بھارت۔۔ خفیہ نیوکلیئر سٹی اوراس کے غیر محفوظ ایٹمی اثاثے

Published in Hilal Urdu May 2017

تحریر: فاران شاہد

پاکستان کے ازلی بدخواہ بھارت کو خطے میں اپنی دھاک بٹھانے کا شوق مسلسل ستاتا رہتا ہے۔ اس مرتبہ اس نے ایٹمی میدان میں اپنی برتری دکھانے کے شوق میں ایک نیوکلیئر سٹی کی تعمیر کا اعلان کر دیا ہے لیکن اس کے ایٹمی اثاثے غیر محفوظ ہونے کے پول متعدد بار کھل چکے ہیں۔امریکہ کا ایک بڑا تھنک ٹینک بھی بھارت کے جوہری پروگرام کو غیر محفوظ قرار دے چکا ہے۔ اس ضمن میں ہارورڈ کینیڈی سکول کی ایک رپورٹ مجریہ مارچ 2016ء میں بتایا گیا تھا کہ بھارتی جوہری پروگرام کو بیرونی نہیں بلکہ اندرونی خطرات کا سامنا ہے۔ یاد رہے کہ 2014ء میں بھارت کے اٹامک پاور اسٹیشن کے ہیڈٖ کانسٹیبل نے اپنی سروس رائفل سے تین افراد کو قتل کر دیا تھا۔ لیکن یہ ایک واقعہ نہیں، 1991ء سے 2003ء تک تو بھارت کے نیوکلیئر ری ایکٹرز میں بلنڈرز اور کولپیسز ہوتے رہے ہیں، جہاں ہائیڈروجن لیکس، آئل لیکس، اٹامک پاور اسٹیشنز کا کولنگ سسٹم بند ہو جانا، فائر الارم بجنا، پائپ لیک ہونا، ری ایکٹرز اور ایٹمی پاور اسٹیشنز میں کئی کئی ٹن پانی بھر جانے جیسے واقعات کئی مرتبہ سامنے آئے ہیں۔ بھارت کے سائنس دان اور اسٹریٹیجک اسٹڈیز کے ماہرین تشویش میں مبتلا ہیں۔ ان محتاط سائنس دانوں کا دبے الفاظ میں کہنا ہے کہ بھارت میں ہندوؤں کی بڑھتی ہوئی انتہا پسندی بھارتی ایٹمی اثاثوں کے عدم تحفظ کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔ بھارت چونکہ ایک سیکولر ملک ہے اس لئے یہاں سیکولر اور جمہوریت پسند سیاستدانوں کے خیالات بھی دفاعی ماہرین سے ملتے جلتے ہیں۔ دریں اثناء متذکرہ بالا رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ پاکستان اور روس کے ایٹمی اثاثے بھارت سے زیادہ محفوظ ہیں جبکہ بھارتی انتظامات نہایت کمزور ہیں۔


دی ٹائمز آف انڈیا نے بھارت کی پالیسیوں کا پردہ چاک کرتے ہوئے خبر دی تھی کہ بھارت کی عسکری و سیاسی قیادت ہنگامی بنیادوں پر بڑی تعداد میں اسلحے کی خریداری کر رہی ہے۔ روس، فرانس اور اسرائیل سے تیار حالت میں جنگی ہتھیار خرید لئے گئے ہیں جو مارچ تک بھارت کو مل جائیں گے۔ علاوہ ازیں خریداری کے لئے دو اعلیٰ سطح کی بااختیار کمیٹیوں نے سامان حرب کی پڑتال کر کے اسی وقت فیصلہ کر لیا۔ اسرائیل سے فضا سے زمین میں مار کرنے والا
SAM
بارک 8 میزائل، روس سے S-400 اینٹی بیلسٹک میزائل ڈیفنس سسٹم، سخوئی 30ایم کے آئی، میخایان مگ29سی، ٹرانسپورٹ طیارے200کاموف، 2267ہیلی کاپٹرز، فضا میں تیل بھرنے والے طیارے اور دیگر حربی ساز و سامان کے معاہدے کئے ہیں۔ علاوہ ازیں T-90,T-72 ٹینک، کونکورس اور اینٹی میزائل اور سمیرج راکٹ اور بارود سے بھرے بم بھی خریدے ہیں۔ روس جو اس وقت معاشی طور پر کافی کمزور ہے اس خریداری سے اس میں خوش حالی کی لہر دوڑ گئی ہے۔


گزشتہ برس بھارتی مسلح افواج کے سربراہان نے مودی سرکار کو باور کروایا تھا کہ بھارت جنگ میں صرف سولہ دن تک ہی اپنا اسلحہ استعمال کر سکتا ہے، مزید گنجائش و صلاحیت نہیں۔ غالباً اسی لئے یہ استعداد بڑھا کر چالیس دن تک کی جا رہی ہے۔ پاکستان کے حوالے سے دلچسپ پہلو یہ ہے کہ اس نے یہ صلاحیت 1991ء میں ہی حاصل کر لی تھی۔ بھارتی تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت خفیہ جنگی تیاریاں اس لئے کر رہا ہے کہ وہ پاکستان کے پاس موجود ہتھیاروں سے خوفزدہ ہے۔ اس سلسلے کی ایک کڑی یہاں سے بھی ملتی ہے کہ بھارتی افسر نے جرمنی کی ہوفنگٹن پوسٹ کو بتایا تھا کہ کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے لئے بھارت کے پاس زیادہ سے زیادہ اسلحہ ہونا چاہئے۔ بھارتی مصنفین غزالہ وہاب اور پراوین سباوہتی نے کتاب
Dragon at the Door
میں اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ ’’پاکستان نے اپنے آپ کو فوجی طاقت بنا لیا ہے جبکہ بھارت نے خود کو محض ملٹری فوج بنایا ہے‘‘۔ ان کے نزدیک فوجی طاقت کا مطلب ہے کہ کوئی فوج فوجی طاقت کو مؤثر انداز میں ان اہداف اور ان جگہوں پر ایسے استعمال کرے کہ دشمن کے دانت کھٹے ہو جائیں۔ ملٹری فوج کے معنی یہ ہیں کہ صرف ہتھیاروں کو جمع کیا جائے۔ انہی کے بقول پاکستان فوجی طاقت کے طور پر ابھرا ہے جب کہ بھارت جیو اسٹریٹیجک کھلاڑی بھی نہیں بن سکا۔ یعنی بھارت اپنی فوج کو اپنی سرحدوں سے آگے لے جانے کی صلاحیت سے عاجز ہے۔ بھارتی جنگی پالیسیوں پر پہلا سوال تو یہی اٹھتا ہے کہ کیا اس نے ازبس اپنے آپ کو چین اور پاکستان تک ہی محدود کر رکھا ہے؟

 

bharatkikufiya.jpgدسمبر2015ء میں ’’فارن پالیسی‘‘ نامی جریدے نے یہی انکشافات کئے تھے جو ’’دی ٹائمز آف انڈیا‘‘نے فروری 2017ء میں کئے ہیں۔ متذکرہ رپورٹ میں یہ پول کھلا تھا کہ بھارت اپنی جنوبی ریاست کرناٹک کے علاقے جلاکیرے میں ایک "نیوکلیئر سٹی"کی تعمیر میں مصروف ہے۔ یہ برصغیر میں اپنی نوعیت کا سب سے بڑا جوہری شہر ہو گا۔ اس جوہری شہر میں ہائیڈروجن بم بنانے کے لئے یورینیم کی افزودگی کی جائے گی، جس کا واضح مطلب جوہری ہتھیاروں میں خاطر خواہ اضافہ کرنا ہے۔ نیوکلیئر سٹی میں ہی ایٹمی ریسرچ لیبارٹریاں اور ایٹمی ہتھیار بنائے جائیں گے۔ نیز اس سے بڑے پیمانے پر ائیر کرافٹنگ کی سہولیات بھی میسر آ سکیں گی۔ اور یہ شہر 2017ء میں پایہ تکمیل تک پہنچ جائے گا۔


یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ بھارت کا جنگی جنون صرف پہلی مرتبہ ابھرکر سامنے نہیں آرہا بلکہ گزشتہ کئی عشروں سے خوف ناک ہتھیار بنانے اور جنگی صلاحیتوں میں اضافے کی تگ و تاز کر رہاہے۔ برس ہا برس دفاعی بجٹ میں اضافہ کیا جاتا ہے اور حال ہی میں بھارت نے اپنے دفاعی بجٹ کو پھر بڑھایا ہے۔ جس کا اولین مقصد جدید ہتھیاروں کے انبار لگانا ہے۔ آخر کار بھارت اتنے خوفناک ہتھیار کیوں جمع کر رہا ہے؟ درحقیقت ہمارا روایتی حریف ایشیا کی سب سے بڑی جنگی طاقت بننے کے خبط میں مبتلا ہے وہ اپنی اس بالاداستی کی راہ میں چین اور پاکستان کو بڑی رکاوٹ سمجھتا ہے اور اس رکاوٹ کو جلد از جلد عبور کرنا چاہتا ہے۔ حیرت اس بات کی ہے کہ ایک بڑے جوہری شہر کی تعمیرکے بارے میں رپورٹ منظر عام پر آنے کے بعد کسی بڑی طاقت نے تشویش کا اظہار کیا نہ ہی کوئی واویلا مچایاہے۔ دوسری جانب پاکستان سمیت پوری اسلامی دنیا کے بارے میں ان طاقتوں کا رویہ منافقانہ ہے۔ دوہری پالیسی کا شاخسانہ یہ بھی ہے کہ خود امریکہ پاکستان پر متعدد بار دباؤ ڈال چکا ہے کہ وہ (پاکستان) اپنا ایٹمی پروگرام رول بیک کرے۔ بات یہیں تک محدود نہیں بلکہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو اسلامی ایٹم بم کا نام دے کر پوری دنیا میں پروپیگنڈا کیا گیا۔ دوسری جانب ایران نے ایٹمی پروگرام شروع کیا تو اقوام متحدہ کے علاوہ دیگر عالمی طاقتیں بھی اس کے خلاف متحرک ہو گئیں۔ نتیجتاً ایران پر پابندیاں عائد کر دی گئیں۔ المختصر اسلامی ممالک کو اس ایٹم بم سے دور کرنے کی سازشیں کی گئیں۔ جبکہ بھارت، اسرائیل اور امریکہ سمیت دیگر اسلام دشمن طاقتیں اسی ایٹم بم سے کھلونے کی طرح کھیل رہی ہیں۔ اس ضمن میں عراق پر بھی الزامات لگائے گئے کہ اس کے پاس مہلک ہتھیار ہیں اور اسی بات کو لے کر اس کا چیستان بنایا گیا۔ بعد میں امریکہ نے خود ہی ڈھٹائی سے تسلیم کر لیا کہ عراق کے پاس مہلک ہتھیار ہونے کی اطلاع مصدقہ نہیں تھی۔ گویا ایک غیرمصدقہ اطلاع کو بنیاد بنا کر ایک ریاست کو تباہ و برباد کر دیا گیا اور اس کے سربراہ کو پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔ ادھر لیبیا نے ایٹمی قوت بننے کی کوشش کی تو اسے نشان عبرت بنا کر ہی دم لیا گیا۔ ان تمام حقائق و شواہد کو سامنے رکھتے ہوئے تمام تر صورت حالات کے مضمرات میں جھانکنے سے حقیقت آشکار ہوتی ہے۔ چنانچہ بھارت کا جنگی جنون بالخصوص جوہری ہتھیاروں اور بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کی تیاریوں سے خطے میں طاقت کا توازن بگڑنے کے خدشات بدرجہ اتم موجود ہیں اور پاکستان کو اس حقیقت کا بخوبی ادراک ہے۔وہ پوری دنیا کی توجہ اس جانب مبذول کروانے کے لئے ہاتھ پاؤں بھی مار رہا ہے۔ تاہم اب تک بھارت پر عالمی طاقتوں کا کوئی دباؤ محسوس نہیں ہو رہا۔ مزید برآں اگر اس خاموشی کے پس منظر میں پاک بھارت تنازعات کا عمل دخل ہے تو پاکستان اس میدان میں بھی لڑنے کے لئے ہردم تیار ہے۔ پاکستان نے تو متعدد بار مذاکرات کی پیش کش کی لیکن بھارت نے ہمیشہ کوئی نہ کوئی بہانہ تراشا اور راہ فرار لی۔ بھارت کی جانب سے ایل او سی کی کھلم کھلا خلاف ورزیاں بھی جاری ہیں۔ اس کی بلا اشتعال فائرنگ کی زد میں آنے والے شہداء کی تعداد چار سو کے قریب پہنچ چکی ہے۔ عالمی طاقتوں کو اس بات کا خیال کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ وہ بھارت کے ساتھ خفیہ طور پر ایشیا کی بڑی ایٹمی قوت بننے میں معاونت کر کے خوف ناک کھیل کھیل رہی ہیں۔ اس سے نہ صرف خطے کا توازن بگڑے گا بلکہ (لازمی طور پر) خطرے سے دوچار ہو گا۔ اقوام متحدہ اور امریکہ نے اگر بھارت کے اس خفیہ ایٹمی پروگرام کی طرف توجہ نہ دی تو اس کا خمیازہ انہیں بھی بھگتنا پڑے گا۔

مضمون نگار ایک قومی اخبار کے ساتھ بطور کالم نویس منسلک ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
Read 687 times

3 comments

  • Comment Link Ammara Noraiz Ammara Noraiz 18 May 2017

    very informative article excellent effort by a writer Weldon....

  • Comment Link Madiha Masood Madiha Masood 17 May 2017

    Good article.

  • Comment Link Muhammad Tahir Muhammad Tahir 17 May 2017

    This is writing is very thoughtful and Helping to have knowledge what our enemy is doing to us and how should we prepare against him. So we can coup the unfair situation. very very well said #FaaranShahid

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter