تحریر: میجر حسان جاوید

مملکتِ خدادادِ پاکستان کا شمار دنیا کے خوبصورت ترین ملکوں میں ہوتا ہے اس چھوٹے سے ملک میں موسمیاتی اور جغرافیائی لحاظ سے پایا جانے والا تنوع شاید ہی دنیا کے کسی اورخطے میں ہو۔ پاکستان میں بے شمار ایسی جگہیں ہیں جو تاریخی اور جغرافیائی لحاظ سے انتہائی اہم اور خوبصورت لیکن نظروں سے اوجھل ہیں۔ اِنہی میں سے ایک مقام ٹلہ جوگیاں ہے۔ٹلّہ جوگیاں کا پہاڑخطہ پوٹھوہار میں کوہِ نمک کی سب سے اونچی چوٹی ہے جو سطح سمندر سے 3200 فٹ بلند ہے۔ ٹلہ جوگیاں جہلم شہر سے مغرب میں مشہور تاریخی قلعہ روہتاس سے تقریباً25 کلومیٹر کی مسافت پر موجود ہے۔ بلند مقام ہونے کی بدولت جوگیاں کا پہاڑ میلوں دور سے اپنی جانب توجہ مبزول کراتا ہے اور شام کے اوقات میں انتہائی خوبصورت منظر پیش کرتا ہے۔ یہاں کا موسم سردیوں میں شدید اور گرمیوں میں نسبتاً معتدل ہوتا ہے۔


ٹلہ جوگیاں سیکڑوں صدیوں سے جوگیوں اور فقیروں کی آماجگاہ رہاہے۔ اس مقام کو قدیم ہندو‘ بدھ اور سکھ مذاہب میں ایک تعلیمی اور تربیتی درسگاہ کا درجہ حاصل تھا۔ جہاں پورے ہندوستان سے جوگی اور فقیر تربیت کے لئے آتے تھے۔

خانقاہوں اوٹلہ جوگیاں کے پہاڑ پر ایک درجن سے زائد مندروں خانقاہوں اور استھانوں کی باقیات موجود ہیں۔ زیادہ تر عمارات پتھروں سے تعمیر کی گئی ہیں۔ علاوہ ازیں مغلیہ طرزِ تعمیر کے مطابق بنا ہوا پانی کا ایک تالاب بھی موجودہے جس میں بارش کا پانی جمع ہوتا تھا۔


ایک روایت کے مطابق ٹلہ جوگیاں کی بنیاد تقریباً سو سال قبل مسیح جوگیوں کی ایک قدیم شاخ کن پترا (کانوں کو چھدوانے والے) جوگیوں کے پیشوا گورو گورکھ ناتھ نے رکھی۔ اس قدیم پہاڑی کے ساتھ بہت سی دیومالائی اور لوک داستانیں بھی جڑی ہوئی ہیں۔ ایک روایت کے مطابق پنجاب کی مشہور لوک داستان ’ہیر رانجھا‘ کے مرکزی کردار رانجھا نے اس پہاڑی پر آکر قیام کیا۔ اپنے کان چھدوائے اور جوگی کا روپ اختیار کیا۔ ایک روایت کے مطابق سکھ مذہب کے بانی بابا گورو نانک نے تقریباً پانچ سو سال قبل ٹلہ جوگیاں پر چالیس دن قیام کیا اور اپنی عبادت کی۔ اسی عقیدت کی بدولت پنجاب کے حکمران رنجیت سنگھ نے یہاں پانی کا ایک تالاب بھی تعمیر کروایا۔ مشہور ہے کہ عظیم مسلمان فلسفی اور ریاضی دان ابوریحان البیرونی نے تقریباً ایک ہزار سال قبل اس پہاڑ پر قیام کیا اور پھر پنڈدادن خان کے مقام پر بیٹھ کر زمین کا قطر معلوم کیا۔

 

tallajogiyan.jpgمغلیہ دور میں اس جگہ کو خاص اہمیت حاصل تھی کیونکہ مغل بادشاہ لاہور سے کشمیر کی طرف سفر کرتے ہوئے اس پہاڑ پر عارضی قیام کرتے تھے۔ پہاڑ پر موجود پانی کے تالاب مغلیہ دور کی یاد دلاتے ہیں۔ انگریز دورِ حکومت میں ٹلہ جوگیاں کو ایک پہاڑی مقام کا درجہ حاصل تھا جہاں شدید گرمیوں میں انتظامیہ کے دفاترمنتقل ہوجاتے تھے۔


ٹلہ جوگیاں کے پہاڑ پر ایک درجن سے زائد مندروں خانقاہوں اور استھانوں کی باقیات موجود ہیں۔ زیادہ تر عمارات پتھروں سے تعمیر کی گئی ہیں۔ علاوہ ازیں مغلیہ طرزِ تعمیر کے مطابق بنا ہوا پانی کا ایک تالاب بھی موجودہے جس میں بارش کا پانی جمع ہوتا تھا۔ پہاڑ کے اوپر ریسٹ ہاؤس کی عمارت بھی موجود ہے۔ قیامِ پاکستان سے قبل تک یہاں پورے ہندوستان سے فقیر اور جوگی آتے اور وجدان حاصل کرتے۔


ٹلہ جوگیاں کے پہاڑ پر پہنچنے کے کئی راستے ہیں۔ جن میں ایک قلعہ روہتاس اور دوسرا دریائے جہلم کے کنارے سنگھوئی گاؤں سے نکلتا ہے جبکہ ایک راستہ جی ٹی روڈ پر ڈومیلی گاؤں سے ٹلہ جوگیاں کے نزدیک گاؤں بھیت تک جاتا ہے۔ الغرض ٹلہ جوگیاں ایک انتہائی تاریخی اہمیت کا حامل مقام ہے اور اس کو سیر و سیاحت کے لحاظ سے ترقی دی جاسکتی ہے۔

مضمون نگار کا تعلق آرمی ایجوکیشن کور سے ہے وہ ان دنوں ملٹری کالج جہلم میں تدریسی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔
 
Read 105 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter