فیصلے کی گھڑی

Published in Hilal Urdu

تحریر: رابعہ رحمن

عورت کا رتبہ بے شک بلند ہے مگر اس کی عظمت کی معراج کا پتہ اس وقت چلتا ہے جب وہ قربانیوں اور آزمائشوں کی بھٹی سے نکل کر سامنے آتی ہے۔معصوم بچی جب گھرکے کاموں میں اپنی ماں کا ہاتھ بٹاتی ہے‘ اسے اپنے والد کے جوتے صاف کرنے اور بھائی کیلئے گرم روٹی پکانے میں خوشی محسوس ہوتی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ ایک عورت کی قربانی کے کبھی نہ ختم ہونے والے سفر پہ گامزن ہوچکی ہے۔ پھر یہ سفر اس کی آخری سانس تک جاری رہتاہے۔ وہ اس سفر کے دوران آنے والے ہرموڑ اور اونچے نیچے راستوں پر اپنی محبت اور معصومیت کے پروں کو پھیلائے اڑتی چلی جاتی ہے اس کے پر اگر کاٹ بھی دیئے جائیں تو وہ نئے پر اُگالیتی ہے اس کے پروں کی اُڑان اور آنچل کے سائے میں نسلوں کی نسلیں پھلتی پھولتی ہیں۔


انہی نسلوں میں پلنے بڑھنے والے مختلف شعبہ ہائے زندگی میں اپنی خدمات انجام دیتے ہیں‘ ان میں بہت سے پرائیویٹ اداروں اور گورنمنٹ سیکٹر کے میدان میں ہیں۔ ڈگریاں حاصل کرنے اور نوکریاں ملنے تک سب افراد شام کو واپس گھر میں اپنی ماں،بہن، بیٹی یا بیوی یعنی کہ کسی نہ کسی روپ میں وہ عورت کے سائے میں آجاتے ہیں۔ دن بھر کی مشکلات، واقعات، تجربات آکر بیان کرتے ہیں۔ گھر کی گرم روٹی بھی کھاتے ہیں اورپھر اگلے دن اپنی محبتوں اور خدمتوں سے لطف اندوز ہوتے ہوئے زندگی کی ڈگر پر، شام کو لوٹ آنے کے لئے، چل پڑتے ہیں۔ اسی طرح ایک ایسا ادارہ ہے جسے دنیا کا بہترین ادارہ کہاجاتاہے وہ ہے افواج پاکستان کا ادارہ۔ اس ادارے میں جانے کے لئے تقریباً ہرپاکستانی نوجوان جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتاہے تو لڑکپن کے دیکھے ہوئے، وردی پہننے کی آرزو سے بھرپور، خوابوں کی تعبیر چاہتاہے۔ ایک عورت جب اس ادارے میں اس نوجوان کو بھیجتی ہے کہ اے میرے لال، میرے بھائی، میرے بابا میرے شوہر تمہارے حصے کی چولہے کی آگ تمہارے لوٹ آنے تک جلتی رہے گی‘ تمہارے حصے کی روٹی بھی میرے آنچل میں لپٹی گرم ہی رہے گی‘ تمہاری ساری باتیں سننے کو میری سماعتیں ہمیشہ منتظر رہیں گی۔ زندگی وقت کا نام ہے، وقت فیصلے کا اور فیصلہ جب صحیح وقت پر ہوا ہو تو تقدیر بھی ساتھ دیتی ہے۔ اسی طرح ایک فیصلہ فوجی افسر کے گھر میں ایک بار انگڑائی ضرور لیتاہے۔ بریگیڈئیر بابر علاؤ الدین کے گھر میں بھی بیٹے مُھد حیدر کے لئے فوج میں بھیجے جانے کے لئے چہ میگوئیاں ہونے لگیں۔ مُھد ابھی ایف اے میں تھا۔ دوستوں کا شیدائی اور زندگی کو ہنسی مذاق میں گزارنے والا کسی بھی بات پہ سنجیدہ نہیں ہوتا تھا۔ ماں کہتی کہ مُھد ایف اے کے پیپرز آنے والے ہیں‘ میں تمہیں اپنے والد اور شوہر کی طرح ایک کامیاب فوجی افسر دیکھنا چاہتی ہوں مگر تم نے وقت کو مذاق سمجھ لیا ہے تمہارے دوست خود پڑھ کر بے وقت تمہارے گھر آجاتے ہیں اور تم اس بات سے قطع نظر کہ زندگی کی دوڑ میں پیچھے رہ جاؤ گے ‘ ان کے ساتھ موج مستی میں لگ جاتے ہو اور کل کو آج کے تمہارے یہ دوست تمہیں مڑ کر آواز بھی نہیں دینگے اور ہاتھ پکڑ کر تمہیں اپنے ساتھ لے کر بھی نہیں چلیں گے۔ پھر ایسا ہی ہوا۔ مُھد کے تینوں دوست ایف اے میں کامیاب ہوئے اور مُھدجس کا خواب صرف اور صرف پی ایم اے جانا تھا‘ ٹوٹ گیا۔ وہ کامیاب نہ ہوسکا‘وہ انتہائی شرمندہ تھا۔ رزلٹ میں ناکامی کی خبر سنا کر ماں کی گود میں سر رکھے پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔ اللہ نے ماں کو جذبات کی ندی کی طرح بنایاہے‘ مگر مُھد کی ماں جذباتی ہونے کے ساتھ ساتھ انتہائی جہاندیدہ خاتون ہیں۔ زندگی کے اس اہم موڑ پر جہاں مُھد کے ساتھ ساتھ بریگیڈئیر بابر اور دیگر اہل خانہ بھی شکست وریخت کا شکار ہورہے تھے‘ وہاں ایک ماں نے اہم فیصلہ کیا کہ کوئی میرے بیٹے کو ناکامی کا احساس نہیں دلائے گا ۔کوئی ذومعنی چبھتا ہوا جملہ اس کو مذاق میں بھی نہیں کہاجائے گا ۔مُھد کی ذمہ داری میں لیتی ہوں۔ ماں نے مُھد کو دلی جذبات کے ساتھ ساتھ عقل کو بھی نگہبان مانتے ہوئے کہا‘ بیٹا زندگی کی اس ٹھوکر کو اللہ کا انعام سمجھ کر قبول کرو‘ بے شک انسان کی خطائیں اسے ایسے مقام پر لے آتی ہیں کہ اگر وہ سمجھداری سے کام نہیں لیتا اوربیرونی عوامل کے منفی رجحانات کو اپنا لیتاہے تو وہ پہاڑ سے گرنے والے پتھر کی طرح ریزہ ریزہ ہوکر بکھر جاتاہے۔ اگر وہ زندگی کی پہلی ناکامی کو چیلنج سمجھ کر قبول کرتاہے‘ اللہ پہ یقین رکھتا ہے، بڑوں کی نصیحتوں کا مذاق نہیں اڑاتا اور نہ ان کو اپنا دشمن سمجھتاہے تویقین کرو وہ اس بھٹی کی طرح ہوجاتاہے جس میں سے کوئلے ہیرے بن کے نکلتے ہیں۔ وہاں کچی مٹی سے اینٹیں پک کر گھروں کو تعمیر کرتی ہیں۔ مُھد نے ایسے میں ماں سے وعدہ کیا کہ وہ آج کے دن کی شرمندگی کو بابا کی آنکھوں کے فخر میں بدل کے چھوڑے گا۔پھر وہ دوستوں کے ساتھ گزارے ہوئے وقت کو یاد کرنے لگا ۔اس کی آنکھوں میں مایوسی اور تکلیف کا عکس تھا۔ ایسے میں ماں نے کہا: نہ بیٹا دوست کبھی بُرے نہیں ہوتے، تم کو ہی دوستی اور زندگی کے دیگر معاملات میں توازن رکھنا نہیں آیا‘ کبھی کسی پر الزام مت دینا اور جب بھی کوئی فیصلہ کرو بزرگوں کی عزت کو معتبر کرنے کا راستہ چننا سب کچھ حاصل ہوجائے گا۔


مُھد کو دیکھتے ہی دیکھتے کتابوں سے عشق ہوگیا ۔انتہائی معصوم سادہ دل انسان تھا۔ گھر میں موجود تناؤ کاشدت سے احساس کرتا تھا ۔وہ جانتا تھا کہ اس کے والد کو کتنا شوق ہے کہ ان کا بڑا بیٹا فوج جوائن کرے اور جب وہ ریٹائر ہوں تو ان کی بیلٹ اور ٹوپی اس کے بدن پر سجی ہوئی دیکھیں۔ وقت (اپنی رفتارکو) پر لگائے اڑئے جارہا تھا۔ پھر مقدر سے وہ دن آگیا جب مُھد نے گریجویشن میں پوزیشن لی اور ساتھ ہی اس نے فوج کا امتحان بھی پاس کرلیا مگر ان چار سالوں میں اس نے اپنے بابا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات نہیں کی اور اکثر اوقات ایسا بھی ہوا کہ وہ نماز پڑھتی ماں کی گود میں سررکھ کر رویا کرتا۔آج وہی مُھد حیدر سیکنڈلیفٹیننٹ ہے اور جب گھر آتا ہے اور دروازے میں کھڑے ہوکر بابا کو سیلوٹ کرتاہے تو بابا دونوں بازو کھول کر کہتے ہیں’آج میری جوانی میرے سامنے کھڑی ہے‘ اب میں اس کو انجوائے کرتاہوں‘ اور مھد کو سینے سے لگالیتے ہیں۔ فوج کے ادارے میں جہاں وطن کی خاطر قربانی کا سبق دیاجاتاہے ، جو عزت یہ ادارہ معاشرے میں دلاتاہے کوئی اور نہیں۔ چمکتی پیشانی، روشن آنکھوں،سمارٹ جسم اور مضبوط ارادوں سے بھرپوریہ نوجوانان پاکستان ملک کی خدمت حفاظت کے لئے تیار کئے جاتے ہیں۔عمومی خیال یہ ہے کہ فوجی افسر بہت مزے کی زندگی گزارتے ہیں ۔بے شک یہ کسی حد تک سچ بھی ہے لیکن وہ کس طرح فوجی افسر بنا‘ یہ معاشرے کے باقی لوگ نہیں جانتے۔ فوجی افسر کے اندر سب سے پہلے اپنے خاندان سے رابطہ منقطع کرنے کا حوصلہ پیدا کیاجاتاہے ۔جب یہ افسر اٹھارہ بیس سال کی عمر میں دو سے ڈھائی ماہ تک اپنے ماں باپ کی آواز تک بھی نہیں سن سکتے لیکن ان کی سخت ترین ٹریننگ ان کو اجازت اور وقت ہی نہیں دیتی کہ وہ ماں کی پکائی ہوئی گرم روٹی کو یاد کرسکیں۔ صبح صادق کی موسم کی سختی کو نظرانداز کرتے ہوئے پی ٹی کلاسز، فرنٹ رول، سینیئرز کے ’’رگڑے‘‘ اور ڈرل اس تسلسل کے ساتھ کرائی جاتی ہے کہ رات کااندھیرا چھانے لگتاہے اور ماں کی گود سے نکلا ہوا یہ لڑکپن کی دہلیز، یہ کرکٹ کھیلتا، مستیاں کرتا اور موج مناتالڑکا ایسے بستر پر تھک کے گرتاہے کہ پھر صبح ہوجاتی ہے ڈنکا بجتاہے اورپھر اسی تواتر سے زندگی کا آغاز ہوتا ہے۔

OK SIR,YES SIR
ان کی زندگی کا خاصہ بن جاتاہے ایسے میں اگر گھر سے کوئی خط آجائے تو باتھ روم میں گھس کر پڑھتے ہیں اور گھروالوں کو یاد کرتے ہیں ۔مگر نہیں کہہ سکتے کہ ہمیں گھر جانا ہے یا ماںیاد آرہی ہے۔ یہ مشینی زندگی کا عرصہ کوئی ماہ دوماہ کا نہیں ہے بلکہ لانگ اور شارٹ کورس کے مطابق سالوں پر محیط ہوتاہے۔ اس میں کوئی بیمار ہے تو اسے اپنی حفاظت خود کرنی ہے۔ ایکسرسائز پر جانا ہے تو وہاں کی تمام سختیاں برداشت کرکے خود کو اچھا فوجی بنانے کے لئے تیار کرناہے۔ گلہ شکوہ، منت سماجت اور حیلے بہانے۔۔۔۔۔ وہاں کچھ نہیں چلتا‘ یہ جذبہ فوجی افسر ساری عمر اپنا اندر شمع کی طرح جلتا رکھتے ہیں۔ ان کا فخر اس وقت اور بھی بڑھ جاتاہے جب وہ ایک دن اپنے ہی بیٹے کو پی ایم اے کے گیٹ کے اندر چھوڑ کر واپسی کے قدم لیتے ہیں۔ ان کو اپنا سخت ترین گزارا ہوا وقت مشقت اور تنہائیوں کے تمام موسم بھول جاتے ہیں۔ یہاں سے پھر ایک نیا عہد وطن، ماں اور وردی سے نبھانے کیلئے تحریر کیاجاتاہے۔ ایسی افواج اور وطن کو شکست کا سامنا کیسے ہوسکتاہے جو طوفانوں کے تھپیڑوں میں وطن کی مٹی کو ماں کی گود سمجھ کر سوجاتے ہیں اور وطن کی مٹی بھی انہیں لوریاں سنا کر میٹھی نیند سلاتی ہے۔۔۔۔۔ ماں مٹی اور افواج پاکستان کو پوری قوم کا سلام۔ پھر یہی نوجوان اس وطن کے لئے بے پناہ قربانی دیتے ہیں اپنا وقت، جوانی، خاندان، خواہشیں سب قربان کردیتے ہیں اور ایک دن غازی یا شہید ہوکر اپنی ماں یا بچوں کے پاس لوٹ آتے ہیں۔ والدین کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ غلطی بچے ہی کرتے ہیں اگر ہم ان غلطیوں کو اللہ کی رضا سمجھ کر قبول کرلیں اور وطن کے ان معماروں کو مستقبل کا قیمتی اثاثہ جان کر بنا کسی حیل وحجت اور تفن بازی کے بغیر سہارا دیں گے تو پوری ایک نسل کو بچالیں گے۔

مضمون نگار ایک قومی اخبار میں کالم لکھتی ہیں اور متعدد کتابوں کی مصنفہ بھی ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
Read 72 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter