اﷲ قیامت تک رہے گا۔ تاریخ اپنے آپ کو ہمیشہ دہراتی رہے گی‘ زندہ رکھے گی۔ غوری کے سامنے ہمیشہ پرتھوی شکست کھائے گا۔
پاکستان کا دفاع یقیناًناقابلِ تسخیر ہے۔ اب دشمن ہم پر براہِ راست وار نہیں کر پارہا لیکن معصوم عوام کے ذہنوں میں خوف پھیلانے کی مجرمانہ کوشش ضرور کررہا ہے اور نہ جانے کیوں کچھ لوگ کم علمی اور کچھ بددیانتی کی وجہ سے پروپیگنڈا کا حصہ بن جاتے ہیں اور جس کی ایک مثال یہ جعلی سکیورٹی الرٹس ہیں جو سوشل میڈیا کے ذریعے پہنچائے جارہے ہوتے ہیں۔ اس بارے میں بھی عوام کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ پاک فوج کا ادارہ آئی ایس پی آر کبھی بھی

WhatsApp
پر عوام کو ایسی خبریں نہیں دیتا۔ الحمدﷲ ! پاک فوج ہر قسم کے حالات سے نپٹنا جانتی ہے اور ان ناعاقبت اندیش جو اس پروپیگنڈا کا حصہ بن رہے ہیں‘ ان سے دست بستہ التجا ہے کہ خدا را آنکھیں کھولیں کیونکہ اگر آپ اب بھی نہ جاگے تو
؂تمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں
اس مضمون کو لکھنے کے دوران ہی مجھے میری پاک فوج کی دوہستیوں کے بارے میں خبر ملی کہ لیفٹیننٹ خاور اور کیپٹن جنید فضل جسم پر تازہ لہو کے چھینٹے لئے جنونِ عشق اور حدودِ عشق کی تمام منازل طے کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کرکے حیاتِ جاودانی پاچکے ہیں۔
شہیدو! تمہیں وطن کی ہوائیں سلام کہتی ہیں
اگر میرے اس مضمون کو پڑھ کر دل پر مادرِ وطن کے ان جاں نثاروں کے لئے کسی ایک دھڑکن کی سلامی بھی محسوس کریں تو میں اس کو اپنی پاک فوج کے شہیدوں اور غازیوں سے عقیدت کا ثمر سمجھوں گی اور ایک بار پھر دل کی اتھاہ گہرائیوں سے :
شکریہ ۔ پاک فوج

مصنفہ میڈیا سائیکالوجسٹ اور رائٹر ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
Read 2128 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter