وطن کی مٹی گواہ رہنا

Published in Hilal Urdu May 2017

تحریر: میجر مظفر احمد

بیدیاں روڈ(لاہور) پر مردم شماری ڈیوٹی کے دوران جام شہادت نوش کرنے والے جری سپوتوں کا احوال

 

لاہور میں خود کش حملے میں شہادت پانے والے پاک فوج کے جوان اور متعین سول شمار کنندگان مردم شماری کے فرائض انجام دے رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ مردم شماری کا انعقاد ایک قومی فریضہ ہے۔ بلاشبہ سول شمار کنندگان اور فوج کے جوانوں کی قیمتی جانیں ایک عظیم قربانی ہے۔ مردم شماری کو ہر قیمت پر مکمل کیا جائے گا۔ ان قیمتی جانوں کی قربانی سے ہمارے عزائم مزید مضبوط ہوں گے۔ ہم پوری قوم کے ساتھ مل کر اپنی سرزمین کو دہشت گردی کی اس لعنت سے پاک کریں گے۔ ’’مجھے سوگواران خاندانوں سے دلی ہمدردی ہے اور خراج تحسین پیش کرتا ہوں اُن جوانوں کو جنہوں نے اپنے فرض کی خاطر جان کا نذرانہ پیش کیا۔‘‘

جنرل قمرجاوید باجوہ

چیف آف آرمی سٹاف

 

5اپریل 2017 کو خوشگوار صبح میں ابھرتی ہوئی سورج کی کرنیں پاک سرزمین کو روشن کر رہی تھیں۔ بھٹہ چوک اور اس کے نواح میں انسانی چہل پہل میں اضافہ ہو چکا تھا۔ علیٰ الصبح، حوالدار محمد ریاض کی قیادت میں جوان محفوظ شہید کینٹ سے بیدیاں روڈ(لاہور) مانانوالہ چوک کے علاقے میں مردم شماری پر مامور سول انتظامیہ کے شمار کنندگان کو سکیورٹی فراہم کرنے کے لئے نکلے۔ پورے دن کی دوڑ دھوپ کے لئے زاد راہ اور انصرام ہمراہ تھا۔ سول شمار کنندگان سے ملاپ کرنے کے بعد دن کی کارروائی کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ سڑکوں پر علاقہ مکین، بشمول سکولوں کے طالبعلم، اپنی پیشہ ورانہ کاروباری مصروفیات اور تعلیمی سرگرمیوں کے لئے رواں دواں تھے۔ اسی اثنا میں، خبثِ باطن کی حیلہ گری میں مبتلا دشمن نے ایک بار پھر قوم کے ان سرفروشوں کا راستہ روکنے کے لئے وار کر ڈالا۔ آہستہ آہستہ چلتی گاڑی کے عقب سے ایک خودکش بمبار تقریباً سات بج کر پچپن منٹ پر نمودار ہوا اور قریب آ کر اپنے آپ کو دھماکے سے اڑا دیا۔ جس کے نتیجے میں 2سندھ رجمنٹ کے 4جوان حوالدار محمد ریاض، لانس نائیک محمد ارشاد، لانس نائیک ممشاد احمد اکرم، سپاہی ساجد علی اور 10این ایل آئی رجمنٹ کے سپاہی عبداﷲ نے جامِ شہادت نوش کیا اور 10جوان زخمی ہو گئے۔ علاوہ ازیں 3راہ گیر بھی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔ مگر یہ امر قابلِ ذکر ہے، یہ جوان جب تک زندہ رہے انہوں نے سول شمارکنندگان سٹاف کا بال بھی بیکانہ ہونے دیا۔

watenkimati.jpg


دشمن کے اس وار کے باوجود بھی جذبۂ فرض شناسی و خدمت کسی قدر بھی کم نہ ہو سکا اور چند ہی منٹوں میں میجر زبیر احمد اور لیفٹیننٹ فیروز کی قیادت میں کمک آن پہنچی، صورت حال پر قابو پایا گیا اور وہ ایک بار پھر سونپے گئے کام کو پورا کرنے کے لئے نکل پڑے۔ حقیقتاً یہ محض جو ابی ہمت و عزم کے اقدامات نہ تھے بلکہ بزدل

دشمن کی شکست تھی۔
اے شہیدان وطن تم پر سلام
تم نے روشن کر دیا ملت کا نام
اس مضمون میں لکھے گئے چند پیرائے گو ان شہداء کی قربانیوں کو سمو نہیں سکتے مگر ہمارے اپنے شہیدوں کو خراج تحسین کی ایک معمولی جسارت ہے۔


hav_riaz.jpgسب سے پہلے ذکر حوالدار محمد ریاض (شہید ) کا جو ضلع فیصل آباد کی تحصیل تاندلیانوالہ کے نواحی گاؤں 410گ ب کے ایک زمیندار گھرانے میں 20مئی 1979کو پیدا ہوئے۔ان کے والدین کے مالی حالات بہتر نہ ہونے کے باوجود متانت کے ساتھ گُزر بسر کرتے تھے جو ریاض کی اوائل عمری ہی میں رحلت کر گئے۔ دراز قد حوالدار محمد ریاض بچپن ہی سے ذہین اور خوش طبع تھے۔ گاؤں سے اپنی ابتدائی تعلیمی سرگرمیوں کی تکمیل کے بعد فنِ سپاہ گری کے شوق کی ترویج کے لئے فوج میں جانے کی ٹھانی۔ ملک و قوم کی خدمت کے جذبے سے سرشار ریاض نے ابتدائی تربیت سندھ رجمنٹل سنٹر حیدرآباد سے حاصل کی۔ دوران ابتدائی تربیت انھوں نے ہر ایونٹ میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا، خصوصاً پریڈ ڈرل میں امتیازی شیلڈ حاصل کی۔ ابتدائی تربیت کے اختتام پر جنوری 1995 کو 2سندھ رجمنٹ میں پوسٹ ہوئے۔ یونٹ کے ساتھ چھمب، سیالکوٹ اور باگسر کے محاذوں اور دہشت گردی کے خلاف باجوڑ و شمالی وزیرستان میں دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اپنی ڈیوٹی سرانجام دی۔ عسکری تربیتی کورسز خصوصاً
ATGM Course
انفنٹری سکول اور یونٹ کے تربیتی مقابلوں میں نمایاں پوزیشنیں حاصل کیں۔ انہی خوبیوں کے پیشِ نظر سندھ رجمنٹ سنٹر میں بطور انسٹرکٹر تعینات ہوئے اور وہاں اپنی قابلیت کا لوہا منوایا۔ ریاض کے ساتھیوں اور خصوصاً کمانڈنگ آفیسر لیفٹیننٹ کرنل ناصر محمود نے ان کی شخصیت کاتذکرہ اس انداز میں کیا ہے۔ ’’حوالدار ریاض میں ایک مخصوص احساس ذمہ داری تھا جو نہ صرف ان کے عسکری معمولات زندگی میں نظر آتا تھا بلکہ اپنی اہلیہ سمیت بچوں کی چھوٹی چھوٹی ضروریات اور مسائل کے بارے میں پائی جانے والی فکر مندی میں بھی جھلکتا تھا۔‘‘ روزِ شہادت، مردم شماری کی ڈیوٹی میں بحیثیت پارٹی کمانڈر مکمل سکیورٹی و انصرامی تیاریاں اور اپنے ماتحتوں کی حوصلہ افزائی ان کی خوبیوں کی غمازی کرتی ہیں۔ حوالدار ریاض کے لواحقین میں اہلیہ، دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں جن کے لئے پدرانہ شفقت کا خلاء تو ضرور رہے گا مگر اس باہمت خاندان نے ریاض کی شہادت پر نہایت فخر کا اظہار کیا ہے۔


2سندھ رجمنٹ کے ایک اور جوان لانس نائیک محمد ارشاد (شہید) ضلع چکوال کی تحصیل تلہ گنگ کے نواحی گاؤں بھلومار میں 13 جنوری 1991کو پیدا ہوئے۔ درمیانے قد کے حامل ارشاد بچپن سے ہی سنجیدہ ذہن کے مالک اور قدرے خاموش طبع تھے۔ ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں ہی سے حاصل کی اور میٹرک کے بعد فوج میں ملازمت اختیار کی۔ ابتدائی تربیت کے بعد جولائی 2010 میں بطور سپاہی 2سندھ رجمنٹ میں تعینات ہو گئے۔ دوران سروس یونٹ کے ساتھ لائن آف کنٹرول پر باگسر اور دہشت گردی کے خلاف باجوڑ ایجنسی میں بڑی جانفشانی اور ایمانداری سےln_m_arshad.jpg اپنی ڈیوٹی سرانجام دیتے رہے۔ حالیہ مردم شماری ڈیوٹی میں اعلیٰ کارکردگی کی بنا پر یونٹ نے انہیں لانس نائیک کے رینک پر ترقی دی۔ ارشاد نے اپنی ذمہ داری کو خوب نبھایا اور 5اپریل 2017کو اپنی جان جاں آفریں کے سپرد کر کے امر ہو گئے۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ اُن میں اپنے اہل و عیال سے محبت اور ان کی ضرورتوں کا احساس بھی بدرجۂ اتم تھا۔ اس کا اظہار انہوں نے ایک روز قبل اپنے ایک ساتھی کے ساتھ کیا تھا کہ اُس نے اگلے روز اپنے والدین کو کچھ رقم منی آرڈر کرنا ہے۔ ان کی شہادت پر ان کے جسد خاکی کے ساتھ لپٹی اس رقم کی موجودگی نے ان کے ساتھیوں کی آنکھیں نم کر دیں۔ درحقیقت ارشاد نے اپنے اہل و عیال کے لئے ازلی کامیابی کا سامان مہیا کر دیا جس پر ان کے ضعیف والدین کو فخر ہے۔ ایسے والدین قابل ستائش ہیں جو اپنے لخت جگر قوم پر نچھاور کر دیتے ہیں۔


ln_mashmad.jpgلانس نائیک ممشاد احمداکرام (شہید) ضلع خانیوال کی تحصیل کبیر والا کے نواحی گاؤں کوہی والا میں 10 اکتوبر 1988 کو ایک کاشتکارگھرانے میں پیدا ہوئے۔ درمیانے قد کے ممشاد خوش اخلاق اور وسیع ذہن کے مالک تھے۔ گاؤں سے ابتدائی تعلیم کے بعد فوج میں شمولیت اختیار کی اور جولائی2010 کو2سندھ رجمنٹ میں پوسٹ ہوئے۔ایل او سی پر باگسر سیکٹر اور باجوڑ ایجنسی میں محنت و جانفشانی کے ساتھ ڈیوٹی سرانجام دیتے رہے۔ یونٹ کے کھیلوں اور تربیتی مقابلوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور یونٹ کا علم بلند رکھنے میں پیش پیش رہے۔ مردم شماری کی ڈیوٹی کے دوران5 اپریل2017 کو شدید زخمی ہوگئے۔13 دن تک سی ایم ایچ لاہور میں زندگی موت کی کشمکش میں رہنے کے بعد بالآخر 17 اپریل کو خالقِ حقیقی سے جا ملے اور شہادت کا عظیم مرتبہ پایا۔ لواحقین میں اہلیہ، دو بیٹیاں اور ایک بیٹا شامل ہیں جنہیں ان کی شہادت پر ناز ہے۔


2sip_sajid.jpgسندھ رجمنٹ کے تیسرے بہادر سرفروش سپاہی ساجد علی (شہید) ضلع میرپور خاص سندھ کی تحصیل کوٹ غلام محمد کے نواحی گاؤں 285 دیہہ میں 10مارچ 1989کو ایک زمیندار گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ساجد علی شروع ہی سے ذہین اور حسِ مزاح سے مالامال تھے۔ وہ تعلیمی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ والدین کے کاموں میں بھی بڑھ چڑھ کر ہاتھ بٹاتے تھے۔ مخصوص ثقافتی ٹوپی و اجرک پہن کر کلہاڑی کندھے پر رکھے مویشیوں کی نگہبانی کرتے تھے۔ فوج سے محبت انہیں سپاہ گری کے شعبے میں کھینچ لائی اور ابتدائی ٹریننگ کے بعد جنوری 2009میں 2سندھ رجمنٹ میں پوسٹ ہوئے۔ یونٹ میں بڑی بہادری کے ساتھ لائن آف کنٹرول اور دہشت گردی کے خلاف لڑائی لڑی۔ مختلف مقابلوں میں نام کمایا اورخصوصاً ڈرائیونگ کے شعبے کو اپناتے ہوئے ایک اچھے ڈرائیور بنے۔ بالآخر فرائض منصبی کی بجاآوری میں مردم شماری کی ڈیوٹی سرانجام دیتے ہوئے اپنی جان کا نذرانہ دیا۔ ان کے لواحقین میں بیوہ اور والدہ شامل ہیں جو ساجد کی شہادت کو اپنے لئے اﷲ رب العزت کی مہربانی گردانتی ہیں۔

 

10این ایل آئی رجمنٹ کے سپاہی عبداﷲ (شہید) 1992کو ضلع چترال کے گاؤں کریم آباد میں پیدا ہوئے۔ عبداﷲ بچپن سے ذہین اور جسمانی طور پر تیز و پھرتیلے sip_abdullah.jpgتھے۔ ابتدائی تعلیم گورنمنٹ ہائی سکول شوغور چترال سے حاصل کی اور میٹرک کا امتحان پاس کرنے کے بعد 13اکتوبر 2010کو فوج میں سپاہی بھرتی ہوئے۔

یونٹ میں پوسٹنگ پر ایل او سی (لیپہ سیکٹر) اور وزیرستان میں خدمات سرانجام دینے کا موقع ملا۔ آپریشن ضرب عضب میں عبداﷲ میران شاہ سے دتہ خیل تک ہر مشکل کارروائی میں صف اول کے دستہ میں شامل رہے۔ سپاہی عبداﷲ کو موت سے شناسائی ہو چکی تھی۔ بارہا قضا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دہشت گردوں سے مقابلہ کرنے والا یہ نڈر سپاہی 2015 میں وادی بویا میں دہشت گردوں سے مقابلے میں معجزاتی طور پر بچا تھا۔ اس بہادر سپوت نے بہادری اور دلیری سے دہشت گردوں کے کئی خطرناک حملوں کو ناکام بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ مزیدبراں یونٹ کے فٹ بال اور دیگر تربیتی مقابلوں میں نام کمایا۔ عبداﷲ کو حالیہ 23مارچ 2017شکرپڑیاں کی پریڈ میں اعلیٰ ڈرل کی وجہ سے پیادہ دستے میں نشاندار کی ڈیوٹی سونپی گئی۔ عبداﷲ کے عزم ، بہادری اور چہرے پر ہمیشہ رہنے والی مسکراہٹ کی وجہ سے ان کے ساتھیوں اور خصوصاً ان کے کمانڈنگ آفیسر لیفٹیننٹ کرنل عرفان احمد کو عبداﷲ سے ایک ذاتی لگاؤ تھا۔


قومی فریضہ مردم شماری 2017کی ڈیوٹی کو سرانجام دینے کے لئے سپاہی عبداﷲ نے اسی جذبہ ایمانی کے تحت اپنے آپ کو رضاکارانہ طور پر پیش کیا۔ شہادت سے دو دن قبل شہید کے چھوٹے بھائی سیف اﷲ نے ٹیلیفون پر چھٹی آنے کا کہا تو انہوں نے جواب دیا کہ بھائی ہماری یونٹ ایک اہم مشن پر مامور ہے اور میں ڈیوٹی کے اختتام پر ہی چھٹی آؤں گا۔ اسی جذبے کا اظہار عبداﷲ نے دوران ٹریننگ کیاجب ان کے والد محترم کی رحلت ہوئی لیکن اپنے والد کے آخری دیدار کے لئے بھی نہ پہنچ سکے۔یہ عبداﷲ کا شوق شہادت ہی تھا جو اسے مردم شماری کی ڈیوٹی کی صورت میں اپنی خواہش کی تکمیل کی راہ پر لے گیا۔یوں بوڑھی ماں کا سہارا چھن گیا اور 10 این ایل آئی رجمنٹ ایک بہادر جوان سے محروم ہو گئی۔ مگر اپنے پیچھے بہادری اورعزم کی لازوال داستان چھوڑ دی۔ عبداﷲ کے دل کا حال اس کی ڈائری میں کچھ ان الفاظ میں درج تھا۔


جب تک نہ جلیں دیپ شہیدوں کے لہو سے
کہتے ہیں کہ جنت میں چراغاں نہیں ہوتا


ملک کا دفاع اور سونپے گئے قومی فریضوں کی تکمیل پاکستان فوج کا ہر شخص اپنی ذات سے بھی زیادہ مقدم رکھتا ہے۔ یہی وہ سوچ اور جذبہ ہے جس کی وجہ سے ہمارے دشمن ہمیں زیر نہیں کر سکے اور ہر دفعہ خود ہی اپنی شکست خوردگی کے زخم چاٹنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

ہم نے قربانیاں دے کر یہ وطن پایا ہے

 

ہم نے قربانیاں دے کر یہ وطن پایا ہے
یہی دیوار‘ یہی چھت‘ یہی سایہ ہے

جس کی تعمیر میں ہر ہاتھ ہے شامل لوگو
اس کے باعث ہی دھڑکتا ہے ہر اِک دل لوگو
یہی دولت‘ یہی عزت‘ یہی سرمایہ ہے
ہم نے قربانیاں دے کر یہ وطن پایا ہے
گہری نظروں سے عدو دیکھ رہا ہے جس کو
ایک مدت کا فَسوں دیکھ رہا ہے جس کو
اس سے پہلے بھی تفرقوں سے ہی غم پایا ہے
ہم نے قربانیاں دے کر یہ وطن پایا ہے
چال چلنے نہیں دیں گے یہ قسم کھاتے ہیں
جال بُننے نہیں دیں گے یہ قسم کھاتے ہیں
پھر سے طوفانوں نے اِک بار سَر اٹھایا ہے
ہم نے قربانیاں دے کر یہ وطن پایا ہے
لَم یَزل کی یہ امانت ہے بچانی سب کو
اپنی آزاد فضا بھی ہے سبحانی سب کو
موسمِ گل نے‘ چمن زار یہ سجایا ہے
ہم نے قربانیاں دے کر یہ وطن پایا ہے

سعیدالزمان

*****

 
Read 721 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter