فاٹا کا خیبر پختونخوا میں انضمام توقعات و تحفظات

Published in Hilal Urdu May 2017

تحریر: محمدمنیر

کے زیرِ انتظام قبائلی علاقہ جات جنہیں فاٹا کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ جو 7 قبائلی ایجنسیوں ‘خیبر‘ مہمند‘ کرم‘ شمالی و جنوبی وزیرستان ‘او رکزئی اور باجوڑ پر مشتمل ہے۔ یہ قبائلی علاقہ جات بلند و بالا پہاڑوں کے درمیان چھوٹی چھوٹی وادیوں پر مشتمل ہیں جو کہ پاک افغان سرحد پر واقع ہیں۔ یہ علاقے تاریخی اور جغرافیائی لحاظ سے بہت اہم تصور کئے جاتے ہیں۔ ان علاقوں میں بہت سے درے واقع ہیں جن میں مالاکنڈ‘ خیبر‘ گندھاب ‘ کرم‘ گومل اور ٹوچی زیادہ مشہور ہیں۔ یہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان آمدو رفت کا ذریعہ ہیں اور تاریخی اعتبار سے وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ تجارت کے لئے نہایت اہمیت کے حامل ہیں۔


قبائلی علاقہ جات میں پانچ مشہور دریا‘ سوات‘ کابل‘ کرم ‘ ٹوچی اور گومل بہتے ہیں۔ یہاں کے رہنے والے پشتون ہیں۔ تاریخی حوالوں سے پتہ چلتا ہے کہ یہاں کے لوگ بہت بہادر اور غیور ہیں۔ برطانوی حکومت‘ جو کہ برصغیر میں1849 تا1947 مسلط رہی‘ نے فاٹا کے قبائل پر مختلف طریقوں سے قابو پانے کی کوشش کی۔تاہم جنوب مغربی سرحدوں میں واقع قبائل نے برطانوی حکومت کے لئے بہت سے مسائل پیدا کئے۔


برطانوی حکومت کو بنیادی طور پر دو بڑے مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک تو یہ کہ مقامی طور پر قبائل کو برطانیہ کے زیرِ اثر علاقوں پر قبضہ کرنے سے کیسے روکا جائے اور دوسرا یہ کہ بیرونی سطح پر روس کی مداخلت کا کس طرح مقابلہ کیا جائے۔ مختلف اوقات میں برطانوی حکومت نے قبائل کے خلاف جنگیں بھی کیں لیکن وہ ان پر اپنا تسلط قائم کرنے میں بری طرح ناکام رہے۔ اس صورتِ حال کو دیکھتے ہوئے برطانوی حکومت نے قبائل کے ساتھ کبھی سختی اور کبھی ترقی کی پالیسی اختیار کی۔ تا ہم یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ تاجدارِ برطانیہ قبائلی علاقوں میں تعلیمی اور صنعتی ترقی کے لئے کوئی کام نہ کرسکی۔ لیکن 1947 میں جب پاکستان آزاد ہوا تو ان علاقوں کی ترقی و خوشحالی کے لئے کچھ اقدامات ضروراٹھائے گئے۔


قائدِاعظم کے ایک قریبی ساتھی میاں جعفر شاہ ‘جو شمال مغربی سرحدی صوبے (موجودہ خیبر پختونخوا) میں وزیرِ تعلیم بھی رہ چکے ہیں‘ کے مطابق خان عبدالغفار خان نے جون 1947 میں قائدِاعظم سے ملاقات کے دوران قیامِ پاکستان کی حمایت کے لئے تین اہم شرائط رکھیں جن میں سے ایک شرط یہ تھی کہ قیامِ پاکستان کے بعد قبائلی علاقوں کو صوبہ سرحد (موجودہ خیبر پختونخوا) میں ضم کردیا جائے۔ قائدِاعظم نے خان عبدالغفار خان کی اس تجویز کو فوراً تسلیم کرتے ہوئے خان سے کہا کہ وہ اس سلسلے میں قبائلی عوام کو ہمنوا بنانے کے لئے عملی اقدامات کریں تاکہ متفقہ طور پر اس تجویز کو عملی جامہ پہنایا جا سکے۔ بابائے قوم قبائلیوں پر اپنی مرضی مسلط نہیں کرنا چاہتے تھے۔ وہ اس مسئلے کو جمہوری اور آئینی انداز میں غیور قبائلی عوام کی امنگوں کے مطابق حل کرنا چاہتے تھے۔ قبائلی علاقوں سے متعلق نوزائیدہ پاکستان کی پالیسیوں کا اندازہ بابائے قوم کی ان باتوں سے لگایا جاسکتا ہے جو انہوں نے اپریل1948میں قبائلی رہنماؤں سے خطاب کرتے ہوئے کہیں۔ انہوں نے قبائلی سرداروں کو یقین دلایا کہ پاکستان ان علاقوں کی ترقی میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھے گا اور ان علاقوں کی اقتصادی خوشحالی کے لئے ہر قسم کی مالی و فنی معاونت فراہم کرے گا‘ تاکہ قبائلی بھائیوں کی زندگیوں کو بہتربنایاجائے۔ انہوں نے مزید فرمایا کہ پاکستان قبائلی نظام زندگی کے اندر کسی قسم کی غیرضروری مداخلت سے گریز کرتے ہوئے یہاں تعلیمی اور سماجی ترقی کے لئے کوشاں رہے گا اور مالی مدد بھی جاری و ساری رکھی جائے گی۔ قائدِاعظم کی یہ دلی خواہش تھی کہ ان علاقوں کی مروجہ حیثیت کو بدلا جائے تاکہ ان قبائل کی زندگی کو بہتر اور آسان بنایا جائے۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ پاکستان نہیں چاہتا کہ قبائلی علاقوں کو صرف امداد سے چلایا جائے اور وہ ہر سال بھکاریوں کی طرح حکومتِ پاکستان سے امداد کے طلبگار رہیں‘ بلکہ اس صورت حال کو بدلنا ہوگا تاکہ غیور قبائلی عوام بھی ملکی وسائل میں حصہ دار بن سکیں۔


یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ قائدِاعظم کی وفات کے بعد آنے والی سیاسی حکومتوں نے قائد کی خواہش کو عملی جامہ نہیں پہنایا اور ان علاقوں کے لئے برطانوی حکمرانوں کی بنائی ہوئی پالیسیوں کو جاری رکھا جس کے تحت قبائلی عوام کو بنیادی حقوق سے مسلسل محروم رکھا گیا۔ یہاں تک کہ ان کو وکیل‘ اپیل اور دلیل جیسے بنیادی حق تک بھی رسائی نہ دی گئی۔ فاٹا میں رہنے والے قبائلیوں کو ایف سی آر جیسے قوانین کے تحت چلایاجاتا رہا اور اُنہیں پولیٹیکل ایجنٹ کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا۔ اگرچہ یہاں کے نمائندوں کو پاکستان کی پارلیمنٹ میں نمائندگی دی گئی لیکن بدقسمتی سے یہ نمائندگان اپنے علاقوں کے لئے قانون سازی نہ کروا سکے۔


یہ بات خوش آئند ہے کہ2014 میں پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت نے نیشنل ایکشن پلان کے تحت فاٹا میں اصلاحات لانے کا فیصلہ کیا۔ اس سلسلے میں8 نومبر کو وزیرِاعظم پاکستان نے پانچ رُکنی فاٹا ریفارمز کمیٹی تشکیل دی۔ جس کی سربراہی ان کے مشیر برائے اُمورِ خارجہ سرتاج عزیز کو سونپی گئی۔ کمیٹی نے تمام قبائلی علاقوں کا دورہ کرنے کے بعد اپنی رپورٹ وزیرِاعظم کو پیش کی۔ وفاقی کابینہ نے 2 مارچ2017 کو فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کی منظوری دیتے ہوئے پانچ سال کے عرصے میں بتدریج انضمام مکمل کرنے کی ہدایات جاری کیں۔
فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام کے حوالے سے بہت سی توقعات اور تحفظات کا اظہار کیا جارہا ہے۔ یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ وفاقی کابینہ نے فاٹا کمیٹی کی تمام شفارشات کو من و عن تسلیم کیا ۔ ان سفارشات میں حکومت سے کہا گیا تھا کہ آڈٹ کے نظام کو فاٹا تک توسیع دی جائے۔ راہداری پرمٹ ختم کئے جائیں‘ بینکنگ سسٹم اور اعلٰی عدلیہ کو فاٹاتک توسیع دی جائے‘ رواج ایکٹ نافذ کیا جائے جس کے ذریعے فاٹا کا اپنا جرگہ کا نظام نافذ رہے گا۔ بہرحال رواج ایکٹ کے تحت جو قاضی کام کریں گے وہ بنیادی طور پر سیشن جج ہوں گے جن کے کسی بھی فیصلے کے خلاف عدالتِ عالیہ سے رجوع کیا جاسکے گا۔


یہ بات باعثِ اطمینان ہے کہ ہماری قیادت فاٹا کو خیبرپختونخوا میں ضم کرنے پر متفق ہے۔ علاوہ ازیں فاٹا اور خیبر پختونخوا کے عوام بھی اس فیصلے پر خوش ہیں کہ ان کی دیرینہ خواہش کو عملی جامہ پہنایا گیا۔ مزید یہ کہ قومی اور صوبائی سطح کی کم و بیش تمام جماعتیں فاٹا میں اصلاحات کی حمایت کرتی ہیں۔ البتہ یہ ایک الگ بات ہے کہ چند ایک جماعتیں اصلاحات کے نفاذ کے طریقہ کار پر اختلاف رکھتی ہیں۔ مثال کے طور پر جے یو آئی کا موقف ہے کہ اصلاحات نافذ کرنے سے پہلے فاٹا میں ایک ریفرنڈم کے ذریعے فاٹا کے لوگوں کی رائے لے لی جاتی تو بہتر ہوتا۔ جبکہ پی ٹی آئی کی خواہش ہے کہ پانچ سال کے بجائے جتنا بھی جلدی ممکن ہو سکے فاٹا کا انضمام عمل میں لایا جائے۔ اس کے برعکس عوامی نیشنل پارٹی کا موقف ہے کہ فاٹا کے خیبر پختونخوا میں ضم کرنے میں جلدی سے کام نہ لیا جائے اور اس سلسلے میں سب سے پہلے
(TDPs)
کی بحالی کا کام مکمل کیا جائے اور افغانستان جانے والے قبائلیوں کو واپس لایا جائے۔ فاٹا کی تعمیرِ نو کی جائے اور اس کی بحالی کے لئے قومی وسائل کا پانچ فیصد مختص کیا جائے۔
قانونی ماہرین کا خیال ہے کہ فاٹا کو ضم کرنے کے حوالے سے آئینی اور قانونی معاملات کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ فاٹا میں اصلاحات کا نفاذ ایک مشکل مرحلہ ہوگا اس لئے اصلاحات کے نفاذ کا ایک طریقہ کار وضع کرنا ضروری ہے تاکہ اصلاحات کے نفاذ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے سیاسی اور ٹیکنیکل مسائل کا حل نکالا جاسکے۔ یہ بات بھی پیشِ نظر رکھنا بہت ضروری ہے کہ فاٹا کے عوام کو ان اصلاحات سے بڑی توقعات وابستہ ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ خیبر پختونخوا سے ان کے الحاق کے بعد فاٹا میں اقتصادی ترقی کا عمل تیز ہوگا اور ان علاقوں میں گورننس بہتر ہوگی اور دہشت گردی پر بہترانداز میں قابو پایا جاسکے گا۔ فاٹا کے لوگ چاہتے ہیں کہ اصلاحات کے عمل کو جلد از جلد مکمل کیا جائے۔ فاٹا میں بلدیاتی/ لوکل باڈی الیکشنز(انتخابات) جلد کروائے جائیں۔


موجودہ علاقائی اور بین الاقوامی حالات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ضروری ہے کہ فاٹا میں اصلاحات کے عمل کو انتہائی شفافیت اور مقامی قبائل کے ساتھ مشاورت سے آگے بڑھایا جائے۔ نیز یہ کہ ان اصلاحات اور فاٹا کے خیبر پختونخوا میں ضم کئے جانے سے متعلق توقعات اور تحفظات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے مزید اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ فاٹا میں کی جانے والی اصلاحات ملکی ترقی اور سلامتی کی ضامن ہوں اور پاکستان کی دشمن قوتیں ان معمولی اختلافات کو اپنے مذموم عزائم کے لئے استعمال نہ کرسکیں۔

اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹیٹیوٹ میں بطورِ ریسرچ فیلو کام کر رہے ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
Read 414 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter