زندگی عبادت ہو جیسے

Published in Hilal Urdu May 2017

تحریر: جبار مرزا

مشیت الرحمن ملک تمغۂ قائداعظم کے ذکر سے پہلے مجھے جوان دنوں کا اپنا ہی قول یاد آ گیا کہ ’’مر جانا کوئی بڑی بات نہیں زندہ رہنا کمال ہے۔‘‘ بعض لوگ کبھی نہیں مرتے۔ ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔


کیپٹن مشیت الرحمن ملک کا شمار انہی لوگوں میں ہوتا ہے۔ وہ پاکستان آرمی کی انجینئرنگ کور سے تعلق رکھتے تھے۔ 1952 میں بطور سیکنڈ لیفٹیننٹ فوج میں گئے کوہاٹ ٹریننگ سے فارغ ہوئے تو پہلی پوسٹنگ ہزارہ ڈویژن کے مارشل ایریا شنکیاری میں ہوئی جہاں وہ جون 1957 تک کیپٹن ایڈجوٹنٹ رہے۔یکم جون 1961 میں وہ ملتان میں تھے۔وہاں وہ نوجوان افسروں کو دستی بم کی ٹریننگ دے رہے تھے۔ پن نکالنا سکھا رہے تھے، پن نکالی ہی تھی کہ بم کیپٹن مشیت الرحمن کے ہاتھ میں ہی پھٹ گیا۔ سی ایم ایچ ملتان میں ان کی بیگم عصمت، جو ان کی پھوپھی زاد بھی تھیں، جن سے 1960میں جھنگ میں شادی ہوئی اور دونوں کی ثمر نامی بیٹی بھی تھی، کی اجازت سے کیپٹن مشیت کی زندگی بچانے کے لئے ان کے دونوں بازو کاٹ دیئے گئے ۔ کٹے ہوئے بازو اور آنکھوں پر بندھی پٹی کے ساتھ کیپٹن ملک کو راولپنڈی سی ایم ایچ شفٹ کر دیا گیا۔ جب پٹی کھلی تو کیپٹن مشیت پر کھلاکہ وہ آنکھوں جیسی عظیم نعمت سے بھی محروم ہو چکے ہیں۔ کسی بھی انسان کے لئے کس قدر کربناک لمحات ہیں جب اسے پتہ ہو کہ وہ آدھے سے زیادہ کٹ چکا ہے اور بچا ہوا جسم اندھیروں میں ڈوبا ہوا ہے، جو دن اور رات میں امتیاز کرنے کی صلاحیت سے محروم ہو چکا ہے۔ لیکن وہ کیا ہے کہ اﷲ پاک کسی شخص کو بھی اس کی برداشت سے زیادہ آزمائش میں نہیں ڈالتے۔
کیپٹن مشیت الرحمن ملک ایک حوصلہ مند جوان اور روائتی فوجی تھے جن کا مقصد ہی خطرات سے کھیلنا ہوتا ہے۔ جو ہر وقت ناموس وطن اور دھرتی کی حفاظت کے لئے دشمن کے خلاف مورچوں میں اترے ہوتے ہیں۔ کیپٹن مشیت الرحمن کی زندگی یکسر تبدیل ہو گئی تھی۔ وہ فوج کے چھوٹے مورچے سے نکل کر زندگی کے بڑے محاذ پر اولوالعزم شخصیت کا روپ دھار چکے تھے۔ ہرے زخم جب بھر گئے تو ایک آنکھ میں روشنی کی واپسی کی امید پیدا ہوئی۔ آئی سپیشلسٹ بریگیڈیئر پیرزادہ نے کیپٹن مشیت لرحمن کی برطانیہ روانگی کا اہتمام کیا۔ فوج اپنے غازیوں اور شہیدوں کو بہت عزیز رکھتی ہے۔ قرنیہ لگا دیا گیا۔ رتی برابر دکھائی دینے لگ گیا جب دروبام چمک اٹھتے تو وہ جان جاتے کہ صبح ہو گئی ہے اور بقول فیض صاحب زندگی کا زندان تاریک ہوتا تو وہ سمجھ جایا کرتے کہ اب میرے وطن کی مانگ ستاروں سے بھر گئی ہے۔

zindagiebadta.jpg
کیپٹن مشیت الرحمن ملک برطانیہ سے پلٹے تو مصنوعی بازو لگے ہوئے تھے۔ فوج نے جھنگ میں ایک کنال کا رہائشی پلاٹ الاٹ کیا تو انہوں نے وہ پلاٹ اپنی بیگم عصمت کے نام کر دیا۔ اسی عرصے میں بیٹے حمیت الرحمن کی ولادت ہوئی۔ کیپٹن مشیت کی بیگم عصمت ڈاکٹر تھیں۔ جن سے بعدازاں اُن کی علیٰحدگی ہوگئی۔ بہرکیف کیپٹن مشیت نے معاشتی طور پر خود کو سنبھالا دینے کی بہت کوششیں کیں۔ فوج کی طرف سے معقول پنشن ملنے کے باوجود دیگر ضروریات سے نبرد آزما ہونے کے لئے مختلف کاروبار کرنے کی کوشش کی‘ پرنٹنگ پریس لگائی کیونکہ فوج میں کمشن حاصل کرنے سے پہلے مشیت الرحمن فیصل آباد کے روزنامہ’سعادت وغریب‘ اور ’عوام‘ کے ساتھ وابستہ رہ چکے تھے۔ جہاں وہ لائیلپور کی ڈائری لکھا کرتے تھے۔ اس تمام مہارت تجربے اور صحافتی جان پہچان کے باوجود وہ پرنٹنگ پریس بھی نہ چلا سکے۔ فوج میں جانے سے پہلے وہ لاہور باٹاپور شو کمپنی میں ملازمت بھی کرتے رہے۔ یعنی زندگی کی ساری دھوپ چھاؤں سے گزرے مگر کوئی بھی کام وہ پورا نہ کر پائے۔ آخرکار 1965میں انہوں نے فیصل آباد میں اپنے گھر کے گیراج میں ہی نابیناؤں کے لئے ایک ادارہ قائم کیا۔ اس کا نام پاکستان ایسوسی ایشن آف دا بلائنڈ رکھا۔ اس کی بنیاد رکھنے میں کراچی کی ڈاکٹر فاطمہ شاہ نے بہت ساتھ دیا۔ فاطمہ شاہ جو1916 میں بھیرہ میں پیدا ہوئی تھیں، میڈیکل ڈاکٹر تھیں۔ 1948میں اپوا کی سیکرٹری ہیلتھ رہیں۔ 1956میں ان کی بینائی یک دم ختم ہو گئی تھی۔ انہوں نے 1960میں پاکستان ایسوسی ایشن آف دا بلائنڈ قائم کی اور اس کی بانی ہونے کے ساتھ ساتھ 19سال تک اس کی صدر رہیں۔ سکولوں کالجوں میں بریل
(Braille)
کواضافی مضمون کی طرح پڑھنے کا انتظام کروایا۔ 1974میں پیرس اور برلن میں انٹرنیشنل فیڈریشن آف بلائنڈ کی صدر منتخب ہوئیں۔ الغرض ڈاکٹر فاطمہ شاہ نے کیپٹن مشیت الرحمن کا بہت ساتھ دیا اور یہی وجہ تھی کہ کیپٹن مشیت الرحمن جن کی زندگی میں اندھیروں کے سوا کچھ نہ رہا تھا، وہ فاطمہ شاہ کی حوصلہ افزائی سے پھر سے توانا ہو گئے اور 1965میں گیراج میں شروع کئے گئے پاکستان ایسوسی ایشن آف دا بلائنڈ سرگودھا ڈویژن کے بعد 1967 میں فیصل آباد کی جناح کالونی میں ایک کمرہ کرائے پر لے کر نابیناؤں کے لئے کرسیاں بنائی کی تربیت شروع کر دی۔ یوں کیپٹن مشیت الرحمن دن بھر بازاروں اور گلیوں میں بھیک مانگتے نابینوں کو اکٹھا کرتے اور انہیں مختلف ہنر سکھاتے اور معاشرے میں باعزت زندگی اور محنت میں عظمت کی تحریک دینے لگ گئے۔ کیپٹن ملک نے اپنا ادارہ رجسٹر بھی کروا لیا تھا پھر 1970 میں باقاعدہ تعلیمی شعبے کا آغاز کر دیا گیا۔ نابینا بچوں اور بالغوں کے لئے بریل کے ذریعے تعلیم کا حصول ممکن بنایا۔ 1971 میں مقامی لائنز کلب کی مدد سے صوتی کتب
(Electronic Books)
کی لائبریری قائم کی جس میں پہلی نابینا بچی کا داخلہ ہوا۔ پھر فیصل آباد کے گورنمنٹ کالج اور دیگر سکولوں میں مربوط تعلیم پروگرام شروع کیا۔ 1977میں محکمہ اوقاف نے گورونانک پورہ چک نمبر 279نادر خان والی میں ایک گرودوارے کی عمارت کیپٹن مشیت الرحمن کے حوالے کر دی۔ جہاں جناح کالونی والا ایک کرائے کا کمرہ چھوڑ کر وہ اپنا ادارہ گرودوارے میں لے گئے اور اس کا نام اتحاد مرکز نابینا رکھا جو بعد میں المینار مرکز نابینا ہو گیا۔


جنرل ضیا الحق 1978 میں فیصل آباد گئے تو کیپٹن مشیت الرحمن کی محنت اور نابیناؤں کی زندگی سنوارنے کے عمل سے بہت متاثر ہوئے اور فیصل آبادمیں ادارے کے لئے کوئی مناسب جگہ دینے کا حکم دیا۔ یوں پھر فیصل آباد کے اقبال سٹیڈیم کے نزدیک 1979 میں کیپٹن مشیت الرحمن کچھ اراضی اور ادارے کی تعمیر کے لئے رقم بھی دی گئی۔ علاقے کے مخیر لوگوں نے بھی ادارے سے مالی تعاون کیا۔ لڑکیوں کی تعلیم کا علیحدہ شعبہ اور قیام کے لئے گرلز ہاسٹل بھی تعمیر کیا گیا۔ نابیناؤں کو پہلے میٹرک تک باقاعدہ تعلیم و تربیت اور ہنر سکھانے کا آغاز ہوا۔ مقامی طلباء کے لئے پک اینڈ ڈراپ کی سہولت بھی ادارے نے دینا شروع کر دی اور دوسرے شہروں کے طلباء و طالبات کے لئے علیحدہ علیحدہ ہاسٹل بنائے گئے۔ ادارے کا نظام ایک بورڈ کے سپرد کیا گیا۔


کیپٹن مشیت الرحمن نے نہ صرف نابیناؤں کو ہنر اور زیور تعلیم سے آراستہ کرنے میں کردار ادا کیا بلکہ بے روزگار نابیناؤں کو سرکاری ملازمتیں بھی دلوائیں ۔ بعضوں کی آپس میں شادیوں کا بندوبست اور ان کی اگلی نسلوں کے محفوظ مستقبل کے لئے بھی اقدامات کئے۔ کیپٹن مشیت الرحمن جنہیں نصف درجن سے زیادہ زبانوں پر عبور حاصل تھا، جو کئی مذاہب اور ثقافتوں کا مطالعہ بھی کر چکے تھے۔ ایک چلتا پھرتا انسائیکلوپیڈیا تھے۔ پہلی نظر میں انہیں دیکھ کر گوشت پوست کا معذور سا شخص سمجھ کر ہر کوئی اپنے تئیں ترس کھانے لگتالیکن جب ان سے گفتگو کرتا اوران کے عزائم سے آگاہی پاتا تو ترس کھانے والا شخص عقیدت سے ان کے ہاتھ چوم کر رخصت ہوتا۔


8جون 1974 کو کیپٹن مشیت نے خالدہ بانو سے دوسری شادی کرلی۔ انہوں نے شادی کے بعد اپنی اہلیہ کو ایم اے اردو اور بی ایڈبھی کروایا۔
ان کے دو بیٹے ہیں۔ ودیعت الرحمن بیٹا اور سحر مشیت بیٹی ہے جو اسلام آباد میں بحریہ کالج میں گونگے بہروں کو پڑھاتی ہیں وہ شاعر ادیب اور معروف قانون دان رائے اظہر تمغۂ شجاعت کی شریک سفر ہیں۔


خالدہ بانونے شادی کے بعد جہاں کیپٹن مشیت کی دیکھ بھال کی ان کے اداروں کا انتظامی کنڑول سنبھالا، اپنی تعلیم مکمل کی وہاں ایران، فرانس، جرمنی اور برطانیہ کے علاوہ ملکوں ملکوں کیپٹن مشیت کے ساتھ بین الاقوامی نابیناؤں کی کانفرنسز اور خصوصی اجلاسوں میں شریک بھی ہوئیں اور فروری 1977میں کیپٹن مشیت کے ہمراہ شاہ فیصل سے بھی ملیں۔ آٹھ غیرملکی دوروں کی طویل کہانی، کامیابیاں اور کارنامے اور بھی طولانی ہیں۔ کیپٹن مشیت نے ایک کتاب بھی لکھی تھی۔ ’’انسانی آنکھیں‘‘ یہ آنکھوں کی ابتدائی بیماریوں اور مسائل سے لے کر نابیناپن اور بصارت کی بحالی تک محیط ہے اور مستند مانی جاتی ہے۔ خالدہ بانو دو کتابوں کی مصنفہ ہیں ایک ان کی سوانح ہے’ سفر حیات‘ اور دوسری اس طویل اور ضخیم کتاب کی تلخیص ہے۔ کیپٹن مشیت الرحمن ملک صدارتی تمغۂ قائداعظم پانے والے معذور ہوتے ہوئے بھی بھرپور زندگی گزارنے اور اپنے مشن کی تکمیل کے بعد 20نومبر2011 کو اکیاسی برس کی عمر میں رحلت فرماگئے اور فیصل آباد کے محمد پورہ والے قبرستان میں ان کی تدفین ہوئی۔

جبار مرزا ایک معروف صحافی اور مصنف ہیں۔ ایک قومی اخبار کے لئے کالم بھی لکھتے ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

نعت

آقاؐ میری بس اتنی تمنا قبول ہو
مجھ پہ تیری نگاہِ کرم کا نزول ہو
دیکھوں میں جس طرف نظر آئے تُو مجھے
عشقِ نبیؐ کا لازم یہ مجھ پر اصول ہو
آلِ رسولِؐ پاک کا ہوجائے یوں کرم
بخشش میری جو ہو تو وصیلہ بتول ہو
ہو جائے یوں علاج میرا اے شافیِ اُمم
خاکِ شفا میری تیرے قدموں کی دھول ہو
گرمجھ سے طلب ہو اِ ک نذرانہ حضورؐ کو
ہاتھوں میں میرے گلشنِ زہرہ کا پھول ہو
حاصل میری وفاؤں کا اے کاتبِ تقدیر
لکھ دے مِرا نصیب میں خدا کا رسولؐ ہو
مسکن میرا ہو گنبدِ خضریٰ کے آس پاس
پیشِ نظر پھر میرے سجدوں کا طول ہو
وقعت کہاں ہے مجھ میں کہ مدحت کروں تری
بخش دیجئے گا مجھ سے سرزد جو بھول ہو
اِ ک نعتِ رسولِ کبریاؐ میری پہچان ہے عتیقؔ
رحمتوں کا کیوں نہ میرے سخن میں شمول ہو
میجر عتیق الرحمن

*****

 
Read 278 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter