وردی کا ڈی این اے

Published in Hilal Urdu May 2017

تحریر: انوار ایوب را جہ

یہ 84-1983 کی بات ہے۔ منگلا ایم پی چیک پوسٹ پر ایک فییٹ گاڑی نے ایک ویگن کا راستہ روکا۔ ویگن میں سے پہاڑی زبان بولنے والے تین بچے اور ایک پرانے طرز کے لباس میں ملبوس خاتون جن کی عمر اس وقت پچیس یا چھبیس سال کے قریب تھی ‘روتی ہوئیں ویگن سے نکلیں اور کار میں سوار ہو گئیں۔ وہ اپنی والدہ کواسلام آباد ایئرپورٹ چھوڑنے جا رہی تھیں۔ ان کے سب بہن بھائی برطانیہ میں رہتے تھے۔ بس وہ یہاں پاکستان میں اپنے بچوں اور خاوند کے ساتھ رہتی تھیں جو ایک فوجی افسر تھے۔


ان تین بچوں کے لیے کار میں بیٹھنے کا یہ پہلا تجربہ تھا ، اس سے پہلے یہ تا یا محبوب کی سبز ویگن میں بیٹھ کر اپنی ماں کے ساتھ گاؤں سے میرپور جاتے جو خود میں ایک تفریح تھی۔ منگلا ایم پی چیک پوسٹ سے ان تین بچوں اور ان کی ماں کی زندگی میں ایک بہت بڑی تبدیلی آئی۔ ایک اور سبز رنگ کی گاڑی میں جس سفر کا آغاز ہوا ‘وہ آج بھی جاری ہے۔اس سفر کے دوران بہت سے پڑاؤ ان پانچ مسافروں کی زندگی میں آئے اور اس سفر کا کمال یہ ہے کہ اس کا ہر لمحہ یادگار ہے۔ اس رات وہ کار راولپنڈی صدر میں کپڑوں کی دکان پر رکی۔ ان بچوں اور ان کی ماں کے لئے کپڑے خریدے گئے اور یہ کار آخر کار رات کی تاریکی میں تربیلا پہنچی جہاں ان چار مسافروں کی زندگی کا آغاز ہونا تھا۔


دوسرے روز جب صبح کا آغاز ہوا تو یہ تین بچے اور ان کی والدہ ایک نئے ماحول میں آنکھ کھول رہے تھے۔ بچے اردو کا ایک لفظ نہیں بول سکتے تھے ، ان کی ماں پہاڑی زبان کے علاوہ تھوڑی بہت اردو بول سکتی تھیں مگر ان کے لئے ابھی تک یہ تبدیلی ایک بہت بڑا تعجب تھا۔ اس روز یہ بچے جاگے۔ ان کے پاس راولپنڈی سے خریدے ہوئے نئے کپڑے تھے۔ ایک اردلی ایک ٹرے میں کچھ ناشتہ لایا اور ڈائننگ ٹیبل پر رکھ کر چلا گیا۔ مجھے یاد ہے اس گھر کے باہر ایک تختی لگی تھی جس پر لکھا تھا ، کیپٹن محمد ایوب اور یہ وہی صاحب تھے جنہوں نے ایک رات قبل ان تین بچوں اور ان کی والدہ کو کشمیر کے پہاڑوں سے ایس ایس جی کی چھاؤنی میں لا کر محصور کیا تھا۔ یہ کہانی میری ہے ، یہ کہانی میری والدہ اور اور میرے بھائیوں کی ہے ، مگر اب جب میں زندگی کی چار دہایاں پوری کرنے والا ہوں تو مجھے لگتا ہے کہ یہ کہانی میری یا میرے خاندان کی نہیں بلکہ ہر اس خاندان کی ہے جس کا تعلق فوج سے ہے۔ ابو جی اس وقت ایس ایس جی میں تھے اور یہ سبز رنگ کی فییٹ کار ہماری پہلی فیملی کار تھی اور یہ ہمار ا فوج کی زندگی میں شامل ہونے کا وہ یادگار دن تھا جس کی چھاپ آج تک ہماری زندگیوں پر ہے۔انگریزی میں کہتے ہیں
Once  a  Soldier, Always  a  Soldier
کچھ ایسا ہی معاملہ ان خاندانوں کے ساتھ ہوتا ہے جو اس فوجی کے ساتھ جڑے ہوتے ہیں جو ان کا بھائی، باپ یا خاوند ہوتا ہے۔ وردی اور سپاہی ایسے ہی ہوتے ہیں جیسے روح اور جسم۔ یہ رشتہ جو ایک سپاہی کے لئے ریکروٹمنٹ سینٹر سے اور افسر کے لئے کاکول سے شروع ہوتا ہے مگر اس کا اختتام کبھی نہیں ہوتا ، یہ رشتہ زندگی ختم ہونے تک ڈی این اے کا حصہ بن کر ساتھ چلتا ہے اور اس رشتے کو ایک فوجی کے ساتھ ساتھ اس کا خاندان بھی اپنا لیتا ہے جیسے ہم نے اپنایا۔


ان تین بچوں میں سب سے بڑا میں تھا اور دو چھوٹے میرے بھائی تھے۔ ایک اب کینیڈا میں آباد ہے اور دوسرا پاکستان میں ہائی کورٹ کا وکیل ہے اور میں یہاں برطانیہ میں رہتا ہوں جبکہ ابو جی ریٹائرڈ ہو چکے ہیں اور اب تختی پر کیپٹن نہیں بلکہ لیفٹیننٹ کرنل(ر ) لکھا ہوا ہے۔ بہت سا وقت گزر گیا ، بہت سی نسلیں جوان ہو گئیں ، بہت سی ایس او پیز میں تبدیلیاں کی گئیں ، خاکی کی جگہ کیمو فلاج نے لے لی، ٹیکنالوجی اور ہتھیاروں کی ساخت اور استعمال میں تبدیلی آئی مگر ان سب کے ساتھ جڑا سپاہی نہیں بدلا، اس کا جذبہ ماند نہیں پڑا، اس کے ڈی این اے کے جرثوموں میں کل بھی سبز لہو موجود تھا اور آج بھی وہی سبز لہو موجود ہے جس میں ایمان ، تقویٰ اور جہاد فی سبیل اللہ ہے۔ لہو سرخ ہوتا ہے مگر سپاہی کے لہو میں سبز ہلالی پرچم اپنا رنگ ایسے اتار دیتا ہے کہ اس کی وردی اس کا کفن بن جاتی ہے۔ میں وردی نہیں پہن سکا ، شائد میرے مقدر میں یہ نہیں تھا ، مگر میں نے اپنی زندگی کا ایک اہم حصہ وردی کے پاس اور وردی کے ساتھ گزارا اس لئے میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ وہ وردی میرے لئے بھی اتنی اہم ہے جتنی ابو جی کے لئے تھی۔ ایس ایس جی کچھ دیوانوں کا ایک ایسا گروپ ہے جو کسی نام ، ایوارڈ اور میڈل کے لئے اس کا حصہ نہیں بنتے بلکہ وہ ایک مختلف سوچ ہے ، ایک الگ مائنڈ سیٹ ، ایک مکمل اور دیوانہ وار عشق یعنی ’’من جانبازم ‘‘ ہم جب فوج کی زندگی کا حصہ بنے تو ہمیں یہ علم نہیں تھا کہ ہماری زندگی میں سب سے پہلے فوج اعتماد کا ٹیکہ لگائے گی ، ہمیں وہ پاکستان کا ہر علاقہ دکھائے گی، ہمیں ایران سے افغانستان اور انڈیا سے چین کی سرحدیں دکھائے گی۔ ہمیں یہ علم نہیں تھا کہ ہمارے پڑوس میں بریگیڈیر ٹی ایم جیسے جنگجو ہوں گے ، ہمیں ہر گز یہ پتہ نہیں تھا کہ شاہراہ دستور پر ’’ا ﷲ ہو‘‘ کا نعرہ بلند کرتے ہوئے جب ہمارے والد اپنے ساتھیوں کے ساتھ 23 مارچ کی پریڈ میں شامل ہوں گے تو جذبے اور جوش سے ہمارے آنسو نکلا کریں گے۔ ہمیں نہ کسی ایف جی سکول کا علم تھا اور نہ ہی کبھی آرمی پبلک سکول کا سوچا تھا ، یہ کبھی بھی ہمارے گمان میں نہیں تھا کہ ہم تیراکی سیکھیں گے یا ہمیں کبھی دنیا کے بلند ترین محاذجنگ پر ہیلی کاپٹر سے لٹک کر جانے والے کیپٹن نوید اور ہوا بازی کی عالمی تاریخ کے عظیم ہیرو ایم ایم عالم سے ملنے کا موقع ملے گا اور پھر یہ کس نے سوچا تھا کہ کارگل کی جنگ میں شہداء کی فہرست میں ایک نام کیپٹن جاوید اقبال کا ہو گا جو میری والدہ کے بھائی ہوں گے اورکسے معلوم تھاکہ اسی فوج میں ہمارے ہم عصر بھی وہی وردی پہنیں گے جو ان کے بھی ڈی این اے کا حصہ تھی ، کسے علم تھا کہ ان میں سے کچھ ہم سب کو پیچھے چھوڑ جائیں گئے اور سبز ہلالی پرچم کا انتخاب اپنے کفن کے طور پر کریں گے۔ بس یہ فوج کا کمال ہے اور فوج کی زندگی کا ایک ایسا پہلو ہے جس پر کوئی لکھتا نہیں اور شائد کوئی بولتا بھی نہیں مگر میں آج ایسا کیوں سوچ رہا ہوں؟ میں تو مکمل سویلین ہوں۔


بس یوں ہی کبھی کبھار غیر ارادی طور پر جب پاکستان جاتا ہوں تو ان گلیوں میں چلتا ہوں جہاں بچپن گزرا اور جہاں آج بھی تندرست جسموں اور بلند جذبوں والے سپاہی رہتے ہیں ، بس ایک رشتہ ہے جو خود ہی قائم ہے، بس وہ پرانے دوست جو کبھی اسکول میں ساتھ پڑھتے تھے۔ اب کرنیل بن گئے ہیں اور ان کو مل کر کچھ یادیں تازہ ہو جاتی ہیں مگر پھر بھی میں یہ سب کیوں لکھ رہا ہوں ؟


محمد میرا بیٹا ہے جو ماشاء اللہ تین سال کا ہونے والا ہے اور اب وہ باتیں بھی کرتا ہے ، محمد اپنی پیدائش کے بعد سے اب تک تین بار پاکستان جا چکا ہے۔ وہ ایک برٹش پاکستانی/کشمیری بچہ ہے اس کا تعلق اس مٹی سے ہے جس میں وہ پیدا ہوا مگر اسے میں نے اور میری بیگم نے ہمیشہ وہ چار دیواری دکھائی ہے جس سے ہمارا تعلق ہے۔ محمد کو اس کی ماں نے بہت محنت سے اپنی زبان کے کچھ لفظ سکھائے جیسے ’’ابو جی‘‘، ’’پاکستان زندہ باد‘‘، ’’دل دل پاکستان‘‘ اور’’اﷲ جی کرم کرو۔‘‘ میری سٹڈی میں ابو جی کی ایک تصویر لگی ہے جسے وہ دیکھتا ہے اور اس تصویر سے باتیں کرتا ہے ، مجھے اس کی باتوں کی سمجھ نہیں آتی مگر وہ اپنی ماں کو سب کچھ سمجھا لیتا ہے ، شائد ایسا ہم سب نے کیا ہو۔ آج ہم گاڑی میں کہیں جا رہے تھے ، محمد متواتر کچھ کہہ رہا تھا اور میری بیگم فرنٹ سیٹ پر بیٹھی رو رہی تھی ، میں نے پوچھا تو وہ بولی کہ محمد نے ٹی وی پر ایک نغمہ سنا ہے اور کل سے بے دھیانی میں گنگنا رہا ہے۔ میں نے بیگم سے رونے کی وجہ پوچھی تو وہ بولی کہ محمد کہہ رہا ہے ’’ مجھے دشمن کے بچوں کو پڑھانا ہے۔‘‘ یہ سنتے ہی میری آنکھیں بھی تر ہو گئیں مگر نہ جانے کیوں منہ سے شکر کا کلمہ ادا ہوا، مجھے اتنے سالوں بعد یہ احساس ہوا کہ وردی ابھی بھی ہمارے ڈی این اے کا حصہ ہے۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
Read 459 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter