یہ ہواؤں کے مسافر یہ سمندروں کے راہی

Published in Hilal Urdu May 2017

تحریر: محمد اعظم خان

6ستمبر1965کی جنگ کے دوران ریڈیو پر میڈم نورجہاں کی آواز میں پانچویں نغمے ’’یہ ہواؤں کے مسافر یہ سمندروں کے راہی‘‘ کی کہانی کچھ اس طرح ہے۔ ستمبر 1965 کی جنگ کے دوران تمام پاکستانی قوم ایک سیسہ پلائی دیوار کی طرح یک جان تھی۔ ہر ایک محاذ پر افواج پاکستان اپنے ملک کی حفاظت کے لئے ہر قربانی کے لئے تیار تھیں اور دشمن کو دندان شکن شکست دینے کے لئے صف آراء تھیں ایک طرف ریڈیو پاکستان ثقافتی ابلاغ کے محاذ پر اپنے قومی جذبے سے سرشار کام میں مصروف تھا تو دوسری طرف افواج پاکستان کے تینوں شعبے ایئرفورس، بحری اور بری تمام محاذوں پر دشمن کو پے درپے شکست سے دوچار کررہے تھے اور ہمیں ان کی بہادری کی اطلاعات مل رہی تھیں۔ ان واقعات کو مدنظر رکھتے ہوئے میں نے سوچا کہ ایک ایسا نغمہ ریکارڈ کیا جائے جس میں تینوں شعبوں کا ذکر ہو اور افواج پاکستان کا مورال بلند ہو۔ چنانچہ یہ نغمہ’’ یہ ہواؤں کے مسافر یہ سمندروں کے راہی‘‘ ریکارڈ کیا گیا۔ ملکہ ترنم نے مجھے ایک دھن سنائی جو کہ انہوں نے بیرون ملک سنی تھی اور ان کو اس کی کمپوزیشن بہت پسند تھی۔ میں نے اورمیڈم نورجہاں نے محترم صوفی تبسم صاحب کو گنگنا کر سنائی اور گزارش کی کہ اسی دھن پر تینوں افواج کے شعبوں پر مبنی نغمہ لکھ کر دیں۔ صوفی صاحب نے کمال مہارت سے یہ استھائی لکھ کر دی۔ ’’یہ ہواؤں کے مسافر یہ سمندروں کے راہی‘‘ ملکہ ترنم صوفی صاحب کے اس مصرعے پر بہت خوش ہوئیں کہ میری بتائی ہوئی دھن پر یہ بول کتنے اچھے فٹ ہوئے ہیں۔ ہم نے اپنی پوزیشن کے مطابق اس نغمے کی ریہرسل شروع کر دی۔ یہ نغمہ بھی ایک ہی دن میں لکھا گیا۔ ریہرسل ہوئی اور شام کو اس کی ریکارڈنگ مکمل ہوئی۔ اس نغمے کی ریکارڈنگ کے دوران بھی ہمیں اپنی فوج کی فتوحات کی اطلاعات ملتی رہی ہیں خاص کر ایئرفورس اور بحری افواج کی۔ رات کو جب یہ ملی نغمہ نشر ہوا تو ہمیں بے شمار ٹیلیفون موصول ہوئے۔ ملکہ ترنم نے خواہش ظاہر کی کہ میں فوجی بھائیوں کے پروگرام میں خود بات کرنا چاہتی ہوں۔ اس سے ہمارے فوجی بھائیوں کے جذبہ حب الوطنی میں اضافہ ہو گا۔ اس کو ریڈیو پر خاص اعلان کے ساتھ نشر کیا گیا کہ میڈم نورجہاں اپنے پیارے بھائیوں کو مخاطب کریں گی۔ فوجی بھائیوں کے پروگرام کی کمپیئر یاسمین طاہر نے ان کا بہترین استقبال کیا۔ میں بھی ملکہ ترنم نورجہاں کی اس گفتگو میں شامل تھا۔ فوجی بھائیوں نے میڈم نورجہاں سے میریا ڈھول سپاہیا گانے کی فرمائش کی جو کہ میڈم نورجہاں نے فوراً پوری کی۔ جیسا کہ میں پہلے بھی عرض کر چکا ہوں کہ موسیقی انسانی فطرت کا ازلی رجحان ہے اور اس کا دل و دماغ پر براہ راست اثر ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاک بھارت جنگ میں پاکستانی افواج نے ہر محاذ پر ان نغموں سے متاثر ہو کر زیادہ جوش و جذبے سے جنگ لڑی ۔ مختلف محاذوں سے فتوحات کی خبریں سن کر میری ریکارڈنگ ٹیم کا حوصلہ بھی بلند ہوتا۔ آپ خود اندازہ لگائیں کہ یہ نغمہ ’’یہ ہواؤں کے مسافر یہ سمندروں کے راہی‘‘ تینوں افواج کے شعبوں کی کارکردگی کا عکاس ہے۔ میں نے دوران ریکارڈنگ یہ سلسلہ بھی شروع کر رکھا تھا کہ ہمیں جنگ کی تمام خبروں سے آگاہ رکھا جائے تاکہ ہم حالات و واقعات کے مطابق نغمے ریکارڈ کریں۔ یہ وقت کی اشد ضرورت تھی اور بطور پروڈیوسر میرا ہر وقت یہی مشن تھا کہ خوبصورت شاعری اور موسیقی سے مزین نغمے تخلیق کروں۔ اﷲ پاک نے میری اس کوشش میں میری پوری مدد کی ۔ میں اپنی ریکارڈنگ ٹیم کا بھی بہت مشکور ہوں کہ انہوں نے میرا بہت ساتھ دیا۔ اس پوری کوشش میں سب سے زیادہ میڈم نورجہاں کے جذبہ حب الوطنی کو داد دیئے بغیرنہیں رہ سکتا کہ انہوں نے اپنا پورا تن من دھن نغمے گانے میں صرف کیا اور ایک عظیم فنکارہ ہونے کا ثبوت دیا۔

(جاری ہے)

 
 
Read 399 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter