ماؤں کا عالمی دن اور یوکرائن کی ثقافت

Published in Hilal Urdu May 2017

تحریر: کوکب علی

ماں گھر کی رونق۔۔۔۔ امن اور سکون کی علامت۔۔۔
خاندانی قدروں کی پاسدار۔۔۔
محبت و الفت کی امین۔۔۔
مہر ووفا کا گہوارہ۔۔۔
ماں کی دعا ہر مشکل میں کامیابی کی ضمانت ۔۔۔
ماں کا بوسہ رفعت و الفت کا مظہر ۔۔۔۔
اور جنہوں نے ماں کے پیروں کو چوم لیا ، انہوں نے دنیاجہان کی راحیتں اپنے حصے میں لکھوا لیں۔۔
ماں گویا کتابِ زیست کا وہ دلچسپ باب ہے جس کی محبتوں اور قربانیوں سے گندھی تحریر سے صرفِ نظر ممکن نہیں ۔۔۔گو کہ ماں سے محبت کسی مخصوص دن کی مختاج نہیں مگر پھر بھی زمانے کے بدلتے رواجوں کے ساتھ چلتے ہوئے مئی کے دوسرے اتوار کوجہاں دنیا بھر میں ماؤں کا عالمی دن جوش وخروش سے منایا جاتا ہے وہاں یوکرائن میں بھی یہ دن پوری آب و تاب کے ساتھ طلوع ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ اس دن کا باقاعدہ آغاز امریکی کانگریس کی جانب سے 8 مئی 1914 کو کیا گیا ۔ پھر سویڈن ، ناروے جرمنی اور لندن میں منایا گیا ۔ یوکرائن میں اس دن کی تاریخ زیادہ پرانی نہیں ۔سن 2000ء سے اس دن کو منانے کا آغاز کیا گیا ۔
اس دن باقاعدہ طور پر پھولوں کی خریداری کی جاتی ہے ۔ وہ جن کی مائیں حیات ہیں انہیں گلابی اور سرخ پھول پیش کئے جاتے ہیں اور جن کی مائیں حیات نہیں وہ سفید پھول ان کی قبروں پر لے جاتے ہیں۔ یوکرائن میں اس روز خوب چہل پہل ہوتی ہے ، ریسٹورنٹس خصوصی طور پر
mother's breakfast' mother's lunch
اور
mother's dinner
کا اہتمام کرتے ہیں۔۔۔ بچے ماؤں کو کارڈز اور خصوصی تحائف دیتے ہیں ۔ ماؤں کو خاص طور پر اس دن کا بے چینی سے انتظار رہتا ہے کہ کب بچھڑے بچے ان کوآ کر صورت دکھائیں گے یا فون پر ایک مدت بعد اپنی آواز سنوائیں گے ، کیونکہ بہرحال مشرقی اور مغربی قدروں میں فرق ہے ، دوسرے مغربی ممالک کی طرح یہاں بھی خاندانی نظام مضبوط نہیں اور ماں یا باپ بچوں کے کچھ بڑے ہوتے ہی اکیلے زندگی گزارنے پر مجبورہو جاتے ہیں۔ اس دن کے حوالے سے یوکرائنی میوزک میں بھی تنوع موجود ہے ،مدرز ڈے پر تفریحی مقامات بھی پُررونق دکھائی دیتے ہیں۔
یوکرائنی ادب میں بھی ماں کی عظمت کے حوالے سے لفظوں کے رنگ بکھیرے گئے ۔ یوکرائنی شاعر
Sova
نے خاص طور پر اپنی نظم

The Owl
میں اپنی دھرتی یوکرائن کا ذکر ان الفاظ میں کیا ہے
Is there on earth a son more fine'
In all Ukraine? Good people, gaze,
اس نظم میں ماں کی اس محبت کا ذکر ہے جو وہ اپنے خوبصورت بیٹے کی پیدائش پر اُس سے رکھتی ہے ۔ ماں چاہتی ہے کہ وہ اُسے دنیا کی ہر خوشی دے۔ اس کے باپ کی وفات پر وہ زندگی کے اُتار چڑھاؤ کو دیکھنے کے باوجود وہ اپنے بیٹے کی سب خواہشیں پوری کرتی ہے اور ایک دن وہ آرمی میں جا کر ملک کی خدمت کرتا ہے یہ لمحہ ماں کے لئے فخر کا باعث ہے ،، مگر ملک کی حفاظت کرتے کرتے وہ ایک بار لاپتہ ہوجاتاہے ۔ دس برس گزر جاتے ہیں ،، مگر ماں اس کی تلاش جاری رکھتی ہے یہاں تک کہ بوڑھی ہو کرگلیوں بازاروں میں اپنے بیٹے کو آوازیں دیتی ہے۔ گلی کے شریر بچے اس کو تنگ کرتے رہتے ہیں۔ ماں کے حوالے سے اس طویل نظم نے پڑھنے والوں پر پُر سوز اثرات مرتب کئے ہیں ۔
ماں کی لازوال محبتوں کی یہ داستانیں رہتی دنیا تک قائم رہیں گی ۔سر زمین کوئی بھی ہو ماں کااپنی اولاد کے لئے پیاراور اس کے رنگ ہمیشہ ایک جیسے ہوتے ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it. 
 
Read 537 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter