بلوچستان کا ایک چمکتا ستارہ

Published in Hilal Urdu

تحریر: فہیم خان

صوبہ بلوچستان جو کہ کئی عشروں سے شورش کا شکار رہا، خاص کر صوبہ بلوچستان کا دارالحکومت کوئٹہ دہشت گردوں کا نشانہ بنا رہا ‘جس سے یقیناًیہاں کے لوگ خصوصاً نوجوان ضرور متاثر ہوئے ہوں گے۔ لیکن اسی ماحول میں کوئٹہ کے مضافاتی علاقے میں جنم لینے والی ایک لڑکی نورینہ شاہ منفر دصلاحیت کی حامل ہے۔ نورینہ شاہ بچپن سے ہی ستاروں کے بارے میں جاننا چاہتی تھی چنانچہ جیسے جیسے نورینہ بڑی ہوتی گئی اس کی دلچسپی خلاء میں موجود ستاروں اورسیاروں کے بارے میں بڑھتی گئی۔ وہ کائنات میں موجود ستاروں سیاروں کے بارے میں بہت سے جواب طلب رازوں کو جاننا چاہتی تھی۔ اس سلسلے میں ایک انٹرنیشنل ادارے سے سوشل میڈیا کے ذریعے رابطہ کیا اس ادارے کو یہ جان کر حیرت ہوئی کہ اس بچی کا تعلق پاکستان کے اس علاقے سے ہے جہاں امن وامان کا بڑا مسئلہ ہے اور یہ بچی ستاروں پر کمند ڈالنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ جلدہی نورینہ شاہ نے انٹرنیشنل میڈیا پر اپنی جگہ بنا لی۔ یو این کے سابقہ سیکرٹری بان کی مون نے بھی نورینہ کی تعریف کی۔ اسی طرح برطانیہ کے میگزین ایڈ زون نے نورینہ کا نہ صرف تفصیلی انٹرویو شائع کیابلکہ اس کو ایشیا کی کم عمر ترین سفیر بھی مقرر کیا۔

balchkachamkta.jpg
راقم اس باصلاحیت طالبہ سے ملنے کوئٹہ کے مضافاتی علاقے میں واقع نورینہ شاہ کے گھر پہنچا۔ نورینہ شاہ نے اپنے بارے میں بتایا کہ ابھی وہ سیکنڈ ائیر کی طالبہ ہے۔ لیکن وہ اعلیٰ تعلیم کے ذریعے اپنی جدوجہد کو آگے لے جانا چاہتی ہے۔ اس نے کہا کہ پاکستان کے عام لوگ آسٹرونومسٹ کو پامسٹ سمجھتے ہیں۔ جب بھی میں کسی سیمینار میں گئی وہاں لوگ مجھے اپنے ہاتھوں کی لکیریں دکھانا چاہتے تھے لیکن لوگوں کو بڑی مشکل سے سمجھانا پڑتاہے کہ میرا یہ کام نہیں۔ تحقیق کے سلسلے میں مجھے ایک بین الاقوامی ادارے نے ایک دوربین بھی گفٹ کی تاکہ میرے علم میں مزید اضافہ ہوسکے۔ گو کہ یہ میری تحقیق کا اگلا ہدف ستاروں کے ٹوٹنے کے عمل سے پیدا ہونے والے نتائج کا جائزہ لینے کے لئے ناکافی ہے۔ ابھی میری منزل کافی دور ہے اور مجھے بہت محنت اور جدوجہد کی ضرورت ہے۔ لیکن مجھے اللہ پاک کی ذات پر پختہ یقین ہے کہ انشاء اللہ ایک روز میری محنت رنگ لائے گی اور بلوچستان کی بیٹی دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کرے گی۔نو رینہ نے مزید بتایا کہ میرے ابو نے وسائل کی کمی کے باوجود میری بھرپور رہنمائی اور حوصلہ افزائی کی اور آج میں جس مقام پر ہوں اس کا سارا کریڈٹ میرے والدین کو جاتا ہے۔ نورینہ نے ارباب اختیار سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ مجھے اور میرے جیسے دیگر طلبہ و طالبات کی بھرپور حوصلہ افزائی کی جائے۔


نورینہ کے والد حفیظ اﷲ صاحب ‘جو ایک گورنمنٹ ملازم ہیں، نے اپنی بیٹی کے بارے میں بتایا کہ اس کو کم عمری سے ستاروں کے بارے میں جاننے کا شوق تھا جو اس کی عمر کے ساتھ ساتھ بڑھتا گیا۔ اس کی دلچسپی کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنے وسائل کے مطابق اس کی حوصلہ افزائی کی۔ کئی انٹرنیشنل ادارے نورینہ شاہ سے رابطے میں ہیں۔ اس کے علاوہ کئی اداروں نے ایوارڈ اورسرٹیفکیٹ بھی دئیے ہیں۔ یہ بچی بڑے عزائم اور ارادے رکھتی ہے جس کے لئے نورینہ کو آگے بہت کچھ کرنا ہے۔ لیکن خلاء بینی کے لئے وسائل کی کمی کا سامنا ہے۔ اس سلسلے میں کچھ این جی اوز نے یقین دہانی تو کرائی ہے لیکن ابھی تک این جی او یا حکومتی سطح پر عملی طورپر کچھ نہیں کیا گیا۔ بہر حال آج ہمیں اپنی بچی پر فخر ہے اوریقین ہے کہ اﷲ تعالیٰ کی مدد سے یہ بچی اپنی محنت اور سچی لگن کی بدولت دنیا میں اپنے ملک کا نام روشن کرے گی۔


اس طالبہ سے ملاقات کے بعد ایک پاکستانی ہونے کے ناتے سرفخر سے بلند ہوتا ہے کہ نورینہ شاہ جیسی باصلاحیت اور بلند حوصلہ طالب علم اس خطے میں موجود ہیں۔ ہمارے ارباب اختیار کو اس طالبہ کے لئے خصوصی دلچسپی لے کر اقدامات کرنے چاہئیں تاکہ ایسے باصلاحیت نوجوان اس دھرتی کے چمکدار ستارے بن کر ساری دنیا میں پوری آب وتاب سے چمکیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
Read 117 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter