معرکہ چھمب جوڑیاں کا ایک ہیرو

Published in Hilal Urdu May 2017

تحریر: عبدالستاراعوان

ستمبر1965ء کے معرکہ چھمب جوڑیا ں میں ہمارے جن قومی ہیروز نے کارہائے نمایاں انجام دیئے۔ اُن دلیر فرزندان وطن میں ایک نام غلام مہدی خان شہید کا بھی ہے غلام مہدی خان شہید کا شمار اُن جانبازوں میں ہوتا ہے جنہوں نے نہایت جرأت ،بہادری اور استقامت کے ساتھ دشمن فوج کا مقابلہ کرتے ہوئے اسے ناکامی سے دوچار کیا اور اپنی جان اس دھرتی پر نچھاور کر دی۔ غلام مہدی خان کا تعلق علاقہ کوٹیڑہ بھٹیاں تلہ گنگ ضلع چکوال سے تھا، والدکا نام احمد خان تھا۔ وہ بچپن ہی سے محنتی اور جفاکش تھے،فوج میں آنے کے بعد فوجی مہارت‘ بہت لگن اور شوق سے سیکھی۔ان کا شمار اپنی یونٹ کے مایہ ناز سپاہیوں میں ہوتا تھا،بڑے خوش مزاج اور بہادر انسان تھے ۔ جس وقت انہوں نے جام شہادت نوش کیا اس وقت پاک آرمی کی آرمڈ کور میں بطور ایکٹنگ لانس دفعدار
(ALD)
خدمات انجام دے رہے تھے ۔ آرمڈ کور میں انہوں نے عسکری اور حربی صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ کھیلوں کے میدان میں بھی اپنا لوہا منوایا۔شہیدباسکٹ بال کے معروف کھلاڑی تھے ۔

markahechamp.jpg
جس وقت بزدل ہندو دشمن فوج نے رات کی تاریکی میں پاک وطن پر حملہ کیاتو ان دنوں غلام مہدی خان چھٹی پر گھر آئے ہوئے تھے ۔ جنگ شروع ہوتے ہی انہیں اپنی یونٹ سے بلاواآیا اور وہ دیوانہ وار اس پکار پر لبیک کہتے ہوئے آگے بڑھے ۔ جب وہ یونٹ میں پہنچے تو حکم ملا کہ آپ ایک کھلاڑی ہونے کی وجہ سے ایڈمن ڈیوٹی کریں گے اور محاذ پر نہیں جائیں گے ۔ غلام مہدی خان (شہید) نے اپنی فطری بہادری اور جرأت کا اظہا ر کرتے ہوئے کہا کہ وہ قوم پرآنے والی اس کڑی آزمائش میں دشمن کے خلاف باقاعدہ جنگ لڑیں گے اور اپنی خدمات رضاکارانہ طور پر پیش کر تے ہیں ۔ ان کی ذاتی خواہش اور بھرپور اصرار پر ایک خصوصی اجازت نامے کے تحت انہیں چھمب جوڑیاں سیکٹر بھیج دیا گیا ۔


شہید کے پوتے کیپٹن عاقب شہزاد بھٹی بتارہے تھے کہ جب میری دادی اماں ان کی جرأت مندانہ داستان سناتیں تو کانپ سی جاتی تھیں، وہ بیان کرتیں کہ جنگ چھڑی تو آپ کے دادا کو اس میں شمولیت کا از حد شوق تھا اور جب انہیں محاذ پر جانے کی اجازت ملی تو وہ بہت زیادہ خوش ہوئے تھے ۔ وہ اس لئے خوش تھے کہ ان کا وہ دیرینہ خواب شرمندۂ تعبیر ہونے والا تھا جس کے لئے انہوں نے آرمی جوائن کی تھی۔غلام مہدی شہید کے قریبی دوست زور خان کہتے ہیں کہ جب وہ محاذِ جنگ پر جانے لگے تو ان سے آخری ملاقات ہوئی ۔ میں نے کہا کہ ٹھیک ہے اب جنگ کے بعد ملاقات ہوگی ۔ میری یہ بات انہیں ناگوار گزری اور بڑے جذبے سے کہنے لگے کہ آپ یہ دعا کیوں نہیں کرتے کہ میں دشمن کے خلاف لڑتے ہوئے شہادت کے درجے پر فائز ہو جاؤں۔معرکہ چھمب جوڑیاں میں اُن کا حوصلہ اور عزم نہایت بلند رہا اور دشمن کی گولہ باری اور شیلنگ کی پروا نہ کرتے ہوئے انہوں نے اس محاذ پر بڑی ثابت قدمی دکھائی ۔
غلام مہدی اپنے ٹینک پر سوار جنگ میں حصہ لے رہے تھے کہ ایک اینٹی ٹینک مائین مارٹر نے ان کے ٹینک کو نشانہ بنایا جس سے اس کی چین ٹوٹ گئی ۔ غلام مہدی اور ان کے ساتھیوں نے ٹینک سے نیچے اتر کر آڑ ڈھونڈنے کی کوشش کی تاکہ دشمن کے خلاف ہلکے ہتھیاروں سے لڑا جا سکے ۔ وہ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ ایک اوٹ میں ہو گئے جب کہ ان کا ایک ساتھی ٹینک سے اترتے ہی شدید زخمی ہو گیا ۔ غلام مہد ی خان اپنے اس زخمی سپاہی کو یوں تنہا نہیں چھوڑنا چاہتے تھے‘ چنانچہ وہ ایک بار پھر آگے بڑھے ، برستی گولیوں میں اس کے پاس پہنچے اور اسے سہارا دے کر تیزی کے ساتھ اپنے مورچے کی جانب پلٹے اور اسے محفوظ جگہ پر پہنچایا ۔ اسی اثنا میں ایک سنسناتی گولی آئی جوانہیں شدید زخمی کر گئی جس کے نتیجے میں انہوں نے جام شہادت نوش کیا ۔


اے ایل ڈی غلام مہدی خان شہید نے جان کی پروا نہ کرتے ہوئے ساتھی کی جان بچائی تھی اس غیر معمولی بہادری اور دلیری کی بنا پرانہیں تمغہ جرأت عطا کیا گیا ۔ شہید کے پوتے کیپٹن عاقب شہزاد بھٹی بتاتے ہیں کہ میرے داداغلام مہدی خان شہید کا یہ میڈل میرے لئے ایک بہت بڑی تحریک کاباعث بنا ہے ، میں اپنے دادا کے کارہائے نمایاں سے متاثر ہو کر فوج میں شامل ہوا ہوں اورمیں ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اس دھرتی کے تحفظ کے لئے اپنی جان تک قربان کرنے سے گریز نہیں کروں گا۔

مضمون نگار ایک قومی اخبار میں کالم نویس ہیں

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

مَقامِ اقبالؒ

صاحبِ عرفاں‘ خودی کا رازداں اقبال تھا
جذبۂ عشق و جنوں کا ترجماں اقبال تھا
مردِ مومن‘ خیر خواہِ ملتِ اسلامیہ
علم و آگاہی کا بحرِ بے کراں اقبال تھا
جس کے ہر اِک لفظ میں غلطاں ہے پیغامِ حیات
عظمتِ اسلاف کی وہ داستاں اقبال تھا
اُس متاعِ شوق سے محروم کیوں سینے ہیں آج
رات دن جس کے لئے گرمِ فغاں اقبال تھا
صاحبِ فکر و نظر‘ شیریں سخن‘ شعلہ بیاں
آبروئے شاعری کا پاسباں اقبال تھا
اس کی دولت حُبِّ شاہِ انبیاء تھی اے جلالؔ
آشنائے روحِ اسرارِ نہاں اقبال تھا
ڈاکٹر سید قاسم جلال

*****

 
Read 771 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter