افغانستان کی موجودہ صورتحال ۔ اندیشے اور لائحۂ عمل

Published in Hilal Urdu June 2017

افغان امور کے ماہر‘ ممتاز صحافی اور تجزیہ نگار عقیل یوسف زئی کی تحریر

افغانستان اور پاکستان کے تعلقات اس کے باوجود بہتر نہیں ہوپارہے کہ دونوں ممالک کو نہ صرف ایک جیسے حالات خصوصاً دہشت گردی کا سامنا ہے بلکہ ان کے درمیان بہتر تعلقات علاقے اور خطے کے امن اور استحکام کے لئے بھی ناگزیر ہیں۔ حال ہی میں جب لندن اجلاس کے تناظر میں طویل وقفے کے بعد دونوں ممالک کے حکام کے رابطے بحال ہونا شروع ہوگئے تو پاکستان نے جذبہ خیرسگالی کے تحت جہاں ایک طرف نہ صرف سپیکر قومی اسمبلی کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی پارلیمانی وفد کابل بھیجا بلکہ اعلیٰ ترین سطح کے عسکری وفود بھی کابل گئے جہاں انہوں نے اعلیٰ حکومتی عہدے داران‘سیاستدانوں اور حکمرانوں سے تفصیلی ملاقاتیں کیں اور اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اپنے اس پڑوسی اور برادر ملک کے ساتھ بہتر اور دوستانہ تعلقات کا خواہاں ہے۔ پارلیمانی وفد میں پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کے اہم رہنما شامل تھے جن میں تین کا تعلق پشتون قوم پرست جماعتوں سے تھا‘ تاہم اس دورے کے بھی وہ نتائج سامنے نہیں آئے جس کی توقع کی جارہی تھی۔ وفد میں شامل قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب خان شیرپاؤ کے مطابق دورے کے اختتام پر طے پایا تھا کہ افغان حکومت نیک خواہشات اور خیرمقدمی کلمات پر مشتمل ایک اعلامیہ جاری کرے گی تاہم افغان حکومت نے ایسا کرنے سے گریز کیا۔ وفد کے بعض ارکان کے مطابق افغان صدر اشرف غنی کے ساتھ ان کی تقریباً پانچ گھنٹے پر مشتمل طویل نشست ہوئی جس کے دوران انہوں نے متعدد بار سخت لہجہ اور رویہ بھی اپنایا تاہم وفد کے ارکان ان کو مسلسل یہ یقین دہانی کراتے رہے کہ ماضی کی شکایات کے بجائے موجود حالات اور مستقبل کے چیلنجز کے تناظر میں آگے بڑھا جائے۔ ان ارکان کے مطابق سینٹ کے چیئرمین نے تو میزبانی کے آداب کو بھی خاطر میں نہ لاتے ہوئے ملاقات کے دوران سخت رویہ اپنایا اور یکطرفہ الزامات لگائے‘ تاہم پاکستانی وفد نے صبرو تحمل کا مظاہرہ کیا اور ان پر زور دیا کہ وہ مثبت اور دوستانہ طرزِ عمل اپنائیں۔ وفد نے حکومت پاکستان کی طرف سے ڈاکٹر اشرف غنی اور سابق افغان صدر حامد کرزئی کو دورہ پاکستان کی الگ الگ دعوتیں بھی دیں اور وزیر اعظم کا خصوصی پیغام بھی سپیکر قومی اسمبلی کے ذریعے افغان صدر کو پہنچایا۔ حامدکرزئی نے خلافِ توقع یہ دعوت قبول کرلی اور توقع کی جارہی ہے کہ وہ پاکستان کا دورہ کریں گے تاہم ابھی وفد کی واپسی ہوئی ہی تھی کہ ڈاکٹر اشرف غنی نے ایک بیان میں مؤقف اپنایا کہ وہ پاکستان کا دورہ اس وقت تک نہیں کریں گے جب تک پاکستان‘ ان کے بقول‘ بعض ان افراد کی حوالگی یا گرفتاری کا وعدہ پورا نہیں کرتا جو کہ افغان حکومت ایک فہرست کی صورت میں دے چکی ہے۔ حالانکہ ایسی ہی ایک فہرست پاکستان بھی افغان حکومت کو دے چکا ہے۔ جناب اشرف غنی کے اس غیرلچک دار رویے اور مشروط طرزِ عمل نے اعلٰی سطحی پاکستانی وفد کے دورۂ کابل کی امیدوں اور نتائج پرپانی پھیر دیا اور یہ نتیجہ اخذ کیا جانے لگا کہ افغان حکمران شاید مصالحت یا مذاکرات کے موڈ میں نہیں ہیں۔ اسی دوران جب افغانستان کے نمائندہ صحافیوں کا ایک وفد پاکستان کے دورے پر آیا تو دوسروں کے علاوہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھی ان کے اعزاز میں ایک استقبالیہ دیا جس کے دوران انہوں نے دیگر اعلیٰ حکام کی موجودگی میں کئی گھنٹوں تک افغان صحافیوں کی شکایات اور تجاویز کو بڑے غور سے سنا اور ان کو یقین دہانی کرائی کہ پاکستان ایک ذمہ دار ملک کی حیثیت سے افغانستان کے امن کے لئے اپنا مثبت کردار ادا کرتا رہے گا۔ اس نشست کے علاوہ ایسے ہی جذبات کا اظہار مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے بھی کیا تھا۔ یہ طرزِعمل اس کوشش کا ایک اظہار تھا جس کے ذریعے افغان حکمرانوں‘ سیاستدانوں اور میڈیا کو یہ پیغام دینا تھا کہ پاکستان بہت سے تحفظات اور خدشات کے باوجود اچھے تعلقات کا خواہاں ہے۔


ابھی اس تمام پیشرفت پر تبصرے اور تجزیئے جاری تھے کہ چمن بارڈر پر دونوں ممالک کی فورسز کے درمیان باقاعدہ جھڑپیں ہوئیں جبکہ اسی شام افغان فورسز نے طورخم بارڈرپر بھی حملے کئے۔ اس افسوسناک واقعے کے نتیجے میں متعدد شہریوں کے علاوہ فورسز کے کئی اہلکار جاں بحق ہوگئے اور پاکستان کو ایک بار پھر چمن بارڈر بند کرنے کا اقدام اٹھانا پڑا۔ افغان حکام خصوصاً قندھار کے سکیورٹی انچارج نے اس نازک ایشو پر ایک ذمہ دار عہدیدار کے رویے کے برعکس ایسا طرزِ عمل اختیار کیا جس سے کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مصالحت اور متوقع مذاکرات کے امکانات ایک بار پھر معدوم ہوگئے۔ تصادم کے بارے میں دونوں ممالک کے الگ الگ بیانات اور الزامات پر بحث کئے بغیر اس کا خلاصہ یوں بیان کیا جاسکتا ہے کہ قندھار کے سکیورٹی انچارج نے اپنی فورسز کے علاوہ عوام کو مشتعل کرنے میں بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی اور وہ ایک حکومتی عہدیدار کے بجائے ایک ایسے راہنما دکھائی دیئے جو کہ جلتی آگ پر مٹی کا تیل ڈالنے کا ماہر ہو۔ افغان حکام نے اس موقع پر حد بندی یا سرحدی حدود کا ایشو بھی اٹھایا جو کہ مزید تلخی کا سبب بن گیا اور معاملات بگڑتے رہے۔ اس تمام معاملے کے دوران افغان میڈیا نے بھی ایشوز کو مزید بگاڑنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اور یوں یکطرفہ طور پر کشیدگی کو مزید ہوا دینے کی کوشش کی گئی۔ دو مطالبات پھر سے دہرائے گئے ۔ ایک تو یہ کہ پاکستان حقانی نیٹ ورک اور بعض دیگر کے خلاف مزید کارروائیاں کرے اور دوسرا یہ کہ لسٹ میں شامل ان 90 افراد کی حوالگی یا گرفتاری کا اقدام اٹھاجائے جو کہ بقول افغان حکومت کے پاکستان میں چھپے ہوئے ہیں اس کے جواب میں پاکستان کا موقف یہ رہا کہ مطلوب افراد پاکستان کے بجائے افغانستان میں ہیں‘ اس لئے ان کے خلاف کارروائی کی جائے اور یہ کہ اگر ایسے افراد یہاں پائے گئے جو کہ افغانستان پر حملوں میں ملوث ہیں تو کارروائی سے قطعاً گریز نہیں کیا جائے گا۔ ایک اور مسئلے کو بھی شدت کے ساتھ میڈیا اور عوامی حلقوں کی سطح پر اٹھایا گیا اور وہ یہ تھا کہ ڈیورنڈ لائن کے سٹیٹس پر بحث کا آغاز کیا گیا۔ شعوری طور پر کوشش کی گئی کہ اس معاملے پر افغانستان کے علاوہ پاکستان کے بعض قوم پرست حلقوں کو بھی اشتعال دلایاجائے۔ اس طرزِ عمل نے مسئلے کو اور بھی خراب کرکے رکھ دیا کیونکہ پاکستان بارڈر مینجمنٹ کے معاملے پر افغان حکام کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرچکا تھا اور اس ضمن میں عملی اقدامات بھی کئے جاچکے ہیں۔


دفاعی ماہرین کا خیال ہے کہ افغانستان کا یہ طرزِ عمل اپنا ایک مضبوط پس منظر رکھتا ہے اور اس کے متعدد اسباب اور عوامل ہیں۔ ان کے مطابق افغانستان کی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ میں اب بھی ایک سے زائدلابیاں اس کوشش میں ہیں کہ دونوں ممالک کو قریب نہ آنے دیا جائے بلکہ کشیدگی کوبھی ہوا دی جائے اور اس کے لئے مختلف قسم کے الزامات اور اقدامات کے ذریعے راستہ بھی ہموار کیا جائے۔ ان ماہرین کے مطابق ان لابیوں یا حلقوں کو بھارت کے علاوہ بعض دیگر ممالک کی سرپرستی بھی حاصل ہے جو کہ افغانستان کے راستے پاکستان پر دباؤ بڑھانا چاہ رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ تعلقات کشیدہ رہیں۔ اس قسم کے لوگ نہ صرف اسٹیبلشمنٹ میں موجود ہیں بلکہ ان کا میڈیا میں بھی بہت اثر و رسوخ ہے اور میڈیا کے بعض اداروں کو اسی مقصد کے لئے باقاعدہ سپانسر بھی کیا جاتا ہے۔

 

افغانستان کے اداروں کی غیر فعالیت اور مخلوط حکومت کے درمیان انڈر سٹینڈنگ کا فقدان بھی ہے تاہم افغان حکمران اور عوام اس کے اعتراف یا اصلاح کے بجائے پاکستان ہی کو ذمہ دار قرار دے کر اپنی سیاسی اور ادارہ جاتی نااہلی پر پردہ ڈالنے کے رویے پر گامزن ہیں۔

حال ہی میں کابل کادورہ کرنے والے ممتاز صحافی ہارون الرشید نے اس ضمن میں رابطے پر بتایا کہ کابل میں انہوں نے عبداﷲ عبداﷲ‘ حنیف اتمراور حامدکرزئی سمیت دیگر اعلی عہدیداران سے بات چیت کی ۔اکثریت کا خیال تھا کہ افغانستان کے خراب حالات کی ذمہ داری محض پاکستان پرہی عائد ہوتی ہے۔ حالانکہ ان کو بتایا گیا کہ جب بھی مذاکراتی عمل کا آغاز ہوتا ہے یا پاکستان افغان طالبان کو میز پر بٹھانے کی کوشش کرتا ہے‘ ایوانِ صدر یا ایسے دوسرے کسی دفتر سے کوئی ایسا بیان جان بوجھ کر جاری کردیا جاتا ہے جو کہ اس پورے عمل کو سبوتاژ کرنے کا سبب بنتا ہے۔ ہارون الرشید کے مطابق اس تاثر میں افغان میڈیا کا بہت بڑا کردار ہے اور اس کے ذریعے مسلسل یہ پراپیگنڈہ کیا جا رہا ہے کہ پاکستان ہی خرابی کا سبب ہے۔ اس پراپیگنڈے کو بھارت کے علاوہ ایران اور امریکہ کی آشیربادبھی حاصل ہے تاہم پاکستان کے سفارتی حلقے اس کو کاؤنٹر کرنے میں بوجوہ ناکام دکھائی دیتے ہیں اور یوں 80 فیصد لوگ پاکستان کے خلاف ہوگئے ہیں۔
سینئر تجزیہ نگار اور اینکر حسن خان کے مطابق ان کے دورۂ کابل کے دوران معلوم ہوا کہ پاکستان کے خلاف افغان حکمرانوں اور عوام کی نفرت میں پہلے کے مقابلے میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ اور چمن تصادم کو نہ صرف بہت زیادہ اچھالا گیا بلکہ ڈیورنڈ لائن(انٹرنیشنل بارڈر) کو متنازعہ بنانے کی مسلسل کوشش بھی کی گئی۔ ایک سوال کے جواب میں حسن خان کا کہنا تھا کہ اس بار انہوں نے عبداﷲ عبداﷲ اور حامدکرزئی کو پاکستان کے بارے میں کافی بہتر اور مثبت پایااوردونوں لیڈروں نے ملاقاتوں کے دوران اس بات کو تسلیم بھی کیا کہ ہر خرابی کی ذمہ داری پاکستان پر ڈالنے کا رویہ شاید درست نہیں ہے بلکہ بعض دیگر عوامل بھی بدامنی اور عدمِ استحکام کا سبب بنے ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق حامد کرزئی پاکستان کے بارے میں مثبت بات کررہے تھے اور ان کی توپوں کا رخ امریکہ کی جانب تھا۔


دونوں سینئرصحافیوں کے مطابق بدامنی اور عدمِ استحکام کی ایک بڑی وجہ افغانستان کے اداروں کی غیر فعالیت اور مخلوط حکومت کے درمیان انڈر سٹینڈنگ کا فقدان بھی ہے تاہم افغان حکمران اور عوام اس کے اعتراف یا اصلاح کے بجائے پاکستان ہی کو ذمہ دار قرار دے کر اپنی سیاسی اور ادارہ جاتی نااہلی پر پردہ ڈالنے کے رویے پر گامزن ہیں۔ اس کے باوجود پاکستان کی کوششیں ہونی چاہئیں کہ بحالی تعلقات کی کوششیں جاری رکھی جائیں تاکہ تلخی یا کشیدگی کے نتیجے میں پاکستان کے مخالف ممالک کو یہ موقع نہ ملے کہ وہ افغانستان یا اس کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کریں۔


سنٹرل ایشیا کے دروازے پر واقع افغانستان کے صوبہ بلخ کے دارالحکومت مزار شریف میں کئے گئے طالبان حملے میں 150 سے زائد افراد جاں بحق جبکہ درجنوں دیگر زخمی ہوگئے جس کے بعد افغانستان کی سکیورٹی سے متعلق سوالات شدت سے سراٹھانے لگے تو ان کے وزیرِ دفاع اور آرمی چیف نے اپنے عہدوں سے استعفے دے دیئے جو کہ افغان صدر اشرف غنی نے قبول بھی کئے۔ افغان طالبان نے حملے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے جو کہ اس جانب واضح اشارہ ہے کہ طالبان کی نہ صرف یہ کہ قوت بڑھتی جارہی ہے بلکہ ان کی کارروائیاں جنوبی اور مشرقی افغانستان یا پشتون بیلٹ تک محدود نہیں رہی ہیں۔ اس سے قبل قندوز میں طالبان نے جہاں ایک طرف چار بار کامیاب حملے کئے وہاں انہوں نے کئی روز تک صوبائی دارالحکومت کو اپنے قبضے میں بھی لئے رکھا۔ جبکہ ہرات بھی مسلسل حملوں کی زد میں ہے اور یہاں پر اب بھی حملے اور جوابی حملے جاری ہیں۔ یہ تینوں صوبے اس حوالے سے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں کہ ان کو سنٹرل ایشیا اور ایران کے گیٹ ویز کے پس منظر میں اہم سمجھا جاتا ہے۔ مزار شریف‘ بلخ‘ قندوز اور پنج شیر کو نہ صرف انتہائی جغرافیائی اہمیت حاصل ہے ‘بلکہ افغانستان کی 50 فیصد سے زائد بیورو کریسی کا تعلق بھی ان ہی صوبوں سے رہا ہے اور اکثر نان پشتون لیڈروں کے نہ صرف یہ آبائی علاقے ہیں بلکہ یہ ان کی قوت کے مراکز بھی ہیں۔ روس کے ساتھ جنگ کے علاوہ نائن الیون اور اس سے قبل طالبان کے داخلے جیسے اہم ادوار کے دوران بھی مزار شریف اور بعض دیگر شمالی علاقے جنگوں کے براہِ راست اثرات سے محفوظ رہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ یہ علاقے تعلیم‘ سہولیات اور ترقی کے حوالے سے دوسرے صوبوں سے کافی آگے ہیں۔ شمالی افغانستان کے لیڈروں کی ہمیشہ یہ کوشش رہی کہ ان علاقوں کو جنگوں اور حملوں سے دور رکھا جائے اور سال2015 کے وسط تک وہ اس کام میں کامیاب بھی رہے تاہم 2016 کے دوران طالبان اور ان کے اتحادیوں نے ان علاقوں کا نہ صرف رخ کیا بلکہ یہاں پر خوفناک حملے بھی کرائے اور حالیہ حملے اسی سلسلے کی کڑی ہیں اس بار فرق یہ سامنے آیا ہے کہ طالبان نے علاقے کی سب سے بڑی فوجی چھاؤنی میں بغیر کسی مزاحمت کے گھس کر 150 سے زائد افراد کو زندگی سے محروم کردیا۔ حملہ آوروں نے کئی گھنٹوں تک چھاؤنی کے اندر رہ کر فورسز سے مقابلہ کیا اور یہ مقابلہ اس وقت تک جاری رہا جب تک آخری حملہ آور زندہ رہا۔افغان طالبان کے ہاتھوں‘ مساجد‘ مزارات اور تعلیمی اداروں کو اس نوعیت کے حملوں کا نشانہ بنانے کی روایت بہت کم رہی ہے تاہم اس بار انہوں نے مسجد میں نماز پڑھنے والوں کو بطورِ خاص ٹارگٹ کیا اور اس سے قبل بھی بعض ایسے حملے مشاہدے میں آئے ہیں جن سے ثابت یہ ہوتا ہے کہ پاکستان کی طرح اب وہاں بھی ماضی کی روایات کے برعکس کوئی بھی طبقہ حملوں سے محفوظ نہیں رہا ہے۔


افغانستان کے علاوہ امریکہ سمیت پوری دنیا میں نہ صرف یہ کہ اس حملے کی شدید مذمت کی گئی بلکہ دو اعلیٰ ترین ریاستی ذمہ داران کے استعفوں کا عوامی سطح پر خیرمقدم بھی کیاگیا تاہم کابل کے باخبر حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ استعفے افغان چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر عبداﷲ عبداﷲ اور شمال کے طاقتور کمانڈر رشید دوستم کے کہنے پر اور دباؤ پر دیئے گئے ہیں۔ مزار شریف کو جغرافیائی اور دفاعی ماہرین پورے خطے کا جغرافیائی مرکز سمجھتے ہیں کیونکہ اس سے کچھ فاصلے پر ازبکستان اور تاجکستان کی سرحدیں واقع ہیں جبکہ یہ کابل‘ ہرات اور قندوز کو آپس میں ملانے کا ایک بڑا ذریعہ بھی ہے۔ اقوامِ متحدہ کی سال2013 کی ایک رپورٹ کے مطابق صوبہ بلخ میں 60 فیصد تک تاجک جبکہ 15 فیصد اُزبک رہ رہے ہیں۔ ان کے مقابلے میں ترکمان اور پشتون دس دس فیصد کے تناسب سے یہاں رہائش پذیر ہیں۔ رواں برس کے دوران دونوں سنٹرل ایشین سٹیٹس نے مزار شریف اور بعض دیگر شمالی علاقوں کے لئے بڑے اہم منصوبے منظور کئے اور خیال کیا جارہا ہے کہ اس بیلٹ کو جغرافیائی اہمیت کے تناظر میں غیر معمولی توجہ اور ترقی دی جارہی ہے۔ حالیہ حملے نے اس تمام عمل کے مستقبل کو سوالیہ نشان بنا دیا ہے اور عالمی میڈیا کے بعض باخبر حلقوں کا کہنا ہے کہ شمالی افغانستان میں حملوں کی تعداد میں اضافہ ایک عالمی اور علاقائی گیم کا حصہ ہے اور اس گیم کو بیرونی طاقتوں کی سرپرستی حاصل ہے۔ کابل میں قائم کولیشن گورنمنٹ کی وزارتوں کی عجیب و غریب تقسیم‘ ان کے درمیان کوآرڈینیشن کے فقدان اور شمال کو شیئرز سے زیادہ حکومتی عہدے دینے کے فارمولے جیسے اقدامات کو بھی افغان اداروں اور فورسز کی ناکامی کے اسباب میں شامل کیا جارہا ہے۔ تاہم سب سے بڑا سوال اب بھی وہی ہے کہ اس قسم کے حملوں کی آڑ میں امریکہ یا بعض دیگر طاقتیں افغانستان کو پھر سے میدانِ جنگ بنانے تو نہیں آرہی ہیں؟ ننگر ہار پر عین ماسکوکانفرنس کے دوران مدر آف آل بم گرانے کا امریکی اقدام اور کانفرنس میں امریکہ کی شرکت سے انکار کے علاوہ بعض دیگر اقدامات اور بیانات کو بھی اسی تناطر میں دیکھا جارہا ہے۔ بظاہر محسوس یہ ہو رہا ہے کہ جنگ کا دائرہ افغانستان کے تقریباً تمام صوبوں یا علاقوں تک پھیلایاگیا ہے اور پانچ سرحدیں ایسی ہیں جہاں طالبان نہ صرف یہ کہ پہنچ چکے ہیں بلکہ وہ اپنا اثر و رسوخ بھی بڑھا رہے ہیں اور کامیاب حملے بھی کررہے ہیں۔ پاکستان اور ایران کے بعد اب ازبکستان اور تاجکستان کی سرحدیں بھی غیر محفوظ ہوگئی ہیں اور اگر صورتحال یہی رہی تو اس کے اثرات بعض دیگر سنٹرل ایشین سٹیٹس کے علاوہ روس پر بھی پڑیں گے۔


یہ حالات ایک ایسے افغانستان کا منظر نامہ پیش کررہے ہیں جہاں نہ صرف یہ کہ سول وار کی شدت میں مزید اضافے کا خدشہ ہے بلکہ یہ یقینی خطرہ بھی موجود ہے کہ شاید امریکہ اپنی فورسز اور ان کے اختیارات میں مزید اضافہ کرے اور اس کے نتیجے میں دوسری عالمی اور علاقائی طاقتیں اپنے مفادات کے لئے میدان میں اُترآئیں۔ دوسری طرف داعش کا پھیلاؤ اور پاکستان‘ افغانستان کی نئی نسل میں مقبولیت کی اطلاعات بھی پریشان کن ہیں۔ حملوں کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے ان ریاستوں کے علاوہ عالمی طاقتیں کیا حکمت عملی طے کرتی ہیں‘ مستقبل کے منظر نامے اور صورتحال کا انحصار اسی پر ہے۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

ضرب عضب کے جوان


دیکھو مرے وطن کے جوانوں کو اِک نظر
سینہ ہے یا فولاد یا پھر شیر کے جگر
باطل ٹھہر نہ پائے کبھی ان کے سامنے
لڑتے ہیں کیسے جم کے ماؤں کے یہ پسر
سایہ ہو میری فوج پہ ربِّ جلیل کا
ہوتی رہے یہ کامراں، تا عمر، تاحشر
کیسے ہوں یہ صفات بیاں اِن کی اے حکیمؔ
ہیبت ہے بس عدو کے لئے ان کی اک نظر

حکیم شہزاد

*****

 
Read 600 times
More in this category: فہرست »

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter