قابلیت کا المیہ

Published in Hilal Urdu May 2017

تحریر: یاسرپیرزادہ

بلاشبہ یہ پاکستان کی بہترین یونیورسٹی ہے۔ پچیس برس قبل لاہورمیں اس کی بنیاد رکھی گئی۔ سرکاری نہیں ہے۔ اس لئے اس کا معیار آج بھی قائم ہے۔ کچھ عرصہ قبل اس یونیورسٹی کے وائس چانسلر (موجودہ نہیں) جو اس وقت پچیس لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ لیتے تھے کے خلاف خاکروب حضرات نے ہڑتال کر دی۔ یہ خاکروب اپنے حالات سے تنگ آئے ہوئے تھے۔ ان کی ماہانہ تنخواہ دس ہزار کے قریب تھی۔ ان کے کام کرنے کے اوقات متعین نہیں تھے۔ یعنی وہ دن میں بارہ بارہ گھنٹوں سے زیادہ کام کرنے پر مجبور تھے۔ ان کی ملازمت کے کنٹریکٹ میں چھٹی کا کوئی تصور نہیں تھا۔ یعنی ایسا نہیں تھا کہ انہیں سال میں مخصوص تعداد میں تنخواہ سمیت چھٹیاں کرنے کی اجازت ہو۔ یہ ان کے سپروائزر کی صوابدید تھی کہ اگر وہ چاہے تو انہیں کام سے ایک آدھ دن رخصت دے اس سے زیادہ کی صورت میں تنخواہ کی کٹوتی اور پھر ’’مکمل چھٹی‘‘ یونیورسٹی کے دیگر سٹاف کے برعکس انہیں ہفتے کے روز بھی چھٹی کی اجازت نہیں تھی۔ اس کے علاوہ کسی قسم کی علاج معالجے کی سہولت یا بچوں کے تعلیمی اخراجات کی مد میں ا نہیں کوئی الاؤنس، بیمہ یا فنڈ نہیں دیا جاتا تھا۔ دس ہزار روپے میں زندگی گزارنا ان کی ذمہ داری تھی۔ ان حالات میں جب ہڑتال ہوئی تو پچیس لاکھ ماہانہ تنخواہ لینے والے وی سی صاحب نے موقف اختیار کیا کہ خاکروب حضرات کی ملازمت کی سختیوں کا یونیورسٹی سے کوئی سروکار نہیں۔ کیونکہ یونیورسٹی نے کیمپس کی صفائی کا انتظام ایک پرائیویٹ کمپنی کے سپرد کر رکھا ہے جو ان خاکروبوں کو ملازمت دیتی ہے۔ لہٰذا وہ جانے اور اس کا کام۔ ’’مینوں کی لگے‘‘ تاہم جب دباؤ زیادہ بڑھا تو یونیورسٹی نے اس کمپنی سے بات کی اور کمپنی نے خاکروبوں کی تنخواہ میں چند روپوں کا اضافہ کر دیا مگر کچھ ہی عرصے بعد تقریباً ایک چوتھائی افراد کو ملازمت سے بھی فارغ کر دیا کیونکہ تنخواہ بڑھانے کے بعد کمپنی کے اخراجات میں اضافہ ہو گیا تھا۔ وی سی صاحب نے آنکھیں بند کر لیں۔ خاکروب ٹھنڈے پڑ گئے اور اس کے بعد سب ہنسی خوشی زندگی گزرانے لگے۔

 

قابل لوگوں کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ اگر وہ اپنے خوف سے جان چھڑا بھی لیں تو اپنی انا کے خول سے نہیں نکل پاتے۔ ملک کی خدمت کرنے کے لئے وہ اتنی کڑی شرائط رکھتے ہیں کہ نہ نومن تیل ہوتا ہے نہ کوئی رادھا نا چتی ہے۔ انہیں کام کرنے کے لئے سازگار ماحول چاہئے۔

دنیا میں ایک تصور ’’ٹیلنٹ اکا نومی‘‘ کا ہے۔ سیدھے الفاظ میں اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر آپ میں ٹیلنٹ ہے تو آپ وی سی صاحب کی طرح پچیس لاکھ روپے ماہوار تنخواہ لے سکتے ہیں۔ گویا محنت کر حسد نہ کر‘ اور اگر ٹیلنٹ نہیں تو دس ہزار روپوں میں خاکروب بھرتی ہو جائیں گے۔ مسلسل بیس برس تک بغیر کسی چھٹی کے کام کرنے کے بعد آپ پچیس لاکھ کے عدد کو چھو پائیں گے۔ مگر اس وقت تک وی سی صاحب جس عدد پر بیٹھیں ہوں گے اس تک پہنچنے کے لئے کسی خاکروب کو غالباً کئی نوری سال درکار ہوں گے۔ یہ بات درست ہے کہ قابل اور محنتی افراد زیادہ مشاہیر کے حقدار ہوتے ہیں مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ جن افراد کو قدرت نے نہیں نوازا یا ان کی پیدائش ہی ایسے حالات میں ہوئی جہاں ان کی صلاحیتوں کو پھل پھولنے کا موقع نہیں مل سکا تو اس کی سزا انہیں ٹیلنٹ اکانومی کا نام لے کر دی جائے۔

qabliyatkaimiya.jpg
گزشتہ کئی دہائیوں سے ٹیلنٹ اکانومی کے اس تصور نے لوگوں کا استحصال کیا ہے۔ بڑی بڑی کمپنیاں اپنے
CEOs
کو تو اس کی قابلیت اور اپنی ضرورت کے تحت لاکھوں کی تنخواہ دیتی ہیں مگر لیبر کلاس کا کوئی پرسان حال نہیں ’کیوں‘ اس لئے کہ ان میں کوئی ایسا جوہر نایاب نہیں جو مارکیٹ میں نہ ملتا ہو۔ اسی لئے ان کا استحصال کیا جاتا ہے اور اسے ٹیلنٹ اکانومی کا خوبصورت نام دے کر آنکھیں پھیر لی جاتی ہیں۔ دنیا کی فلاحی ریاستوں نے (یونیورسٹی میں جن کی مثالیں دیتے ہوئے وی سی صاحب تھکتے نہیں تھے) اس مسئلے کا حل یوں نکالا کہ جس ’ٹیلنٹڈ شخص‘ کی آمدن میں جتنا اضافہ ہو اس پر اسی زائد شرح سے ٹیکس عائد کر دیا اور پھرا س پیسے کو معاشرے کے کم خوشحال طبقے پر یوں خرچ کیا کہ کم آمدن والے لوگوں کے صحت، تعلیم اور ٹرانسپورٹ وغیرہ کے اخراجات صفر کے برابر ہو جائیں ۔ دوسرا اُن ریاستوں نے لیبر لاز کا سختی سے نفاذ کیا۔ کم سے کم تنخواہ اتنی رکھی جس میں ایک شریف آدمی کا گزارا ہو سکے اور پھر اس تنخواہ کو یقینی بھی بنایا۔ وہاں کسی ادارے کا سربراہ یہ کہہ کر جان نہیں چھڑا سکتا کہ میں نے تو صفائی کا انتظام ’’آؤٹ سورس‘‘ کر رکھا ہے۔ لہٰذا سویپرز کی تنخواہوں سے میرا کیا لینا دینا۔ تیسرا ان معاشروں میں ظاہری کرو فر اور شان و شوکت دکھانے والے امراء کو اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا۔ محل نما گھر بنانے والوں پر میڈیا میں تنقید کی جاتی ہے اور لوگ عموماً ایسی حرکتوں سے باز ہی رہتے ہیں تاہم یہ روایت فلاحی ریاستوں میں ہے امریکہ جیسے سرمایہ دار ملک میں نہیں۔ نتیجہ ان اقدامات سے یہ نکلا کہ معاشرے میں طبقاتی فرق تو رہا مگر اتنا زیادہ نہیں کہ ایک شخص پچیس لاکھ اور دوسرا دس ہزار۔


اس سارے قصے کا تکلیف دہ پہلو صرف یہ نہیں کہ پاکستان میں لیبر لاز کا نفاذ نہیں ہے۔ زیادہ تکلیف کی بات یہ ہے کہ ملک کی بہترین درس گاہ کا سب سے قابل وی سی جسے دنیا کے کامیاب مینجمنٹ ماڈلز زبانی یاد ہیں اس کے سامنے جب استحصالی نظام کا چھوٹا سا نمونہ آیا تو اس نے ویسے ہی ردعمل دکھایا جیسے کوئی بھی سرمایہ دار اپنے کارخانے میں مزدوروں کی ہڑتال کی صورت میں دکھاتا ہے۔ کیا فائدہ ایسی دیدہ بِینا کا، کس کام کی یہ ڈگریاں ! بلاشبہ المیہ ہماری اشرافیہ کا ہے۔ ہماری اخلاقیات کا ہے اور ہماری قابلیت کا ہے۔ ہم میں سے جو لوگ قابل ہیں بدقسمتی سے وہ ڈرپوک بھی ہیں۔ انہیں اس آرام اور آسائش کے کھو جانے کا ڈر ہے۔ جسے انہوں نے اتنی محنت کے بعد حاصل کیا ہے۔ کیا ضرورت ہے کسی خاکروب کے حق کے لئے لڑنے کی۔ اگر یونیورسٹی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے مجھے فارغ کر دیا تو میرے پچیس لاکھ تو گئے لہٰذا مجھے کیا پڑی ہے اس قضیئے میں چی گویرا بننے کی! دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان غالباً دنیا کا واحد ملک ہے جہاں ہر کروڑ پتی اپنی شخصیت میں انقلابی ہے۔ مگر یہ انقلاب وہ اپنے ادارے میں لانے کی ہمت نہیں کرتا۔ یہاں لوگ کھرب پتی بننے کے بعد بھی یہی رونا روتے ہیں کہ انہیں اس ملک میں کاروبار نہیں کرنے دیا گیا۔ نہ جانے اور کتنا استحصال کرنے کی حسرت تھی ان کے دل میں جو ہزاروں ارب روپے کمانے کے بعد بھی پوری نہیں ہوئی۔


قابل لوگوں کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ اگر وہ اپنے خوف سے جان چھڑا بھی لیں تو اپنی انا کے خول سے نہیں نکل پاتے۔ ملک کی خدمت کرنے کے لئے وہ اتنی کڑی شرائط رکھتے ہیں کہ نہ نومن تیل ہوتا ہے نہ کوئی رادھا نا چتی ہے۔ انہیں کام کرنے کے لئے سازگار ماحول چاہئے۔ وزیراعلیٰ اور چیف سیکرٹری ہردم ان سے ایک فون کے فاصلے پر موجود ہیں۔ جونہی بیورکریسی کوئی رکاوٹ ڈالے آن ہی آن میں وزیراعلیٰ صاحب اسے دور کریں ان کے پروٹوکول کا بھی خاص خیال رکھا جائے۔ ان تمام نزاکتوں کے بعد اگر ذرا سی بات بھی ان کی طبع نازک پر گراں گزرے تو وہ اطمینان سے سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر امریکہ کی کسی یونیورسٹی میں واپس چلے جائیں اور پھر باہر بیٹھ کر ٹویٹ کرتے رہیں کہ میں نے تو اس ملک کے لئے بہت کرنا چاہا مگر ہمیں کرنے نہیں دیا گیا۔


ایسے قابل لوگوں سے بس اتنی درخواست ہے کہ اس ملک کو فقط اپنی محبوبہ جتنی اہمیت دے دیں‘ باقی حالات خود بخود ٹھیک ہو جائیں گے

مضمون نگار معروف کالم نویس اور تجزیہ نگار ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
Read 364 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter