تحریر : صبا زیب

رویے جب شدت اختیار کرنے لگ جائیں تو انتہا پسندی کی صورت اختیار کرلیتے ہیں جو کسی بھی معاشرے کے لئے تباہ کن ثابت ہوسکتے ہیں۔ ہمارے دین اسلام نے بھی اعتدال اور میانہ روی کو زندگی کے ہر معاملے میں پسند کیا ہے۔ جب ہم اپنے رویوں میں شدت پسند ہوجاتے ہیں تو اس سے نہ صرف ہماری زندگی میں بے چینی آجاتی ہے بلکہ ہمارے اردگرد رہنے والے بھی اس سے متاثرہوتے ہیں‘ کیونکہ انتہا پسندی انفرادیت سے اجتماعیت کی طرف بڑھتی ہے اور افراد سے معاشرے میں پھیلتی ہے اور اس طرح معاشرہ بدامنی کی طرف بڑھتا ہے۔

 

youthrejectexter.jpgآج کے اس جدید ٹیکنالوجی کے دور میں انتہا پسندی کو تیزی سے فروغ حاصل ہو رہا ہے کیونکہ انتہا پسند تعلیم اور جدید علوم میں عام لوگوں سے کسی بھی طرح پیچھے نہیں وہ بھی اس جدید ٹیکنالوجی کا بھرپور استعمال کررہے ہیں اور خاص طور پر نوجوانوں کو اپنے عزائم کی تکمیل کے لئے استعمال کررہے ہیں۔ اس انتہا پسندی کے خاتمے کے لئیے جہاں ہماری پاک فوج انتہاپسندوں اور دہشت گردوں سے لڑائی لڑ رہی ہے وہاں اس نے نوجوانوں‘ خاص طور پر طالب علموں‘ کو ان دہشت گردوں سے بچانے کے لئے انہیں آگاہی دینے کا عزم بھی کررکھا ہے۔ اسی سلسلے میں18 مئی2017 کو پاک فوج کے ادارے آئی ایس پی آر نے ’’انتہا پسندی کو مسترد کرنے میں نوجوانوں کا کردار ‘‘
(Role Of Youth in Rejecting Extremism)
کے موضوع پر ایک سیمینار جی ایچ کیوکے آڈیٹوریم میں منعقد کیا جس میں چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی شرکت کی ۔ ان کے علاوہ ملک کی تقریباً ایک سو سے زائد یونیورسٹیوں کے وائس چانسلر ز نے بھی شرکت کی۔

youthrejectexter1.jpg 

ہائر ایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر مختار احمد‘ سابق آئی جی سندھ پولیس ڈاکٹر شعیب سڈل‘ غازی صلاح الدین‘ ڈاکٹر فرخ سلیم‘ اور پروفیسر احمدرفیق اختر نے بطورِ سپیکر اس سیمینار میں شرکت کی۔ جبکہ نوجوان طالب علموں کی نمائندگی حریم ظفر نے کی جن کا تعلق پشاوریونیورسٹی سے ہے۔سیمینار کاآغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔ اس کے بعد ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے اپنے خطبہ استقبالیہ میں کہا کہ یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے معاشرے سے انتہا پسندی کو ختم کریں۔ان کا کہنا تھا کہ داعش نے اپنی حکمتِ عملی تبدیل کرلی ہے اور اپنی تنظیم کے لئے نوجوان نسل کو ہدف بنا رہی ہے۔ نوجوانوں کو دہشت گردی سے بچانا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا آپریشن رد الفساد کا مقصد ملک میں کئے گئے تمام آپریشنز کے مقاصد کا حصول اور ملک میں امن و استحکام قائم کرنا ہے۔ اس آپریشن کا ایک مقصد معاشرے سے شدت پسندی کا خاتمہ بھی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے نوجوانوں کو اس شدت پسندی کا نشانہ بننے سے بچائیں۔ دیگر لوگوں کے ساتھ ساتھ ہماری کامیابیاں نوجوانوں کی مرہونِ منت ہیں وردی میں ملبوس پاکستانیوں کی جانب سے دی جانے والی قربانیوں میں سے90 فیصد نوجوان سپاہیوں اورینگ افسران کی ہیں آخر میں انہوں نے کہا کہ مجھے اُمید ہے کہ سپیکرز اور مہمانوں کے درمیان بات چیت سود مند ثابت ہوگی۔
سیمینار کے پہلے سپیکر سابق آئی جی سندھ شعیب سڈل تھے انہوں نے
Threat and Fault-lines
پر بات کرتے ہوئے کہا کہ انتہا پسندی پاکستان میں ایک اہم سیکیورٹی معاملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتہاپسندی کے محرکات میں اندرونی اور بیرونی دونوں عناصر شامل ہیں۔ اندرونی عناصر میں پاکستان میں موجود مذہبی اور جہادی تنظیمیں‘ جبکہ بیرونی عناصر میں غیرملکی ایجنسیز‘ جن میں ’’را‘‘ اور این ڈی ایس ہیں شامل ہیں۔ انتہا پسندی کے بڑھنے کی وجہ انہوں نے ملک کے اداروں کی ناکامی کو قرار دیا انہوں نے خاص طور پر محکمہ پولیس کا ذکر کرنے کے ساتھ ساتھ نورین لغاری‘ مشال خان اور لال مسجد کے واقعات کی مثالیں بھی دیں۔ انہوں نے کہا انتہاپسندی سے بچنے کے لئے ہمیں اپنے آئین اور نصاب میں کچھ ترامیم کرنی چاہئیں۔ ایچ ای سی کو چاہئے کہ یونیورسٹیوں میں انتہاپسندی سے متعلق مضامین کو بھی شامل کیا جائے۔

youthrejectexter2.jpg
ڈاکٹر سڈل کے بعد حریم ظفر‘ جو طالب علموں کی نمائندگی کر رہی تھیں‘ نے کہا کہ ہمارے دشمن اس وقت نہ ہندو ہیں نہ عیسائی اور نہ مسلمان بلکہ ہمارا دشمن انتہاپسند ہے‘ اور ہمیں اس حقیقت کو تسلیم کر کے اس کے خلاف کھڑے ہونا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس میں سب سے زیادہ خطرہ نوجوان طالب علموں کو ہے۔ دہشت گردی کے اس عفریت سے نوجوان طالب علموں کو بچانے کے لئے تعلیم‘ والدین‘ میڈیا اور خود نوجوان اس میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ حریم نے کہا کہ آج کے نوجوان کو آرٹ کی طرف لے کر آنا بہت ضروری ہے اور تعلیم کے ساتھ ساتھ غیرنصابی سرگرمیوں کی بھی اشد ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ نوجوانوں کی اپنی ذمہ داری میں یہ شامل ہے کہ وہ انتہاپسندی کو سختی سے مسترد کریں۔
ڈاکٹر فرخ سلیم نے
Role of Economy in Forging Extremisn ک
ے موضوع پر بات کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کی ایک تعریف یہ بھی ہے :’’ سیاسی مقاصد کے حصول کے لئے شہریوں کے خلاف تشدد کا غیرقانونی استعمال ‘‘ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی ایک درخت ہے اور درخت کی جڑیں ہوتی ہیں لہٰذا دہشت گردی کی بھی جڑیں ہیں جیسے درخت کی بہت سی شاخیں ہوتی ہیں ویسے ہی دہشت گردی کی بھی ہیں۔ دہشت گردی کی شاخوں میں معاشرتی ناانصافیاں اور سیاسی ناانصافیاں شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بہت عرصے کی ریسرچ کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ انتہا پسندی اور دہشت گردی کا مذہب سے براہِ راست تعلق نہیں۔ کبھی کبھار یہ وجہ بن سکتاہے لیکن دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ کوئی بھی شخص جو مذہب کو گہرائی سے جانتا ہے دہشت گردی کو نہیں اپناتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں چاہئے کہ ہم صرف دہشت گردی کی شاخوں کو نہ کاٹیں بلکہ ان کی جڑوں کو بھی ختم کریں۔ ڈاکٹر فرخ سلیم کے بعد میڈیا سے متعلق بات کرتے ہوئے ممتاز رائٹر اور صحافی غازی صلاح الدین نے کہا پرانا میڈیا نئے میڈیا میں تبدیل ہو رہا ہے اور نئے میڈیا میں سوشل میڈیا اہم کردار ادا کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے میڈیا میں پڑھے لکھے لوگوں کی کمی ہے ہمارے میڈیا کو دانشور لوگوں کی ضرورت ہے جس کے لئے ہمیں
Academia
کی ضرورت ہے۔ میڈیا پر ایک الزام یہ بھی ہے کہ یہ ایسی خبریں زیادہ چلاتا ہے جس کے اثرات منفی ہوتے ہیں۔میڈیا دکھاتا ہے لیکن جب اس پر کوئی ایکشن نہیں لیا جاتا تو مسائل بڑھنے لگ جاتے ہیں۔ انوسٹی گیٹورپوٹنگ ختم ہوتی جارہی ہے۔ یونیورسٹیوں میں اخبارات نہیں ملتے کوئی کتابوں کی دکان نہیں ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا کا سب سے پہلاکام
rational debate
کروانا ہے ۔ ہم نے دہشت گردی اور انتہاپسندی کی یہ لڑائی سب سے پہلے دماغوں میں لڑنی ہے۔


ہائرایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر مختار احمد نے سیمینار میں
Extremism-Role of Faculties/Instituitions
کے موضوع پر بات کرتے ہوئے کہا کہ انتہا پسندی کی روک تھام کے لئے سب نے اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ پہلے ہماری یونیورسٹیوں کے نام ٹاپ رینکنگ میں نہیںآتے تھے لیکن اب آتے ہیں۔ ذمہ داری کا آغاز گھر سے شروع ہوتا ہے ‘پھر سکول آتا ہے ‘ پھر کالج آتا ہے اور پھر یونیورسٹی۔ ہر ایک کو اپنی ذمہ داری نبھانی ہے۔ ہم نے اپنی دیواریں مضبوط کرنی ہیں ہمیں ان دیواروں کی بنیادیں رکھنی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے خود غرضی‘ لالچ اور غصے کے خلاف جہاد کرنا ہے۔ ڈاکٹر مختار نے بتایا کہ ایچ ای سی یونیورسٹیوں کے طالب علموں کے لئے بہت کچھ کرنا چاہتا ہے جیسا کہ ہمارا ارادہ ہے کہ طالب علموں کو نہ صرف نصابی بلکہ غیر نصابی سرگرمیوں میں بھی مصروف رکھیں۔ سب ڈیپارٹمنٹس کو اکٹھا کرنا ہے‘ سیمینار منعقد کروانے ہیں اور اس کے علاوہ مختلف یونیورسٹیوں کے طالب علموں کو اکٹھا کرکے انہیں ملک کے مختلف علاقوں کی سیر کروانی ہے اور بتانا ہے کہ ہمارا ملک کتنا خوبصورت ہے۔


پروفیسر احمدرفیق اختر نے ڈاکٹر مختار کے بعد مذہب کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر استاد اور شاگرد کے درمیان رابطہ نہ رہے تو دہشت گردی اور انتہا پسندی فروغ پاتی ہے۔ ایک لمبے عرصے سے ہمارے مدرسوں کے تعلیمی نظام میں تبدیلی نہیں آئی چند الفاظ جاننے والا اپنے آپ کو مفکر ماننے لگتا ہے اور دوسرے کو برا بھلا کہنا شروع کردیتا ہے ۔ کسی دوسرے کی کہی ہوئی بات کی نفی کردیتا ہے۔ آج تک کسی سائنس دان نے اپنے سے پہلے والے سائنس دان کو کبھی مسترد نہیں کیا۔


ان سب سپیکرز کی تقریر کے بعد مہمانوں نے سپیکرز سے سوالات کئے۔ یہاں ایک دلچسپ بات یہ ہوئی کہ کراچی کی ایک یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ سے سوال کیا۔ جس کا جواب انہوں نے اُسی وقت کھڑے ہو کر دیا۔

youthrejectexter3.jpg
سوال و جواب کے سیشن کے بعد چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ناقص حکمرانی اور انصاف نہ ہونے سے نوجوانوں کا استحصال ہو رہاہے۔ نوجوان نسل ہمارے مستقبل کا سرمایہ ہے لیکن بے چہرہ اور بے نام قوتیں سوشل میڈیا کے ذریعے نوجوانوں کو مسلسل گمراہ کر رہی ہیں۔ ضرورت ہے کہ نوجوانوں کو بامقصد زندگی میں مصروف کیا جائے‘ دہشت گردوں کو شکست دینے کے بعد ان کے بیانیے کو بھی شکست دینا ہوگی۔ انہوں نے کہا سکیورٹی خدشات کم کرنے ہی سے ترقی کا سفر آگے بڑھے گا‘ فوج اکیلے کچھ نہیں کرسکتی‘ سب کو اپنی ذمہ داریاں سنبھالنا ہوں گی‘ دہشت گردی کی وجوہات ختم کرنے کی اشد ضرورت ہے۔


نیشنل ایکشن پلان پر اس کی روح کے مطابق عمل کرکے دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتی جاسکتی ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کے کردار کو پوری دنیا نے سراہا ہے‘ پاکستان کی فوج دنیا کی بہادر ترین فوج ہے جس نے دہشت گردوں کے خلاف انتہائی منفرد جنگ لڑی ہے‘ زندگی کے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے پاکستانیوں کی مدد کے بغیر یہ ممکن نہ تھا۔آرمی چیف نے کہا کہ پاکستان کی نوجوان نسل ہمارا روشن مستقبل ہے اورہم اپنے مستقبل کو دہشت گردوں کے ہاتھوں تباہ نہیں ہونے دیں گے‘ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں نوجوان نسل کا کردار انتہائی اہم ہے‘ نوجوان نسل کو صحیح راہ پر گامزن کرنا ہوگا‘ شدت پسندی کسی نظریے کا نام نہیں بلکہ یہ ایک مائنڈسیٹ ہے جو عدم برداشت پیدا کرتا ہے۔ آرمی چیف کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کو اسلام سے جوڑنا انتہائی غلط اور افسوسناک ہے‘ دہشت گردی کی بڑی وجہ ناانصافی اور عدمِ برداشت ہے‘ والدین‘ اساتذہ اور متعلقہ اداروں کی مدد سے نوجوانوں کو دہشت گردوں سے محفوظ رکھیں گے‘ ریاست کی رٹ کو مکمل طور پر بحال کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری آبادی کا 50 فیصد سے زائدحصہ25 سال سے کم عمر کے نوجوانوں پر مشتمل ہے اورہمارے ملک کا مستقبل ان ہی نوجوان کے ہاتھوں میں ہے۔ ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ ’ہم ایک دوراہے پر کھڑے ہیں‘ آج سے 10 سال بعد یا تو ہم پھل کاٹ رہے ہوں گے یا پھر یہ دیکھ رہے ہوں گے کہ کس طرح ہمارے نوجوان شدت پسندی کے ہاتھوں متاثر ہوئے۔ آرمی چیف نے کہا کہ مشرقی پاکستان میں پراکسی وار میں ہندوستانی قیادت کا ملوث ہوناکوئی راز نہیں اور اب بلوچستان میں بھی ان کے مقاصد کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے انتہا پسندی کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے ہیں‘ انتہاپسندی کو اب معمول کی بات سمجھ لیا گیا ہے۔ نفرت بھارت کے مرکزی دھارے میں آچکی ہے اور بھارت کا قومی چہرہ مسخ کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سرزمین کسی ہمسایہ ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے۔ اور اپنی سرزمین سے دہشت گردوں کا مکمل خاتمہ کر دیں گے۔ جنرل قمر جاوید جاجوہ نے مزید کہا کہ آپریشن ردالفساد نئے دور کا آغاز ہے اور سکیورٹی خطرات ختم کرکے ترقی کی راہیں کھول دی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اﷲ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے مجھے ایک بہادر‘ پیشہ ور‘ محب وطن فوج کی قیادت کرنے کا اعزاز بخشا ہے جس پر مجھے فخر ہے اور مجھے یہ کہنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں کہ ہماری فوج دنیا کی بہترین فوج ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں معاشرے کے تمام طبقات‘ خاص طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں اور میڈیا کوخراجِ تحسین پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے دہشت گردوں کے خاتمے میں تسلسل کے ساتھ ہماری مدد کی۔ آج ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ کے اہم ترین مرحلے میں داخل ہوچکے ہیں۔ ہم بتدریج دہشت گردی کے خلاف بڑے آپریشنز سے ٹارگٹڈ آپریشنز کی طرف منتقل ہوئے ہیں۔ آپریشن رد الفساد کے ساتھ ساتھ ہمیں نیشنل ایکشن پلان میں ایسے طریقِ کار کو بھی اپنانا ہے جس کے ذریعے دہشت گردی کے اسباب کو بھی حل کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ آج کے پروگرام کا مقصد دہشت گردی کے خلاف اجتماعی حل تلاش کرنا ہے‘ جس سے ہم سب متاثر ہو رہے ہیں یہاں تک کہ ہمارا سب سے قیمتی اثاثہ‘نوجوان نسل بھی اس سے متاثر ہے‘پوری قوم اور ان نوجوانوں کے والدین کو چاہئے کہ انہیں نہ صرف تعلیم یافتہ بنائیں بلکہ ایک متوازن شخصیت ‘ تعمیری شہری اور مستقبل کالیڈر بھی بنائیں۔ نوجوان اپنی ذہانت ‘ مہارت اور لیاقت سے پاکستان کے لئے حیران کن کارنامے انجام دے سکتے ہیں جس طرح سے پاکستان محفوظ ہو رہا ہے ‘ یہ ضروری ہے کہ ہم ذہین نوجوانوں کو ملک میں محفوظ بنائیں کیونکہ پاکستان کو دنیا کے کسی بھی ملک سے زیادہ ان کی ضرورت ہے۔


اس کے ساتھ ہی چیف آف آرمی سٹاف نے اپنا خطاب ختم کیا ۔ خطاب کے بعد قومی ترانے کی دھن بجائی گئی جس کے احترام میں ہال میں موجود سب لوگ کھڑے ہوگئے ۔ قومی ترانے کے بعد مہمانوں کو پُرتکلف لنچ کروایا گیااور یوں اس اہم تقریب کا اختتام ہوا۔

 
Read 660 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter