تاریخ کو مسخ کرنے کی ایک اور سازش

Published in Hilal Urdu June 2017

تحریر: ڈاکٹر صفدر محمود

میرے ذاتی مشاہدے کے مطابق گزشتہ تین دہائیوں کے دوران پاکستان میں دانشوروں کا ایک ایسا منظم گروہ متحرک ہوگیا ہے جو نہ صرف پاکستان کی نظریاتی بنیاد کے بارے میں شکوک و شبہات اور کنفیوژن پیدا کررہا ہے بلکہ تاریخ کو بھی مسخ کررہا ہے۔ ان کے ایجنڈے کا ایک اہم نقطہ قائداعظم کو سیکولر ثابت کرنا ہے تاکہ پاکستان کی اسلامی ثقافت پر سیکولرازم کا غلاف چڑھایا جاسکے۔ ان حضرات کو قائداعظم کی سیکڑوں تقاریر میں سے صرف ایک تقریر پسند ہے جو انہوں نے گیارہ اگست 1947ء کو دستور ساز اسمبلی کا صدر منتخب ہونے کے بعد کی۔ حالانکہ اس تقریر میں بھی اسلامی رواداری، انسانی مساوات اور اقلیتوں کے حقوق کا ذکر ہے جو میثاق مدینہ کی روح کے عین مطابق ہیں لیکن مذہب بیزار دانشوروں نے اسے سیکولرازم کا منشور قرار دے دیا ہے۔ یہ ایک طویل تقریر تھی جس میں سیاسی، انتظامی اور معاشرتی زندگی کے مختلف شعبوں کا ذکر کیا گیا تھا لیکن اس گروہ کو اس میں صرف چار فقرے پسند ہیں جنہیں سیاق و سباق سے ہٹ کر اچھالتے رہتے ہیں اور مسلسل لوگوں کے ذہنوں میں راسخ کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ ان فقروں میں اقلیتوں کے لئے جس برابری، شہری حقوق اور مذہبی آزادی کا تصور ملتا ہے اس کی خلافت راشدہ اور خاص طور حضرت عمررضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے دور میں سیکڑوں مثالیں ملتی ہیں۔ لیکن دین بیزار گروہ انہیں اسلامی ورثے کا حصہ قرار دینے کے بجائے اپنی سیکولرازم کی اساس قرار دیتا ہے۔ مقصد پاکستان کو اسلام سے آزاد کرا کے سیکولر ریاست بنانا ہے کیونکہ اسلام ان کی مادر پدر آزادی کے راستے میں دیوار چین بنا ہوا ہے۔ اب تو یہ گروہ اس قدر مضبوط اور بولڈ ہوگیا ہے کہ ڈھٹائی سے پاکستان میں شراب نوشی اور عصمت فروشی کا مطالبہ کرنے لگا ہے۔ اس مطالبے کی ایک شکل انگریزوں کے دور کی رنگین یادوں کا رومانوی انداز میں تذکرہ کرنا، دوسرا دبئی جیسے برادر ملک میں ایسی آزادیوں کا حسین نقشہ پیش کرنا اور تیسرا مغربی ممالک کی ترقی کو تعلیم، سائنس اور ٹیکنالوجی کے بجائے ان آزادیوں کا مرہون منت ثابت کرنا ہے۔

tarekkkomasah.jpg

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ صدر ضیا الحق کی اسلامائزیشن یعنی اسلام کی سختی کے خلاف ردعمل ہے جب کہ صاحبان نظر اسے بیرونی ایجنڈے کا حصہ سمجھتے ہیں جس کا مقصد اسلامی قدروں کو مٹا کر اور سیکولرازم کے لئے راہ ہموار کرکے اکھنڈ بھارت کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنا ہے۔ اس بات پر حیرت نہیں ہونی چاہئے کہ دانشوروں اور لکھاریوں کا یہ گروہ بھارت سے خفیہ تعلقات اور این جی اوز کے بہانے بیرونی امداد کی شہرت رکھتا ہے جس کی آج تک صحیح معنوں میں تحقیق و تفتیش نہیں کی گئی۔ ہماری کمزوری اور بدقسمتی سے ایسے دانشور میڈیا میں ایک طاقت ور لابی بن چکے ہیں اور تعلیمی اداروں میں گفتگو اور لیکچروں کے ذریعے نوجوانوں نسل کو گمراہ کرنے میں مصروف ہیں۔اصل بدقسمتی یہ ہے کہ حکومت پاکستان نے معاشرتی علوم اور مطالعہ پاکستان کا حلیہ بگاڑ دیا ہے اور ہماری نوجوان نسل کو یہ علم ہی نہیں کہ پاکستان کیوں معرض وجود میں آیا، تحریک پاکستان کے پسِ پردہ کیا عوامل اور محرکات کارفرما تھے، ہمارے بزرگوں، قائدین اور قائداعظم کا تصور پاکستان کیا تھا۔ اسلام بیزار گروہ نے ایک منظم تحریک کے ذریعے یہ تاثر پیدا کردیا ہے کہ جنرل ضیاالحق کے دور میں پڑھائی جانے والی تاریخ اور مطالعہ پاکستان کی درسی کتب میں تاریخ کو مسخ کیا گیا ہے۔ حالانکہ یہ بات بے بنیاد اور خبث باطن کا اظہار ہے۔ مطالعہ پاکستان کا مقصد محض طلبہ کو پاکستان سے متعارف کرانا تھا۔ یہ لازمی مضمون محض تعارفی کتاب تھی اور اس میں تفصیل نہیں دی جاسکتی تھی۔ اس صورت حال کا فائدہ اٹھاکر روشن خیالی کی آڑ میں ایک محاذ بنادیاگیاجس نے مسلسل پروپیگنڈہ جاری رکھا چنانچہ نصاب سے وہ سارا لوازمہ نکال دیا گیا جس کا تعلق پاکستان کی نظریاتی بنیاد، ہندوؤں کے طرزِ عمل اور مطالبۂ پاکستان سے تھا۔


یہ گروہ وقتاً فوقتاً مختلف شوشے چھوڑتا رہتا ہے۔ ایک شوشہ یہ چھوڑا گیا کہ قائداعظم نے ترانہ پاکستان ایک ہندو شاعر جگن ناتھ آزاد سے لکھوایا اور اسے چودہ اور پندرہ اگست کی نصف شب آزادی کا اعلان ہوتے ہی ریڈیو پاکستان سے سنایا اور بجایا گیا۔ مقصد قائداعظم کو سیکولر ثابت کرنا اور نوجوان نسلوں کو گمراہ کرنا ہے۔ افسوس کہ اس جھوٹ کی اتنے تواتر سے تشہیر کی گئی ہے کہ بہت سے سادہ لوح پاکستانی اسے بلا تحقیق تسلیم کرنے لگے ہیں۔ نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ ایک صاحب اس موضوع پر ایم فل کا مقالہ لکھ کر اور کامیاب ہوکر اپنی کتاب بھی چھپواچکے ہیں۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ قائداعظم کا جگن ناتھ آزاد سے ترانۂ پاکستان لکھوانا اس صدی کا سب سے بڑا جھوٹ ہے۔ افسوس اس بات پر ہے کہ بے بنیاد دعوے اور جھوٹ کو پھیلانے میں انگریزی اخبارات اورکم علم اینکروں نے کلیدی کردا ر ادا کیا ہے۔ اورایک انتہائی پرانا اورمعتبراخبار اس بارے میں مضامین چھاپتا رہا ہے جس کی پیشانی پر لکھا ہوا ہے کہ اس اخبار کی بنیاد بانئ پاکستان نے رکھی تھی۔ ان عالم فاضل مدیران نے جھوٹ چھاپنے سے قبل تحقیق کی ذرا بھی زحمت گوارانہ کی اور اس طرح گمراہ کرنے والوں کے ہاتھ میں کھلونا بن گئے۔


اس مضمون کا مقصد اس جھوٹ کا پردہ چاک کرنا اور سچ کو سامنے لانا ہے۔ میں نے اس افسانے کی تہہ در تہہ تحقیق کی ہے اور دوڑ دھوپ کے ساتھ ساتھ اسے اپنا وقت دیا ہے اور خون جگر پلایاہے۔میں اس وقت کھلے ذہن کے ساتھ سچ کی تلاش کے تقاضے پورے کرنے کے بعد یہ سطور لکھ رہا ہوں۔

 

یہ گروہ وقتاً فوقتاً مختلف شوشے چھوڑتا رہتا ہے۔ ایک شوشہ یہ چھوڑا گیا کہ قائداعظم نے ترانہ پاکستان ایک ہندو شاعر جگن ناتھ آزاد سے لکھوایا اور اسے چودہ اور پندرہ اگست کی نصف شب آزادی کا اعلان ہوتے ہی ریڈیو پاکستان سے سنایا اور بجایا گیا۔ مقصد قائداعظم کو سیکولر ثابت کرنا اور نوجوان نسلوں کو گمراہ کرنا ہے۔

کچھ عرصہ قبل بھی میڈیا(پرنٹ اور الیکٹرانک) پر یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ قائداعظم نے قیام پاکستان سے قبل 9 اگست 1947 کو جگن ناتھ آزاد کو بلا کر پاکستان کا ترانہ لکھنے کو کہا۔ انھوں نے پانچ دنوں میں ترانہ لکھ دیاجو قائداعظم کی منظوری کے بعد آزادی کے اعلان کے ساتھ ہی ریڈیو پاکستان سے نشر ہوا اور پھر یہ ترانہ 18ماہ تک پاکستان میں بجتا رہا۔ جب 23فروری1949کو حکومت پاکستان نے قومی ترانے کے لئے کمیٹی بنائی تو یہ ترانہ بند کردیا گیا۔ اس انکشاف کے بعد مجھے بہت سے طلبہ اور بزرگ شہریوں کے فون آئے جو حقیقت حال جاننا چاہتے تھے۔ لیکن میرا جواب یہی تھا کہ بظاہر یہ بات قرینِ قیاس نہیں ہے لیکن میں تحقیق کے بغیر اس پر تبصرہ نہیں کروں گا۔ چنانچہ سب سے پہلے میں نے ان سکالروں سے رابطے کئے جنھوں نے قائداعظمؒ پر تحقیق کرنے اور لکھنے میں عمر گزار دی ہے۔ ان سب کا کہنا تھا کہ یہ محض شوشہ اور بالکل بے بنیاد اور ناقابل یقین دعویٰ ہے۔ لیکن میں ان کی بات بلاتحقیق ماننے کے لئے تیار نہیں تھا۔ قائداعظم اور جگن ناتھ آزاد کے حوالے سے یہ دعوے کرنے والے حضرات نے انٹرنیٹ پر کئی ’’بلاگز‘‘ میں اپنا نقطۂ نظر اور من پسند معلومات فیڈ کرکے محفوظ کردی تھیں تاکہ انٹرنیٹ کا استعمال کرنے والوں کو کنفیوز کیا جاسکے۔ ان ساری معلومات کی بنیاد کوئی ٹھوس تحقیق نہیں تھی بلکہ سنی سنائی یا پھر جگن ناتھ آزاد کے صاحبزادے چندرآزاد کے انکشافات تھے جن کی حمایت میں چندر کے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے۔


سچ کی تلاش میں میں جن حقائق تک پہنچا ان کا ذکر بعد میں کروں گا پہلے تمہید کے طور پر جگن نات آازاد کے بارے میں چند سطور لکھنا ضروری سمجھتا ہوں۔جگن ناتھ آزاد معروف شاعر تلوک چند کا بیٹا تھا، وہ 1918 ء میں عیسیٰ خیل میانوالی میں پیدا ہوا۔ اس نے 1937ء میں گورڈن کالج راولپنڈی سے بی اے اور 1944ء میں پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے فارسی کیا۔ مختصر سا عرصہ ’’ادبی دنیا‘‘ سے منسلک رہنے کے بعد اس نے لاہور میں ’’جئے ہند‘‘ نامی اخبار میں نوکری کر لی۔ قیام پاکستان کے بعد ستمبر میں بھارت ہجرت کر گیا۔ اکتوبر میں ایک بار لاہور آیا لیکن فرقہ وارانہ فسادات کے خوف سے مستقل طور پر بھارت چلا گیا۔
Wikipedia
اور
All Things Pakistan
کے بلاگز میں یہ دعویٰ موجود ہے کہ قائداعظم نے اپنے دوست جگن ناتھ آزاد کو 9اگست کو بلا کر پاکستان کا ترانہ لکھنے کے لئے پانچ دن دئیے۔ قائداعظم نے اسے فوراً منظور کیا اور یہ ترانہ اعلان آزادی کے بعد ریڈیو پاکستان پر چلایا گیا۔ چندر نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ حکومت پاکستان نے جگن کو 1979میں صدارتی اقبال میڈل عطا کیا۔


میرا پہلا ردعمل کہ ’’یہ بات قرین قیاس نہیں ہے‘‘،کیوں تھا؟ہر بڑے شخص کے بارے میں ہمارے ذہنوں میں ایک تصویر ہوتی ہے اور جو بات اس تصویر کے چوکھٹے میں فٹ نہ آئے انسان اسے بغیر ثبوت کے ماننے کو تیار نہیں ہوتا۔ قائداعظم سرتاپا قانونی اور آئینی شخصیت تھے۔ اس لئے یہ بات میری سمجھ سے بالاتر تھی کہ قائداعظم کسی کو ترانہ لکھنے کے لئے کہیں اور پھر کابینہ، حکومت یا ماہرین کی رائے لئے بغیر اسے خود ہی آمرانہ انداز میں منظور کرلیں۔ جبکہ ان کا اردو، فارسی زبان اور اردو شاعری سے واجبی سا تعلق تھا۔ میرے لئے دوسری ناقابل یقین صورت یہ تھی کہ قائداعظم نے عمر کا معتدبہ حصہ بمبئی اور دہلی میں گزارا، ان کے سوشل سرکل میں زیادہ تر سیاسی شخصیات، مسلم لیگی یا سیاستدان، وکلا وغیرہ تھے۔ پاکستان بننے کے وقت ان کی عمر 71سال کے لگ بھگ تھی۔ جگن ناتھ آزاد اس وقت 29سال کے غیر معروف نوجوان تھے اور لاہور میں قیام پذیر تھے پھر وہ پاکستان مخالف اخبار جئے ہند کے ملازم تھے۔ ان کی قائداعظم سے دوستی تو کجا تعارف بھی ممکن نظر نہیں آتا۔

 

دوسری ناقابل یقین صورت یہ تھی کہ قائداعظم نے عمر کا معتدبہ حصہ بمبئی اور دہلی میں گزارا، ان کے سوشل سرکل میں زیادہ تر سیاسی شخصیات، مسلم لیگی یا سیاستدان، وکلا وغیرہ تھے۔ پاکستان بننے کے وقت ان کی عمر 71سال کے لگ بھگ تھی۔ جگن ناتھ آزاد اس وقت 29سال کے غیر معروف نوجوان تھے اور لاہور میں قیام پذیر تھے پھر وہ پاکستان مخالف اخبار جئے ہند کے ملازم تھے۔ ان کی قائداعظم سے دوستی تو کجا تعارف بھی ممکن نظر نہیں آتا۔

پھر مجھے خیال آیا کہ یہ تو محض تخیلاتی باتیں ہیں۔ مجھے تحقیق کے تقاضے پورے کرنے اور سچ کا کھوج لگانے کے لئے ٹھوس شواہد کی ضرورت ہے۔ ذہنی جستجو نے رہنمائی کی اور کہا قائداعظم کوئی عام شہری نہیں تھے جن سے جو چاہے دستک دے کر ملاقات کر لے۔ وہ مسلمانانِ ہند و پاکستان کے قائداعظم اور جولائی 47ء سے پاکستان کے نامزد گورنر جنرل تھے۔ ان کے ملاقاتیوں کا کہیں نہ کہیں ریکارڈ موجود ہوگا۔ سچ کی تلاش کے اس سفر میں مجھے 1989ء میں چھپی ہوئی پروفیسر احمد سعید کی ایک کتاب مل گئی۔ جس کا نام ہے۔
"Visitors of the Quaid-e-Azam"
۔ احمد سعید نے بڑی محنت سے قائداعظم کے ملاقاتیوں کی تفصیل جمع کی ہے۔ جو 25اپریل1948ء تک کے عرصے کا احاطہ کرتی ہے۔ اس کتاب میں قائداعظم کے ملاقاتیوں میں جگن ناتھ آزاد کا کہیں بھی ذکر نہیں ہے۔ ’’پاکستان زندہ باد‘‘ کے مصنف سید انصار ناصری نے بھی قائداعظم کی کراچی آمد 7 اگست شام سے لے کر 15اگست تک کی مصروفیات کا جائزہ لیا ہے۔ اس میں بھی آزاد کا ذکر کہیں نہیں۔دل نے کہا جب 7اگست 1947کو قائداعظم بطور گورنر جنرل دلی سے کراچی آئے تو ان کے ساتھ ان کے اے ڈی سی بھی تھے۔ اے ڈی سی ہی ملاقاتوں کا سارااہتمام کرتا اور اہم ترین عینی شاہد ہوتاہے اور صرف وہی اس سچائی کی تلاش پر مہر ثبت کرسکتا ہے۔ جب قائداعظم کراچی اترے تو عطا ربانی بطور اے ڈی سی ان کے ساتھ تھے۔ خدا کا شکر ہے کہ اس وقت وہ زندہ تھے لیکن ان تک رسائی ایک کٹھن کام تھا۔ خاصی جدوجہد کے بعد میں بذریعہ نظامی صاحب ان تک پہنچا۔ جناب عطا ربانی صاحب کاجچا تلا جواب تھا کہ جگن ناتھ آزاد نامی شخص نہ کبھی قائداعظم سے ملا اور نہ ہی میں نے کبھی قائداعظم سے اس کا نام سنا۔ اب اس کے بعد اس بحث کا دروازہ بند ہوجانا چاہئے کہ جگن ناتھ آزاد کو قائداعظم نے بلایا۔ اگست 1947 میں شدید فرقہ وارانہ فسادات کے سبب جگن ناتھ آزاد لاہور میں مسلمان دوستوں کے ہاں پناہ لیتے پھر رہے تھے اور ان کوجان کے لالے پڑے ہوئے تھے۔ ان حالات میں ان کی کراچی میں قائداعظم سے ملاقات کا تصور بھی محال ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خود جگن ناتھ آزاد نے کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا حالانکہ وہ پاکستان میں کئی دفعہ آئے حتیٰ کہ وہ علامہ اقبال کی صد سالہ کانفرنس کی تقریبات میں بھی مدعو تھے۔ جہاں انہوں نے مقالات بھی پیش کئے جو اس حوالے سے چھپنے والی کتاب میں شامل ہیں۔ عادل انجم نے جگن ناتھ آزاد کے ترانے کا شوشہ چھوڑا تھا۔ انھوں نے چندر آزاد کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ جگن ناتھ آزاد کو 1979میں صدارتی اقبال ایوارڈ دیا گیا۔ یہ سراسر جھوٹ ہے۔ میں نے صدارتی ایوارڈ کی ساری فہرست دیکھی ہے اس میں آزاد کانام نہیں ہے۔ پھر میں کابینہ ڈویژن پہنچا اور قومی ایوارڈ یافتگان کا ریکارڈ کھنگالا۔ اس میں بھی آزاد کا نام نہیں ہے۔’ وہ جھوٹ بول کہ سچ کو بھی پیار آجائے‘۔


اب آئیے اس بحث کے دوسرے حصے کی طرف۔ ریڈیو پاکستان کے آرکائیوز گواہ ہیں کہ جگن ناتھ آزاد کا کوئی ترانہ یا ملی نغمہ یا کلام 1949 تک ریڈیو پاکستان سے نشر نہیں ہوا۔ 14اور 15اگست کے درمیانی شب جب آزادی کے اعلان کے ساتھ پہلی بار ریڈیو پاکستان کی صدا گونجی تو اس کے بعد احمد ندیم قاسمی کا یہ ملی نغمہ نشر ہوا:
’پاکستان بنانے والے، پاکستان مبارک ہو‘


ان دنوں قاسمی صاحب ریڈیو میں سکرپٹ رائٹر تھے۔ 15 اگست کو پہلا ملی نغمہ مولانا ظفر علی خان کا نشر ہوا جس کا مصرعہ تھا 
توحید کے ترانے کی تانیں اڑانے والے


میں نے یہیں تک اکتفا نہیں کیا۔ اس زمانے میں ریڈیو کے پروگرام اخبارات میں چھپتے تھے۔ میں نے 14اگست سے لے کر اواخر اگست تک کے اخبارات دیکھے۔ جگن ناتھ آزاد کا نام کسی پروگرام میں بھی نہیں ہے۔ سچ کی تلاش میں، ریڈیو پاکستان کے آرکائیو سے ہوتے ہوئے ریڈیو کے سینئر ریٹائرڈ لوگوں تک پہنچا۔ ان میں خالد شیرازی بھی تھے جنہوں نے 14اگست سے 21اگست1947 تک کے ریڈیو پروگراموں کا چارٹ بنایا تھا۔ انھوں نے سختی سے جگن ناتھ کے حوالے سے اس دعویٰ کی نفی کی۔ پھر انھوں نے ریڈیو پاکستان کا رسالہ آہنگ ملاحظہ کروایاجس میں سارے پروگراموں کی تفصیلات شائع ہوتی ہیں۔ یہ رسالہ 1948سے باقاعدگی سے چھپنا شروع ہوا۔


18 ماہ تک آزاد کے ترانے بجنے کی خبر دینے والے براہِ کرم ریڈیو پاکستان اکادمی کی لائبریری میں موجود آہنگ کی جلدیں دیکھ لیں اور اپنے موقف سے تائب ہوجائیں۔ میں اس بحث میں الجھنا نہیں چاہتا کہ اگر آزاد کا ترانہ ہمارا قومی ترانہ تھا اور وہ 1949 ء تک نشر ہوتا رہا تو پھر اس کا کسی پاکستانی کتاب، کسی سرکاری ریکارڈ میں بھی ذکر کیوں نہیں ہے اور اس کے سننے والے کہاں چلے گئے؟اگر جگن ناتھ آزاد نے قائداعظم کے کہنے پر ترانہ لکھا تھا تو انھوں نے اس منفرد اعزاز کا کبھی ذکر کیوں نہ کیا۔ جگن ناتھ نے اپنی کتاب’’آنکھیں ترستیاں ہیں ‘‘ 1982 میں ضمناً یہ ذکر کیا ہے کہ اس نے ریڈیو لاہور سے اپنا ملی نغمہ سنا۔ کب سنا اس کا ذکر موجود نہیں۔ اگر قائداعظم کے فرمان پر لکھاتو وہ یقیناًاس کا ذکر کرتا۔ آزاد کے والد تلوک چند نے نعتیں لکھیں۔ جگن ناتھ آزاد نے پاکستان کے لئے ملی نغمہ لکھا جو ہوسکتا ہے کسی وقت ریڈیو پاکستان سے نشر ہوا ہو لیکن یہ بات طے ہے جگن ناتھ آزاد کبھی قائداعظم سے ملے، نہ انھوں نے پاکستان کا قومی ترانہ لکھا اور نہ ہی ان کا قومی ترانہ 18ماہ تک نشر ہوتا رہایا قومی تقریبات میں بجتا رہا۔


قائداعظم بانئ پاکستان اور ہمارے عظیم محسن ہیں۔ ان کے احترام کا تقاضا ہے کہ بلاتحقیق اور بغیر ٹھوس شواہد ان سے کوئی بات منسوب نہ کی جائے اور انھیں سیکولر ثابت کرنے کے جنون میں نہ تو غلط بیانی کا گناہ کیا جائے اور نہ ہی تاریخ کو مسخ کیا جائے۔

مضمون نگار ممتاز محقق اور دانشور ہیں۔ ایک قومی اخبار میں کالم لکھتے ہیں اور متعدد کتابوں کے مصنف ہیں۔ پاکستانیات کے حوالے سے وہ ایک مستند شناخت رکھتے ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

اسرارِ پیدا


اُس قوم کو شمشیر کی حاجت نہیں رہتی
ہو جس کے جوانوں کی خودی صورتِ فولاد
ناچیز جہانِ مہ و پرویں ترے آگے
وہ عالمِ مجبور ہے، تو عالمِ آزاد
موجوں کی تپش کیا ہے؟ فقط ذوق طلب ہے
پنہاں جو صدف میں ہے وہ دولت ہے خداداد
شاہیں کبھی پرواز سے تھک کر نہیں گرتا
پُردَم ہے اگر تُو تو نہیں خطرۂ افتاد

 

سلطان ٹیپو کی وصیت


تُو رہ نوردِ شوق ہے؟ منزل نہ کر قبول
لیلیٰ بھی ہم نشیں ہو تو محمل نہ کر قبول
اے جوئے آب بڑھ کے ہو دریائے تندو تیز
ساحل تجھے عطا ہو تو ساحل نہ کر قبول
کھویا نہ جا صنم کدۂ کائنات میں
محفل گداز! گرمئ محفل نہ کر قبول
صبحِ ازل یہ مجھ سے کہا جبرئیل نے
جو عقل کا غلام ہو وہ دل نہ کر قبول
باطل دوئی پسند ہے، حق لاشریک ہے
شرکت میانۂ حق و باطل نہ کر قبول
علامہ اقبال

*****

 
Read 3002 times

4 comments

  • Comment Link hassan hassan 23 June 2017

    Bahut khoob apka tareek k hawale se bahut achi information de raha hay.

  • Comment Link tayyab tayyab 23 June 2017

    informative well written

  • Comment Link ali ali 19 June 2017

    آپکا آرٹیکل پڑھنے سے بہت معلومات ہوئی امید کرتا ہوں آئندہ بھی آپکے آرٹیکل پڑھنے کو ملیں گے شکریہ

  • Comment Link saim saim 19 June 2017

    very informative article written by dr safdar mehmood.

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter