مزدوروں کا عالمی دن

Published in Hilal Urdu May 2017

تحریر: حجاب حبیب جالب

مئی، یا مزدوروں کا عالمی دن، ہم کیوں مناتے ہیں؟ صنعتی انقلاب کے بعد مزدور کی زندگی بہت مشکل تھی اور ان سے ایک دن میں 16,16 گھنٹے کام لیا جاتا تھا۔ ڈیوٹی کے دوران اگر کوئی مزدور زخمی ہو جاتا یا مر جاتا تو اس کے تمام اخراجات خود مزدورکے ذمہ ہوتے۔ ایسا کوئی قانون نہ تھا کہ مزدور کے زخمی ہونے کی صور ت میں اس کا علاج کروایا جاتا، مزدور کی ملازمت کا فیصلہ مالک کی صوابدید پرتھا۔ وہ جس کو چاہتا ملازمت پر رکھتا جس کو چاہتا ملازمت سے ہٹا دیتا۔ ہفتے میں ساتوں دن ہی کام کرنا پڑتا چھٹی کا کوئی تصور ہی نہ تھا ان تمام مسائل کے حل کے لئے امریکہ اور یورپ میں مزدوروں نے مختلف تحریکیں چلائیں۔ سن 1884 ء میں فیڈریشن آف آرگنائز ڈ اینڈ لیبر یونینز نے اپنا ایک اجلاس منعقد کیا جس میں انہوں نے ایک قرارداد پیش کی۔ قراداد میں کچھ مطالبے رکھے گئے۔ جن میں سب سے اہم مطالبہ تھا کہ مزدوروں کے اوقات کاروں کو 16گھنٹو ں سے کم کرکے 8گھنٹے کیا جائے۔ مزدوروں کا کہنا تھا کہ آٹھ گھنٹے کام کے لئے آٹھ گھنٹے آرام کے لئے اور آٹھ گھنٹے ہماری مرضی کے۔ یہ مطالبہ یکم مئی سے لاگوکرنے کی تجویز پیش کی گئی لیکن اس مطالبے کوتمام قانونی راستوں سے منوانے کی کوشش ناکام ہونے کی صورت میں یکم مئی کو ہی ہڑتال کا علان کیا گیا اور جب تک مطالبا ت نہ مانے جاتے یہ تحریک جاری رہتی۔ 16,16گھنٹے کام کرنے والے مزدوروں میں آٹھ گھنٹے کام کا نعرہ بہت مقبول ہوا اسی وجہ سے اپریل 1886تک اڑھائی لاکھ سے زیادہ مزدور اس ہڑتال میں شامل ہونے کے لئے تیار ہو گئے اس تحریک کا آغاز امریکہ کے شہر شکاگو سے ہوا۔ ہڑتال سے نمٹنے کے لئے جدید اسلحہ سے لیس پولیس کی تعدا د شہر میں بڑھا دی گئی۔ یہ اسلحہ اور دیگر سامان پولیس کو مقامی سرمایہ داروں نے فراہم کیا تھا۔ تحریک کا آغاز یکم مئی سے ہو گیا پہلے دن ہڑتال بہت کامیاب رہی دوسرے دن یعنی 2مئی کو بھی ہڑتا ل بہت کامیاب اور پُر امن رہی لیکن تیسرے دن ایک فیکٹری کے اندر پولیس نے پُر امن اور نہتے مزدوروں پر فائرنگ کر دی جس کی وجہ سے چار مزدور ہلاک اور بہت سے زخمی ہو گئے۔ اس واقعے کے خلاف تحر یک کے منتظمین نے اگلے ہی روز چار مئی کو احتجاجی جلسے کا اعلان کیا۔ پُر امن جلسہ جاری تھا لیکن آخری مقرر کے خطاب کے دوران پولیس نے اچانک فائرنگ شروع کر کے بہت سے مزدور ہلاک و زخمی کر دئیے پولیس نے یہ الزام لگایا کہ مظاہرین میں سے ان پر گرینیڈ سے حملہ کیا گیا جس کی وجہ سے ایک پولیس اہلکار ہلاک اور کئی زخمی ہو گئے ہیں اس حملے کو بہانہ بنا کر پولیس نے گھر گھر چھاپے مارے اور بائیں بازوں اور مزدور راہنماؤں کو گرفتا ر کر لیا۔ ایک جعلی مقدمے میں 8مزدور راہنماؤں کو سزائے موت دے دی گئی۔

worldlabourd.jpg
البرٹ یارس، آگسٹ سپائز ،ایڈولف فشر اور جارج اینجل کو 11نومبر 1887 کو پھانسی دے دی گئی لوئس لنگ نے جیل میں خود کشی کر لی اور باقی تینوں کو 1893میں معافی دے کر رہاکر دیا گیا۔ مئی کی اس مزدور تحریک نے آنے والے دنوں میں طبقاتی جدوجہد کے متعلق شعور میں انتہائی اضافہ کیا۔ایک نوجوان لڑکی ایما گولڈ نے کہا کہ ’’ مئی 1886کے واقعات کے بعد میں محسوس کرتی ہو ں کہ میرے سیاسی شعور کی پیدائش اس واقعے کے بعد ہوئی ہے۔‘‘
البرٹ پارسن نے کہا ’’دنیا کے غریبوں کو چاہئے کہ اپنی نفرت کو ان طبقوں کی طرف موڑ دیں جو ان کی غربت کے ذمہ دار ہیںیعنی سرمایہ دار طبقہ‘‘جب مزدوروں پر فائرنگ ہو رہی تھی تو ایک مزدور نے اپنا سفید جھنڈا ایک زخمی مزدور کے خون میں سرخ کر کے ہوا میں لہرا دیا۔ اس کے بعد مزدور تحریک کا جھنڈ اہمیشہ سرخ رہا۔سن 1889ء میں ریمنڈلیوین کی تجویز پر یکم مئی 1890ء کو یوم مئی کے طور پر منانے کا اعلان کیا گیا اس دن کی تقریبات بہت کامیاب رہیں۔ اس کے بعد سوائے امریکہ ، کینیڈا اور جنوبی افریقہ کے‘ یہ دن عالمی یوم مزدور کے طور پر منایا جانے لگا۔


جنوبی افریقہ میں بھی غالباً نسل پرست حکومت کے خاتمے کے بعد یوم مئی منایا جانے لگا۔ مزدور طبقے اور دیگر استحصال زدہ طبقات کی حکومت لینن کی سربراہی میں اکتوبر انقلاب کے بعد سوویت یونین میں قائم ہوئی اس کے بعد مزدور طبقے انقلابی سرخ پرچم لہرائیں گے۔


ماضی کی اس کامیاب جدوجہد کے باعث فیکٹری اور مل کے ملازمین کو کسی حد تک تحفظات مل گئے لیکن ایک عام مزدور جو صبح چوک پر اپنی مزدوری کا انتظار کرتا ہے۔ جو صبح مزدوری کرتا ہے اور رات کو اس کا چولہا جلتا ہے کسی بھی سرکاری یا پرائیویٹ چھٹی کے ساتھ ہی اس کے گھر میں فاقے کی آمد ہوتی ہے۔ ایسے مزدوروں کی زندگی میں یکم مئی کی کیا اہمیت ہو گی ؟ یہ اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ یومِ مئی صرف اس حادثے کی یاد منانے کا نام نہیں جس میں بہت سے مزدور مارے گئے۔ بلکہ یہ ایک
Resolve
ہے کہ مزدور کی زندگی کو ایک آرام دہ انسانی زندگی کے لیول پر لانے کی جدوجہد کامیابی تک جاری رہے گی۔


اگر ہم اپنے ملکِ عزیز پاکستان کی صورتِ حال کا جائزہ لیں توایک عام مزدور کی زندگی کافی مشکلات کی شکار نظر آئے گی۔ ہمارے ملک میں آبادی کی زیادتی‘ فنی تعلیم کی کمی‘ صنعتی ترقی کے کم مواقع اور معاشی بدحالی کی وجہ سے بے روزگاری عام ہے۔ مزدوروں کی فراوانی ، سپلائی اور ڈیمانڈ کے اصول کے مطابق
(Laissez Faire)
مارکیٹ میں مزدور کی اُجرت کو کم کرنے کا باعث بنتی ہے۔ گورنمنٹ اپنے تئیں مزدور کی کم سے کم یومیہ اورماہانہ اُجرت مقرر کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ مگر اُس پر عمل درآمد کم ہی دیکھنے میں آتا ہے۔ ایسی صورت حال میں حکومت کو چاہئے کہ نہ صرف مجموعی طور پر معاشی حالت کو بہتر بنائے اور بے روزگاری کا خاتمہ کرے بلکہ کم سے کم اُجرت کی حد کو مزید بہتر کرنے کے ساتھ ساتھ اس کو یقینی بھی بنائے۔ ہمارا معاشرہ جو پہلے ہی تشدد اور دہشت پسندی کا شکار ہے اُس میں انتہائی غربت جلتی پر تیل کاکام دیتی ہے۔ بھوک کے ہاتھوں انفرادی یا پورے خاندان کی خودکشی کے واقعات تمام سماج کے منہ پر دھبہ ہیں۔ یہ انسانیت کی تذلیل ہے جس کی اجازت نہ مذہب دیتا ہے نہ عام اخلاقیات۔ بلاشبہ پاکستان تبھی ایک اسلامی فلاحی ریاست بنے گا جب اس میں بسنے والے غریب اور مزدور بھی عزت کی زندگی گزارنے کے ذرائع کے مالک ہوں گے۔


حکومت کی جانب سے کم سے کم اُجرت مقررکرنے کے علاوہ مزدوروں کے لئے صحت‘ تعلیم اور سماجی انصاف کے حصول کو بھی یقینی بنانا ہوگا۔ ایسا تبھی ممکن ہے جب ہم سب کی ترجیح ایک بہترین سماج کی تشکیل ہو۔ عمومی طور پر دیکھنے میں آیا ہے کہ مزدور کی شان میں یکم مئی کے دن قصیدے تو پڑھے جاتے ہیں مگر عملی اقدامات کا فقدان نظر آتا ہے۔ تاہم ہمارا معاشرہ اب غربت اور پَُرتشدد انتہاپسندی کے امتزاج کا شکار نظرآتا ہے جو یقیناً ہم سب کے لئے لمحہ فکریہ ہونا چاہئے۔ حالات اس بات کے متقاضی ہیں کہ حکومت غربت کے خاتمے اور مزدور کی بہتری کے لئے ایک دور رس جامع پالیسی کا اعلان کرے اور اس پر عمل درآمد کو یقینی بنائے۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
Read 393 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter