بھارت کا دفاعی بجٹ۔ غریب عوام کا رئیس بجٹ

Published in Hilal Urdu June 2017

تحریر: ڈاکٹر شائستہ تبسم

بھارت کا دفاعی بجٹ یکم فروری2017 کو پیش کیاگیا۔ اس سال 359,854کروڑ روپے وزارتِ دفاع کے لئے مختص کئے گئے ہیں۔ اس کے باوجودبھارتی حکمرانوں کے دماغ میں یہ سوال بدستور موجود تھا کہ کیا مختص کی گئی رقم ملک کی سکیورٹی کے لئے کافی ہے؟ دوسرے الفاظ میں اتنی بڑی رقم کے باوجود بھارت کی خود ساختہ دفاعی ضروریات مکمل نہیں ہورہی ہیں۔ حالانکہ اس سال دفاعی بجٹ میں 2.74ٹریلین روپے بڑھائے گئے ہیں جو پچھلے سال کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہیں۔2016-17 میں یہ رقم2.49ٹریلین روپییعنی تقریباً12.78 فیصد کی شرح سے جو کہ تقریباً21.47 ٹریلین روپے بنتے ہیں۔ اس طرح سے یہ لگا تار دوسرے سال دفاعی بجٹ میں اضافہ ہوا ہے۔ اس کی وجہ بقول بھارتی وزیرِ خزانہ ترقی اورجدیدیت کی کوشش ہے جس کی وجہ سے ہتھیاروں کی خریداری کے لئے زیادہ رقم درکار ہوگی۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ وزیرمالیات نے موجودہ بجٹ کو غریبوں کا بجٹ بھی قرار دیا ہے۔


بھارت اس وقت دنیا کا سب سے بڑا ہتھیاروں کا خریدار ہے۔ بھارت کا دفاعی خرچہ تقریباً100 گنا بڑھ چکا ہے۔ اگر اس کے پچھلے دس سالوں کے دفاعی بجٹوں کا بھی موازنہ کیا جائے تو اس وقت بھارتی ہتھیاروں کی خریداری دنیا کی ٹوٹل ہتھیاروں کی خریداری کا 14فیصد ہے۔ بھارت اس وقت سب سے زیادہ ہتھیار روس سے خریدتا ہے‘ اس کے بعد امریکہ اورپھر اسرائیل سے جبکہ
IHS Jane
‘ جو کہ ایک مشہور بین الاقوامی جرنل ہے‘ کے ڈیٹا کے مطابق بھارت امریکہ کا اس کے ہتھیاروں کا سب سے بڑا خریدار ہے جس کا ٹوٹل حجم 1.9 بلین ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔ جب کہ 2013 تک بھارت امریکہ خرید و فروخت صرف سات فیصدتک پہنچ سکی تھی۔ یعنی پچھلے چار سال میں بھارتی دفاعی خریداری حد سے زیادہ بڑھی ہے۔

 

bharatkadfaibudg.jpgسی این این کی طرف سے کئے گئے ایک سروے میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ ماضی میں کئے جانے والے زیادہ تر سروے دو انتہاؤں پر مرکوز رہے۔ جو ایک دوسرے سے بالکل مخالف تھے۔ یعنی کچھ نے تو بھارت کے بارے میں ڈیٹا دکھایا جو خلائی اور نیوکلیئر ٹیکنالوجی میں بڑھتا چلا جا رہا ہے اور اس میں بہت آگے جانے کا خواہش مندبھی ہے جہاں بلین ڈالرز انفارمیشن ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کی گئی ہے۔ جبکہ دوسری قسم کے سروے میں اس بھارت کی تصویر کشی کی گئی ہے جہاں آبادی کی ایک بہت بڑی تعداد‘ تقریباً 92ملین افراد‘ اپنی زندگی کی گاڑی معمولی اور انتہائی کم اُجرت مزدوری پر چلا رہے ہیں۔ یہ سروے بھوک اور افلاس ‘ پانی کی کمی ‘ صحت اور تعلیم کی ضروریات کے فقدان کی نشاندہی کررہے ہیں۔ جہاں عوام کی ایک بڑی تعداد انتہائی کسمپرسی سے زندگی کی گاڑی چلا رہے ہیں اور یہی بھارت کی اصل تصویر ہے۔


بھارتی میڈیا اور خاص کر بھارتی فلمیں زیادہ تر ایک ایسے بھارت کی خوبصورت تصویر دکھاتے ہیں جس میں خوشحالی‘سکون اور ایک آئیڈیل سوسائٹی نظر آتی ہے لیکن حقیقت اس ڈرامائی تصویر کے بالکل برعکس اورانتہائی بھیانک ہے۔
سی این این کے ایک سروے سے شروع کرتے ہیں۔ اس سروے نے 300 ملین گھریلو افراد سے متعلق ایک رپورٹ شائع کی جس کے مطابق تقریباً73 فیصد افراد کا تعلق کسی گاؤں یا دیہات سے تھا۔ ان میں سے صرف2.5 فیصد کے پاس چار پہیوں کی سواری موجود تھی اور دس فیصد سے کم افراد باقاعدہ نوکری پیشہ تھے جن کو ہر مہینے تنخواہ کی یقین دہانی ہوتی ہے۔ اس سروے کے مطابق دیہی علاقوں کے اعداد و شمار نہ صرف بدترین تھے بلکہ ان افراد کی تعلیمی قابلیت انتہائی کم تھی۔ تقریباً 35.7 فیصد مکمل طور پر ناخواندہ تھے اور اس کے مطابق یہ قطعاً حیرت انگیز نہیں ہے کہ بھارت کی بیشتر آبادی انتہائی غریب ہے۔
World Bank
کے اعداد و شمار کے مطابق بھارت میں تقریباً 58 فیصد آبادی 3.10ڈالر کی کم آمدنی پر گزارہ کررہی ہے۔ یعنی تقریباً آدھی سے زیادہ آبادی صرف300 روپے کی آمدن پر گزارہ کرنے پر مجبور ہے اور اگر اس وقت اس دفاعی بجٹ کا خیال آجائے کہ وہ359,854 کروڑ روپے ہے تو حکومت کا جنگی جنون واضح ہوجاتا ہے۔ صرف یہی نہیں یو این کی مزدوروں کی تنظیم آئی ایل او کی رپورٹ میں واضح بیان کیا گیا ہے کہ بھارت میں بے روز گاری کا گراف مستقل بڑھ رہا ہے ۔ یہ سال 2016 میں17.7 ملین تھا 2019 میں بڑھ کر17.8 ملیناور 2018 میں18 ملین ہوجائے گا۔ یعنی 2017-18 میں بیروزگاری کی شرح 3.4 فیصد تک ہو جائے گی۔ بڑھتی ہوئی بیروزگاری کے گراف سے عام آدمی کی حالت کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔


ایک طرف بھارت کے دفاعی بجٹ میں ہر سال بے تحاشا اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے اور دوسری طرف
(World Toilet Day)
کے موقع پر عالمی بنک نے جو رپورٹ شائع کی ہے اس کے مطابق دنیا کی دوسری بڑی آبادی والے ملک میں60.4 فیصد افراد کو صاف‘ محفوظ اور ذاتی بیت الخلا کی سہولت میسر نہیں ہے ۔ بھارت کی سول سوسائٹی اور ذرائع ابلاغ نے بھی اس سہولت کے شدید فقدان کی بارہا نشاندہی کی ہے لیکن بدقسمت قوم کے چالاک حکمران نے ملک کے عوام کو ان کی انتہائی انسانی ضرورت کو پس پشت ڈال کرملک کو ایک نہ ختم ہونے والی ہوسناک دوڑ میں شامل کردیا ہے۔ نومبر 2015 میں مشہور بھارتی اخبار انڈین ایکسپریس نے اپنی ایک تنقیدی رپورٹ میں یہ تک کہا کہ اگربھارت کے وہ744 ملین افراد جو بیت الخلا میں جانے کے لئے انتظار کرتے ہیں‘ ایک قطار بنالیں تو یہ قطار زمین سے چاند تک طویل ہو گی۔ غربت اور افلاس کے ساتھ ساتھ انسانی ضروریات کی عدم فراہمی اور پھر اس کے ساتھ ایک انتہائی عظیم الشان فوجی بجٹ بہت سے سوالیہ نشان چھوڑ جاتے ہیں۔


بھارت میں پیدائش کے وقت بچوں کی شرح اموات بھی بہت زیادہ ہے۔ طبی سہولیات شہروں اور قصبوں تک محدود ہیں لیکن گاؤں دیہات میں ان کا شدید فقدان ہے۔ بلکہ زچہ و بچہ کی اموات کی بڑی وجہ غیر معیاری پانی اور صابن اور غیر صحت بخش فضا ہے۔ حالانکہ پیدائش کے لئے استعمال ہونے والے اوزار نہ صرف کم قیمت بلکہ سادہ بھی ہوتے ہیں مگر غیرتربیت یافتہ نرسوں اور مڈوائف یا ان کی مسلسل غیر موجودگی کی وجہ سے بھارت میں زچہ بچہ کی شرح اموات بہت زیادہ ہے۔


صحت کی سہولیات کا شدید بحران ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق ہر سال پانچ سال سے کم عمر 14000 بچے ہیضہ کا شکار ہوجاتے ہیں۔ ہیضہ عام طور پر غیر معیاری اور گندے پانی کی وجہ سے ایک وبائی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ ماضی میں بھی بھارت کے بڑے دیہی علاقوں میں ہیضے نے ہزاروں بچوں کی جانیں لے لی تھیں۔ بھارت میں بہنے والے دریا گنگا‘ جمنا کا پانی انتہائی کثیف اورآلودہ ہو چکا ہے لیکن بھارتی حکومت ان مسائل سے آنکھیں بند کئے ہوئے ہے اور سی این این ہی کی رپورٹ میں یہ کہا گیا ہے کہ ہر ہزاربچوں میں سے38 بچے اپنی پہلی سالگرہ سے پہلے ہی اس دنیا سے کوچ کرجاتے ہیں۔ ہندوستان ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ 763.4 ملین افراد کو پینے کا صاف پانی میسرنہیں ہے جو کہ پنجاب‘ ہریانہ اور اترکھنڈ کی مجموعی آبادی کے برابر ہے۔

مضمون نگار کراچی یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کی چیئر پرسن ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
Read 680 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter