افواج پاکستان کا مغموم جواب

Published in Hilal Urdu June 2017

تحریر: میجر مظفراحمد

(قربانیوں کا گراف بلندی کی جانب گامزن، پاک فوج کا ایک اور سپاہی اور گیارہ سول جانفروش شہید اورچالیس افراد زخمی )

دہشت گردی کے خلاف بے شمار قربانیاں دینے والے ملک اور خطے میں امن کے خواہاں پاکستان کو اس کی مردم شماری کی مہم کے دوران 5مئی 2017 کو ہمسایہ ملک افغانستان کی جانب سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ تناؤ دراصل کوئی نیا واقعہ نہیں تھا بلکہ پس منظر میں پاک افغان بارڈر تناؤ کی صورت میں پوشیدہ تلخ تاریخ کا شاخسانہ تھا۔ قومی فریضے کی انجام دہی کے لئے مردم شماری کے دوسرے مرحلے میں 87اضلاع میں گنتی کی مہم جا ری تھی۔ صوبہ بلوچستان کے ضلع قلعہ عبداﷲ کے سرحدی علاقہ چمن کی کِلّی لقمان اور کِلّی جہانگیر، جہاں پاکستانی بلوچ اور پشتون آبادیاں مقیم ہیں، ان علاقوں میں مردم شماری کے لئے تیاریاں شروع ہوئیں۔ پاکستان کی وزارت خارجہ اور فوج کے اعلیٰ حکام نے افغان حکام کو قبل ازوقت مطلع کیا تو جواباً ان دیہات کے شرپسند عناصرنے واویلا شروع کر دیا اور افغان حکام نے بلاتصدیق ان دو دیہاتوں کو افغان حدود کے اندر قرار دیتے ہوئے انہیں متنازعہ بنا دیا۔ مزید برآں افغان اقدامات صرف بیانات تک محدود نہ رہے بلکہ 30اپریل 2017کے بعد سے افغان بارڈر پولیس نے باقاعدہ رکاوٹیں پیدا کرنا شروع کر دیں۔ بالآخر 5مئی 2017کو افغان بارڈر پولیس نے کِلّی جہانگیر میں مردم شماری پر تعینات فرنٹیئر کور کے 57ونگ کے جوانوں اور سول شمارکنندگان کی ٹیم پر بہیمانہ فائر کھول دیا جس کے نتیجے میں 23بلوچ رجمنٹ کی امدادی فورس کا ایک جوان اورگیارہ سول افراد شہید اور چالیس افراد (فرنٹیئر کور اور سول) زخمی ہو گئے۔

afwajepakka.jpg افواج پاکستان کو مجبوراً جوابی کارروائی کرناپڑی۔ اس جوابی کارروائی سے افغان بارڈر پولیس کے کئی افراد مارے گئے اور اس کی 3-4چوکیاں بھی تباہ ہو گئیں۔ نتیجتاً باب دوستی بھی ہر طرح کی آمدورفت کے لئے بند کر دیا گیا۔ افغان بارڈر پولیس کے نقصان پر پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت نے برملا افسوس کا اظہار کیا اور افغان حکام کی ہٹ دھرمی کے باوجود انہیں علاقائی حدود کی وضاحت کے لئے اور ملکیتی تصدیق کے لئے سروے کا مشورہ بھی دیا۔

اسی دوران میں کِلّی جہانگیر کے ایک سربراہ حاجی جہانگیر اچکزئی کا بیان سامنے آیا جس کے مطابق انہوں نے کِلّی جہانگیر کے پاکستان کے ساتھ شروع سے ملحقہ ہونے کی تصدیق کی۔


موجودہ علاقائی کشیدگی اور تناؤ کی صورت حال میں بھارت کے کردار کو کسی طور پر بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ افغان بھارت گٹھ جوڑ اور پاکستا ن کی امن کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کے اقدامات دراصل بین الاقوامی قوتوں کے لئے لمحہ فکریہ ہونے چاہئیں، جن سے تاحال وہ غافل نظر آتے ہیں۔


لازوال قربانیاں
مردم شماری کے انعقاد میں ہمارے سپاہیوں اور سول انتظامیہ کی قربانیاں قابل تحسین ہیں۔ شہید ہونے والوں میں پاک فوج کی 23بلوچ رجمنٹ کے سپاہی حسن علی کے جام شہادت نوش کرنے کا احوال درج ذیل ہے۔

sipahihasanali.jpg
سپاہی حسن علی (شہید) 8مارچ 1996 کو تحصیل کلرسیداں کے گاؤں کلربدھال میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک زمیندار گھرانے سے تھا۔ ابتدائی تعلیم کلرسیداں سے حاصل کی۔انہیں اوائل عمری سے ہی سپاہ گری کے شعبہ سے رغبت تھی اور یہی دلچسپی انہیں فوج میں ملازمت کی طرف کھینچ لائی۔ ایبٹ آباد کے بلوچ رجمنٹل سینٹر میں ابتدائی عسکری تربیت حاصل کرنے کے بعد25اکتوبر 2016 کو چمن کے مقام پر 23بلوچ رجمنٹ میں تعینات ہوئے۔ آپ شروع سے ہی بہت مستعد، چوکس اور ذہین تھے۔بلوچ رجمنٹل سنٹر میں تربیت کے دوران بہت نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔ ان میں بلوچ رجمنٹ سینٹر انٹر کمپنی
PACES
اور 100میٹر ، 400میٹر ایتھلیٹکٹس مقابلوں میں سلور میڈل قابل ذکر ہیں۔
یونٹ میں شمولیت اختیار کرنے کے بعد بہت محنت سے کام کیا اور تھوڑے ہی عرصے میں بہت زیادہ کامیابیاں حاصل کیں۔ جنوری 2017 کے 41 ڈویژن کے انٹر یونٹ
PACES
مقابلوں میں فرسٹ پوزیشن حاصل کی۔ لورالائی میں حالیہ مردم شماری2017 میں حصہ لیا۔


ذاتی مشاغل میں انہیں تصویر کشی کا بہت شوق تھا۔ اپنے ساتھیوں کے ساتھ ہمیشہ گھل مل کر رہتے تھے اور دوسروں کے ساتھ ہمدردانہ رویے کی وجہ سے بہت مقبول تھے۔پاک افغان سرحدی تناؤ کے موقع پر مردم شماری کی ڈیوٹی کے دوران آپ یونٹ کی ذخیرہ کمپنی کا حصہ تھے۔ 5مئی 2017کو جب اطلاع موصول ہوئی کہ مردم شماری پر تعینات فرنٹیئر کور کے جوان اورسول شمارکنندگان کی ٹیم افغان بارڈر پولیس کی فائرنگ کی زد میں آگئی ہے تو ان کی کمپنی کو میجر عیس ولی کے زیر کمان کِلّی جہانگیر میں بطور امداد ، کمک کی ڈیوٹی انجام دینے کا حکم ملا۔ تقریباً آٹھ بج کر پندرہ منٹ کا وقت تھا، حالات بہت کشیدہ ہو چکے تھے، افغان بارڈر پولیس کے فائر سے کئی سول پاکستانی شہید اورزخمی ہو چکے تھے۔ سپاہی حسن علی کی کمپنی کی کِلّی جہانگیر میں پیش قدمی جاری تھی۔ آگے بڑھتے ہوئے ایک پلاٹون کو سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ پلاٹون کمانڈر کی ہدایت پر ایک اونچی پوزیشن سے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ سپاہی حسن علی متاثرہ پلاٹون کو غلافی فائر دینے لگے۔ اسی اثنا میں ایک راکٹ ان کی عارضی دفاعی پوزیشن کے سامنے آ کر پھٹ گیا جس سے ان کی چھاتی پر گہرے زخم آ گئے۔ زخموں کے باوجود یہ جرأت مند سپاہی تندہی کے ساتھ غلافی فائر دیتا رہا اور متاثرہ پلاٹون کو افغان فائر کے اثر سے باہر نکالا۔ بہت زیادہ خون رسنے کی وجہ سے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے آپ نے اپنی جان جانِ آفریں کے سپرد کر دی اور بالآخر مردم شماری کی مہم کی کامیابی اور ملکی سالمیت کے لئے اپنی جان نچھاور کرنے کا ایک اور باب رقم ہو گیا۔ان کے لواحقین میں والدین، چھ بھائی اور تین بہنیں شامل ہیں جنہیں ان کی شہادت پر فخر ہے۔


جب تک ہمارے وطن اور فوج میں سپاہی حسن علی شاہ جیسے بہادر ، جوانمرد، ہمت اور طاقت کا مظاہرہ کرنے والے جوان موجود ہیں اس وقت تک کوئی بھی ہمارے ملک کا بال بیکا نہیں کر سکتا۔

تم روشن چہروں والے ہو

 

اس دیس کی اِک پہچان ہو تم
وردی میں مُلک کی شان ہو تم
گھر چھوڑے اپنے کس کے لئے
سب ناتے توڑے کس کے لئے
کیا جذبہ ہے کہ لڑنے چلے
ہاں وطن کی خاطر مرنے چلے
قسمت کے دھنی متوالے ہو
تم روشن چہروں والے ہو
گر لوٹ آؤ تو غازی ہو
شہدائے حق جو نہ آؤ


کیپٹن محمد ارحم طارق

*****

 
Read 489 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter