تحریر: مجاہد بریلوی

اسلام آباد کے ادبی میلے میں تھا۔ علم اور کتاب کے ہزاروں متلاشیوں کے ذوق و شوق کو دیکھ کر خوشی ہو رہی تھی کہ دہائی سے اوپر اپنی شریعت کی اسلام آباد میں دہشت مسلط کرنے والوں کے خواب پورے نہیں ہوئے۔ ابھی شام کے ایک سیشن سے نکلا ہی تھا کہ چینل سے مسلسل کالوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ عموماً جب کبھی بے وقت فون پر کالیں آتی ہیں تو پہلے ٹی وی کی طرف دوڑتا ہوں۔ قریبی اسکرین پر نظر دوڑائی تو ایک دہلا دینے والے منظر کو چیختی چلاتی سرخیوں سے مسلسل دکھایا جا رہا تھا۔ سانحہ یا واقعہ۔۔ مردان کی ولی خان یونیورسٹی میں ہوا تھا مگر لاہور سے کہا گیا کہ یونیورسٹی بند ہو چکی ہے اس لئے صوابی روانہ ہو جاؤ۔ صوابی۔۔ اسلام آباد سے ڈیڑھ گھنٹے کے فاصلے پر ہے۔ ایک مقامی سینئر صحافی‘ جو ہمارے ساتھ ہو لئے تھے‘ تفصیل سے بتا رہے تھے۔ ولی خان یونیورسٹی کا طالب علم مشعال خان یونیورسٹی میں اپنی بزلہ سنجی اور بے باکی کے سبب بڑا مشہور تھا۔ بحث و مباحثہ کرنا اُس کا پسندیدہ مشغلہ تھا۔ ولی خان یونیورسٹی گزشتہ تین ماہ سے وائس چانسلر سے محروم تھی جس پر طلبہ سراپا احتجاج بنے ہوئے تھے اور ہر روز ایڈمنسٹریٹو بلاک کے سامنے صبح ہی سے احتجاج کا سلسلہ شروع کر دیتے۔ مشعال بھی اُن طلباء میں شامل تھا جو یونیورسٹی کے ’’وائس چانسلر‘‘ کے حوالے سے احتجاج میں آگے آگے تھے۔ اس پر یونیورسٹی کی انتظامیہ خوش نہیں تھی۔ دوسری جانب مشہور سیاسی رہنما ولی خان سے منسوب یونیورسٹی کے بارے میں مقامی صحافی نے بتایا کہ کمین گاہوں میں چھپی عسکری تنظیموں نے ایک نئی حکمتِ عملی کے تحت کے پی کے کی یونیورسٹیوں میں ایک بڑی تعداد میں ایسے طلباء کو داخل کروایا ہے جو ’’لبرل اور روشن خیال‘‘ طلباء پر نظر رکھتے ہیں۔ یہ بھی بتایا گیا کہ اِن یونیورسٹیوں کی انتظامیہ میں بھی یہ نقب لگانے میں مصروف ہیں۔مقامی صحافی کی گفتگو جاری تھی کہ سرسبزوشاداب صوابی میں ہم داخل ہو گئے۔ صاف ستھری سڑکوں سے گزرتے ہوئے ایک ایسا مقام آیا کہ جہاں سے آگے گاڑی کا گزر نہیں ہوتا۔ گاڑی سے اُتر کر ابھی چار قدم ہی چلا تھا کہ سامنے سے ویل چیئر پر بیٹھے ادھیڑ عمری کی طرف مائل سرخ و سفید چہرے والے مقامی رہنما نے چلاتے ہوئے کہا ’’مجاہد صاحب!‘‘۔ یہ عبد الرحمٰن تھے جو یاد دلا رہے تھے کہ ہم کراچی یونیورسٹی میں ساتھ پڑھتے تھے۔ تیز تپتی دھوپ میں عبد الرحمٰن دکھ بھری آواز میں کہنے لگے ’’میں مشعال اور اُس کے پورے خاندان کو جانتا ہوں۔ یہ بچہ میرے ہاتھوں میں پلا بڑھا ہے۔ مشعال اور اُس کا خاندان کیا پورے صوابی میں سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ کوئی حضورؐ کی شان میں گستاخی کرنا تو کیا اس بارے میں سوچنے کا بھی تصور کرے‘‘۔ رات گئے جب مشعال کے دوستوں نے بتایا کہ ایک گروپ مسلسل مشعال کے پیچھے لگا ہوا تھا۔ اُس کے نام سے ایک جعلی آئی ڈی بھی طلبہ کو دکھائی جاتی۔ سانحے کے روز ہم دیکھ رہے تھے کہ یہ گروپس جن میں یونیورسٹی انتظامیہ کے چند اساتذہ بھی شامل تھے۔ سرگوشیوں میں ہمیں سازش کا جال بُنتے نظر آرہے تھے۔ مگر یہ ہمیں یقین نہ تھا کہ ہم اپنے سامنے درندگی اور بربریت کا اتنا بڑا سانحہ بھی دیکھیں گے۔ مشتعل گروپ میں سے ایک جس نے اپنا نام اور اپنے باپ کا بھی نام بتایا باقاعدہ سیڑھیوں پر کھڑے ہو کر حلف لیا کہ ’’مشعال کو ایک ایسی بدترین مثال بنائیں گے کہ آئندہ کوئی روشن خیال، ترقی پسند اور لبرل ہونے کی جراّت بھی نہیں کر سکے گا‘‘۔ ابتداء میں یہ کوئی سو سوا سو تھے مگر ہاسٹل پہنچتے پہنچتے تعداد ہزار سے اوپر پہنچ گئی۔ ’’اوہ میرے خدا!‘‘ عبد الرحمٰن کی آواز آنسوؤں اور سسکیوں میں ڈوب گئی۔’’ مشعال کے ساتھ جو کچھ ہوا اور اسکے دوستوں نے جو کچھ بیان کیا اُس کے تصور ہی سے خود کو پختون اور مسلمان کہتے ہوئے شرم آتی ہے‘‘۔ پولیس اور انتظامیہ اُس وقت آئی جب مشعال کی برہنہ لاش پر لاٹھیاں برسائی جا رہی تھیں۔ ہاں! پولیس کو اس کارنامے پر ضرور داد دینی چاہئے کہ مشعال کی لاش کو آگ لگانے سے پہلے ہی اُنہوں نے اپنی تحویل میں لے لیا۔ لیکن ایک بھی۔۔ جی ہاں! وہاں پر موجود ایک بھی فردکو پولیس کی تحویل میں نہیں لیا گیا۔ میرا جی چاہا کہ واپس اُنہیں قدموں سے لوٹ جاؤں مگر مشعال کے والد اور بہن کی ہمت اور جراّت کے بارے میں سن چکا تھا اس لئیے حجرے میں داخل ہوا جہاں مشعال کا باہمت باپ سر جھکائے پُرسہ لے رہا تھا۔ میرے بڑے بھائی کا انتقال ہوا تو عزیز و اقارب پُرسہ دیتے ہوئے صبر کی روایتی تلقین کر رہے تھے۔ میرے بوڑھے والد نے پُر نم آنکھوں سے کہا ’’جس کی انگلی کٹتی ہے وہی دل چیرتے دکھ کو محسوس کر سکتا ہے‘‘۔ مشعال کے والد کے آگے بھی مجھے چُپ لگ گئی۔جُھریوں بھرے سرخ و سفید چہرے پر بیٹے کا دکھ سمیٹے مشعال کے والد نے صرف اتنا کہا ’’میرا مشعال تو چلا گیا مگر خدا کے واسطے میرے وطن کے کسی دوسرے مشعال کے ساتھ یہ بربریت اور درندگی کا وحشیانہ کھیل نہ کھیلا جائے‘‘۔
یہ لمحہ فکریہ ہے ہم سب کے لئے۔ اختافاتِ رائے کا انجام وحشیانہ موت نہیں۔ ہم سب کو قائد کا پاکستان واپس لانا ہے۔ پُرامن پاکستان، خوشحال اور مسکراتا پاکستان!

مضمون نگار پاکستان کے ایک معروف صحافی اور تجزیہ نگار ہیں۔ آپ ایک نجی چینل پر حالات حاضرہ سے متعلق ایک پروگرام کے میزبان بھی ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
Read 340 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter